Pakistan Hmesha Zindabad

Pakistan Hmesha Zindabad Always love for Pakistan, Bangladesh and Muslim people in the region

ایک سال پہلے ڈسکہ میں ساس اور نند نے اپنے ساتھی نوید سونی نامی شخص کے ساتھ مل کر اپنی بہو زارا کو قتل کر دیا۔قتل کو چھپا...
15/03/2026

ایک سال پہلے ڈسکہ میں ساس اور نند نے اپنے ساتھی نوید سونی نامی شخص کے ساتھ مل کر اپنی بہو زارا کو قتل کر دیا۔
قتل کو چھپانے کے لیے مقتولہ کے جسم کے سات ٹکڑے کر کے گندے نالے میں بہا دیے گئے۔
جس کے بعد شاطر ملزمان نے خود کو بچانے کے لیے مقتولہ کے بھاگ جانے کا ڈرامہ رچایا، تو پولیس حرکت میں آئی اور واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
اس کیس کے چار ملزمان جیل کی کال کوٹھڑی میں پہنچے۔ کچھ عرصہ پہلے دو ملزمان نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت دائر کی، تو زارا کے کیس کو لاہور کے نامور وکیل استادِ محترم علی حسن جعفری نے زبردست دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بے رحم قاتلوں کی ضمانتیں خارج کرنے پر مجبور کر دیا۔
اس طرح انسانی درندہ نوید عرف سونی اور عبداللہ کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔
آج پھر زارا کے قتل کی مرکزی ملزمہ یاسمین نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت دائر کر رکھی تھی، جسے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے ایڈووکیٹ علی حسن جعفری نے زبردست دلائل دیتے ہوئے مرکزی ملزمہ یاسمین کی بھی ضمانت خارج کروا دی۔
لیکن یہ کیس ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ آپ اور ہم سب کو مل کر ایک بار پھر زارا کو انصاف دلوانے کے لیے سوشل میڈیا پر آواز اٹھانا پڑے گی، تاکہ بے رحم قاتلوں کو جلد از جلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔



Disclaimer: This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources.

14/03/2026

ایران، امریکہ اور رائیل جنگ میں اہم پیش رفت

گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں کچھ اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کے تزویراتی اہمیت کے حامل جزیرے خرگ (Kharg Island) کے آئل ٹرمینلز پر امریکہ نے حملہ کیا ہے، جس کے بعد جاری تنازع ایک ایسی بلندی پر آ گیا ہے جہاں سے واپسی کی راہیں مزید مسدود نظر آتی ہیں۔

واضح رہے کہ "خرگ آئی لینڈ" ایران کی معیشت کی شہ رگ ہے، یہاں موجود آئل ٹرمینلز سے ایران روزانہ سات لاکھ ٹن سے زیادہ تیل، آئل ٹینکرز میں لوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اس کی مجموعی صلاحیت کے تقریباً 86 فیصد کے برابر ہے۔ ایران کی اس دکھتی رگ پر ضرب لگانے کا مطلب اسے دیوار سے لگانا ہے۔ تزویراتی ماہرین کی نظر میں اس اشتعال انگیزی کا ایرانی جواب اب محض دفاعی نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر جارحانہ ہوگا، جس کا عندیہ اس نے پہلے مرحلے پر جبل علی (Jebel Ali) اور فجیرہ (Fujairah) جیسی اماراتی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی سے دیا ہے۔ ایران کا یہ موقف واضح ہے کہ اگر اس کی تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو وہ خلیجی ریاستوں کی کسی بھی تنصیب کو محفوظ نہیں رہنے دے گا، جو کہ تیل کی عالمی سپلائی چین (Supply Chain) کے لیے ایک ہولناک دھچکا ثابت ہوگا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔

گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران ہی ایران کی موجودہ عسکری حکمتِ عملی میں ایک بڑی تبدیلی کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائیہ کو بے بس (Neutralize) کرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ان کے ایئر ٹو ایئر ری فیولنگ ٹینکرز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ پہلے عراق کی فضا میں موجود دو KC-135 ایریل ری فیولنگ ٹینکروں کو ایرانی حمایت یافتہ عراقی شیعہ ملیشیا (اسلامک ریزسٹنس اِن عراق) نے نشانہ بنایا، جس میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور عملے کے تمام اراکین مارے گئے، جبکہ دوسرے کو جزوی نقصان پہنچا لیکن وہ اسرائیل میں لینڈ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اگلے روز ایران نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس (Prince Sultan Air Base) پر حملہ کر کے امریکی فضائی بیڑے کے پانچ ری فیولنگ ٹینکرز (Air Tankers) کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کو ایک انتہائی سوچی سمجھی تزویراتی چال مانا جا رہا ہے۔ جدید فضائی جنگ میں لڑاکا طیارے فضا میں ایندھن بھرنے والے ان ٹینکرز کے بغیر طویل فاصلے تک مشن انجام دینے کے قابل نہیں رہتے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے "فضائی برتری" (Air Superiority) کے ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے اس کے سب سے نازک حصے پر ضرب لگا رہا ہے۔ یاد رہے کہ لڑاکا جہازوں یا بمبار طیاروں کی نسبت ایئر ٹو ایئر ری فیولنگ ٹینکرز، کم بلندی پر پرواز اور سست رفتار کے باعث آسان شکار ہوتے ہیں۔ عراق کی فضا غیر محفوظ ہونے کے بعد امریکہ، سعودی عرب یا ترکی کی فضائی حدود استعمال کرنے پر مجبور ہوگا۔ اگر یہ ممالک اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دیتے، تو اسرائیل اور امریکہ کے لیے ایرانی حدود کے اندر گہرے حملے کرنا تکنیکی طور پر انتہائی مشکل اور پرخطر ہو جائے گا۔

عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ اقتصادی محاذ پر بھی ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران نے ایک ایسا "مالیاتی بم" (Financial Bomb) گرایا ہے جو پیٹرو ڈالر (Petro-dollar) کے عالمی تسلط کے لیے ایک وجودی خطرہ بن سکتا ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرموز (Strait of Hormuz) سے صرف ان آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی جنہوں نے تیل کی ادائیگی "چینی یوان (Yuan)" میں کی ہوگی۔

اگر اس پر عمل درآمد شروع ہو جاتا ہے تو یہ عالمی مالیاتی نظام میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا سب سے خطرناک زلزلہ ہوگا۔ یہ اقدام امریکی ڈالر کی عالمی بالادستی پر براہِ راست حملہ ہے، جو واشنگٹن کے لیے کسی ایٹمی حملے سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر چین اور دیگر بڑے خریدار اس ایرانی فارمولے پر عمل کرتے ہیں، تو یہ دہائیوں سے قائم اس نظام کی بنیادیں ہلا دے گا جہاں تیل کی قیمت صرف ڈالر میں طے ہوتی تھی، جس کی وجہ سے ڈالر عالمی کرنسی مانا جاتا ہے۔ ڈالر ہی امریکی معیشت کا سب سے مضبوط ستون ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی اس وقت "ہمہ جہتی جنگ" (Multidimensional Warfare) کے اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں عسکری، تزویراتی اور معاشی ہتھیاروں کو بیک وقت استعمال کیا جا رہا ہے۔
اب تک کچھ چیزیں تو بہت واضح ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ نوشتۂ دیوار ہو گیا ہے کہ امریکی چھتری اب خلیجی ممالک کی سیکیورٹی اور ان کے معاشی مفادات کے تحفظ کی ضامن نہیں رہی۔
دوسری طرف، ڈالر کو چیلنج کرنے کی پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ تہران اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر ایک ایسے نئے عالمی و علاقائی نظام کی تشکیل کی کوشش کر رہا ہے، جس میں امریکی مداخلت کی قیمت ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دی جائے۔ یقیناً اس کوشش میں اسے چین اور روس کی مدد حاصل ہوگی۔
یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آنے والے ایام میں جنگ کا دائرہ محض میزائلوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی معیشت کے بنیادی ستون اس کی زد میں ہوں گے۔

آو آج تم کو نمک حرام افغانوں کی منافقت اور پاکستان میں افغانی دہشتگردی سے روشناس کراوں ۔افغانستان کی پاکستان میں مداخلت ...
25/02/2026

آو آج تم کو نمک حرام افغانوں کی منافقت اور پاکستان
میں افغانی دہشتگردی سے روشناس کراوں ۔

افغانستان کی پاکستان میں مداخلت کی تاریخ
▫️30 ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا واحد ملک بنا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔
ستمبر 1947ء میں ہی افغان حکومت نے کابل میں افغان جھنڈے کے ساتھ " پشتونستان" کا جعلی جھنڈا لگا کر آزاد پشتونستان تحریک کی بنیاد رکھی۔
47ء میں ہی افغان ایلچی نجیب اللہ نے نوزائیدہ مسلمان ریاست پاکستان کو فاٹا سے دستبردار ہونے اور سمندر تک جانے کے لیے ایک ایسی راہداری دینے کا مطالبہ کیا جس پر افغان حکومت کا کنٹرول ہو بصورت دیگر جنگ کی دھمکی دی۔
قائداعظم محمد علی جناح صاحب نے اس احمقانہ مطالبے کا جواب تک دینا پسند نہ کیا۔

