10/10/2025
مصیبتیں سر برہنہ ہوں گی عقیدتیں بے لباس ہوں گی
تھکے ہوؤں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہوں گی
تو دیکھ لینا ہمارے بچوں کے بال جلدی سفید ہوں گے
ہماری چھوڑی ہوئی اداسی سے سات نسلیں اداس ہوں گی
کہیں ملیں تم کو بھوری رنگت کی گہری آنکھیں مجھے بتانا
میں جانتا ہوں کہ ایسی آنکھیں بہت اذیت شناس ہوں گی
میں سردیوں کی ٹھٹھرتی شاموں کے سرد لمحوں میں سوچتا ہوں
وہ سرخ ہاتھوں کی گرم پوریں نہ جانے اب کس کو راس ہوں گی
یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئی جگہ سے پھٹی ہوئی ہے
تم اس کے گاؤں میں جا کے دیکھو تو آدھی فصلیں کپاس ہوں گی
دانش نقوی