14/03/2026
چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات؟ فیصل آباد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن پر بڑے سوالات
سب ہیڈ لائن:
کئی علاقوں میں کارروائی، مگر احمد آباد، الٰہی آباد، آمین پارک اور اللہ ہو والی بستی میں پچاس سالہ قبضے بدستور قائم
(کرائم رپورٹر: محسن جٹ)
فیصل آباد میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن پر شہریوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں بٹالہ کالونی، ڈی ٹائپ کالونی اور غلام محمد آباد تک تو دکھائی دیتی ہیں، مگر شہر کے دیگر اہم اور گنجان علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نظر نہیں آتا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ احمد آباد، الٰہی آباد، آمین پارک اور اللہ ہو والی بستی جیسے علاقے بھی ضلع فیصل آباد کا حصہ ہیں، مگر یہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم ناجائز مارکیٹوں اور تجاوزات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ مقامی افراد کے مطابق مین روڈ کے کنارے تقریباً پچاس سال سے ناجائز مارکیٹیں قائم ہیں جنہوں نے سرکاری جگہ پر قبضہ کر رکھا ہے۔
علاقہ مکینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چند سال قبل محکمہ واسا کی جانب سے نالے کو مزید تنگ کر کے بعض دکانداروں کو تین سے پانچ فٹ تک اضافی جگہ دے دی گئی، جس کے بعد تجاوزات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ شہریوں کے مطابق اگر اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تو کئی حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے متعلقہ اداروں کی خاموشی کے باعث لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ اسی سوچ کے تحت بعض افراد نے اپنے گھروں اور دکانوں کے آگے مزید تجاوزات قائم کر لی ہیں۔ کسی نے اپنے گیٹ کے ستون آگے بڑھا دیے ہیں جبکہ بعض افراد نے چار چار فٹ تک ریمپ بنا کر گلیوں کو مزید تنگ کر دیا ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی بلا امتیاز پورے شہر میں کی جائے تاکہ سرکاری زمین واگزار کروائی جا سکے اور شہریوں کو درپیش مسائل کا خاتمہ ہو