Shahid Iqbal Virk

Shahid Iqbal Virk "Dream big,Hustle harder".

آئی پی ایل میں ایک اور ڈرامہ سٹارٹ ہو گیا😳💁ٹم ڈیوڈ  بیٹنگ کر رہے تھے تو ان کو بال کے ساتھ کچھعجیب بات لگی کہ بال کی سپیڈ...
14/04/2026

آئی پی ایل میں ایک اور ڈرامہ سٹارٹ ہو گیا😳💁
ٹم ڈیوڈ بیٹنگ کر رہے تھے تو ان کو بال کے ساتھ کچھ
عجیب بات لگی کہ بال کی سپیڈ اور سونگ زیادہ ہو رہی
تھی کیونکہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا وکٹ سیدھی ہوتی
ہیں آئی پی ایل کی اور بال بھی بیٹ کے اوپر صیح اتی ہے
پھر جب ڈیوڈ نے ایمپائر سے اس چیز کے بارے میں بات کی
تو ایمپئیاروں نے دھیان نہیں دیا پھر دوبارہ ایسا ہوا تو
پھر ڈیوڈ نے ایمپئاروں سے بال چک کرنے کو بولا جس کو
دوبارہ نظر انداز کر دیا گیا تو پھر ڈیوڈ نے خود ہی بال پکڑ کے
چک کرنی شروع کر دی جس پے ایمپائر نے ڈیوڈ سے بال
کھینچنے کی کوشش کی ڈیوڈ نے بال نہیں دی اور خود ہی دیکھ
کے ساتھ والے پلئیر کو بتایا کہ یہ انٹرنیشنل بال نہیں ہے💁😎

13/04/2026

بڑی خبر 🔥 ايرانی انقلاب پاسداران نے آبنائے ہرمز میں ایک اسرائيلي بحري جہاز قبضہ میں لے لیا۔

بھارت میں عرفان پٹھان بھی رہتا ہے اور کاویہ مارن بھی لیکن جو بہادری کا مظاہرہ اس خاتون نے مودی سرکار کے سامنے دیکھائی ہے...
18/03/2026

بھارت میں عرفان پٹھان بھی رہتا ہے اور کاویہ مارن بھی لیکن جو بہادری کا مظاہرہ اس خاتون نے مودی سرکار کے سامنے دیکھائی ہے عرفان خواب میں نہیں دیکھاسکتا ہے کاویہ مارن گزشتہ روز انگلینڈ سے بھارت پہنچی تو بھارت میں مودی سرکار کے کچھ غنڈوں نے کاویہ مارن کے گھر کے سامنے مظاہرہ کرکے مطالبہ کررہے تھے کہ پاکستانی کھلاڑی ابرار احمد کو اپنی ٹیم سے ہٹایا جائے بھارتی میڈیا نے کاویہ مارن سے سوال کیا آپ بھی شارخ خان کی طرح دباؤ میں آکر جس طرح اس نے بنگلہ دیش کے کھلاڑی کو ٹیم سے باہر کیا توآپ بھی پاکستان کےکھلاڑی کو ٹیم سے باہر کرےگی دیش کی خاطر،
جس پر کاویہ نے جواب دیا کہ بھارت میرا دیش ہے لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بھارت کی لیگ نہیں ہے انگلینڈ کی لیگ ہے اور تین سال ہوگئے ہے جسطرح آئی پی ایل کی سب سے مہنگی ٹیم حیدرآباد میرے پاس ہے اسی طرف انگلینڈ کی دی ہینڈرڈ لیگ کی بھی مہنگی ٹیم میرے پاس ہے اوراب لوگوں کے کہنے پر میں یہ فیصلہ کروں گی کہ کس کو ٹیم میں رکھنا یا نہیں ٹیم میری ہے تو مرضی بھی میری کسی بھی صورت میں پاکستانی کھلاڑی یا کوئی اورکھلاڑی باہر نہیں ہوگا میں بھارت کی شہری بھی ہوں اور انگلینڈ کی بھی شہریت رکھتی ہوں مجھے فضول میں تنقید کرنے والوں کی کوئی پراوہ نہیں ہے پاکستان کے ابرار کیساتھ ہمارے فرنچائز نے معاہدہ کیا ہے اس کو ایڈوانس رقم بھی دی گئی ہے کسی بھی صورت میں ٹیم سے باہر نہیں کیا جائے گا