▫️1948ء میں افغانستان نے " قبائل " کے نام سے ایک نئی وزارت کھولی جس کا کام صرف پاکستان کے قبائلیوں کو پاکستان کے خلاف اکسانا تھا۔
48ء میں افغانستان میں پاکستان کے خلاف پرنس عبدلکریم بلوچ کے دہشت گردی کے ٹریننگ کمیپ بنے۔
1949ء میں روس کی بنائی ہوئی افغان فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے پمفلٹ گرائے جن میں قبائلی عوام کو پشتونستان کی تحریک کی حمایت کرنے پر ابھارنے کی کوشش کی گئی تھی۔
12 اگست 1949ء کو فقیر ایپی نے باچا خان کے زیر اثر افغانستان کی پشتونستان تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ افغان حکومت نے پرجوش خیر مقدم کیا۔
31 اگست 1949ء کو کابل میں افغان حکومت کے زیر اہتمام ایک جرگہ منعقد کیا گیا جس میں باچا خان اور مرزا علی خان عرف فقیر ایپی دونوں نے شرکت کی۔ اس جرگے میں ہر سال "31 اگست" کو یوم پشتونستان منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسی جرگہ میں پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
افغانستان کی پشت پناہی میں فقیر ایپی نے 1949ء میں پاکستان کے خلاف پہلی گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ اس کے جنگجو گروپ کا نام غالباً "سرشتہ گروپ" تھا۔
اس کی دہشت گردانہ کاروائیاں وزیرستان سے شروع ہو کر کوہاٹ تک پھیل گئیں۔
فقیر ایپی نے چن چن کر ان پشتون عمائدین کو قتل کیا جنہوں نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کی تھی۔
49ء میں افغانستان نے اپنی پوری فورس اور لوکل ملیشیا کے ساتھ چمن کی طرف سے پاکستان پر بھرپور حملہ کیا۔ جس کو نوزائیدہ پاک فوج نے نہ صرف پسپا کیا بلکہ افغانستان کے کئی علاقے چھین لیے۔
جو افغان حکومت کی درخواست پر واپس کر دئیے گئے۔

▫️1954ء میں ایپی فقیر کے گروپ کمانڈر " مہر علی " نے ڈپٹی کمشنر بنوں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کیا جس کے بعد اس تحریک کا خاتمہ ہوا۔
50ء میں افغانستان نے انڈیا کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا جس کا ایک نقاطی ایجنڈہ تھا کہ پاکستان کو کسی بھی طرح گھیر کر ختم کرنا ہے۔
ستمبر 1950 میں افغان فوج نے بغیر وارننگ کے بلوچستان میں دوبندی علاقے میں بوگرہ پاس پر حملہ کردیا۔ جس کا مقصد چمن تا تاکوئٹہ ریلوے لنک کو منقطع کرنا تھا۔ ایک ہفتے تک پاکستانی و افغانی افواج میں جھڑپوں کے بعد افغان فوج بھاری نقصان اٹھاتے ہوئے پسپا ہوگئی۔ اس واقعہ پر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے افغان حکومت سے شدید احتجاج کیا۔

▫️16 اکتوبر 1951 کو ایک افغان قوم پرست دہشتگرد "سعد اکبر ببرج" مردود نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں گولی مار کرشہید کردیا۔ یہ قتل افغان حکومت کی ایماء پر ہوا تاہم عالمی دباو سے بچنے کے لیے کسی بھی انوالومنٹ سے انکار کردیا۔
لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کا پہلا واقعہ تھا یعنی پاکستان میں دہشتگردی کا آغاز افغانستان نے کیا۔
6 جنوری 1952 کو برطانیہ کے لیے افغانستان کے ایمبیسڈر "شاہ ولی خان" نے بھارت کے اخبار "دی ہندو" کو انٹرویو دیتے ہوۓ یہ ہرزہ سرائی کی کہ "پشتونستان میں ہم چترال، دیر، سوات، باجوڑ، تیراہ، وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے شامل کرینگے"
26 نومبر 1953 کو افغانستان کے کےنئے سفیر "غلام یحیی خان طرزی" نے ماسکو روس کا دورہ کیا جس میں روس (سوویت اتحاد) سے پاکستان کے خلاف مدد طلب کی۔ جواباً انہوں نے افغانستان کو مکمل مدد کی یقین دہانی کروائی۔

▫️28 مارچ 1955 میں افغانستان کے صدر "داؤد خان" نے روس کی شہ پا کر پاکستان کے خلاف انتہائی زہر آمیز تقریر کی جس کے بعد 29 مارچ کو کابل، جلال آباد اور کندھار میں افغان شہریوں نے پاکستان کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا آغاز کردیا جس میں پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی اور پاکستانی پرچم کو اتار کر اس کی بے حرمتی کی گئی۔ جس کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔
55ء میں سردار داؤود وغیرہ نے پاکستان کے بارڈر پر بہت بڑے بڑے کھمبے لگائے جن پر اسپیکر لگا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا۔
یہ غالباً افغانستان کی پاکستان کے خلاف پشتونوں کو بھڑکانے کے لیے پہلی ڈس انفارمیشن وار تھی جس میں ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا۔ اس کی جدید ترین شکل ڈیوہ اور مشال ریڈیو ہیں جنہوں نے پی ٹی ایم کو جنم دیا۔

▫️مئی 1955ء میں افغان حکومت نے افغان فوج کو متحرک ہونے کا حکم دے دیا۔ جس پر جنرل ایوب خان نے نے بیان جاری کیا کہ " اگرافغانستان نے کسی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسے وہ سبق سکھایا جائے گا جو وہ کھبی نہ بھول سکے"۔ جس کے بعد وہ رک گئے۔
انہی دنوں افغانستان کے لیے روس کے سفیر "میخائل وی۔ ڈگٹائر" نے جنگ کی صورت میں افغانستان کو مکمل عسکری امداد کی یقین دہانی کرائی۔

