23/04/2026
نکاح کے عین موقع پر لڑکے والوں نے مہران کار کا مطالبہ کردیا۔
نکاح پڑھانے والا عالم یہ سن کر ششدر رہ
گیا۔
دلہن کے چچا نے کہا کہ ہم کار کا ایک ٹائر بھی نہیں دے سکتے
یہ سنتے ہی بارات دلہن کے بغیر لوٹ گئی
فرحان یہ سب منظر دیکھ رہا تھا۔
فرحان نے دلہن کے چچا سے کہا کہ میں اس لڑکی سے شادی کرنے کو تیار ہوں۔
عالم نے بغیر تاخیر نکاح پڑھا دیا۔
فرحان دلہن کو بیاہ کر اپنے گھر لے آیا۔
رات کو جب اس نے دلہن کا گھونگٹ اٹھایا تو چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا۔ اس کے سامنے دلہن تھی جس کی آنکھوں میں آنسو اب بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔
لڑکی نے دھیرے سے کہا،
"آپ نے یہ سب کیوں کیا؟
آپ مجھے جانتے بھی نہیں…"
فرحان نے نرم لہجے میں جواب دیا،
"انسان کو پہچاننے کے لیے ہمیشہ سالوں کی ضرورت نہیں ہوتی…
کپڑے بدلنے کے بہانے باتھ روم جاتے فرحان بڑبڑا رہا تھا
مہران نہیں فارچونر مانگنی بنتی تھی