24/03/2026
ایران میں بم باری ہو رہی ہے۔ تمام لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، تمام لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں، تمام لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حق کی خاطر سر کٹاتے ہیں۔ لیکن ایران پر ناحق، بے قصور، بغیر کسی نقصان کے امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا۔ رمضان کے مہینے میں ایران پر آگ برسائی گئی۔ پوری اسلامی دنیا میں کسی ایک ملک نے بھی ایران کی حمایت نہیں کی۔ پوری دنیا میں کسی ایک نے بھی ایران کی حمایت نہیں کی سوائے افغانستان کی طالبان حکومت کے۔ آپ کس قسم کے مسلمان ہیں؟ یہ کیسا اسلام ہے؟ آپ کے پڑوس میں، آپ کے ساتھ ایک اسلامی ملک ہے جس کے ساتھ مذاکرات جاری تھے، مجلس جاری تھی، اور اس مذاکراتی ملک نے یہ کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ہمارے تیسرے فریق کے طور پر یہ مان چکا ہے کہ تم ایٹم بم بناؤ گے، ایٹم بم جس چیز سے بنتا ہے ایران نے وہ مانا تھا کہ میں اسے صفر کر دوں گا۔ پھر بھی اسے نہیں چھوڑا۔ یہ سمندروں میں بڑے بڑے جہاز آ رہے ہیں، بڑے بڑے بیڑے آ رہے ہیں۔ عزیزوں! آپ تجربہ کار ہو، آپ واقف کار ہو۔ پچھلے دو تین سال سے ہم یہی آواز لگا رہے ہیں کہ پشتونخوا میں بڑی جنگیں آنے والی ہیں، پشتون اپنی حفاظت کریں، بڑی جنگیں آنے والی ہیں، تیاری کریں۔ پشتون کہتے ہیں کہ جنگ کے وقت گھوڑے موٹے ہوتے ہیں۔ میری بات کسی نے نہیں مانی، آج لال شعلے ہیں۔ رمضان ایران میں کیسے گزرا؟ کتنے انسان، کتنے بزرگ لوگ مارے گئے۔ پوری دنیا کی بدمعاشی ان کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ امریکہ کا صدر کہتا ہے کہ میں ایران کے فلاں عالم دین کو مار دوں گا، میں ایران کے فلاں سربراہ کو مار دوں گا، میں ایران کے فلاں فوجی کو مار دوں گا، یہ غنڈہ گردی پوری دنیا نے دیکھی ہے۔ ایران کے لوگوں نے ہمت کی ہے، اللہ ان کا حامی و ناصر ہو، اللہ انہیں ہمت دے۔ اور کوئی حمایت کرے یا نہ کرے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ہر کارکن ایران کی حمایت کرے گا۔ ہم پوری طرح ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا پشین جلسے سے خطاب