Ik khawab aik haqeeqat.

Ik khawab aik haqeeqat. about a dream becoming a reality,

16/05/2026

بیشتر دفاتر میں روزمرہ کی روٹین کا یہی حال ہے جہاں بے جا کارکردگی (Fake Efficiency) اور فون کی اسکرینوں میں مستقل گم رہنے والے مینیجرز ٹیم کے اصل کام اور ذہنی سکون کو تباہ کر دیتے ہیں۔
یہ رویہ کس طرح نقصان پہنچاتا ہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
* غلط ترجیحات: فوری پیغامات (instant messages) پر ردعمل دینے کی جلدی میں طویل مدتی اور اہم منصوبے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
* کاغذی کارروائی پر زور: اصل کام کے بجائے غیر ضروری رپورٹس، ڈیٹا اور پریزنٹیشنز بنانے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔
* مائیکرو منیجمنٹ (Micro management): ہر چھوٹے کام پر نظر رکھنے کی ضد سے ملازمین کی خود مختاری اور تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔
💡 اس صورتحال سے کیسے نپٹا جائے؟
ڈیجیٹل باؤنڈریز: کام کے دوران فون استعمال کرنے کے بجائے مخصوص اوقات مقرر کیے جائیں۔
نتائج پر توجہ: گھنٹے گننے (Time tracking) کے بجائے کام کے معیار اور ڈیڈ لائنز پر فوکس کیا جائے۔
میٹنگز میں کمی: صرف ناگزیر معاملات پر مختصر میٹنگز کی جائیں اور باقی معاملات ای میل یا کولیبریشن ٹولز کے ذریعے حل کیے جائیں۔

11/05/2026

خواندگی کیا ہوتی ہے ؟
What is literacy?



15/04/2026

میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی
آپ کی بہن جب بھی آتی ہے۔۔ اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔۔خرچ ڈبل ہو جاتا ہے ۔۔😰
اور تمہاری ماں ۔۔۔ہم۔سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی سرف کے ڈبے
اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے۔۔
اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں ،
فارس مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے ۔۔۔۔

بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا۔۔
میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا
ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس ، اور یہ جو آپ صابن ، سرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں سب ۔۔😥
ماں چپ رہی ۔۔۔
لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری ، بہن کچھ نہ بولی ۔۔😢
4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی" بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ او ۔۔۔

میں نے جھوٹے منہ کہا "رہ لیتی کچھ دن"
لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں ۔😢

پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا ہو رہا تھا تو میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا۔۔۔😥
بہن سامنے بیٹھی تھی۔۔
وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی
ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا "کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا ۔۔😢

میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی
وہ بیچاری خاموش تھی
کرونا کے دن ہیں، فارس کام کاج ہے نہیں
میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی

میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں ، بہت پریشان تھا۔۔
میں نے قرض بھی لے لیا تھا لاکھ دو لاکھ ، بھوک سر پہ تھی
میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ
کے اتنے میں بہن گھر آگئی
میں غصے سے بولا، اب یہ آ گئی ہے منحوس
بیوی میرے پاس آئی۔۔
کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لیئے
پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی۔۔😥

بھائی پریشان ہو؟
میں مسکرایا نہیں تو
بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری
گود میں کھیلتے رہے ہو۔۔😥

اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو
پھر میرے قریب ہوئی
اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے
آہستہ سے بولی۔۔
پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے ، تیرا بھائی شہر گیا ہوا تھا
بچے سکول تھے میں نے سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل۔آوں
یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ پورا کر ، بیٹے کا علاج کروا ۔۔😢
اور جا اٹھ نائی کی دکان پہ جا داڑھی بڑھا رکھی ہے
شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے
میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا
وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم ہے۔۔😥

میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے
شاید اس کی جمع پونجی تھی
میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا
پریشان نہ ہوا کر، تیرے بھائی کو تنخواہ ملے گی تو آوں گئ پھر
جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا، دیکھ ، بال سفید ہو گئے
اب بازار جاو اور داڑھی کو ٹھیک کر آو
وہ جلدی سے جانے لگی
اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی ، پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی
فارس بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا
ہم۔بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں۔۔۔ 😢

اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتی
وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا
اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھی۔۔😢

یہ ایک عام تاثر بن چکا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت ہی مظلوم ہے، مگر تصویر کا دوسرا رخ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حقی...
22/03/2026

یہ ایک عام تاثر بن چکا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت ہی مظلوم ہے، مگر تصویر کا دوسرا رخ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد بھی ایک ایسے دباؤ، تنہائی اور ذمہ داری کا شکار ہوتا ہے جسے نہ تو زبان ملتی ہے اور نہ ہی ہمدردی۔

مرد کو بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ وہ کمائے، برداشت کرے، اور جذبات کو دبائے۔ وہ گھر کا سہارا بنتا ہے، اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ مگر اسی عمل میں وہ آہستہ آہستہ تنہا ہوتا جاتا ہے۔

اولاد کی تربیت میں ماں کا کردار یقینا بنیادی ہوتا ہے، کیونکہ بچہ زیادہ وقت اس کے ساتھ گزارتا ہے۔ یہی قربت بچے کی سوچ، رائے اور تعلقات پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اگر ماں کسی رشتے کے بارے میں منفی تاثر دے، تو بچہ اکثر بغیر تحقیق کے اسے قبول کر لیتا ہے۔ یوں باپ کے خاندان جیسے کہ دادا دادی، چچا، پھوپھیاں وغیرہ بچے کی نظر میں ایک کہانی بن جاتے ہیں، جنہیں وہ خود کبھی جان نہیں پاتا۔ شاید نانی گھر کی اہمیت اور پیار کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔

دوسری طرف، باپ اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے معاشی استحکام کی۔ وہ اپنی اولاد کو بہتر تعلیم، بہتر ماحول اور بہتر مستقبل دینے کے لیے مسلسل محنت کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے، اس کی یہ قربانیاں اکثر “فرض” سمجھ کر نظر انداز کر دی جاتی ہیں، نہ کہ ایک جذباتی سرمایہ کاری کے طور پر۔

جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے، تو جذباتی وابستگی کا پلڑا اکثر ماں کی طرف جھک جاتا ہے کیونکہ وہ یادوں، قربت اور موجودگی کی علامت ہوتی ہے۔ باپ، جو پس منظر میں رہ کر سب کچھ فراہم کرتا رہا، ایک مضبوط مگر خاموش کردار بن کر رہ جاتا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ ہر ماں یا ہر عورت ایسی نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر مرد مظلوم ہوتا ہے۔ مگر معاشرتی بیانیہ اکثر یک طرفہ ہو چکا ہے، جہاں مرد کے دکھ کو یا تو کم اہم سمجھا جاتا ہے یا سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔

‏ایک عورت قصاب کی دکان میں بند ہونے سے کچھ دیر پہلے داخل ہوئی اور پوچھا"کیا آپ کے پاس ابھی بھی مرغی موجود ہے؟"قصاب نے اپ...
21/03/2026

‏ایک عورت قصاب کی دکان میں بند ہونے سے کچھ دیر پہلے داخل ہوئی اور پوچھا
"کیا آپ کے پاس ابھی بھی مرغی موجود ہے؟"

قصاب نے اپنا ڈیپ فریزر کھولا، آخری بچی ہوئی مرغی نکالی، اور ترازو پر رکھی۔ اس کا وزن 1.5 کلو تھا۔

عورت نے مرغی اور ترازو کی طرف غور سے دیکھا اور پوچھا
"کیا آپ کے پاس اس سے بڑی کوئی مرغی ہے؟"

قصاب نے وہی مرغی دوبارہ فریزر میں رکھی، پھر دوبارہ نکالی، لیکن اس بار اس نے چالاکی سے اپنا انگوٹھا ترازو پر رکھ دیا، اور ترازو نے 2 کلو وزن دکھایا۔

عورت خوش ہو کر بولی
"یہ تو بہت زبردست ہے! براہ کرم، مجھے دونوں مرغیاں دے دیں".

ایسی صورتحال میں انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی دیانتداری اور ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے۔
آپ کی چالاکی بے وقوفی بن جاتی ہے، اور آپ کی حکمت احمقانہ لگنے لگتی ہے۔

قصاب کا سر ابھی بھی ڈیپ فریزر کے اندر پہلی مرغی تلاش کر رہا ہے.

