DeeP Lines

DeeP Lines Sadlines.. Heart voice.. deep thinking..

06/12/2025
9 سالہ یمنی بچے کی انسانیت نے دنیا کو حیران کر رکھا ہے ہم جو لومڑی کو دیکھتے ہی گولی مارتے ہیں پھر لومڑی کی کھال اور دم ...
02/08/2025

9 سالہ یمنی بچے کی انسانیت نے دنیا کو حیران کر رکھا ہے ہم جو لومڑی کو دیکھتے ہی گولی مارتے ہیں پھر لومڑی کی کھال اور دم فروخت کرتے ہیں یہ یمنی بچہ لومڑی کے بچے کو زندگی دینے کے لئے اپنی جان داو پر لگا چکا ہے
ایک 9 سالہ یمنی بچے کی گردِش کرنے والی یہ تصوِیر جو کِسی بھی حِفاظتی سامان اور بغیر کسی رسیِ کے 3, یا 4 منزِلہ عمارت کی طرح گہرے کُنویں سے اوپر چڑھ رہا ہے، جس نے ایک لومڑی کے بچے کو جو کے کُنویں میں گِر چُکا تھا اس کو رضکارنہ طور پر ریسکیو کِیا، پھر اُس بچے کو اپنی کمر سے باندھ کے اُوپر آیا یہ عمل لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اور اِس بچے کے حوصِلے اِنسانیت اور رحم دِلی کو خُوب سراہا گیا ❤

کاپی

Exactly
02/08/2025

Exactly

ناراض ہو؟ نہیں!  ناراض وه ہوتے ہیں جن کو مان ہو کہ کوئی ہے جو ان کو منا لے گا لیکن میں نے اپنے اردگرد کسی کو ایسا نہیں پ...
01/08/2025

ناراض ہو؟
نہیں! ناراض وه ہوتے ہیں جن کو مان ہو کہ کوئی ہے جو ان کو منا لے گا لیکن میں نے اپنے اردگرد کسی کو ایسا نہیں پایا سو میں نے اپنا بھرم رکھنے کے لیے یہ لفظ "ناراض" اپنی لغت سے ہی نکال دیا ہے۔۔
مناتا ہی نہیں کوئ
تب ہی ہمیشہ آغاز گفتگو کرتا ہوں
ناراض ہونے کا فائدہ ہی کیاجب کسی کو فرق ہی نہ پڑے🖤🙂

چاندنی رات – آخری حصہوادی میں رات کا سماں ابھی بھی گہرا تھا، لیکن انوشہ کے دل میں اجالا اتر چکا تھا۔ درخت کے نیچے کھڑا و...
01/08/2025

چاندنی رات – آخری حصہ

وادی میں رات کا سماں ابھی بھی گہرا تھا، لیکن انوشہ کے دل میں اجالا اتر چکا تھا۔ درخت کے نیچے کھڑا وہ سایہ اب مکمل طور پر واضح ہو چکا تھا — وہ اس کی اپنی ہی ایک پرچھائیں تھی، جو برسوں سے اس کے دل کے کسی کونے میں دبی ہوئی تھی۔ مگر اب وہ خوف نہیں رہا تھا، بلکہ ایک سوال تھا۔
"کیا تم واقعی تیار ہو؟" سائے نے پوچھا۔

انوشہ نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا، "میں اس لمحے کا برسوں سے انتظار کر رہی تھی۔ میرے ہر ڈر، ہر اندیشے نے مجھے اس لمحے تک پہنچایا ہے۔ اب وقت ہے کہ میں خود کو پہچانوں، بغیر کسی پردے کے۔"

سایہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا، اور زمین پر ایک دائرہ بننے لگا — ایک روشن دائرہ، جیسے چاند کی روشنی زمین کو چھو رہی ہو۔ انوشہ نے قینچی اپنے ہاتھ میں لی، اور روشنی کے دائرے کے اندر قدم رکھا۔ اچانک ایک زور دار جھٹکا محسوس ہوا، جیسے پوری کائنات لمحہ بھر کو رک گئی ہو۔