▫️نومبر1955ء میں چند ہزار افغان مسلح قبائلی جنگجووں نے گروپس کی صورت میں 160 کلومیٹر کی سرحدی پٹی کے علاقے میں بلوچستان پر حملہ کر دیا۔ پاک فوج سے ان مسلح افغانوں کی چھڑپیں کئی دن تک جاری رہیں۔
مارچ 1960ء میں افغان فوج نے اپنی سرحدی پوزیشنز سے باجوڑ ایجنسی پر مشین گنوں اور مارٹرز سے گولی باری شروع کر دی۔ جس کے بعد پاکستانی ائیر فورس کے 26 طیاروں نے افغان فوج کی پوزیشنز پر بمباری کی۔

▫️28 ستمبر 1960 کو افغان فوج نے چند ٹینکوں اور انفینٹری کی مدد سے باجوڑ ایجنسی پر حملہ کردیا۔
پاکستان آرمی نے ایک مرتبہ پھر افغان فوج کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوۓ واپس دھکیل دیا۔
1960ء کے دوران پاکستانی فضائیہ کی افغان فوج پر بمباری وقفے وقفے سے جاری رہی۔

▫️1960ء میں ہی افغانستان میں پاکستان کے خلاف شیر محمد مری کے دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپس بنے۔
مئی 1961ء میں افغانستان نے باجوڑ، جندول اور خیبر پر ایک اور محدود پیمانے کا حملہ کیا۔
اس مرتبہ اس حملے کا مقابلہ فرنٹیر کور نے کیا اور اس دفعہ بھی پاکستانی فضائیہ کی بمباری نے حملے کا منہ موڑ دیا۔
افغان حکومت نے حملے کی حقیقت سے انکار کردیا۔
جولائی 1963ء میں ایران کے بادشاہ رضاشاہ پہلوی کی کوششوں سے پاکستان و افغانستان نے اپنی سرحدیں کھول کر تعلقات بحال کر لیے۔
اس کے بعد دو سال تک امن رہا۔

▫️1965ء میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو افغانستان نے موقع غنیمت جان کر دوبارہ مہند ایجنسی پر حملہ کر دیا۔
لوگ حیران رہ گئے کہ انڈیا نے افغانستان کی طرف سے کیسے حملہ کر دیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ افغانیوں نے کیا ہے۔ اس حملے کو مقامی پشتونوں نے پسپا کر دیا۔

▫️1970ء میں افغانستان نے اے این پی والوں کے " ناراض پشتونوں" اور بلوچوں کے ٹریننگ کیمپس بنائے۔ عدم تشدد کے نام نہاد علمبردار اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک ان کیمپس کا حصہ تھے۔
1971ء میں جب کے جی بی انڈیا کے ساتھ ملکر پاکستان کو دولخت کر رہی تھی تو اس کے ایجنٹ افغانستان میں بیٹھا کرتے تھے۔
اس وقت افغانی اعلانیہ کہا کرتے تھے کہ دو ہونے کے بعد اب پاکستان کے چار ٹکڑے ہونگے۔

▫️1972ء میں اے این پی کے اجمل خٹک نے افغانستان کی ایماء پر دوبارہ پشتونستان تحریک کو منظم کرنے پر کام شروع کر دیا۔
تاہم اس وقت تک افغانستان کو اندازہ ہوچکا تھا کہ پشتونستان تحریک بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے اس لیے اس نے اب بھارت کے ساتھ مل کر "آزاد بلوچستان" تحریک کو بھڑکانا اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی عسکری تربیت شروع کردی۔ تاہم پشتونستان کے نام پر بھی افغان تخریب کاریاں جاری رہی۔

▫️افغانستان کی طرف سے مسلسل سازشوں اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کے بعد بالآخرپاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار بھٹو نے پہلی مرتبہ جواباً افغانستان کے خلاف منظم خفیہ سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
1973ء میں پشاور میں افغان نواز عناصر نے پشتونستان تحریک کے لیے "پشتون زلمی" کے نام سے نئی تنظیم سازی کی۔
1974ء میں افغانستان نے " لوئے پشتونستان" کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ تصویر پوسٹ کے ساتھ ہے۔

▫️فروری 1975ء میں افغان نواز تنظیم "پشتون زلمی" نے خیبرپختونخواہ کے گورنر حیات خان شیرپاو کو بم دھماکے میں شہید کردیا۔
(بحوالہ کتاب "فریب ناتمام" از جمعہ خان صوفی)

▫️28 اپریل 1978ء میں روسی پروردہ کمیونسٹ جماعت "پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان" نے روسی اسلحے اور چند روسی طیاروں کی مدد سے کابل میں بغاوت برپا کردی جسے "انقلاب ثور" کا نام دیا گیا۔
اس کے نتیجے میں صدر داؤد سمیت ہزاروں افغانوں کو بیدردی سے ہلاک کردیا گیا اور افغانستان پر کمیونسٹ حکومت قائم کردی گئی۔

▫️کمیونسٹ صدر نجیب نے اقتدار سنبھالتے ہی " لوئے پشتونستان" کی عام حمایت کا اعلان کردیا۔
1979ء میں افغان عوام کمیونسٹ حکومت کے خلاف پوری طاقت سے کھڑے ہوگئے اور کمیونسٹ نجیب ہزاروں افغانوں کا قتل عام کرنے کے باوجود عوامی انقلاب کو روک نہ سکا۔ اپنی حکومت کو خطرے میں دیکھ کر نجیب نے روس کو افغانستان پر حملہ کرنے کی دعوت دے دی۔