عقلمند عورت نے قصاب کی چالاکی کو بھانپ لیا تھا۔ مگر بحث کرنے کے بجائے اُس نے ہوشیاری سے اُسی کے جال میں اُسے پھنسا دیا اور کہا کہ "مجھے دونوں مرغیاں دے دیں۔"

بعض اوقات خاموشی سے اپنی عقل کا استعمال کر کے آپ کسی کو بحث کیے بغیر شرمندہ کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف، ہمیشہ سچ بولیں، اور آپ آزاد رہیں گے
اچھا نام دولت سے بہتر ہے۔
اپنی سچائی کے ساتھ جیو، دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے نہیں۔

ایک ساس ڈاکٹر کے پاس گئی اور کہنے لگی:"ڈاکٹر صاحب! کوئی ایسی دوا دے دیں کہ اس بار میری بہو کے بیٹا ہی ہو۔ دو بیٹیاں پہلے...
28/11/2025

ایک ساس ڈاکٹر کے پاس گئی اور کہنے لگی:

"ڈاکٹر صاحب! کوئی ایسی دوا دے دیں کہ اس بار میری بہو کے بیٹا ہی ہو۔ دو بیٹیاں پہلے ہو چکی ہیں، اب تو بیٹا ہی ہونا چاہیے۔"

ڈاکٹر نے سکون سے جواب دیا:

"میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوا موجود نہیں۔"

ساس نے فوراً کہا:

"اگر آپ کے پاس نہیں تو کسی اور ڈاکٹر کا بتا دیں؟"

ڈاکٹر نے نرمی سے کہا:

"آپ نے شاید میری بات غور سے نہیں سنی۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے دوا کا نام نہیں آتا، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی بھی دوا ہے ہی نہیں۔"

اسی وقت لڑکی کا سسر بولا:

"لیکن فلاں لیڈی ڈاکٹر تو کہتی ہے کہ…"

ڈاکٹر نے بات کاٹتے ہوئے کہا:

"وہ جعلی ڈاکٹر ہوگی۔ اس طرح کے دعوے جعلی پیروں، فقیروں اور نام نہاد حکیموں کا کام ہے۔ یہ سب فراڈ ہے۔"

پھر لڑکی کا شوہر بولا:

"تو کیا مطلب ہماری نسل نہیں چلے گی؟"

ڈاکٹر نے کہا:

"نسل چلنے کا مطلب ہے آپ کے جینز کا اگلی نسل میں منتقل ہونا۔ یہ کام تو آپ کی بیٹیاں بھی کر سکتی ہیں۔ بیٹا ہونا کیوں لازمی ہے؟ ویسے بھی، آپ لوگ عام انسان ہیں، آپ کی نسل میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ وہ بیٹے کے ذریعے ہی چلنی چاہیے؟"

سسر نے حیرانی سے کہا:

"میں سمجھا نہیں!"

ڈاکٹر نے مثال دیتے ہوئے کہا:

"ساہیوال کی گائے کی ایک مخصوص نسل زیادہ دودھ دیتی ہے۔ اگر اس نسل کی ایک ہی گائے بچ جائے تو فکر ہونی چاہیے کہ کہیں یہ نسل ختم نہ ہو جائے۔

طوطوں کی ایک خاص قسم بولتی ہے۔ اگر اس نسل کی ایک ہی طوطی بچی ہو تو پریشانی بنتی ہے کہ کہیں یہ نسل نایاب نہ ہو جائے۔

لیکن آپ لوگ تو عام انسان ہیں۔ دنیا میں چھ سات ارب انسان اور بھی ہیں۔ آخر آپ میں ایسا کیا خاص ہے؟"

یہ سن کر سسر بولا:

"ڈاکٹر صاحب! کوئی نام لینے والا بھی تو ہونا چاہیے!"

