Diploma Hub Ofqual

  • Home
  • Diploma Hub Ofqual

Diploma Hub Ofqual Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Diploma Hub Ofqual, Madrid centre, .

🎓 Advance Your Career with EduQual! 🎓*EduQual Diploma in Business and Marketing Strategy at SCQF Level 11!*🌍 Globally Re...
24/04/2026

🎓 Advance Your Career with EduQual! 🎓
*EduQual Diploma in Business and Marketing Strategy at SCQF Level 11!*

🌍 Globally Recognized Accepted in Malta & UK 🌍
SCQF Level: 11
QCF / RQF / EQF Level: 7
Credits: 120
Assessment-based, no exams

📞 ENROLL TODAY!
WhatsApp: 612 45 83 12

This is a good option if you have low marks but you want to study abroad. And the admission process in Spain 🎓Our diplom...
20/04/2026

This is a good option if you have low marks but you want to study abroad.
And the admission process in Spain 🎓

Our diplomas are the best opportunity for you! 🌟

Diplomas from OTHM, PEARSON, EDUQUAL, and QUALIFI are accepted worldwide, including in the UK, USA, Australia, Switzerland, and many other countries.

If your marks are low, you can still apply to different countries with these diplomas after completing Matric and Intermediate.

No exam/all assessment based

Globally recognized

Level 3 Integrated Diploma in Business Management (Matric Qualified Eligible)

Level 5 Extended Diploma in Business Management (FA/FSC Qualified Eligible)

Level 6 Extended Diploma in Business Administration (BA/B.COM Qualified Eligible)

Level 7 Extended Diploma in Strategic Marketing, HRM (BA/B.COM Qualified Eligible)

💬 Contact us:
WhatsApp: +34 612 458 312
Messenger for a detailed evaluation of the diploma and accepted universities.

And

You can find information about the admission process in Spain.
1. University search
2. Application
3. Change to grading system
4. Visa file information



STUDY IN THE UK 🇬🇧Level 5 Extended Diploma inHospitality and Tourism Management🎓 Credits: 120📝 Assessment-Based – No Exa...
20/04/2026

STUDY IN THE UK 🇬🇧
Level 5 Extended Diploma in

Hospitality and Tourism Management

🎓 Credits: 120
📝 Assessment-Based – No Exams
🌍 Globally Recognized
📘 IELTS / TOEFL / PTE Accepted

Why Choose This Diploma?

✔ Career growth in Hospitality & Tourism
✔ Assignment-based learning
✔ Progress to UK degree
✔ Get certified in 3–4 weeks

WhatsAp

📞 Enroll Now: +34 612 45 83 12



🎓 Pearson BTEC Level 5 Higher National Diploma in Business🌍 Study in the UK – No Exams!💡 Assessment-based – 240 Credits📜...
19/04/2026

🎓 Pearson BTEC Level 5 Higher National Diploma in Business

🌍 Study in the UK – No Exams!
💡 Assessment-based – 240 Credits
📜 Worldwide Accepted
🚀 Get Enrolled in the Current Batch!

🎓 After Completion
🌟 Get Admission for a Top-up Degree at Top UK Universities!

📞 WhatsApp: +34 612 45 83 12
📍 Enroll Today and Start Your Journey!

12/04/2026



11/11/2025

🚀 Advance Your Career with OTHM, PEARSON, EDUQUAL, and QUALIFI! 🎓

Our diplomas are your perfect opportunity! 🌟

Diplomas from OTHM, PEARSON, EDUQUAL, and QUALIFI are accepted worldwide, including in the UK, USA, Australia, Switzerland, and many other countries.
💬 Contact Us:
WhatsApp: +34 612 458 312
💬 DM me on Messenger for Diplomas and a detailed assessment of accepted universities.

