27/01/2026
انگلینڈ میں سیکرز کی سوچیں
کیا کروں، کیا نہ کروں
یہ سوال دل کے در و دیوار سے ٹکراتا ہے۔
کیا یہاں آنے کا فیصلہ درست تھا؟
یا میں نے خوابوں کی قیمت نادانی میں ادا کی؟
کیا کسی اور سرزمین کا انتخاب بہتر ہوتا؟
یہاں آ کر
محنت کے سوا کیا ہاتھ آیا؟
دن رات کی مشقت،
پہلے قسطوں کا بوجھ،
پھر فیس کا قرض
زندگی حساب کتاب بن کر رہ گئی۔
مشکل سے گزارا ہوا ہر دن،
ڈگری مکمل ہوئی
تو ایک اور خواب نے جنم لیا
پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا۔
پھر وہی محنت،
وہی تھکن،
وہی جمع پونجی۔
جو کمائی،
وہ وطن کے مسائل میں تحلیل ہو گئی۔
اب دو سال بیتنے کو ہیں،
ویزے کی گھڑی قریب ہے،
اور میں سوچ کے بھنور میں پھنسا ہوں۔
واپس پاکستان؟
نہیں…
وہاں جا کر کیا کروں گا؟
لوگوں کی نظریں،
طنز کے تیر—
“ولایت سے نامراد لوٹ آیا۔”
یہاں انگلینڈ میں بھی
نوکری خواب بنی ہوئی ہے،
ایسی نوکری
جو ویزا دے سکے۔
تو کیا پی ایچ ڈی کا راستہ چنوں؟
یا یورپ کا رخ کروں
جہاں کاغذات آسانی سے بنتے ہیں؟
کہتے ہیں سپین میں دروازے جلد کھلتے ہیں۔
یا جرمنی جا کر
ایک اور ماسٹرز شروع کر دوں؟
میں کیا کروں؟
کیا نہ کروں؟
سمجھ ہی نہیں آتی۔
کچھ لوگ مشورہ دیتے ہیں:
“کسی برٹش لڑکی سے شادی کر لو،
سب مسئلے حل ہو جائیں گے۔”
مگر دل ڈرتا ہے—
کہ کہیں یہ احسان
عمر بھر کا بوجھ نہ بن جائے۔
کہ ہر لمحہ یہ احساس
میرے وجود پر حاوی رہے
کہ ویزا اس رشتے کا مرہونِ منت ہے۔
اور پھر
مزاج، اقدار، معیار
سب مختلف۔
پاکستانی لڑکیاں
گھر بسانے والی ہوتی ہیں،
یہ بات بھی دل مانتا ہے۔
مگر یہ بھی تو مسلمان ہیں،
یہاں بھی اچھے لوگ بستے ہیں۔
میں سوچوں میں
کہاں سے کہاں نکل جاتا ہوں،
اور آخر میں
وہی سوال
میرے سامنے کھڑا رہ جاتا ہے—
کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔
نوٹ:
آج بہت سے سیکرز
اسی کشمکش سے گزر رہے ہیں۔
ڈاکٹر نادر اعوان