As babu

As babu hlo sir I'm sorry

15/04/2025

Har cheez aik had me achi lagti hai.
پھول کثرت سیرابی سے بھی مر جاتے ہیں۔

15/04/2025

جیسے ہی حضرت عمر پر حملہ کیا گیا حضرت عمر زمین پر گر گئے اور ان پر حملہ کرنے والا فیروز مسجد سے بھاگنے لگا لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے اسے پکڑ لیا فیروز نے اسی خنجر سے اپنا گلا کاٹ دیا جس کے بعد مسلمان حضرت عمر کو اٹھا کر ان کے گھر لے آئے لیکن گھر پہنچتے ہی جب انہیں کھجور کا پانی اور دودھ پلایا گیا تو وہ ان کے جانے کے بجائے ان کے زخموں سے باہر آنے لگا یہ دیکھ کر حضرت عمر کے ڈاکٹر نے انہیں کہا کہ یا امیر المومنین اللہ کو یاد کریں کیونکہ اب آپ کا زندہ رہنا ناممکن ہےاب جب حضرت عمر نے اپنی ہی موت کی خبر سنی تو وہ اس سوچ میں پڑ گئے کہ مسلمانوں کی اس خلافت جو دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور تھی کا نیا خلیفہ کون ہوگا تو اب حضرت عمر سے ان کے منسٹرز جنرلز اور بڑے بڑے صحابہ آ کر ملنے لگے اور سب مل کر حضرت عمر کو اسلام کے تیسرے خلیفہ کے بارے میں اپنی رائے دینے لگے.سب سے پہلے ایک آدمی نے حضرت عمر کو اپنی رائے دی کہ یا امیر المومنین آپ دنیا کے اتنا بڑے خلیفہ اور دنیا کا رواج یہ ہے کہ ہر بڑے بادشاہ کے بعد اسی کا بیٹا بادشاہ بنتا ہے تو اب آپ بھی اپنے بعد اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کو مسلمانوں کا نیا خلیفہ بنائیں یہ سن کر حضرت عمر نے اسے دیکھا اور کہا اللہ تمہیں تباہ کرے افسوس ہے تمہاری اس سوچ پر میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی یہ نہیں چاہا کہ مسلمانوں کی خلافت میرے خاندان کو ملے کیونکہ حضرت عمر یہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی خلافت بھی رومن اور فارسی سلطنتوں کے بادشاہوں کی طرح صرف ایک خاندان کے کنٹرول میں رہے اب جب حضرت عمر نے سب کے سامنے اپنے بیٹے کو خلافت سے دور کر دیا تھا تو مدینہ کے سارے لوگ حیران تھے کہ آخر حضرت عمر کس کو خلیفہ نامزد کریں گے آخرکار حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو پاس بلایا اور اسے کہا لکھو میں اپنے بعد صرف چھ لوگوں کو مسلمانوں کا خلیفہ بننے کے قابل سمجھتا ہوں یہ چھ صحابہ کوئی عام لوگ نہیں تھے بلکہ ان سب کا تعلق ان دس لوگوں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جنت کی خوشخبری سنائی تھی جنہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ ان دس صحابہ میں ایک تو حضرت عمر خود تھے اور دو صحابہ ان سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے اور سات صحابہ ایسے تھے جو اب بھی زندہ تھے تو حضرت عمر نے ان سات صحابہ میں سے چھ کو خلافت کے لیے نامزد کیا اور صرف ایک کو باہر رکھا .کیونکہ اس صحابی کا نام سعید بن زید تھا اور یہ حضرت عمر کے کزن اور انہی کے قبیلے سے تھے مطلب حضرت عمر ایک بار پھر یہ نہیں چاہتے تھے کہ خلافت کسی ایک خاندان کے کنٹرول میں آئے چاہے وہ خاندان ان کا اپنا ہی کیوں نہ ہو ساتھ ہی حضرت عمر نے یہ حکم بھی دیا کہ میرے بیٹے عبداللہ بن عمر کو بھی خلافت کے اس فیصلے میں شامل کیا جائے لیکن اسے مسلمانوں کا خلیفہ بننے کی اجازت نہ ہو حضرت عمر نے وفات سے پہلے مسلمانوں کو واضح حکم دیے تھے کہ مجھے دفنانے کے فوراً بعد ان چھ صحابہ کو مدینہ کے ایک گھر میں بند کر دیا جائے تاکہ یہ خلیفہ کا فیصلہ کر سکیں جس کے بعد ان کے پاس صرف تین دن کا وقت ہوگا کہ یہ لوگ آپس میں طے کر کے کسی ایک کو مسلمانوں کا تیسرا خلیفہ بنائیں اور ساتھ ہی پچاس لوگوں کو تلواروں کے ساتھ اس گھر کے باہر ان کی حفاظت کے لیے کھڑا کیا جائے ایسا حضرت عمر نے اس لیے بھی کیا کہ ان چھ لوگوں میں سے کوئی بھی خلیفہ کے اس انتخاب کے دوران اپنے قبیلے کے لوگوں سے نہ مل سکے تاکہ وہ ان کے جذبات میں اِدھر اُدھر کی باتیں نہ ڈالیں اور یہ خود اپنی مرضی سے فیصلہ کریں اور پھر حضرت عمر نے اپنا آخری حکم دیا کہ جب یہ چھ صحابہ کسی ایک کو خلیفہ بنا دیں اس کے بعد ہر آدمی کو یہ فیصلہ ماننا ہوگا اور جو نہ مانے اس کا سر کاٹ دیا جائے ..