Mulana Qasim Raza Qadri

Mulana Qasim Raza Qadri بیانات

تمام عاشقانِ رسول سے خصوصی شرکت کی التجاء ہے ♥️
14/06/2025

تمام عاشقانِ رسول سے خصوصی شرکت کی التجاء ہے ♥️

28/03/2025

*الحمدللہ رب العالمین ♥️*
*محفلِ ختمُ القرآن شریف*✨
تمام مُحبین کی محبتوں کا شکریہ 😊

محفل ختم القرآن شرکت کی التجاء ہے ♥️
26/03/2025

محفل ختم القرآن
شرکت کی التجاء ہے ♥️

ان شاءاللہ الکریم ❤️ عاشقانِ اہلبیتِ اطہار سے شرکت کی التجاء ہے ♥️
22/03/2025

ان شاءاللہ الکریم ❤️
عاشقانِ اہلبیتِ اطہار سے شرکت کی التجاء ہے ♥️

22/03/2025

*21 رمضان المبارک ✨*
بعد نمازِ فجر۔۔۔۔۔ ذکرِ مولائے کائنات کرم اللہ وجہہ الکریم 🥰♥️

21/03/2025

بعد نمازِ فجر۔۔۔۔۔ درس کی جھلکیاں ✨💫
20 رمضان المبارک ♥️
یومِ فتح مکہ 🌙♥️

جس کے آگے کھنچی گردنیں جھک گئیں
اس خدا داد شوکت پہ لاکھوں سلام

جس کے آگے سرِ سَروَراں خَم رہیں
اس سرِ تاجِ رِفعت پہ لاکھوں سلام

20/03/2025

قرآن کا پیغام۔۔۔۔۔🤔

❤❣❤ سوانح حیات استاذالعلماء فقیہ العصر علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ استاذالاساتذه فقیہ العصر علامہ مفتی ...
08/06/2023

❤❣❤ سوانح حیات استاذالعلماء فقیہ العصر علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ

استاذالاساتذه فقیہ العصر علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ بن استاذالعلماء علامہ مفتی محمد ہاشم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت 16 ربیع الآخر 1305ھ بروز اتوار بوقت صبح گڑھی یاسین ضلع شکارپور سندھ میں ہوئی، ( مہران سوانح نمبر صفحہ 118 )

تعلیم و تربيت:
استاذالاساتذه فقیہ العصر علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ نے درس نظامی کی تمام کتب اپنے والد گرامی استاذالعلماء علامہ مفتی محمد ہاشم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ کے پاس پڑہیں اور ان کے وصال کے بعد آخری دو تین کتب برصغیر کے فقیہ اعظم رئیس العلماء سند الفقھاء علامہ عبدالغفور مفتون ہمایونی علیہ الرحمہ کے پاس ہمایوں شریف میں پڑھیں اور 1323ھ میں انہیں کی پاس دستار فضیلت ہوئے، ( مختصر سوانح حیات مفتی محمد قاسم گڑہی یاسینی صفحہ 07 )

درس و تدريس:
مولانا محمد حسین کہاوڑ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ آپ علیہ الرحمہ کے پاس مکران، بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے دور دراز علاقوں سے طالب علم دینی تعلیم حاصل کرنے آتے اور فیضیاب ہوکر لوٹتے، ( مختصر سوانح مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی صفحہ 7-8 ) مولوی دین محمد وفائی لکھتا ہے کہ علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ علم و ادب اور عربیت کے بہت بڑے عالم تھے سندھ میں ان کے ہمعصر علماء میں سے کوئی بہی ان کا ہم پلہ نہ تھا انہیں فقہ کے مسائل حل کرنے اور فتوی نویسی میں مہارت حاصل تھی، علامہ عبدالغفور مفتون ہمایونی علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد بلوچستان اور جنوبی سندھ کے لوگ فتوی کے لیے آپ کے پاس آتے تھے اس کے ساتھ درس و تدریس کا سلسلہ بہی جاری تھا ( تذکرہ مشاہیر سندھ صفحہ 257 )

تصنیف و تاليف:
علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ کی تصانیف میں 1 فتاوی قاسمیہ آپ کی تحریر کردہ فتاوی جات کا مجموعہ، 2 رسالہ عقائد نامہ اہلسنت اہلسنت کے عقائد کے متعلق تحریر کردہ رسالہ، 3 عمدة الآثار فی تذکرة الاخیار الکتبار مشائخ درگاہ کٹبار شریف بلوچستان کی بزرگوں کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب، 4 دربارہ تقلید 5 الفاظ القرآن با معنی فارسی 6 مجموعہ اشعار، ( انوار علمائے اہلسنت سندھ صفحہ 803 )