▫️24 دسمبر 1979ء کو روس نے افغانستان پر حملہ کردیا۔
روسی پورے افغانستان کو روندتے ہوئے تورخم بارڈر تک پہنچ گئے اور اعلان کیا کہ وہ دریائے سندھ کو اپنا بارڈر بنائیں گے۔
یعنی بلوچستان اور کے پی کو لے لینگے۔
روسی و افغان کمیونسٹ افواج نے افغانستان میں قتل و غارت کا وہ بازار گرم کیا جسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔پاکستان نے اس موقع پر تیس لاکھ سے زیادہ افغانوں کو پناہ اور تحفظ دیا اور روس کے خلاف برسرپیکار افغان مجاہدین کی مکمل مدد کی۔

▫️1980ء میں افغانستان میں پیپلز پارٹی کی الذولفقار نامی دہشت گرد تنظیم کے ٹریننگ کیمپس بنے۔ اسی تنظیم نے مبنیہ طور پر پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق کو پاک فوج کے سترہ جرنیلوں سمیت شہید کر دیا۔

▫️79ء سے 87 تک روسی فضائیہ نے کئی مرتبہ پاکستانی سرحدی علاقوں پر بمباری کی۔ کے جی بی اور افغان ایجنسی خاد نے اے این پی کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں سینکڑوں پاکستانی زیادہ تر پشتون شہید ہوۓ۔

▫️2006ء سے اب تک افغانستان کی نئی ایجنسی این ڈی ایس بھارتی ایجنسی را کے ساتھ ملکر پاکستان میں ٹی ٹی پی سمیت کوئی پچاس کے قریب مختلف دہشت گرد تنظیموں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
ان تمام تنظیموں کی مشترکہ کارائیوں میں اب تک 60،000 پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں بڑی تعداد پشتون، تین لاکھ سے زائد زخمی ہوئے اور ہزاروں اب بھی آئی ڈی پیز کی شکل میں بے گھر ہیں۔ پاکستان کو کم از کم 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔
ان پندرہ سالوں میں افغانستان نے پاکستان میں جو دہشت گردانہ حملے کرائے ان کا احاطہ کرنا ایک مضمون میں ممکن نہیں۔
اسی عرصے میں امریکہ نے افغانستان میں فاٹا اور بلوچستان کی سرحدوں پر ڈیوہ اور مشال کے نام سے اپنی خصوصی ریڈیو سروس کا آغاز کیا جن کا تقریباً سارا عملہ افغانیوں پر مشتمل ہے یا لوئے پشتونستان کے علمبرداروں پر۔
ان ریڈیو چینلز نے ان دونوں علاقوں میں پشتونوں کو پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بھڑکانا شروع کردیا۔

▫️افغانستان نے پاکستان میں جو دہشت گردانہ حملے کیے ان میں سب سے بڑا حملہ 16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس پر کیا گیا جس میں بھارتی را اور افغان این ڈی ایس کے پلان پر7 افغان دہشتگردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا جس میں 150 بچوں اور اساتذہ کو بیدردی سے شہید کردیا۔

▫️جون 2016ء میں افغان نیشنل آرمی نے طورخم بارڈر پر گیٹ لگانے والی پاک فوج پر حملہ کر دیا اور پاک فوج کے میجر علی جواد خان کو شہید کر دیا۔
پاک فوج کے جوابی حملے میں افغان فورسز اپنی چیک پوسٹیں اور قلعہ تک چھوڑ کر فرار ہوگئیں۔
بعد میں زخمی فوجیوں کا علاج کرنے پاکستان سے درخواست کی جو پاکستان نے قبول کر لی۔

▫️5 مئی 2017ء کو بھارت کی شہ پاکر افغان نیشنل آرمی نے چمن، بلوچستان پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس میں 2 پاکستانی فوجی اور 9 پاکستانی سویلینز ( پشتون) شہید جبکہ 40 کے قریب زخمی ہوۓ۔
جواباً پاک فوج کے حملے میں 50 افغان فوجی ہلاک اور 5 ملٹری پوسٹس تباہ ہوئیں۔
اس کے علاوہ ہر چند دن کے وقفےکے بعد دہشتگرد افغان سرزمین سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر مسلسل حملے کررہے ہیں۔

▫️فاٹا، بلوچستان اور کے پی کے میں آپریٹ کرنے والی تمام دہشت گرد تنظمیوں کے مراکز افغانستان میں ہیں اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔
دوسری جانب ڈیوہ اور مشال کی مسلسل محنت رنگ لے آئی۔
اور عین اس وقت جب افغانستان کی بہت بڑی پراکسی کو شکست دینے کے بعد فاٹا میں دوبارہ آباد کاری اور تعمیر نو کا عمل جاری تھا 2018ء میں ایک بار پھر وزیرستان سے پشتونوں کی نئی تحریک لانچ کی گئی پی ٹی ایم کے نام سے۔ افغان صدر اور افغان پارلیمنٹ نے ان کی اعلانیہ حمایت کی۔

