Information with Oshi. Ali.

Information with Oshi. Ali. Information, Politics,
Technology, History and Ethics.

کیا ایک لیڈر اپنی کرپشن چھپانے کے لیے پورے ملک کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتا ہے؟ کیا وہ اپنی کرسی بچانے کے لیے اپنے دشمنوں...
18/04/2026

کیا ایک لیڈر اپنی کرپشن چھپانے کے لیے پورے ملک کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتا ہے؟ کیا وہ اپنی کرسی بچانے کے لیے اپنے دشمنوں کو خود پال سکتا ہے؟ آسکرایوارڈیافتہ ڈائریکٹروفلم ساز الیکس گیبنی (Alex Gibney)کی ڈاکومنٹری 'The Bibi Files' نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بارے میں وہ ہوش ربا انکشافات کیے ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ڈاکومنٹری بتاتی ہے کہ کیسے 300ملین ڈالرکے کرپشن کیسز،ریاست کے ڈکلیئرڈ دشمن حماس کوفنڈنگ اور فرائض سے غفلت، سیکورٹی بریچ کے سنگین کیسوں کودبانے کیلئے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے جنگ کاہتھیاراستعمال کیا ،صرف اپنی گردن بچانے کیلئے پوری دنیا کو خوفناک جنگ میں دھکیل دیاجس نے ہزاروں معصوم جانیں لے لیں۔
"اس فلم کی سب سے بڑی طاقت وہ ایک ہزار گھنٹے کی پولیس تفتیش کی فوٹیج ہے جو پہلے کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی تھی۔ The Bibi Files میں آپ نیتن یاہو کو ایک طاقتور وزیرِ اعظم کے طور پر نہیں بلکہ ایک ملزم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تفتیش کے دوران جب ان سے کرپشن، کک بیکس اور مہنگے تحائف لینےکے بارے میں پوچھا جاتا ہے، تو وہ یا تو غصے میں آ جاتے ہیں یا 'مجھے یاد نہیں' کا سہارا لیتے ہیں۔ The Associated Pre کے مطابق، وہ ایک موقع پرتفتیش کاروں سے کہتے ہیں کہ وہ میزائل گننے میں مصروف ہیں، شراب کی بوتلیں گننے میں نہیں۔یہ تفتیشی ویڈیوز ثابت کرتی ہیں کہ قانون کا گھیرا ان کے گرد کس حدتک تنگ ہو چکا تھا۔"
اس دستاویزی فلم کادوسرا اور سب سے خوفناک نکتہ جس نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ نیتن یاہو نے خود اپنے دشمن (حماس) کو زندہ رکھنے کے لیے موساد کا استعمال کیا؟ڈاکومنٹری 'دی بی بی فائلز' کے مطابق، نیتن یاہو نے قطر کو اس بات پر راضی کیا تھا کہ وہ حماس کو ماہانہ 30 ملین ڈالرز (تقریباً 3 کروڑ ڈالرز) کی قسط ادا کرے۔ یہ رقم باقاعدہ سوٹ کیسوں میں بھر کر غزہ جاتی تھی۔لیکن کہانی میں موڑ تب آیا جب 2019 میں قطر نے یہ فنڈنگ روکنے کا فیصلہ کیا۔ قطر کا موقف تھا کہ یہ پیسہ انسانی ہمدردی کے بجائے فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔یہاں نیتن یاہو نے وہ قدم اٹھایا جو کسی بھی ملک کا سربراہ اپنے دشمن کے لیے نہیں اٹھاتا۔ انہوں نے موساد کے اس وقت کے سربراہ (Yossi Cohen) اور ایک اعلیٰ فوجی افسر کو خصوصی طور پر اپنے ذاتی دستخط شدہ خط کے ساتھ دوحہ، قطر بھیجا۔مشن کیا تھا؟ قطری حکام کو اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ حماس کی فنڈنگ دوبارہ شروع کریں۔نیتن یاہو کا اصرار تھا کہ اگر یہ رقم رکی تو حماس کمزور ہو جائے گی اور فلسطینی اتھارٹی (فتح) مضبوط ہو جائے گی، جو وہ کبھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ فنڈنگ 2012 سے شروع ہوئی اور 2018 کے بعد اس میں تیزی آئی اور سلسلہ 2023 تک چلا۔فلم کے مطابق نیتن یاہو کا فلسفہ تھا: 'اپنے دشمنوں کو قریب رکھو'۔ انہوں نے سوچا وہ حماس کو کنٹرول کر لیں گے، لیکن یہ آگ آخر کار خود ان کے ملک تک پہنچ گئی۔"سوال یہ ہے کہ نیتن یاہو ایسا کیوں کر رہے تھے؟ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطینیوں کو دو حصوں میں بانٹ کر رکھنا چاہتے تھے تاکہ 'آزاد فلسطینی ریاست' کا مطالبہ ختم ہو جائے، چاہے اس کے لیے حماس کو مضبوط ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔لیکن یہی چالاکی اس وقت نیتن یاہو کے گلے پڑگئی جب7 اکتوبر کے حماس کےحملے اور اس میں 1500 لوگوں کی ہلاکت اور درجنوں افراد کااغواہوگیا۔یہی وہ نکتہ ہے جس پر نیتن یاہو کے خلاف اب سیکیورٹی بریچ (Security Breach) اور 'فرائض میں غفلت' کا سنگین ترین کیس بن رہا ہے۔تحقیقاتی اداروں کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو نے ملک کی سلامتی کو اپنی کرپشن چھپانے اور سیاسی مفاد کے لیے خطرے میں ڈالا۔قانونی ماہرین کے مطابق، اگر ان پر یہ جرم ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے جانتے بوجھتے دشمن کی مالی معاونت کی راہ ہموار کی تو انہیں عمر قید ہو سکتی ہے ، لیکن اگر یہ چھوڑ بھی دیں تو انہیں صرف کرپشن کیسز میں ہی 12 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو اب کسی بھی قیمت پر جنگ ختم نہیں ہونے دے رہے، اورجنگ بندی کے لیے امریکہ تک کی نہیں سن رہے ، کیونکہ جنگ ختم ہوتے ہی ان فائلوں کا حساب شروع ہو جائے گااور وہ وزارت اعظمیٰ کی کرسی کے بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونگے اور شاید ان کا سیاسی کیریئر ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے ۔
Urdu News Front

