MM Irfan Raan

MM Irfan Raan photos mixing videos and fun

07/09/2026
06/09/2026
03/09/2026

02/09/2026

#رازونیاز۔تھل، زمینوں کا تحفظ اور مرد قلندر سیاست دان

* قیامِ پاکستان کے بعد تھل کے وسیع و عریض خطے میں آبادکاری اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ سرکاری اراضی پالیسیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس دور میں زمین محض مٹی کا ٹکڑا نہیں بلکہ نسلوں کی معاشی بقا، شناخت اور مستقبل کا سوال تھی۔ تھل کی وسیع اراضی مختلف سرکاری قوانین اور منصوبوں کی زد میں آنے لگی۔

*;1949ء کے تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (TDA) ایکٹ کے تحت آبادکاری اور بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے عوض حکومت رقبہ اپنی تحویل میں لے سکتی تھی۔ یوں تھل کی وسیع اراضی پر سرکاری حصول کا خطرہ منڈلانے لگا اور متعدد علاقے اس عمل کی زد میں بھی آئے۔

* ایسے نازک دور میں حسن خیلی ٹرائب کے جدِ امجد، سردار امیر محمد خان بلچ آف حسن خیل نے اپنی سیاسی حیثیت، روابط اور اثر و رسوخ کو محض ذاتی مفادات تک محدود نہیں رکھا بلکہ وسیع علاقوں کی زمینوں کو اس قانون کی زد سے بچانے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔

* موضع غلاماں، تحصیل کلورکوٹ، تحصیل پپلاں اور ضلع لیہ کے بعض وسیع علاقوں کو ان کوششوں سے فائدہ پہنچا۔ میانوالی میں بالخصوص جوئیہ خاندان , حافظ والا کے خوانین، امیر عبداللہ خان بلچ آف پپلاں اور دیگر بلچ خوانینِ پپلاں کی کاوشیں بھی اس حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہیں۔

*:موضع غلاماں اس کی ایک نمایاں مثال ہے، تاہم غلاماں کی وہ اراضی جو حسن خیل خوانین سے لے کر سرکاری تحویل میں دی گئی اور بعدازاں وہاں گورنمنٹ لائیو اسٹاک فارم قائم ہوا، اس حقیقت کی بھی گواہی دیتی ہے کہ تمام زمینیں محفوظ نہ رہ سکیں۔ یہ فارم ایک وقت میں تقریباً 15 ہزار ایکڑ رقبے پر مشتمل تھا۔

*;سردار امیر محمد خان بلچ کے سیاسی روابط، بالخصوص گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر سے ان کے تعلقات بھی اس دور میں اہم سمجھے جاتے تھے۔ تاہم تھل کی زمینوں کے تحفظ کی یہ داستان کسی ایک خاندان یا شخصیت تک محدود نہیں تھی؛ مختلف علاقوں کے بااثر افراد نے بھی اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کیا۔

* تحصیل چوبارہ میں بلچ خاندان آف حسن والا کی ٹرکو اڈہ سے چکنمبر 500 ٹی ڈی اے کے درمیان، کھمبی نہر اور داد مائنر کے قریب واقع بڑی زرعی ملکیت بھی ٹی ڈی اے حکام کی تحویل میں چلی گئی، جہاں بعدازاں چکوک قائم ہوئے۔

* دوسری طرف تھل کی زمینوں کو سرکاری بندر بانٹ سے بچانے میں اس وقت کے ایم ایل اے ملک فتح شیر جھمٹ کا کردار بھی اہم بتایا جاتا ہے۔ صوبائی اسمبلی کا ریکارڈ آج بھی اس حوالے سے گواہ ہے۔ ان کی کاوشوں سے وچویں بالا سے نواں کوٹ، تحصیل چوبارہ تک تھل کی وسیع اراضی کو سرکاری حصول سے محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

* پھر تاریخ نے ایک اور کروٹ لی۔ پنجاب میں زرعی اصلاحات کا دور آیا اور بڑے زمیندار خاندانوں کی وسیع اراضی ایک بار پھر تبدیلیوں کی زد میں آگئی۔ 1958ء میں ایوب خان کے مارشل لا کے بعد سیاسی و انتظامی حالات نے نیا رخ اختیار کیا اور بعدازاں زرعی اصلاحات نے بھی بڑے مالکان کی اراضی کو متاثر کیا۔ بھکر میں عبداللہ خان شہانی کی موضع داجل میں واقع وسیع اراضی بھی ان اصلاحات کی زد میں آئی۔

*جب کہ خود سردار امیر محمد خان بلچ کی ضلع لیہ میں وسیع جاگیر کا بڑا حصہ بھی زرعی اصلاحات کی نذر ہوگیا، جبکہ اس سے پہلے اس کا ایک حصہ ٹی ڈی اے اپنی تحویل میں لے چکی تھی۔

* مگر سردار امیر محمد خان بلچ کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو یہ بھی تھا کہ ان کے نزدیک سب سے قیمتی چیز زمین نہیں، انسان تھا۔

* وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کا غریب بچہ بھی تعلیم کے وہ دروازے کھٹکھٹائے جو عموماً وسائل رکھنے والوں کے لیے کھلے ہوتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے علاقے کے غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے تعلیمی اخراجات اپنے ذمے لیے۔ کئی نوجوان اعلیٰ تعلیم تک پہنچے، مقابلے کے امتحانات میں کامیاب ہوئے ۔

* یہی وہ پہلو ہے جو سردار امیر محمد خان بلچ کو محض ایک زمیندار یا سیاست دان نہیں بلکہ ایک مردقلندر انسان کے طور پر تاریخ میں ممتاز کرتا ہے۔

* اس کالم کا ماخذ فرخ حسن خان حسن خیلی کی تحریر کی پانچویں قسط سے لیا گیا ہے جس میں میری اضافی معلومات بھی شامل ہیں۔
* اپنا خیال رکھیئے گا مجھے اجازت دیں ۔ اللہ حافظ
ایڈمن۔ ملک نیازراں

Address

Chah Muhammad Wala
Dullewala
31110

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MM Irfan Raan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category