اس طرح حضرت عمر نے مسلمانوں کی تاریخ کے پہلے انتخابی نظام کو تشکیل دیا اور صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ یہ دنیا کے اولین انتخابات میں سے ایک تھا تو اب یہ سب کرنے کے بعد حضرت عمر نے آنے والے نئے خلیفہ کو اپنی آخری نصیحت دی اے مسلمانوں کے نئے خلیفہ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا مہاجرین اور انصار کا خاص خیال رکھنا تمہاری خلافت میں رہنے والے غیر مسلموں کی ایسی حفاظت کرنا جیسے تم اپنے مسلمان بھائیوں کی کرتے ہو اور یاد رکھنا کبھی بھی اپنے خاندان کے لوگوں کو مسلمانوں کی گردن پر سوار مت کرنا اب جیسے ہی حضرت عمر کو دفنایا گیا یہ چھ صحابہ مدینہ کے ایک گھر میں جمع ہوئے اور حضرت عمر کے حکم کے مطابق اسلام کے تیسرے خلیفہ کا فیصلہ کرنے لگے اب اگر ان چھ صحابہ کی زندگیوں کو غور سے دیکھا جائے تو ان میں سے تین صحابہ ایسے تھے جو حضرت عمر کے دور میں فوجی جنرلز تھے اور باقی تین ایسے تھے جو سویلین تھے تو جیسے ہی ووٹنگ شروع ہوئی ان تین فوجی صحابہ نے اپنے آپ کو خلافت کی ریس سے باہر کر دیا اور اپنا ووٹ باقی تین سویلین صحابہ کو دیا جس میں سب سے پہلے زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا ووٹ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ووٹ عثمان رضی اللہ عنہ کو دیا اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنا ووٹ عبدالرحمن بن عوف کو دیا تو اب خلافت کے لیے صرف تین نام باقی رہ گئےعبدالرحمن عثمان اور علی رضی اللہ عنہم یہ دیکھ کر عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ دیکھو میں بھی مسلمانوں کی اس سلطنت کا خلیفہ نہیں بننا چاہتا جس کے بعد بالآخر خلافت کے لیے صرف دو نام باقی رہ گئے عثمان اور علی اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً ستر سال تھی جس کے مقابلے میں حضرت علی کی عمر صرف پینتالیس سال تھی مطلب حضرت عثمان حضرت علی سے تقریباً پچیس سال بڑے تھے اور ان دونوں میں مسلمانوں کا خلیفہ کون ہوگا یہ فیصلہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کرنا تھا کیونکہ انہوں نے اب تک اپنا ووٹ کسی کو نہیں دیا تھا اب جب مسلمانوں کا نیا خلیفہ چننے کی ساری طاقت عبدالرحمن بن عوف کے ہاتھ میں تھی جو ایک بہت بڑی ذمہ داری تھی تو اب اس کا فیصلہ کرنے سے پہلے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ کے بڑے بڑے صحابہ کے پاس گئے اور ان سے ان کی رائے پوچھی جس کے بعد مسلمانوں کی فوج کے کمانڈروں کے پاس گئے ان کی بھی رائے لی اور خلیفہ کے اس فیصلے میں عبدالرحمن بن عوف نے مدینہ کی عورتوں سے بھی مشورہ کیا اسی طرح عبدالرحمن بن عوف مدینہ کے نوجوانوں اور یہاں تک کہ غلاموں کے پاس بھی گئے کہ اسلام کا نیا خلیفہ کس کو ہونا چاہیے..اب ان سب لوگوں سے ملنے کے بعد عبدالرحمن بن عوف کو یہ بات تصدیق ہو چکی تھی کہ پورے عرب میں حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ کوئی بھی خلافت کا حق دار نہیں ہے لیکن ان سب لوگوں سے بات کرنے کے بعد عبدالرحمن بن عوف نے نوٹ کیا کہ عرب کی عوام میں حضرت عثمان کی مقبولیت حضرت علی سے تھوڑی سی زیادہ ہے اور ایسا اس لیے تھا کیونکہ حضرت عثمان ایک صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ اس خلافت کے سب سے امیر آدمی بھی تھے اور مسلمانوں کی اس پوری سلطنت میں اپنی سخاوت اور فیاضی کی وجہ سے مشہور تھے جس کی وجہ سے عرب کے عام لوگ حضرت عثمان کو بہت پسند کرتے تھے اس کے علاوہ ایک نقطہ یہ بھی تھا کہ اب تک حضرت عمر اپنے دس سال کی خلافت میں ایک بہت ہی سخت خلیفہ تھے اور انہوں نے اپنے دس سالوں میں بہت ہی سخت قوانین بنائے تھے