پاکستان کا جگرا دیکھو! آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنگی وردی میں تہران میں اترے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ن...
16/04/2026

پاکستان کا جگرا دیکھو!

آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنگی وردی میں تہران میں اترے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہوائی اڈے پر استقبال کیا. اس خبر میں وہ سب کچھ ہے جو سفارتکاری کی نصابی کتابوں میں نہیں ملتا۔

ایک فوجی سربراہ، دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا۔ ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوا ہے جس پر بیک وقت دو ایٹمی طاقتیں حملہ آور ہیں۔ جس کا رہبر اعلیٰ مارا جا چکا ہے۔ جس کے فوجی سربراہ مارے جا چکے ہیں۔ جس کا نیا رہبر زخمی ہے اور زیر زمین ہے۔ جس کی فضائی حدود میں امریکی اور اسرائیلی طیارے گشت کرتے ہیں۔ اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل کیموفلاج وردی میں اترا ہے۔

تاریخ میں ایسا کب ہوا ہے؟

1943 میں ونسٹن چرچل جنگ کے عین دوران ماسکو گیا تھا۔ جرمن فضائیہ مشرقی محاذ پر بم گرا رہی تھی۔ سوویت یونین لڑ رہی تھی۔ چرچل نے خطرہ مول لیا کیونکہ پیغام ذاتی طور پر پہنچانا تھا: "ہم تمھارے ساتھ ہیں۔" وہ طیارے میں مصر سے ماسکو گیا۔ راستے میں جرمن لڑاکا طیاروں کا خطرہ تھا۔ مگر گیا۔ کیونکہ سٹالن کو بتانا تھا: "دوسرا محاذ کھولیں گے۔" اعتماد سازی کے لیے جسمانی موجودگی ضروری تھی۔ فون سے نہیں ہوتی تھی۔ خط سے نہیں ہوتی تھی۔ صرف آمنے سامنے بیٹھ کر ہوتی تھی۔

