yaseen Bardana ghala mandi Bhakkar

yaseen Bardana ghala mandi Bhakkar for agriculture good's

08/01/2026
23/11/2025

Deen E Islam

جب بدعتی لوگ کعبہ 🕋 کے غلاف کو چاکو اور ✂️ کینچیوں سے کاٹتے ہیں اور جب محافظ انہیں روکتے یا وہاں سے ہٹاتے ہیں تو شور گل ...
03/11/2025

جب بدعتی لوگ کعبہ 🕋 کے غلاف کو چاکو اور ✂️ کینچیوں سے کاٹتے ہیں اور جب محافظ انہیں روکتے یا وہاں سے ہٹاتے ہیں تو شور گل مچاتے ہیں کہ سعودیہ انتظامیہ ( عمرہ/ حج کرنے والوں) کو مارتا ہے ۔ حالانکہ اگر انہیں ان کی خواہش پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنے شرکیہ اعمال سے مسجد حرام اور کعبہ 🕋 کی حرمت کو پامال کر دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کعبہ کا غلاف صرف ایک کپڑا ہے ۔ نا وہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نا ہی نقصان ۔ عزت و حرمت اس کپڑے میں نہیں بلکہ اس گھر کی نسبت میں ہے جسے اللہ نے اپنی عبادت کے لئے مخصوص فرمایا ہے

14/09/2025

Pyare Bhai ki Shaadi hai

روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو مٹی میں ملا دیا، تو اس کے بعد وہ اپنی خوفناک فوج کے س...
09/09/2025

روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو مٹی میں ملا دیا، تو اس کے بعد وہ اپنی خوفناک فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف روانہ ہوا۔
ہمدان کے لوگ ڈر کے مارے لرز رہے تھے، ہر چہرے پر خوف، اور ہر دل میں موت کا اندیشہ چھایا ہوا تھا۔
چنگیز خان نے حکم دیا کہ پورے شہر کو ایک وسیع میدان میں جمع کیا جائے۔ میدان میں خاموشی طاری ہو گئی، جیسے وقت رک گیا ہو۔
چنگیز خان نے بلند آواز میں کہا:

"میں نے سنا ہے کہ ہمدان کے لوگ نہایت ہوشیار، عقل مند اور سمجھ دار ہوتے ہیں۔ تمہاری عقل مندی مشہور ہے، کہتے ہیں: ‘ہمہ دانی و ہیچ ندانی’ – یعنی سب کچھ جانتے ہو، مگر پھر بھی کچھ نہیں جانتے۔"

پھر اس نے اعلان کیا:
"میں تم سے ایک سوال کروں گا۔ اگر جواب درست ہوا تو تم سب کو امان دی جائے گی۔ لیکن اگر جواب غلط ہوا… تو یہ میدان تم سب کی قبریں بن جائے گا۔ تمہاری قسمت کا فیصلہ یہی کرے گا!"

میدان میں موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ لوگ کانپنے لگے۔
چنگیز خان نے نظریں گھمائیں، پھر گرج کر پوچھا:

"کیا میں خدا کی طرف سے آیا ہوں؟ یا اپنی مرضی سے؟"

کسی کے پاس ہمت نہ تھی جواب دینے کی۔ علماء، دانشور، اور بزرگ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ یہ سوال صرف ایک دلیل نہیں تھا، بلکہ پورے شہر کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔
ہر چہرہ پریشان، ہر آنکھ سوالی بنی ہوئی تھی۔ اور تب… ہجوم سے ایک سادہ سا چرواہا آگے بڑھا۔

نہ وہ عالم تھا، نہ دانشور۔ مگر اس کی آنکھوں میں بصیرت تھی، دل میں سچائی۔
چنگیز خان نے اسے دیکھا اور کہا:
"اگر میں جواب سنوں گا، تو تجھ سے سنوں گا!"

چرواہے نے بے خوفی سے چنگیز کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا:

"نہ تم خدا کی طرف سے آئے ہو،
نہ تم اپنی مرضی سے آئے ہو…
تمہیں تو ہمارے اعمال نے یہاں پہنچایا ہے۔

جب ہم نے عقل والوں کو نظر انداز کیا،
علم والوں کو پیچھے دھکیلا،
اور جاہلوں، خوشامدیوں، اور نالائقوں کو عزت، طاقت اور قیادت دے دی—
تو پھر تم جیسے ظالم کا آنا طے تھا!

تم ہماری نادانی، بے انصافی اور بصیرت سے خالی قیادت کا نتیجہ ہو!"

میدان میں گہری خاموشی چھا گئ
چنگیز خان ساکت ہو گیا۔ شاید یہ سچائی اس کے دل تک اتر گئی تھی۔
اور پھر… اس نے سب کو چھوڑ دیا۔ کسی کا خون نہ بہایا۔

ایسے چنگیز جیسے فتنے آسمان سے نہیں اترتے۔
یہ قوموں کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

Address

Bhakkar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when yaseen Bardana ghala mandi Bhakkar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category