▫️افغانیوں نے افغانستان سمیت دنیا بھر میں اس تحریک کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا۔ یوں اس کو پشتونوں کی عالمی تحریک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
اسی تحریک میں " پاکستان مردہ باد" ۔۔ " اسرائیلی آرمی زندہ باد" ۔۔ " دہشت گردی کے پیچھے وری" ۔۔ " لرو بر یو پشتون ( لوئے پشتونستان ) اور پاکستان سے آزادی کے نعرے لگانے شروع کر دئیے گئے۔
افغان شعراء نے اس کے حق میں شاعری کی، غزلیں لکھیں، افغان مصوروں نے تحریک کے لیے مفت میں آرٹ تخلیق کرنا شروع کیا۔ جس کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔
پونی والی تاجک ٹوپی جو اس سے پہلے پاکستانی پشتون علاقوں میں نہ کبھی کسی نے دیکھی نہ پہنی کو تحریک کی علامت بنا کر مفت تقسیم کیا گیا۔

▫️وہ افغانی جو پاکستان میں رہتے ہیں یا جنہوں نے پاکستانی یونیورسٹیوں میں پڑھ کر اردو سیکھ لی ہے نے جعلی اکاؤنٹس بنا کر بہت بڑے پیمانے پر اس نئی تحریک کو سپورٹ کرتے ہوئے پاکستان مخالف پراپیگینڈا شروع کردیا۔
پی ٹی ایم مخالفین یا پاکستان کے حامیوں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ ملک ماتوڑکے، ملک عباس اور ایس پی طاہر داؤڑ اس کی چند مثالیں ہیں۔
ایس پی طاہر داؤڑ کو این ڈی ایس کا اہلکار ورغلا کر افغانستان لے گیا اور پھر افغان حکومت نے اس کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ لاش پی ٹی ایم کے حوالے کی گئی۔

▫️چند دن پہلے جب پاک فوج نے انڈین طیارے گرائے تو تمام افغان سوشل میڈیا نے انڈیا کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور جنگ کی صورت میں انڈیا کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔
افغانستان میں ہی این ڈی ایس اور ملا تور کے زیر قیادت ایک خفیہ میٹنگ کا انکشاف ہوا جس میں ٹی ٹی پی نے انڈین جہاز گرانے پر پاکستان سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔
فاٹا طلباء کے لیے مفت داخلوں کا اعلان کیا۔ جو طلباء اس جھانسے میں آکر افغانستان گئے انکا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا۔

▫️کچھ دن پہلے پکتیکا میں وزیرستان کے اٹھ لوگوں کو محض اس لیے شہید کر دیا گیا کہ وہ پاکستانی تھے۔ ایک دو سال پہلے بھی ایک افغانی فوجی نے اسی طرح پاکستانی پشتونوں کو قتل کر دیا تھا جو مزدوری کرنے افغانستان گئے تھے اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر شیر کر دی تھی۔
بقول حسن خان صاحب کے" کسی کا صرف پاکستانی پشتون ہونا افغان فوج کو اس کے قتل کا لائسنس دے دیتا ہے" ۔۔
یہ ہے افغانستان کی پاکستان میں دہشت گردیوں اور دراندازیوں کی تاریخ جنہوں نے نہ کبھی پاکستان کو سکھ کا سانس لینے دیا نہ پشتونوں کو۔

پاکستان ریلوے کی تعمیر و ترقی میں نمایاں بہتری کے منصوبہ جات پاکستان کی معیشت کے لیے تازہ ہوا کا ایک جھونکا یہ ہے کہ ملک...
25/02/2026

پاکستان ریلوے کی تعمیر و ترقی میں نمایاں بہتری کے
منصوبہ جات
پاکستان کی معیشت کے لیے تازہ ہوا کا ایک جھونکا یہ ہے کہ ملک 480 کلومیٹر طویل کراچی،روہڑی ریلوے سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے دو ارب ڈالر کے مالی پیکج پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ معاہدے کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ یہ سیکشن سات ارب ڈالر کے مین لائن-ون (ML-1) منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے، جسے پاکستان طویل عرصے سے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت عملی جامہ پہنانا چاہتا تھا ۔

اس پیش رفت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت نے برسوں سے رُکی ہوئی ریل پٹری کی جدید کاری کو دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نئی ٹریکس، سگنلنگ اور پلوں کی تبدیلی سے ٹرینوں کی رفتار دوگنا، حادثات کے خدشات نصف اور سفر کا وقت کراچی سے روہڑی کے درمیان پانچ گھنٹے تک کم ہو جائے گا، جس کا سیدھا فائدہ مسافروں اور مال بردار دونوں کو ہوگا۔

منصوبے کے لیے مالیاتی بندوبست میں وفاقی وزارتِ خزانہ،پاکستان ریلوے اور نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن سبھی شریک ہیں، جبکہ قرض کی شرائط طے کرنے کے لیے باقاعدہ ’ریلوے فنانسنگ سیل‘ قائم کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فنڈز کا پہلا حصہ جولائی 2026 میں دستیاب ہو جائے گا اور تعمیراتی کام کی مدت ڈھائی سے تین سال رکھی گئی ہے ۔