゚viralシalシ

14/12/2024
14/12/2024

🌟 Achieve Success That Commands Respect—Stop Chasing, Start Earning 🌟

Follow my page: https://www.facebook.com/pakistanimentor/
Jabbar aka Pakistani Mentor
india vs australia, ind vs aus, aus vs ind, jasprit bumrah, australia vs india, ind vs aus live, indvsaus, alex carey, india vs aus, aus vs ind live, ind vs aus test,, india vs australia test, ind v aus, aus vs india, aus vs ind test, mitchell starc, india vs australia live, yashasvi jaiswal, josh hazlewood, ind vs aus live score, steve smith, ind vs, aus v ind, bgt ind vs aus, aus vs ind live score, india national cricket team, ind vs aus test series 2024, ind vs australia, border gavaskar trophy, imd vs aus, australian men’s cricket team vs india national cricket team timeline, india vs aus live, india at australia, australia vs. india, ind vs aus live match, india versus australia, australia vs ind, australian men’s cricket team, india vs australia first test match
Pakistan, Pakistani Culture, Fashion, Food, Music, Karachi, Lahore, Islamabad, Peshawar, Quetta, Cricket, Cricket, PSL (Pakistan Super League), Hockey, Football, Drama, Lollywood, Cinema, Celebrities, Desi Fashion, Cuisine, Desi Food, Tech In Pakistan, Startups, Business In Pakistan, Digital Education In Pakistan, Women Empowerment, Youth Of Pakistan, Green Pakistan, Beautiful, Travel Pakistan, Northern Areas, Visit Health In Pakistan, Fitness, Healthy, Support Local, Charity In Pakistan, Help Pakistan