16/03/2026
گویا وقت نے ایک چکر پورا کر لیا ہے اور دن واقعی بدلتے رہتے ہیں۔کتنا عجیب اور گہرا احساس ہوتا ہے جب انسان وہی درد اپنے سا...
16/03/2026

گویا وقت نے ایک چکر پورا کر لیا ہے اور دن واقعی بدلتے رہتے ہیں۔
کتنا عجیب اور گہرا احساس ہوتا ہے جب انسان وہی درد اپنے سامنے لوٹتا ہوا دیکھتا ہے جو کبھی اس نے خود سہا تھا۔
کل تک جب ہم غ ز0 میں ہونے والے قتلِ عام کو دنیا کے سامنے لا رہے تھے،
جب معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا،
اسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری ہو رہی تھی،
اور ایک بے رحم تباہی پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔
ہم تین برس تک غ ز میں جاری موت اور بربادی کی داستان دنیا تک پہنچاتے رہے،
مگر اس وقت Avichay Adraee سچ بولنے والوں کے خلاف مہمات چلاتا تھا۔
جو لوگ حقیقت دکھاتے تھے، انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی تھی،
تاکہ ان کی آواز دب جائے اور حقیقت دنیا تک نہ پہنچ سکے۔
اس مقصد کے لیے مسلسل پروپیگنڈا کیا گیا اور اس تلخ حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش ہوتی رہی جسے وہاں کے لوگ جھیل رہے تھے۔
لیکن آج منظر بدل گیا ہے۔
آج وہی Avichay Adraee دنیا سے فریاد کر رہا ہے کہ انہیں ایرانی حملوں سے بچایا جائے۔
آج وہ کیمروں کے سامنے دکھ اور شکایت کے ساتھ اسکولوں اور عوامی مقامات پر ہونے والی بمباری کا ذکر کر رہا ہے۔
گویا اسے یہ سب یاد ہی نہیں کہ گزشتہ تین برسوں میں غ ز0 کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا۔
اب وہ ایک نئی میڈیا مہم چلانے کی کوشش کر رہا ہے،
تاکہ اپنے لیے ہمدردی حاصل کر سکے۔
لیکن اس بار دنیا کا بڑا حصہ اس کی طرف سے منہ موڑ چکا ہے،
یہاں تک کہ وہ ممالک بھی جنہوں نے کبھی ان کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے،
اب انہیں سمجھ آنے لگی ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ حقیقی امن ممکن نہیں۔
اللہ کا انصاف کتنا عجیب اور گہرا ہوتا ہے،
اور جب وہ چاہے تو حساب بھی بہت جلد لے لیتا ہے۔
اے ہمارے رب!
ہم تیرے شکر گزار ہیں،
کہ تو ہر چیز کو دیکھتا ہے اور آخرکار حق کو نمایاں کر دیتا ہے۔۔۔۔۔!!!

عربی تحریر سے مترجم
#سوزدل




سوشل میڈیا اور بعض ویب پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے 900,000 کے قریب inflatable (فوجی نقل) ٹینک، لڑاکا جہاز ...
10/03/2026

سوشل میڈیا اور بعض ویب پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے 900,000 کے قریب inflatable (فوجی نقل) ٹینک، لڑاکا جہاز اور میزائل لانچر چین سے خریدے ہیں تاکہ وہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کو گمراہ کرے اور مہنگے میزائل ان پر ضائع کروائے۔ یہ دعویٰ کافی وائرل ہوا ہے۔

چینی میڈیا کے حوالے سے یہ خبر بھی زیر گردش ہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کوخوب ماموں بنایا،دشمن کو پھنسانے کیلئے چین سے لاکھوں جعلی لڑاکاطیارے اور ٹینک خریدے، جعلی فوجی ساز و سامان اورفضائی دفاعی سسٹم بھی خریدا گیا۔

ایران نے ہزاروں جعلی ہیلی کاپٹر ، جہاز اور ٹینک چین سے خرید لئے تھے، ہوا بھرے جعلی ٹینک، ہیلی کا پڑ اور جہاز سیٹلائیٹ سے اصلی نظر آتے ہیں۔

