29/03/2024
پراسٹیٹ گلینڈ
غدہ قدامیہ
بوڑھے افراد کے امراض میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بیماری غدہ قدامیہ کی سوزش ہے۔ دورِ جدید کا ایک کثیر الوقوع اور صرف مردوں کا مرض ہے۔دنیا کے ہر خطے میں یکساں طور پایا جاتا ہے۔یہ عارضہ عام طور پر 50 سال کی عمر کے بعد سامنے آتا ہے۔ایسے افراد جو صحت کے حوالے سے بے احتیاطی اور لا پرواہی کے مرتکب ہوتے ہیں انہیں یہ مرض 40 سال کے بعد لاحق ہونے کے خطرات موجود ہوتے ہیں۔
عظمِ غدہ قدامیہ کے اسباب:
یہ غدود مثانے کے منہ پر پایا جاتا ہے اور پیشاب کی نالی اس میں سے گزرتی ہے۔جب یہ غدود بڑھتا ہے تو پیشاب کی نالی پر دباؤ پڑ جاتا ہے جس سے پیشاب آنے میں رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔غدہ قدامیہ کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ مردانہ ہارمونز کی افزائش میں بتدریج کمی ہوتی ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ وقوع پزیر ہوتی ہے۔مائکرو سکوپی کے ذریعے تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ پراسٹیٹ گلینڈکے اندرونی حصہ کے خلیات کا سائز بڑھ جاتاہے،اور غدود کی فائبرس مسکولر بافتوں کی ساخت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔غدئہ قدامیہ کے بڑھ جانے سے پیشاب کی نالی کی ساخت میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے جس سے پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ اورتنگی پیدا ہو جاتی ہے۔پیشاب پوری طرح سے خارج نہ ہونے کی وجہ سے مثانہ بھرا بھرا سا رہتا ہے جس سے مثانہ اور گردے متاثر ہوتے ہیں۔طب قدیم کی رو سے غدہء قدامیہ کی سوزش کے اسباب میں بوڑھے افراد کو ٹھنڈ لگ جانا،پیشاب کو زیادہ دیر تک روکے رکھنا،بد ہضمی، تیزابیت، تبخیر، قبض اور بعض بخاروں کا شدید حملہ شامل ہیں۔
علامات :۔
پیشاب کی شدید رکاوٹ اچانک غدود کے بڑھ جانے سے ہوتی ہے۔اس کی وجہ غدود کی انفیکشن اور سوزش ہوتی ہے۔مریض کو پیشاب کی حاجت تو ہوتی ہے لیکن وہ اسے خارج کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔مثانہ پیشاب سے بھرجاتا ہے اور اس میں سخت کھچائو اور شدید درد ہوتا ہے۔عام طور پر پیشاب میں خون کی آمیزش ہوتی ہے۔پیشاب کی دھار بھی بہت کمزور ہوا کرتی ہے۔ مریض کو پیشاب کی حاجت بار بار ہوتی ہے۔ ☜ علاج:۔طبِ قدیم میں غدہء قدامیہ کی سوزش کا مکمل علاج موجو دہے۔ وقتی افاقہ کے لیے کیسو کے پھولوں کو پانی میں پکا کر بیرونی طور پر ٹکور کرنے سے فوری آرام ملتا ہے۔ اسی طرح تمباکو کو پانی میں ابال کر نیم گرم باندھنے سے بھی فوری طور پر درد سے نجات حاصل ہوتی ہے دن میں دو بار شربتِ بزوری کے چار چمچ عرقِ مکو نصف کپ میں ملا کر استعمال کریں۔سماق دانہ کو باریک پیس کر ہموزن مصری ملا کر نہار منہ 5 گرام کی خوراک دینے سے بھی مرض کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے۔علاوہ ازیں بازار میں دستیاب ادویات بھی کمال نتائج کی حامل ہیں۔گلمندین دن میں دو بار 10 گرام پانی میں پکاکر بطورِ قہوہ پییں۔ پندرہ روزہ متواتر استعمال سے عظمِ غدئہ قدامیہ سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔ پرہیز:۔دورانِ مرض مریض کو چاہیے کہ مکمل طور پر آرام و سکون کرے۔ جسمانی حرکات و سکنات سے باز رہے۔ کولا مشروبات، شراب، گوشت، تیز مصالحہ جات،سرخ مرچ، چاول، گوبھی بینگن، چکنائیاں، مٹھائیاں، ترش اور بادی اشیا کے استعمال سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ پیشاب آور مشروبات،پھلوں کے جوس وغیرہ کثرت سے استعمال کیے جائیں۔روزانہ صبح کی سیر تواتر سے کی جائے۔ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ آپ اس اذیت ناک مرض سے محفوظ رہنے میں کامیاب ہو نگے۔
ھوالشافی :
قلمی شورہ زمینی 250 گرام گندھک آملہ سار 30 گرام کشتہ سنکھ سادہ 250 گرام پوست ریٹھا 250 گرام
ترکیب :
قلمی شورہ کو آھنی کڑاھی میں ڈال کر ھلکی آنچ پر رکھ کر پگھلائیں اور گندھک آملہ سار کی چٹکی دیتے جائیں جب گندھک ختم ھو جاۓ تو شورہ کو اتار لیں اور اس میں کشتہ سنکھ اور پوست ریٹھا ڈال کر انتہائی باریک پیس لیں اب ایک گرام والے کیپسول بھر لیں ۔
خوراک :
ایک کیپسول صبح و شام کھانے کے ایک گھنٹہ بعد شربت سرکنڈہ کے ساتھ 15 دن سے ایک ماہ ۔۔
پراسٹیٹ گلینڈ اپنی اصل حالت میں آجاۓ گا ۔