26/06/2025
*اصل فاتح کون ؟ایران یا شیطانی قوتیں* ؟
اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی نسبتاً مختصر مگر انتہائی اہم جنگ کے دوران آخر کون جیتا اور کون ہارا؟ آئیے اس کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
درحقیقت اس جنگ کے ہار جیت کا فیصلہ اس وقت ممکن ہے جب ہم جنگ کے حقیقی اہداف کو سمجھ سکیں، یعنی دیکھیں کہ حملہ آور (اسرائیل) کے مقاصد کیا تھے اور کیا وہ ان مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوا یا نہیں۔
اس جنگ کی ابتدا اسرائیل نے کی، اور اس کے اہداف بڑے واضح تھے:
1️⃣ پہلا ہدف یہ تھا کہ وہ امریکہ، یورپ اور نیٹو کی حمایت کے ساتھ ایران پر حملہ کرے اور پہلے ہی وار میں ایران کے تمام اعلیٰ جنرلز اور مقام معظم رہبری کو شہید کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹ دے۔
2️⃣ دوسرا مقصد یہ تھا کہ اگر وہ قیادت کو شہید کرنے میں ناکام رہیں تو کم از کم ایران پر ایسا خوف طاری کر دیں کہ وہ دباؤ میں آ کر مذاکرات کی میز پر مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے، اپنے بیلسٹک میزائل، ایٹمی ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے۔
3️⃣ تیسرا مقصد یہ تھا کہ اس حملے کے ذریعے ایرانی عوام اور نظام کے درمیان دراڑ ڈال دی جائے، عوام میں یہ تاثر پھیلایا جائے کہ ان کا نظام انہیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتا، اور یوں عوام کو نظام کے خلاف ابھارا جائے تاکہ اندرونی خلفشار پیدا ہو اور اسلامی حکومت کمزور ہو جائے۔
لیکن ان تمام مقاصد میں اسرائیل اور امریکہ بری طرح ناکام رہے۔
✅ پہلا مقصد: وہ ایران کے اعلیٰ فوجی افسران اور مقام معظم رہبری کو شہید کرنے میں ناکام رہے۔
✅ دوسرا مقصد: مقام معظم رہبری نے پوری جرات اور عزم کے ساتھ واضح اعلان کیا کہ ایران کبھی بھی تسلیم نہیں ہوگا، اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، یہاں تک کہ تل ابیب کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور شہر کو جہنم بنا دیا۔
✅ تیسرا مقصد: دشمن ایران کے عوام اور نظام کے درمیان دراڑ ڈالنے میں بھی ناکام رہا۔ بلکہ اس جنگ نے عوام کو مزید باشعور بنا دیا، اور انہوں نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ ان کا اصل دشمن اسرائیل اور امریکہ ہیں، جو انہیں نظام کے خلاف ورغلا کر ایران کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور نظامِ اسلامی کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔
آخرکار وہی امریکہ اور اسرائیل، جو بار بار ایران کو بغیر کسی شرط کے تسلیم ہونے کا حکم دے رہے تھے، بکری کی طرح منمناتے ہوئے جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہو گئے تاکہ اپنی جان بچا سکیں اور اپنی ناجائز اولاد کو تباہی سے بچا سکیں۔
💥 خلاصۃ الکلام
اس جنگ کا اصل فاتح ایران ہے، جس نے اللہ پر بھروسہ اور بے مثال استقامت کے ساتھ دو عالمی طاقتوں بلکہ پورے مغرب اور یورپ کو شکست دے کر اسلام کا سر بلند کیا، اور عالمِ اسلام میں امید کی نئی کرن پیدا کی کہ اگر مسلمان چاہیں تو اللہ کی نصرت سے بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