مزید برآں، کچھ رپورٹس کے مطابق یہ حکمت عملی پہلے ہی مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور دشمن کے میزائلز ضائع ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔


Disclaimer: This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

سوئٹزرلینڈ کا وہ نایاب جوتا جس نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا”سوئٹزرلینڈ کی ایک ایسی کمپنی تھی جو دنیا کے عام لوگو...
10/03/2026

سوئٹزرلینڈ کا وہ نایاب جوتا جس نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا”

سوئٹزرلینڈ کی ایک ایسی کمپنی تھی جو دنیا کے عام لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ صرف مخصوص 1,000 امیر ترین اور بااثر خاندانوں کے لیے جوتے تیار کرتی تھی۔ ان جوتوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد دنیا کے الگ الگ حصوں سے اکٹھا کیا جاتا تھا:

تلوے: نیوزی لینڈ کی ان نایاب گایوں کے چمڑے سے بنتے تھے جن کے سینگ نیلے اور کھال سنہری ہوتی ہے۔

اگلا حصہ (Toe): برازیل کے مگرمچھوں کی جلد سے تیار ہوتا تھا۔

اوپری حصہ (Back): افریقہ کے سیاہ ہاتھیوں کے کانوں کا چمڑا استعمال ہوتا تھا۔

اندرونی استر: ہرن کے نرم چمڑے سے بنتا تھا تاکہ پہننے والے کو مخملی احساس ہو۔

سلائی: اس میں وہ دھاگہ استعمال ہوتا تھا جس سے بلٹ پروف جیکٹس بنتی ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ ان جوتوں کی پالش 50 سال تک نہیں اترے گی اور اگر انہیں مٹی میں دفن کر دیا جائے، تو سو سال تک ان کی چمک دمک برقرار رہے گی۔

افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ اس کمپنی کے ممبر تھے۔ جب ان کے کزن سردار داؤد خان نے ظاہر شاہ کا تخت الٹا اور اقتدار پر قبضہ کیا، تو انہوں نے بادشاہ کی دیگر چیزوں کے ساتھ اس کمپنی کی ممبر شپ بھی اپنے نام کروا لی۔ سردار داؤد اپنی پوری زندگی اسی کمپنی کے جوتے پہنتے رہے۔

اپریل 1978ء میں افغانستان میں “ثور انقلاب” آیا۔ کمیونسٹ نواز فوج نے صدارتی محل پر حملہ کر دیا۔ سردار داؤد خان کو ان کے خاندان کے 30 افراد سمیت بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ انتقام کی آگ اتنی شدید تھی کہ ان کی لاش کو جیپ کے پیچھے باندھ کر کابل کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور پھر بغیر غسل، کفن یا جنازے کے دو گمنام اجتماعی قبروں میں دبوا دیا گیا۔

وقت گزرتا گیا اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ سردار داؤد خان کی باقیات کہاں ہیں۔ پھر 26 جون 2008ء کو کابل کے قریب ایک فوجی اڈے کی تعمیر کے دوران اتفاقاً دو اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں۔

وہاں موجود لاشیں مٹی بن چکی تھیں اور لباس بوسیدہ ہو چکے تھے، لیکن ایک ڈھانچے کے پاؤں میں موجود سیاہ بوٹ بالکل نئے لگ رہے تھے۔ ان کی چمک برقرار تھی، بکل سنہری تھی اور تلوے پر مگرمچھ کا نشان واضح تھا۔ انہی جوتوں کی بدولت سردار داؤد خان کی شناخت ممکن ہو سکی۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جہاں ایک حکمران کی لاش اس کے چہرے یا ڈی این اے سے نہیں، بلکہ اس کے نایاب جوتوں سے پہچانی گئی۔

22/02/2026

عمران خان سے متعلق "دی ڈپلومیٹ" کا تازہ آرٹیکل👇👇
"عمران خان زندہ رہے یا نہیں، عمران خان نے عاصم منیر کو کیچ 22 (Catch-22) حالات میں دھکیل دیا ہے (دی ڈپلومیٹ کے آرٹیکل کا متن)

