30/08/2026
📚 ہفتے کی چھٹی یا معصوم بچوں کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ؟
کسی بھی ملک کی ترقی کا سب سے مضبوط راستہ تعلیم ہے۔ جو قوم اپنے بچوں کو زیادہ اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرتی ہے، وہی مستقبل میں علم، معیشت، ٹیکنالوجی اور ترقی کی دوڑ میں آگے نکلتی ہے۔ لیکن پاکستان میں اگر پورے تعلیمی سال کا جائزہ لیا جائے تو مختلف وجوہات کے باعث اسکولوں کے بند رہنے والے دن پہلے ہی خاصے زیادہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو پہلے ہی محدود دستیاب تعلیمی وقت میں مزید کمی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟
ایک طرف تین ماہ تک جاری رہنے والی گرمیوں کی تعطیلات، دوسری طرف مختلف سرکاری و غیر سرکاری تعطیلات، امتحانات، ہنگامی حالات اور دیگر وجوہات کے باعث تعلیمی دن مزید کم ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اساتذہ کے پاس محدود وقت میں پورا نصاب مکمل کرنے کا دباؤ بڑھتا ہے، جبکہ بہت سے بچے بنیادی تصورات میں بھی مطلوبہ مہارت حاصل نہیں کر پاتے۔
یہ صرف ایک چھٹی کا مسئلہ نہیں۔
یہ سوال ہے کہ ہمارے بچوں کو سال بھر میں حقیقتاً کتنے دن پڑھنے کا موقع مل رہا ہے؟
اب اسی صورتحال میں ہر ہفتے کے روز اسکول بند رکھنے کا فیصلہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ بظاہر یہ ہفتے کا صرف ایک دن ہے، لیکن پورے تعلیمی سال میں یہی ایک دن بار بار جمع ہو کر درجنوں تعلیمی دن بن جاتا ہے۔
❓ اگر پہلے ہی تعلیمی وقت کم ہے تو مزید تعلیمی دن کم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
❓ جب سلیبس مکمل کرنے کے لیے وقت کم پڑتا ہے تو ہفتہ وار چھٹی اس مسئلے کو مزید مشکل نہیں بنائے گی؟
❓ جو بچہ پہلے ہی تعلیمی طور پر پیچھے ہے، کیا اس کے لیے مزید کم تدریسی دن نقصان دہ نہیں ہوں گے؟
❓ کیا ہم نے کبھی حساب لگایا کہ ایک پورے سال میں اسکول بند رہنے والے تمام دن ملا کر بچوں کے تعلیمی وقت پر کتنا اثر پڑتا ہے؟
❓ دنیا کے ترقی یافتہ معاشرے اپنے بچوں کے تعلیمی معیار اور مواقع بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں، تو کیا ہمیں بھی اپنے بچوں کے تعلیمی وقت اور معیار کو اولین ترجیح نہیں دینی چاہیے؟
❓ کیا آج کی ایک اضافی چھٹی کل ہمارے بچے کے کمزور تعلیمی مستقبل کی وجہ بن سکتی ہے؟
❓ اور اگر سلیبس نامکمل رہ گیا، بنیادی تعلیم کمزور ہوگئی اور بچے مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تو اس تعلیمی نقصان کی ذمہ داری آخر کس پر ہوگی؟
🛑 اب فیصلہ صرف حکام کا نہیں، بحث عوام کی بھی ہونی چاہیے!