پھر منظر بدلا۔

وہ ایک عجیب مقام پر کھڑی تھی، جہاں آسمان نیلا نہیں بلکہ گہرا سنہرا تھا، اور زمین شفاف آئینے جیسی۔ ہر قدم پر اسے اپنی کئی پرچھائیاں دکھائی دے رہی تھیں — بچپن کی معصوم انوشہ، جوانی کی بےچین انوشہ، خوفزدہ، مضبوط، الجھی، اور پھر وہ انوشہ جو اب سامنے کھڑی تھی — مکمل، پر سکون، باوقار۔

اچانک ہر پرچھائیں ایک ایک کر کے اس کی طرف بڑھی، اور اس کے جسم میں جذب ہوتی گئی۔ ایک ایک کر کے وہ تمام پہلو، وہ تمام سچائیاں، وہ تمام خوف — سب اس کے وجود میں ضم ہو گئے۔ جیسے وہ خود کو مکمل کر رہی ہو۔

اور پھر… ایک خاموشی چھا گئی۔

ایک روشنی کا گولا آسمان سے نیچے آیا، اور اس کے اردگرد ایک نیا ماحول ابھرنے لگا۔ وادی اب دھند سے آزاد تھی، ہر طرف رنگ، خوشبو، اور زندگی کی نئی لہر دوڑ رہی تھی۔ پرانے درخت اب پھولوں سے لدے ہوئے تھے، اور ان کے نیچے بچے کھیل رہے تھے۔ وہ وادی جو ایک راز تھی، اب ایک حقیقت بن چکی تھی۔

زہرہ کی آواز آخری بار گونجی، "اب تم مکمل ہو، انوشہ۔ تم نے اپنے سائے کو پہچانا، اسے قبول کیا، اور پھر اس سے آگے نکل گئی۔ تم نے سچائی کو اپنایا، چاہے وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ یہی اصل جیت ہے۔"

انوشہ نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں چاند اب پورے جوبن پر تھا۔ وہ مسکرائی، اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے — وہ آنسو جو کمزوری کے نہیں، بلکہ شکرگزاری کے تھے۔ وہ جان چکی تھی کہ اس کا سفر ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ اب دوسروں کے لیے امید بنے گی۔

وہ واپس وادی کے بیچوں بیچ پہنچی، جہاں لوگ جمع ہو چکے تھے — وہ سب جنہوں نے سچائی سے منہ موڑ رکھا تھا، اب انوشہ کو دیکھ رہے تھے۔ ان کے چہروں پر حیرت، خوف، اور امید تھی۔

انوشہ نے نرمی سے کہا،
"یہ سفر صرف میرا نہیں، تم سب کا ہے۔ ہر ایک کے اندر ایک سایہ چھپا ہوتا ہے، مگر یاد رکھو، ہر سایے کے پیچھے روشنی ضرور ہوتی ہے۔ سچائی کڑوی ضرور ہوتی ہے، مگر وہی ہمیں آزاد کرتی ہے۔ آج میں تمہیں وہ راستہ دکھاتی ہوں جو میں نے چنا — روشنی کا، سچ کا، اور خودی کا۔"

لوگ خاموش تھے، مگر ان کے دلوں میں ایک لہر اٹھی — جیسے کوئی در کھل گیا ہو۔ انوشہ نے قینچی زمین پر رکھ دی، اور جیسے ہی وہ زمین کو چھوئی، ایک نیا پودا ابھرا — روشنی سے چمکتا ہوا، زندگی سے لبریز۔

اس لمحے، وادی نے سانس لی۔

اور انوشہ… وہ ایک علامت بن چکی تھی۔ روشنی کی، سچ کی، اور انسان کے اس سفر کی جو اپنے سائے سے نکل کر اپنی حقیقت تک جاتا ہے۔

