18/04/2026
کیا ایک لیڈر اپنی کرپشن چھپانے کے لیے پورے ملک کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتا ہے؟ کیا وہ اپنی کرسی بچانے کے لیے اپنے دشمنوں کو خود پال سکتا ہے؟ آسکرایوارڈیافتہ ڈائریکٹروفلم ساز الیکس گیبنی (Alex Gibney)کی ڈاکومنٹری 'The Bibi Files' نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بارے میں وہ ہوش ربا انکشافات کیے ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ڈاکومنٹری بتاتی ہے کہ کیسے 300ملین ڈالرکے کرپشن کیسز،ریاست کے ڈکلیئرڈ دشمن حماس کوفنڈنگ اور فرائض سے غفلت، سیکورٹی بریچ کے سنگین کیسوں کودبانے کیلئے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے جنگ کاہتھیاراستعمال کیا ،صرف اپنی گردن بچانے کیلئے پوری دنیا کو خوفناک جنگ میں دھکیل دیاجس نے ہزاروں معصوم جانیں لے لیں۔
"اس فلم کی سب سے بڑی طاقت وہ ایک ہزار گھنٹے کی پولیس تفتیش کی فوٹیج ہے جو پہلے کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی تھی۔ The Bibi Files میں آپ نیتن یاہو کو ایک طاقتور وزیرِ اعظم کے طور پر نہیں بلکہ ایک ملزم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تفتیش کے دوران جب ان سے کرپشن، کک بیکس اور مہنگے تحائف لینےکے بارے میں پوچھا جاتا ہے، تو وہ یا تو غصے میں آ جاتے ہیں یا 'مجھے یاد نہیں' کا سہارا لیتے ہیں۔ The Associated Pre کے مطابق، وہ ایک موقع پرتفتیش کاروں سے کہتے ہیں کہ وہ میزائل گننے میں مصروف ہیں، شراب کی بوتلیں گننے میں نہیں۔یہ تفتیشی ویڈیوز ثابت کرتی ہیں کہ قانون کا گھیرا ان کے گرد کس حدتک تنگ ہو چکا تھا۔"
اس دستاویزی فلم کادوسرا اور سب سے خوفناک نکتہ جس نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ نیتن یاہو نے خود اپنے دشمن (حماس) کو زندہ رکھنے کے لیے موساد کا استعمال کیا؟ڈاکومنٹری 'دی بی بی فائلز' کے مطابق، نیتن یاہو نے قطر کو اس بات پر راضی کیا تھا کہ وہ حماس کو ماہانہ 30 ملین ڈالرز (تقریباً 3 کروڑ ڈالرز) کی قسط ادا کرے۔ یہ رقم باقاعدہ سوٹ کیسوں میں بھر کر غزہ جاتی تھی۔لیکن کہانی میں موڑ تب آیا جب 2019 میں قطر نے یہ فنڈنگ روکنے کا فیصلہ کیا۔ قطر کا موقف تھا کہ یہ پیسہ انسانی ہمدردی کے بجائے فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔یہاں نیتن یاہو نے وہ قدم اٹھایا جو کسی بھی ملک کا سربراہ اپنے دشمن کے لیے نہیں اٹھاتا۔ انہوں نے موساد کے اس وقت کے سربراہ (Yossi Cohen) اور ایک اعلیٰ فوجی افسر کو خصوصی طور پر اپنے ذاتی دستخط شدہ خط کے ساتھ دوحہ، قطر بھیجا۔مشن کیا تھا؟ قطری حکام کو اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ حماس کی فنڈنگ دوبارہ شروع کریں۔نیتن یاہو کا اصرار تھا کہ اگر یہ رقم رکی تو حماس کمزور ہو جائے گی اور فلسطینی اتھارٹی (فتح) مضبوط ہو جائے گی، جو وہ کبھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ فنڈنگ 2012 سے شروع ہوئی اور 2018 کے بعد اس میں تیزی آئی اور سلسلہ 2023 تک چلا۔فلم کے مطابق نیتن یاہو کا فلسفہ تھا: 'اپنے دشمنوں کو قریب رکھو'۔ انہوں نے سوچا وہ حماس کو کنٹرول کر لیں گے، لیکن یہ آگ آخر کار خود ان کے ملک تک پہنچ گئی۔"سوال یہ ہے کہ نیتن یاہو ایسا کیوں کر رہے تھے؟ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطینیوں کو دو حصوں میں بانٹ کر رکھنا چاہتے تھے تاکہ 'آزاد فلسطینی ریاست' کا مطالبہ ختم ہو جائے، چاہے اس کے لیے حماس کو مضبوط ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔لیکن یہی چالاکی اس وقت نیتن یاہو کے گلے پڑگئی جب7 اکتوبر کے حماس کےحملے اور اس میں 1500 لوگوں کی ہلاکت اور درجنوں افراد کااغواہوگیا۔یہی وہ نکتہ ہے جس پر نیتن یاہو کے خلاف اب سیکیورٹی بریچ (Security Breach) اور 'فرائض میں غفلت' کا سنگین ترین کیس بن رہا ہے۔تحقیقاتی اداروں کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو نے ملک کی سلامتی کو اپنی کرپشن چھپانے اور سیاسی مفاد کے لیے خطرے میں ڈالا۔قانونی ماہرین کے مطابق، اگر ان پر یہ جرم ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے جانتے بوجھتے دشمن کی مالی معاونت کی راہ ہموار کی تو انہیں عمر قید ہو سکتی ہے ، لیکن اگر یہ چھوڑ بھی دیں تو انہیں صرف کرپشن کیسز میں ہی 12 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو اب کسی بھی قیمت پر جنگ ختم نہیں ہونے دے رہے، اورجنگ بندی کے لیے امریکہ تک کی نہیں سن رہے ، کیونکہ جنگ ختم ہوتے ہی ان فائلوں کا حساب شروع ہو جائے گااور وہ وزارت اعظمیٰ کی کرسی کے بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونگے اور شاید ان کا سیاسی کیریئر ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے ۔
Urdu News Front