لیکن حضرت عثمان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ یہ حضرت عمر سے بالکل الٹ ایک بہت ہی نرم دل انسان ہیں اور حضرت علی کے بارے میں سب کو معلوم تھا کہ وہ بھی حضرت عمر کی طرح ایک سخت خلیفہ بنے گا یہ دیکھ کر حضرت عبدالرحمن بن عوف عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر تم میری جگہ ہوتے تو کس کو خلیفہ بناتے جس پر حضرت عثمان نے کہا کہ میں علی رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ بناتا اسی طرح حضرت عبدالرحمن علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھی گئے اور ان سے بھی یہی بات پوچھی تو حضرت علی نے بھی کہا میں مسلمانوں کا خلیفہ عثمان کو بناتا جیسے ہی تین دن پورے ہوئے مدینہ کے سارے مسلمان فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں جمع ہوئے اور اس بات کا انتظار کرنے لگے کہ مسلمانوں کا نیا خلیفہ کون ہوگاکہا جاتا ہے کہ اس دن مسجد میں اتنا ہجوم تھا کہ حتیٰ کہ حضرت عثمان کو بھی بیٹھنے کی جگہ نہ ملی اور وہ مسجد کے سب سے آخر میں جا کر بیٹھے اب پوری مسجد خاموشی سے تیسرے خلیفہ کے نام کا انتظار کرنے لگی تو عبدالرحمن بن عوف ان سب کے سامنے کھڑے ہوئے اور ایک لمبی دعا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت علی کو اپنے پاس بلایا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا علی کیا تم اللہ اس کے رسول اور ابوبکر و عمر کے طریقے پر چلو گے تو حضرت علی نے کہا کہ میں اتنا ہی کر سکتا ہوں جتنا مجھ میں طاقت ہے مطلب میں اپنی پوری کوشش کروں گا جس کے بعد عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عثمان کو اپنے پاس بلایا ان کا ہاتھ پکڑا اور ان سے بھی یہی سوال کیا جس پر حضرت عثمان نے کہا کہ اللہ کی قسم میں ایسا ہی کروں گاآخر عبدالرحمن بن عوف نے اپنے ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا یا اللہ خلافت کی جو ذمہ داری آپ نے میرے اوپر ڈالی تھی اسے میں آج عثمان کے حوالے کرتا ہوں اور یہی مسلمانوں کا نیا خلیفہ ہوگا یہ سن کر سب سے پہلے حضرت علی نے عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کے بعد مسجد میں بیٹھے سارے لوگ حضرت عثمان کے پاس آ کر ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے تو حضرت عثمان مسجد نبوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھے اور اپنی خلافت کی پہلی تقریر کی جس میں انہوں نے لوگوں کو دنیا کی محبت چھوڑ کر آخرت کی زندگی کی تیاری کرنے کا حکم دیا تقریباً ستر سال کی عمر میں خلیفہ بننے کے بعد حضرت عثمان نے اپنا سب سے پہلا حکم یہ دیا کہ مسلمانوں کی اس خلافت کی پوری فوج اور حکومتی افسران کی تنخواہوں کو بڑھا دیا جائے اور پھر مدینہ سے حضرت عثمان نے سارے گورنروں کی طرف خطوط بھیجے کوفہ بصرہ دمشق اسکندریہ ان خطوط میں حضرت عثمان نے واضح حکم دیا تھا کہ حضرت عمر تو دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن مسلمانوں کی یہ خلافت اب بھی اسی طرح چلے گی جیسے حضرت عمر کے دور میں تھی اب جیسے یہ خطوط مدینہ سے ان گورنروں تک پہنچے تو سب ان خطوط کو پڑھ کر حیران رہ گئے کیونکہ پہلی بار یہ خطوط خلیفہ عمر بن خطاب کی طرف سے نہیں بلکہ امیر المومنین عثمان بن عفان کی طرف سے تھا۔

15/04/2025

‏ہم خساروں کا بھی لطف لیتے ہیں
لوگ حاصل کی بات کرتے ہیں...🥀

10/04/2025

Hello

09/04/2025

03/03/2025

Koi hy rozadar

03/03/2025

آیا خیال جسم کے کھنڈرات دیکھ کر
کیسا حسِین شخص، اذیت نے کھا لیا

03/03/2025

`Personal experience>>`
😌🩶🍃
*سب سـے اچـھـی زنـدگـی وہ گـزارتـا ہـے*
*جـو اپـنـی ضـروریـات کـے لیـے الـلّٰـه کـے سـوا*
*کسـی دوسـرے پـر بـھـروسـہ نـہیـں کـرتـا* 🔐🍒

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when As babu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category