اقتصادی زاویے سے دیکھا جائے تو ML-1 کی اپ گریڈیشن پاکستان کو تین بڑی معاشی رعایتیں دیتی ہے: کم لاگت مال برداری، تیز تر برآمدی راستے اور علاقائی تجارت میں وسعت۔ یہ پٹری سری لنکا سے ایران اور ترکی تک مجوزہ ریل نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو یوریشیا تک رسائی کے نئے دروازے کھلیں گے۔

مقامی سطح پر ہزاروں انجینئر، ٹیکنیشن اور ٹھیکے دار اس منصوبے سے روزگار پائیں گے، جبکہ اسٹیل، سیمنٹ اور بجلی کے سامان کی طلب بڑھنے سے مقامی صنعت کا پہیہ بھی تیز ہو گا۔ الیکٹرونک سگنلنگ اور جدید ڈیزل-الیکٹرک انجن ایندھن کی بچت اور کاربن اخراج میں کمی لائیں گے، جو عالمی ماحولیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ ریلوے کی بحالی ملکی سرمایہ کاروں کو یہ اطمینان دیتی ہے کہ انفرااسٹرکچر پر خرچ کیا گیا ہر روپیہ اب بروقت اور مؤثر انداز میں استعمال ہو رہا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے یہی اعتماد اگلے مرحلے میں نجی شعبے کو ایکویٹی یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی شکل میں شامل کرنے کا راستہ کھولتا ہے۔

25/02/2026

‏جس سالم بلوچ کو بی وائی سی نے معصوم “مسنگ پرسن” بنا کر پیش کیا، جس کے نام پر آنسو بہائے گئے، جلسے کیے گئے، بیانیے گھڑے گئے وہی سالم آپریشن ہیروف 2 میں دہشتگرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کا کمانڈر بن کر حملہ آوروں میں شامل تھا اور اپنے انجام کو پہنچا۔ اور پھر خود بی ایل اے نے تسلیم بھی کر لیا کہ وہ ان کا ہی کارندہ تھا۔
تو اب سوال یہ ہے — وہ آوازیں کہاں ہیں؟
کہاں ہیں حامد میر؟
کہاں ہیں اسد طور؟
کہاں ہیں اختر مینگل کے حمایتی؟
کہاں ہیں ایمان مزاری اور ماہ رنگ بلوچ؟
جب اسے “لاپتہ” کہا جا رہا تھا تو کیمرے بھی تھے، بیانات بھی تھے، ٹویٹس بھی تھیں۔
آج جب حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے اور دہشتگردی کا اعتراف خود ان کی تنظیم نے کر لیا ہے، تو یہ خاموشی کیوں؟
قوم سوال کر رہی ہے۔
کیا معصوم عوام کے جذبات سے کھیلنا آسان ہے؟
کیا سچ صرف تب تک سچ ہوتا ہے جب تک بیانیہ زندہ رہے؟

23/02/2026

پہلی خبر :- پاکستان میں مسجد میں دہشتگردوں نے دھماکہ کردیا بچے ، بوڑھے اور جوان شہید ۔۔۔
یوتھیا :- دانت نکالتے ہوئے ۔ یہ فوج نے خود ہی کروایا ہوگا ۔۔
دوسری خبر:- پاک فوج کے کانوائے پر فتنہ الخوارج کا حملہ ایک کرنل سمیت جوان شہید۔۔۔۔
یوتھیا :- دانت نکالتے ہوئے ۔ یہ فوج نے ڈالرز کے لیے خود ہی کروایا ہوگا ۔۔
تیسری خبر :- افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملہ جس کا افغان ظالمان کو پہلے سے بتایا تھا کہ یہاں سے دہشتگرد تیار ہوکر پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہیں ۔۔۔
یوتھیا:- روتے ہوئے ۔ ہائے ہائے معصوموں کو مار دیا ۔ ہائے ہائے یوتھیوں کے بہنوئی تھے وہ تو ۔ ہائے ہائے معصوم سے تازہ تازہ بن رہے دئشتگرد تھے وہ ۔ ہائے ہائے پاکستان نے کیا کردیا ۔ یہ فوج نے مدرسے پر حملہ کردیا معصوم عورتیں رات کے وقت ان دہشتگردوں کے پاس موجود تھیں ۔ ہائے ہائے وہ بھی مار دیں ۔ ہائے ہائے پی ٹی آئی کے ووٹ اور بھی کم کردئیے ۔ ہائے ہائے انہوں نے تو پاکستان آکر پھٹنا تھا اس فوج نے افغانستان میں ہی پاڑ دئیے ۔۔۔۔ 😭😭😭
کھسرے شالے۔۔۔۔ 😒😒😒

