12/07/2026
حصہ 3
ڈاکٹر نے میری تمام رپورٹس دوبارہ غور سے دیکھیں۔ کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ پھر انہوں نے آہستہ آواز میں کہا: "تمہیں کینسر ہے، لیکن گھبراؤ نہیں، علاج ممکن ہے۔"
یہ الفاظ سنتے ہی ایسا لگا جیسے میرے قدموں تلے زمین نکل گئی ہو۔ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ میرے ذہن میں صرف ایک سوال تھا: "یا اللہ! آخر میرے ساتھ ہی کیوں؟"
اسی لمحے میں نے دل ہی دل میں دعا کی: "اے اللہ! مجھے صبر دے، ہمت دے، اور اس آزمائش سے کامیابی کے ساتھ نکال دے۔" مجھے یقین تھا کہ آزمائش کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اللہ کی رحمت اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