آرٹیکل کے اُردو ترجمہ سے پہلے یہ جان لیں کہ کیچ 22 کس کو کہا جاتا ہے
"ایسے حالات جب انسان اپنے لئے کسی بھی راستے کا انتخاب کرے وہ اُسکے خلاف جاتا ہے، انسان چاہ کر بھی اپنے حق میں بہتر نہیں کرسکتا ایسے حالات کو کیچ 22 کہتے ہیں"

ذوالفقار علی بھٹو 51 سال کے تھے جب انہیں تختہ دار کیا گیا، بے نظیر بھٹو 54 سال کی تھیں جب انہیں مار دیا گیا، عمران خان اب 75 سال کے ہیں، وہ اپنی عمر کے زیادہ تر مردوں سے جسمانی طور پر زیادہ فِٹ نظر آتے ہیں، کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی انہوں نے ورزش کرنا کبھی ترک نہیں کیا، اور رپورٹس کہتی ہیں کہ وہ روزانہ جیل میں ورزش جاری رکھے ہوئے ہیں

انہیں اپنی پسند کا کھانا بھی فراہم کیا جا رہا ہے، لیکن محض جسمانی فٹنس ایک انسان کو عمر کے اس حصے میں قید کے بوجھ، خاص طور پر نفسیاتی دباؤ، سے بچا نہیں سکتا

عمر بے ساختہ زوال لاتی ہے، نظر کمزور ہوتی ہے، اور موتیا کی طرح کی حالتیں عام ہو جاتی ہیں، رپورٹس جن میں کہا گیا ہے کہ خان نے اپنی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بصارت کھو دی ہے، حالانکہ جنوری کے آخر میں خون کے لوتھڑے کو دور کرنے کے لیے سرجری ہوئی، عمر کے اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں، چاہے وہ مبالغہ آرائی ہو یا نہ ہو، ایسی رپورٹس ان کی صحت کے بارے میں جائز تشویش پیدا کرتی ہیں

بین الاقوامی دباؤ اب بڑھ رہا ہے، چودہ سابق کرکٹ کپتان جن میں سے کئی خان کے خلاف کھیلے تھے، اُنہوں نے علانیہ ان کے بگڑتے ہوئے حالات اور مبینہ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا ہے

پاکستان کے اندر بھی ان کے خلاف احتجاج میں شدت آئی جب ان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مظاہرے ہوئے

عوامی غم و غصے کے اس پیمانے نے یہ جھلک دکھائی کہ اگر ان کی حالت مزید خراب ہو جائے، یا بدتر ہو جائے تو اس کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے

اب فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک ایسے مخمصے (Catch-22) میں پھنستے نظر آتے ہیں جو بھٹو کے تختہ دار کے وقت کی صورتحال سے ملتا ہے، بھٹو کے معاملے میں جنرل ضیاء الحق نے کہا تھا یا تو بھٹو جینا چاہیے، یا وہ خود بچ سکتا ہے، ضیاء نے سمجھا کہ زندہ بھٹو ان کی حکمرانی کے لیے سیاسی طور پر تباہ کن ہوگا

لیکن عاصم منیر اپنے لیے ایک Catch-22 صورتحال میں ہیں، چاہے خان مرے یا زندہ رہے، وہ ان کے لیے خطرناک ہے

جتنی دیر خان قید میں رہے گا، اتنا ہی ان کی صحت اور ملک کی سیاسی استحکام ایک دوسرے سے الگ نظر نہیں آئیں گے، ہر طبی رپورٹ، ہر افواہ ان کی حالت کے بارے میں، شکاری اور مزاحمت کی ایک بڑی داستان کو مزید پمپ کرتی ہے

بالآخر سوال صرف ایک شخص کی صحت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ سوال ہے کہ آیا ریاست اختلاف رائے کو اس طرح سنبھال سکتی ہے کہ وہ ایک ایسی شخصیت پیدا نہ کرے جس کی قید آزادی سے زیادہ طاقتور بن جائے

خان کا جیل میں نیلسن مینڈیلہ کی خودنوشت
Long Walk to Freedom
پڑھ رہے ہیں، ان کے حامی پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ پاکستانی فوج نے انہیں مینڈیلہ جیسا بنا دیا ہے



14/02/2026

Mula jutt aur Nori nutt hospital pounch gaye

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahid Iqbal Virk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category