30/01/2026

نئی تاریخ رقم، دبئی میں پاکستان کا بڑا بریک تھرو! متحدہ عرب امارات کی نائب وزیر برائے کابینہ امور محترمہ ہُدیٰ الہاشمی سے ہونے والی ملاقات میں اسٹریٹجک گورننس اصلاحات اور طویل المدتی قومی منصوبہ بندی پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں اُڑان پاکستان کے تحت اصلاحاتی ایجنڈے، معاشی استحکام اور مہنگائی میں نمایاں کمی کو اجاگر کیا گیا۔ 2035 تک ایک کھرب اور 2047 تک تین کھرب ڈالر معیشت کے وژن نے عالمی شراکت داروں کا اعتماد مزید مضبوط کیا۔ اے آئی پر مبنی گورننس، تعلیم اور سماجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یو اے ای کے تجربات سے استفادے پر اتفاق ہوا۔ محترمہ ہُدیٰ الہاشمی نے پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کارکردگی پر مبنی حکمرانی کو مستقبل کی کامیابی کی کنجی قرار دیا۔

23/01/2026

ایران کے معاملے میں جو کچھ دنیا کو دکھایا جا رہا ہے، وہ اصل حقیقت سے بالک مختلف ہے۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں، اس سے پہلے عراق کے نام پر پوری دنیا کو گمراہ کیا گیا، جھوٹے ہتھیاروں کی کہانی گھڑی گئی اور ایک پورا ملک تباہ کر دیا گیا۔
قطر پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے دوران بھی امریکہ نے دوغلی پالیسی اختیار کی۔ ایک طرف دفاعی وعدے، دوسری طرف خاموش تماشائی بن کر اپنے اتحادی کو تنہا چھوڑ دیا۔ افغانستان سے فوجوں کا انخلا بھی ایک ڈرامہ تھا۔ دنیا کو یہ باور کرایا گیا کہ امریکہ نکل گیا، مگر پسِ پردہ وہی طالبان حکومت، جس کے خلاف بیس سال جنگ لڑی گئی، آج ہر ہفتے ڈالروں سے چلائی جا رہی ہے۔
شام میں نئی حکومت کی تشکیل ہو یا نام نہاد استحکام کی باتیں، ہر جگہ امریکی کردار مشکوک رہا۔ حکومت بدلی تو فوراً اسرائیل نے وہ علاقے ہتھیا لیے جن تک وہ بشار الاسد کے دور میں پہنچ بھی نہ سکا۔ لیبیا میں کرنل قذافی کے ساتھ بھی یہی کھیل کھیلا گیا—پہلے وعدے، پھر تنہائی، اور آخرکار تباہی۔
اب ایران کے معاملے میں بھی وہی دھوکے کی بو آ رہی ہے۔ بظاہر حملے کی تردید کی جا رہی ہے، مگر نیٹو ممالک کی غیر معمولی نقل و حرکت اصل کہانی بیان کر رہی ہے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے یورو فائٹر طیاروں کی قبرص کے اکروتیری بیس اور اردن کے مفرق السلطان ایئر بیس پر تعیناتی محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔
ایسے حالات میں پاکستان کو غیر معمولی ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ جنرل عاصم منیر کا امریکہ میں دیا گیا واضح پیغام کہ “اگر ہم ڈوبے تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے” محض الفاظ نہیں تھے۔ اس کے باوجود امریکہ پاکستان کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرے گا، کیونکہ پچھلے چند مہینوں میں پاکستان نے ہر محاذ پر امریکی منصوبوں کو چیلنج کیا ہے—چاہے وہ بھارت کا معاملہ ہو، خطے کی سفارتکاری ہو، یا ایران کے گرد بنتا ہوا گھیرا۔
سعودی عرب کو امریکی دباؤ سے نکالنا، مصر، لیبیا اور اردن کو قریب لانا، یمن میں اسرائیلی پراکسیز کی ناکامی، سوڈان میں اسرائیلی مفادات کے خلاف پیش رفت—یہ سب وہ عوامل ہیں جو واشنگٹن کو بے چین کر رہے ہیں۔ اسی لیے یاد رکھیں، دنیا میں جو کچھ بھی ہو، پردے کے پیچھے اصل نشانہ پاکستان ہی ہے۔
الحمدللہ، اس وقت پاکستان کی عسکری قیادت مکمل طور پر صورتِ حال سے آگاہ ہے۔ دفاعی، سفارتی اور اسٹریٹجک سطح پر بھرپور تیاری موجود ہے۔ اب ذمہ داری قوم پر آتی ہے کہ وہ متحد ہو کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہو۔
فتح ان شاءاللہ پاکستان کی ہوگی۔

13/01/2026

سیاسی اختلاف اپنی جگہ پنجاب میں گزشتہ 35 سالوں سے غلام حیدر واہیں میاں شہباز شریف منظور وٹو چوہدری پرویز الہی عثمان بزدار اورخود میاں نواز شریف 80 کے دہائی میں پنجاب کے وزیر اعلی رہے لیکن یہ جتنے بھی وزراء اعلی گزرے ہیں ان سب سے بہتر اور شاندار کارکردگی محترمہ مریم نواز کی ہے جتنا کریڈٹ اور شاباش مریم نواز کو ملنا چاہئے وہ نہیں مل رہا مریم نواز پنجاب کی ایک ویژنری وزیراعلیٰ ثابت ہوئی ہیں تاریخ میں مریم نواز کے کارنامے ہمیشہ سنہری حروف میں لکھیں جاہیں گے

Address

Islamabad Blue Area D Block
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Hmesha Zindabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category