ختم شد

" تٙھوک کا سودا"ایک عرب بیوہ نے شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی اپنی حسین و جمیل بیٹی کے لیے مبلغ پانچ لاکھ ریال حق مہر کا مطا...
01/08/2025

" تٙھوک کا سودا"

ایک عرب بیوہ نے شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی اپنی حسین و جمیل بیٹی کے لیے مبلغ پانچ لاکھ ریال حق مہر کا مطالبہ کر رکھا تھا۔
لڑکی سے شادی کے کئی خواہشمند اتنا حق مہر سن کر ویسے ہی دستبردار ہو چکے تھے۔
اپنی ضد کا پکا ایک لڑکا بڑی مشکل سے تین لاکھ ریال اکٹھے کر پایا۔
پیسے لے کر مزید کی مدد مانگنے کے لیے سیدھا اپنے باپ کے پاس پہنچا اور کہا: ابا جی، میرا کچھ کر لو، میں اس لڑکی پہ فدا ہو گیا ہوں، مگر اس کی ماں ہے کہ پانچ لاکھ ریال حق مہر سے ایک فلس کم پر بھی بات کرنے کو تیار نہیں۔ اب آپ ہی کچھ کیجیے۔

باپ نے بیٹے کی سنجیدگی کو دیکھا اور کہا: ٹھیک ہے پُتر، چل لا پیسے۔ کچھ کرتے ہیں تیرا بھی۔

دونوں باپ بیٹا پیسے لیکر بیوہ کے گھر پہنچے۔ سلام و دعا کے بعد باپ نے خاتون سے کہا: میں آپ سے بات کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ میری آپ سے ایک گزارش ہے کہ جب تک میں اپنی بات مکمل نہ کر لوں آپ میری بات نہ کاٹیں۔

خاتون نے کہا: جی بسم اللّٰہ ، کہیے۔
لڑکے کے باپ نے کہا: میرا بیٹا آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور یہ ایک لاکھ ریال نقد حق مہر ساتھ لایا ہے۔

خاتون نے گڑبڑاتے ہوئے کہا؛ مگر مجھے اپنی بیٹی کے حق مہر میں پانچ لاکھ ریال سے ایک فلس کم بھی قبول نہیں ہے۔

لڑکے کے باپ نے کہا: محترمہ آپ سے گزارش کی تھی کہ آپ مجھے بات پوری کرنے دیجیے گا۔

خاتون نے معذرت کرتے ہوئے کہا: جی آپ پوری کیجیے اپنی بات۔

لڑکے کے باپ نے کہا: آپ بذات خود ایک انتہائی خوبصورت اور جوان جہان عورت ہیں۔ میں آپ کو بھی ایک لاکھ ریال حق مہر ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میرے حق شرعی میں آ جائیے۔
خاتون کی خوشی سے باچھیں کھل کر کانوں کو جا لگیں۔ بمشکل اپنے جذبات کو دباتے ہوئے کہا: اللّٰہ آپ کا آنا قبول کرے۔ مجھے آپ کی دونوں شرطیں قبول ہیں۔

باپ بیٹا خوشی خوشی باہر نکلے تو ہمسائیوں نے پوچھا: ایسا کیسے ہوگیا؟ یہ تو ناممکن نظر آتا تھا۔

لڑکے کے باپ نے کہا: مال تھوک میں خریدتے ہوئے اور پرچون میں خریدتے ہوئے آخر ریٹ میں کچھ تو فرق پڑتا ہے ناں۔

لڑکے نے ہلکا سا گلا صاف کرتے ہوئے باپ سے کہا: ابا جی، وہ ایک لاکھ ریال جو بچ گئے ہیں، پھر وہ تو مجھے واپس دے دیجیے۔
باپ نے کہا:
ناں پُتر اوئے، ابھی ایک بڑا اور اہم مرحلہ تو باقی پڑا ہوا ہے۔ یہ ایک لاکھ ریال جا کر تیری ماں کو دینا پڑے گا تاکہ وہ بھی تو راضی ہو جائے ۔

01/08/2025

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DeeP Lines posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category