ڈاکٹر نے مسکرا کر پوچھا:

"اچھا یہ بتائیں… آپ کے پردادا کا کیا نام تھا؟"

سسر ہکلاتے ہوئے بولا:

"وہ… وہ… ہممم… شاید… وہ…"

ڈاکٹر نے کہا:

"دیکھیے! آپ کو اپنے پردادا کا نام بھی یاد نہیں، حالانکہ انہیں بھی یہی فکر رہی ہوگی کہ میرا نام کون لے گا۔ اور آج اُن کی اولاد کو اُن کا نام بھی معلوم نہیں۔

ویسے بھی، آپ کے مرنے کے بعد کوئی آپ کا نام لے یا نہ لے، آپ کو کیا فرق پڑے گا؟ قبر میں پڑی ہوئی ہڈیوں کو کس چیز کا سکون ملے گا؟"

ڈاکٹر نے مزید کہا:

"علامہ اقبال کو گزرے کتنے برس ہو گئے، مگر آج بھی ان کا نام نصاب میں زندہ ہے۔

گنگا رام دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر گنگا رام ہسپتال کی وجہ سے آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔

ایدھی صاحب چلے گئے، مگر ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

اور سب سے بڑھ کر… رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک زندگی دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بیٹے عطا فرمائے مگر انہیں واپس بلا لیا، اور تین بیٹیوں کے ذریعے پوری دنیا میں آپ ﷺ کی نسل کو پھیلا دیا۔"

آخر میں ڈاکٹر نے کہا:

"لہٰذا بیٹی اور بیٹے میں فرق نہ کریں۔ بیٹا نعمت ہے، تو بیٹی رحمت ہے۔"

28/11/2025

ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی سےکچھ گھنٹے قبل سمجھاتے ہوئے...بیٹی یہاں تم نے جو کھایا پیا. کبھی وہاں اس بات کا ذکر نہ کرنا کہ تم نے اپنے ماں باپ کے گھر اچھا کھایا. اور یہاں تمھہیں اچھا کھانے کو نہیں مل رہا. پیٹ میں جو چیز چلی جائے کچھ ہی گھنٹوں بعد اُس کی لذت ختم ہو جاتی ہے اور یاد ہی نہیں رہتا کہ کب ہم نے کیا کھایا تھا. کھانے پر کبھی کسی کے ساتھ بحث نہ کرنا. جو مل جائے شکر کر کے کھا لینا. بیٹی جس طرح تم نے اس گھر کو اپنا سمجھ کر صرف اس گھر کی تعریفیں کی ہیں. اُسی طرح اُس گھر کو اپنا سمجھ کر اُس گھر کی تعریفیں کرنا. کبھی بُرائی نہ کرنا. بے شک اب وہ ہی تمھارا اپنا گھر ہے.. بیٹی تم نے ماسٹر کیا ہے مگر اپنی پڑھائی کا رعب اپنے سسرال والوں پر مت استعمال کرنا. کبھی اُن کو یہ نہ کہنا کہ میں آپ سے زیادہ جانتی ہوں. بے شک اپنے گھر کے معاملے میں وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں. کیوں کہ ہر گھر کے اپنے الگ اصول ہوتے ہیں..بیٹی شوہر کو کبھی پیٹھ کر کے نہ سونا. کہ اللہ پاک عورت کی اس حرکت سے ناراض ہوتے ہیں.. بیٹی روٹھنا اس حد تک کہ وہ اگر ایک دفعہ منانے کی کوشش کرے تو مان جانا. اور اگر وہ لاکھ دفعہ بھی نہ مانے تو ایک لاکھ ایک دفعہ پھر کوشش کرنا..کبھی شوہر سے ایسی ڈیمانڈ مت کرنا جو اُس کی حیثیت سے بڑھ کر ہو. اُس کی مجبوریوں کا احساس کرنا.. جب تک سسرال والوں کے اصولوں کو سمجھ نہ جاؤ. تب تک اگر کسی چیز کو استمال کرنا ہو تو اُن سے پوچھ کر استمال کرنا.
اُس گھر کے سبھی افراد کا خیال ایسے رکھنا. جیسے اس گھر کے افراد کا رکھتی تھی. میری یہ نصیحتیں اپنے دوپٹے سے باندھ لینا. شادی کے بعد نہ تو تمھارے سر سے دوپٹا سرکنے
پائے.. اور نہ ہی یہ نصیحتیں.
Plz copy and paste

Address

Chiniot
Chiniot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ik khawab aik haqeeqat. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share