21/11/2024
20/11/2024

یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے ایک دکان پر تازہ جلیبی بن رہی تھی وہ خریدی تو اخبار کا ساتھ آنے والا ٹکڑا پوری زندگی تبدیل کر گیا ۔۔۔ پڑھنے کا شروع سے شوق تھا
ہوا کچھ یوں کہ اُس ٹکڑے پر ایک کالم چھپا ہوا تھا۔ کالم نگار کا نام اب یاد نہیں ہے لیکن اس نے جو لکھا تھا وہ سب یاد ہے حرف بہ حرف تو نہیں، لیکن یاد ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔
اُس نے لکھا کہ:
میں کل اپنے ایک کاروباری دوست کے پاس دفتر گیا چائے پی گپ شپ لگاتے ہوئے گھر جانے کا وقت ہو گیا۔ جب دفتر سے باہر نکل رہے تھے تو کلرک نے آ کر ایک شکایت لگائی کی جناب فلاں چپڑاسی سست ہے کام نہیں کرتا، ڈرائیور نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔
میرے اُس دوست نے کہا اگر کام نہیں کرتا تو کس لیے رکھا ہو ہے، فارغ کرو اسے۔ میں نے فورا مداخلت کی اور کہا، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اس سے بات کر لو، کیا پتہ اسکے کچھ مسائل ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ایک شیخ صاحب کا واقعہ سنایا۔
💥شیخ صاحب لاہور میں ایک معمولی سے دفتر میں ملازم تھے، دن کچھ ایسے پھرے کہ اسی دفتر کے صاحب کو پسند آ گئے اور یوں انکی فیملی میں ہی شیخ صاحب کی شادی ہو گئی۔
قدرت شیخ صاحب پر مہربان تھی، دن رات اور رات دن میں بدلتے گئے اور شیخ صاحب ایک دکان سے ایک مارکیٹ اور پھر ایک فیکٹری سے دو، چار، اور پھر نہ جانے کتنی فیکٹریوں کے مالک بنتے گئے۔
دھن برستا گیا، دو بچے ہو گئے۔ شیخ صاحب نے کرائے والے کمرے سے ایک اپارٹمنٹ اور پھر لاہور کے انتہائی پوش علاقے میں دو کنال کی ایک کوٹھی خرید لی۔ مالی کی ضرورت پیش آئی تو چکوال سے آئے ہوئے سلطان کو فیکٹری سے نکال کر پندرہ سو روپے ماہوار پر اپنی کوٹھی پر ملازم رکھ لیا۔
سلطان ایک انتہائی شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان تھا، نہ کسی سے کوئی جھگڑا، نہ کوئی عداوت، نہ کبھی کوئی شکایت۔ ایک بار شیخ صاحب دن کے دس بجے کسی کام سے گھر واپس آئے تو گاڑی دروازے پر ہی کھڑی کر دی
کہ ابھی واپس دفتر جانا تھا۔ دروازے سے گھر کے داخلی دروازے کے درمیان اللہ جانے کیا ہوا کہ پودوں کو پانی دیتے سلطان کے ہاتھ سے پائپ پھسلا اور شیخ صاحب کے کپڑوں پر پوری ایک تیز پھوار جا پڑی،
شیخ صاحب بھیگ گئے۔ سلطان پاؤں میں گر گیا، گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا کہ صاحب غلطی ہو گئی۔ لیکن شیخ صاحب کا دماغ آسمان پر تھا۔ غصے میں نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، وہیں کھڑے کھڑے سلطان کو نوکری سے نکال دیا۔کہا شام سے پہلے اس گھر سے نکل جاؤ۔
سلطان بیچارہ سامان کی پوٹلی باندھ کر گھر سے نکل کر دروازے کے پاس ہی بیٹھ گیا کہ شاید صاحب کا غصہ شام تک ٹھنڈا ہو جائے تو واپس بلا لیں۔ شام کو شیخ صاحب واپس آئے، دیکھا سلطان ابھی تک بیٹھا ہوا تھا، گارڈ کو کہا اسے دھکے دیکر نکال دو، یہ یہاں نظر نہ آئے، صبح ہوئی تو سلطان جا چکا تھا۔ رب جانے کہاں گیا تھا۔
وقت گزرتا گیا، شیخ صاحب کے تیزی سے ترقی پاتے کاروبار اور فیکٹریوں میں ایک ٹھہراؤ سا آنے لگا۔ کاروبار میں ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ کم پڑتی گئی۔ لیکن شیخ صاحب زندگی سے بہت مطمئن تھے۔
پھر ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی، پوری فیکٹری جل کر راکھ ہو گئی۔ کچھ مزدور بھی جل گئے۔ شیخ صاحب کو بیٹھے بٹھائے کروڑوں کا جھٹکا لگ گیا۔ کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہوا تو شیخ صاحب کے ماتھے پر بل پڑنا شروع ہو گئے۔ بڑا بیٹا یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ تھا،
دوستوں کے ساتھ سیر پر مری گیا واپسی پر حادثہ ہوا تو وہ جوان جہان دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شیخ صاحب کی کمر ٹوٹ گئی۔
نقصان پر نقصان ہوتے گئے۔ دو کنال کی کوٹھی بیچ کر دس مرلے کے عوامی طرز کے محلے میں آ گئے۔ جب عقل سے کچھ پلے نہ پڑا تو پیروں فقیروں کے ہاں چلے گئے کہ شاید کوئی دعا ہاتھ لگ جائے اور بگڑی ہوئی زندگی پھر سے سنور جائے۔ باقی ماندہ کاروبار بیچ کر اور کچھ دیگر پراپرٹی کو رہن رکھ کر بنک سے قرضہ لیا اور چھوٹے بیٹے کو ایک نیا کاروبار کر کے دیا۔
اسکے پارٹنر دوست نے دغا کیا اور سارا پیسہ ڈوب گیا۔ شیخ صاحب ساٹھ سال کی عمر میں چارپائی سے لگ گئے۔
ایک دن ایک پرانا جاننے والا ملنے آیا، حالات دیکھے تو بہت افسوس کیا۔ کہا شیخ صاحب ایک بزرگ لاھور آئے ہوئے ہیں، بہت بڑے اللّہ والے ہیں، اگر ان کے پاس سے دعا کروا لیں تو اللہ کرم کرے گا۔
شیخ صاحب فورا تیار ہو گئے۔ ان کے پاس پہنچے، ملاقات کی، مسئلہ بیان کیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں، کچھ دیر مراقبے کی کیفیت میں رہے، پھر آنکھیں کھولیں، شیخ کو دیکھا اور کہا "تم نے سلطان کو کیوں نکالا تھا؟"
شیخ کے سر کے اوپر گویا ایک قیامت ٹوٹ پڑی، آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک نہ تھمنے والی لڑی جاری ہو گئی، شیخ بزرگ کے پاؤں میں گر گیا، معافیاں مانگنے لگا۔ بزرگ نے اسے کہا میری بات سنو۔ پروردگار رازق ہے، وہ رزق ضرور دے گا لیکن اسکا وسیلہ انسانوں کو ہی بنائے گا۔اوپر سے نیچے آتے پانی کی تقسیم جس طرح نہروں نالوں کی طرح ہوتی ہے رزق کی تقسیم اسی طرح ہے۔
پروردگار کے نزدیک ہم میں سے ہر ایک شخص وسیلہ ہے کسی اور کے رزق کا۔ اگر آپ وسیلہ بننے سے انکار کرو گے تو تمہارے حصے کا وہ رزق جو اس وسیلے سے تمہیں بطور معاوضہ مل رہا تھا ختم ہو جائے گا۔
تمہیں لاکھوں کروڑوں سلطان کو پندرہ سو روپے دینے کے لیے ملتے تھے۔ تم نے وہ روک لیے، اوپر والے نے تمہارا معاوضہ ختم کر دیا۔ اب جاؤ اور سلطان کو ڈھونڈو، اگر وہ مان جائے معاف کر دے تو تمہارے دن پھر جائیں گے۔
شیخ کی دنیا لٹ گئی، وہ سر پیٹتا گھر آیا پرانے کاغذات ڈھونڈتا رہا کہ شاید کہیں سلطان کا کوئی پتہ، کوئی شناختی کارڈ، کوئی اور معلومات مل سکیں۔ کچھ بھی نہ ملا تو شیخ دیوانہ وار سلطان کو ڈھونڈنے چکوال جانے والی بس میں بیٹھ کر چکوال چلا گیا۔ مگر سلطان نہ ملا۔

