03/06/2026
اگر محبت کا دعوی کرنے کی ہمت ہے تو پھر باقی محبتوں سے بیزار ہو جاوء - وہ سب سے پیاری چیز سب سے پہلے لے لے گا اور پھر تم شور مچا دو گے - اس نے مثال دی ہے کہ اس نے پیغمبر سے کہا کہ بیٹا ذبح کر دو اور وہ بیٹا ذبح کرنے چلے، ذبح نہ ہوا تب بھی ہو گیا - باپ نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ذبح کرتا ہوں تو وہ ذبح ہو گیا - اب جو باپ یہ فیصلہ کر سکتا ہے، مشاہدہ اسی کا حق ہے
اور آپ سے اگر کہا جائے کہ بیٹے کی انگلی کاٹ کے لاوء تو مشکل ہو جائے گی - وہ کہے گا کہ میری جان حاضر ہے - تو پھر آپ آرام سے اپنی عبادت کرتے جائیں اور اللہ سے کبھی دیدار کی تمنا، مکمل Surrender کیے بغیر نہ کرنا - بس آپ کے لئے اتنا کافی ہے کہ یا اللہ تو مہربانی کرتے جانا
دیدار کا مقام یہ ہے کہ جب تک نگاہوں سے غیر اللہ نہ نکلے تو پھر اللہ کا مشاہدہ کیسے ہو - تو اپنی نگاہوں کا جائزہ لیں، اپنے دل کا جائزہ لیں کہ ان میں کس کس کی محبت بھری پڑی ہے - جس کمرے میں آپ اللہ کو بلا رہے ہیں - اس میں کوئی اور قباحت نہ ہو - یہ نہ ہو کہ اس کے اندر کہیں مال، کہیں سکہ،کہیں زر، کہیں زمین،کہیں زن وغیرہ پڑے ہوں - یہ نہ ہو آپ نے مہمان کو بلا لیا ہو اور اس کے مطابق انتظام نہ ہو
گفتگو والیم 10_____صفحہ نمبر 29_____30
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