30/03/2026
آج ایڈونچر کی کہانی اسکردو میں چھپے ایک ایسے آبشار کی ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، اور اس کا نام ہے کووارڈو آبشار۔ یہ آبشار قدرتی ہے اور اس جگہ میں سیاحت کا بہت زیادہ پوٹینشل ہے، مگر چونکہ یہاں جانے کے لیے تقریباً دو گھنٹے کی ہائیکنگ کرنی پڑتی ہے، اس لیے صرف قدرت سے محبت رکھنے والے ہی یہاں جانا پسند کریں گے۔ یہ آبشار اسکردو میں کووارڈو سسپنشن برج کراس کرنے کے بعد کووارڈو گاؤں میں داخل ہونے کے بعد واقع ہے۔
مجھے اس آبشار کے بارے میں کراچی کے ایک دوست نے بتایا تھا۔ پچھلے سال میں تقریباً دو مہینے اسکردو میں رہی تاکہ زیادہ سے زیادہ جگہیں دیکھ سکوں اور ان پر ولاگ بنا سکوں، تو واپسی سے پہلے مجھے ایک اور ایڈونچر کرنا تھا۔
وہ کہتے ہیں نا کہ جہاں چاہ وہاں راہ، بس پھر جب آپ کی دوستی بھی ایڈونچر پسند لوگوں سے ہو تو کیسے ممکن ہے کہ آپ کو راستہ نہ ملے۔ خیر، میں نے اسی دوست کے ریفرنس سے اسکردو سے ایک گائیڈ لیا جس کے پاس گاڑی بھی تھی اور اس کے ساتھ اس ہائیک پر جانے کی بات طے کر لی۔
بلتستان میں جو پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ ٹریولرز کی بہت عزت کرتے ہیں اور خواتین کو خاص طور پر بہت مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میرا بار بار گلگت بلتستان جانے کو دل کرتا ہے، مجھے وہاں کوئی سیفٹی ایشو محسوس نہیں ہوتا بلکہ گھر جیسا احساس ہوتا ہے، اسی لیے میں اکیلی بھی گھوم پھر لیتی ہوں۔
خیر، ڈرائیور بھائی آئے اور مجھے سدپارہ چوک سے پک کیا اور ہم کووارڈو کے لیے روانہ ہو گئے۔ کووارڈو سسپنشن برج بہت پرانا ہے، جب گاڑی اس پر سے گزری تو بس اللہ اللہ ہی کیا۔ خیر، جون کا مہینہ تھا، موسم زیادہ گرم نہیں تھا کیونکہ بادل آ جاتے تھے تو دھوپ کم لگتی تھی۔
یہ وادی کٹپانا ڈیزرٹ کی بیک سائیڈ پر ہے۔ جب میں نے کٹپانا وزٹ کیا تھا تو یہی سوال تھا کہ وہ پل جو نظر آ رہا ہے اس کا راستہ کہاں سے جاتا ہے، مگر ایک ہفتے بعد ہی میرے قدم اس ہائیک پر لکھے جا چکے تھے۔
خیر، ہم نے گاڑی پارک کی اور ہائیکنگ شروع کر دی۔ جو مقامی لوگ ہیں وہ ٹریولرز کے لیے اتنے اوپن مائنڈڈ نہیں ہوتے، خاص طور پر وہ علاقے جہاں کم لوگ جاتے ہیں۔ ان کے لیے میں خود کو اجنبی محسوس کرتی تھی کیونکہ وہ مجھے دیکھ کر حیران ہوتے کہ یہ خاتون ایک مرد کے ساتھ اکیلی گھوم رہی ہے، یہ کیا بات ہوئی۔ لیکن جو لوگ ٹورازم سے وابستہ ہیں وہ اس چیز کو سمجھتے ہیں،
copy