چھوٹا بیٹا ڈھونڈتا ڈھونڈتا چکوال اڈے پر آ پہنچا اور باپ کو واپس لاہور لے آیا۔ لیکن شیخ کا دل کا سکون ختم ہو گیا تھا۔ کچھ دن بعد شیخ پھر گھر سے غائب ہوا تو بیٹے کو معلوم تھا کہ کہاں ملے گا۔
وہ چکوال پہنچا تو دیکھا باپ زمین پر بیٹھا سر میں راکھ ڈال رہا تھا اور کہہ رہا تھا سلطان تم کہاں ہو، سلطان تم کہاں ہو۔ بیٹا خود روتا ہوا باپ کو واپس لے آیا۔ چند دن کے بعد شیخ کا انتقال ہو گیا۔
کالم نگار نے لکھا، میں نے اپنے دوست کو یہ پوری کہانی سنائی اور اسے کہا، چپڑاسی کو نہ نکالو، اسکا رزق تمہارے رزق سے جُڑا ہے، اسے تو رب کہیں اور سے بھی دے دے گا کہ اس کے پاس وسیلہ بنانے کے لیے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس معاوضے والی نعمت سے محروم ہو جاوؐ۔
مجھے یہ واقعہ پڑھے ہوئے کافی سال گزر گئے ہیں۔ آپ یقین کریں اس تحریر نے میری زندگی بدل دی۔ میں مالی معاملات میں بہت زیادہ محتاط رھتا ہوں۔ اگر کسی کے پاس کچھ پیسے ادھار کیصورت میں رہ گئے تو نہیں مانگے کہ کہیں اوپر والے سے ملنے والا معاوضہ کم نہ ہو جائے۔
کوشش ہوتی ھے کہ میری وجہ سے لوگوں کا رزق لگا رھے گھر میں کام والی رکھی تو مشکل حالات میں بھی انکار نہیں کیا کہ اسکا رزق لگا رھے
اپنے پاس کام کرنے والے کسی لڑکے کو کبھی نہیں نکالا کہ میری وجہ سے کسی کے گھر میں پریشانی نا ہو کسی کے رزق کا وسیلہ ختم نا ھو جائے
میں نے ہمیشہ نیک نیتی سے وسیلہ بننے کی کوششیں بھی کیں، میں کبھی تنگ دست نہیں ہوا۔ اللّٰہ نے ہمیشہ مجھے نوازا ، ایک سے بڑھ کر ایک وسیلہ ملتا گیا اور میں آگے بڑھتا رہا ۔۔۔
آپ بھی ارادہ کریں کہ کبھی آپکی وجہ سے کسی کا رزق بند نہیں ہو گا
آپ وسیلہ بنتے رھیں اللہ پاک آپ کیلئے وسیلے بناتا رھے گا ان شاءاللہ ..

19/11/2024

Address

Madrid Centre

08923

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Diploma Hub Ofqual posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Grocery Store?

Share