بیعت:
علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ غوث الزمان حضرت خواجہ عبدالرحمان صاحب مجددی نقشبندی فاروقی قدس سرہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے، ( مہران سوانح نمبر صفحہ 120 )

تلامذہ:
علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ کے تلامذہ کی فہرست میں کثیر علماء کے نام شامل ہیں جن میں سے چند کے نام یہ ہیں، استاذالعلماء علامہ مفتی محمد ابراھیم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ آپ کے چھوٹے بھائی ، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد صاحبداد خانصاحب جمالی علیہ الرحمہ سلطان کوٹ، مولانا احمد صاحب علیہ الرحمہ قاضی مکران بلوچستان، مولانا نصير الدين صاحب علیہ الرحمہ شہدادکوٹ، مولانا محمد حسين کہاوڑ جیکب آباد، مولانا میاں فخر الدین صاحب عليہ الرحمہ کٹبار شریف بلوچستان، صاحبزادہ عبدالغفار جان سرہندی و صاحبزادہ غلام احمد جان سرہندی رحمہم اللہ ٹنڈو محمد خان وغیرہ، ( انوار علماء اہلسنت سندھ صفحہ 803-804 )

شعر و شاعری،
علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ شاعری کا بہی ذوق رکھتے تھے عارف کامل سید احمد خالد شامی علیہ الرحمہ خو خود بلند پائے کے شاعر تھے وہ بہی آپ علیہ الرحمہ کی اشعار سن کر آپ کو داد دیتے تھے، آپ علیہ الرحمہ عربی زبان فصاحت کے ساتھ بولتے تھے جس کے خود اہل عرب بہی معترف تھے، ایک بار سید جمال الدین جیلانی سید عبدالرحمان ( سجاہ نشین خانقاہ عالیہ حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ ) کے فرزند علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ کی فصیح عربی زبان سن کر بے انتہا محظوظ ہوئے اور حاضرین مجلس کو کہنے لگے میں نے قلات سے لیکر سو رت تک سارا ہندوستان دیکھا ہے لیکن ان جیسا عالم کہیں نہیں دیکھا، شاعری میں آپ علیہ الرحمہ کا تخلص " قاسم " تھا، آپ علیہ الرحمہ نے سندھی کے علاوہ عربی و فارسی زبان میں بہی شاعری کی ہے، آپ علیہ الرحمہ کی شاعری میں قصائد، قطعات، غزلیات، مراثی تاریخیہ، منظومات و مناجات شامل ہیں، ( مہران سوانح نمبر صفحہ 120 انوار علمائے اہلسنت سندھ صفحہ 804 )

وصال:
علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ نے 44 برس کی عمر میں 18 ذوالقعد الحرام 1349ھ بمطابق 1929ع کو اس عالم فانی سے وصال فرمایا، آپ کی نماز جنازہ آغا عبدالستار جان سرہندی علیہ الرحمہ نے پڑھائی جس میں کثیر تعداد میں اپ کے تلامذہ و عقیدت مند شریک ہوئے، ( مختصر سوانح حیات مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی صفحہ 25 )

صاحب تکبیر کا لقب،
علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ کو صاحب تکبیر بہی کہا جاتا ہے وہ اس لیے کہ جب آپ کی نماز جنازہ پڑھی جارہی تہی جیسے ہی امام صاحب نے اللہ اکبر کی آواز بلند کی اسی وقت آپ علیہ الرحمہ کے جنازے سے بہی اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی، ( انوار علمائے اہلسنت سندھ صفحہ 804 )

مزار شریف:
علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ کی مزار شریف گڑھی یاسین ضلع شکارپور میں واقع ہے، اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے آمین یارب العالمین،

طالب دعا
قمرالدين عطاری عفی عنہ
05 رمضان المبارک 1443ھ
06 اپریل 2022ع شب پنجشنبہ

ایسے پوسٹرز اب ہر مزارات کی ضرورت ہے، ساتھ ہی مزارات پر ایسے حضرات موجود ہوں جو لوگوں کو مزارات پر حاضری کے آداب سکھائیں...
30/01/2023

ایسے پوسٹرز اب ہر مزارات کی ضرورت ہے، ساتھ ہی مزارات پر ایسے حضرات موجود ہوں جو لوگوں کو مزارات پر حاضری کے آداب سکھائیں۔۔۔۔

Address

Hyderabad Latifabad
Hyderabad
71500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mulana Qasim Raza Qadri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category