2018 میں جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان پیدل چل کر شمالی کوریا کی سرحد عبور کر گئے تھے۔ دنیا کی سب سے بھاری مسلح سرحد۔ دونوں ممالک تکنیکی طور پر جنگ میں ہیں۔ مون نے کم جونگ ان کا ہاتھ پکڑا اور سرحدی لکیر عبور کی۔ وہ تصویر تاریخ بن گئی۔ ٹرمپ سنگاپور سمٹ اسی تصویر کے بعد ممکن ہوا۔

آج عاصم منیر نے وہی کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایران پر حقیقی جنگ ہو رہی ہے۔ فرضی نہیں۔ تکنیکی نہیں۔ حقیقی بم گر رہے ہیں۔ حقیقی لوگ مر رہے ہیں۔ ایرانی فضائی حدود امریکی اور اسرائیلی نشانے پر ہے۔ اور اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل داخل ہوا ہے۔ دورہ براڈکاسٹ ہوا ہے، تصویریں اتری ہیں اور یہ سب واضح پیغام ہیں.

سفارتکاری میں اعتماد سازی کئی سطحوں پر ہوتی ہے۔ سب سے نچلی سطح: پیغام بھیجنا۔ فون کرنا۔ خط لکھنا۔ درمیانی سطح: سفیر بھیجنا۔ وزیر خارجہ بھیجنا۔ بلند ترین سطح: خود جانا۔ اور سب سے بلند ترین سطح: خطرے میں خود جانا۔ جب آپ دشمن کی فائرنگ رینج میں داخل ہو کر دوست سے ملیں تو آپ اعتماد نہیں بنا رہے، آپ اعتماد بن جاتے ہیں۔

منیر جنگی وردی میں تہران اترے ہیں۔ یہ وردی اتفاقی نہیں ہے۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ایرانیوں کا استقبال بھی جنگی وردی میں کیا تھا اور 12 اپریل کو وینس سے ملاقات سول سوٹ میں کی تھی۔ وردی کا انتخاب شعوری ہے.

ایران کی قیادت زیر زمین ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے سامنے نہیں آ سکتے. اس ماحول میں ایرانی قیادت کے لیے کسی سے ملنا خود میں خطرہ ہے۔ ہر ملاقات ممکنہ لیک ہے۔ ہر لیک ممکنہ ہدف بنانے کا ذریعہ ہے۔مگر منیر آیا ہے۔ اور اس کے آنے کا مطلب ہے: "جب تک میں آپ کی سرزمین پر ہوں، آپ محفوظ ہیں۔ کوئی اسرائیلی یا امریکی حملہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ اگر حملہ ہوا تو پاکستان کا فیلڈ مارشل بھی نشانے پر ہو گا۔ اور دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کے فوجی سربراہ کو نشانہ بنانا وہ سرخ لکیر ہے جو کوئی عبور نہیں کرے گا۔"

یہ انسانی ڈھال نہیں ہے۔ یہ اسٹریٹیجک ڈھال ہے۔ منیر کی تہران میں موجودگی ایران کو وہ سیکورٹی بلینکٹ فراہم کرتی ہے جو کوئی قرارداد، کوئی بیان، کوئی فون کال فراہم نہیں کر سکتی۔ ایرانی قیادت اپنی خفیہ کمین گاہوں سے باہر نکل کر منیر سے مل سکتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ جب تک پاکستانی فیلڈ مارشل ایرانی سرزمین پر ہے، کوئی میزائل نہیں آئے گا۔

بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق کسی ملک کا فوجی سربراہ کسی ایسے ملک کا دورہ نہیں کرتا جو فعال جنگ میں ہو۔ وجوہات واضح ہیں: سیکورٹی خطرہ، غیرجانبداری پر سوال، اور حملہ آور فریق کو اشتعال۔ مگر منیر نے یہ سب پروٹوکول توڑ دیے ہیں۔ کیونکہ پروٹوکول عام حالات کے لیے ہوتے ہیں اور یہ عام حالات نہیں ہیں۔

منیر تہران میں وہ کام کر رہا ہے جو فون سے نہیں ہو سکتا: ایرانی قیادت سے آمنے سامنے بیٹھ کر، ان کی آنکھوں میں دیکھ کر، ان کے خدشات سن کر، ان کی سرخ لکیریں سمجھ کر، اور پھر واپس جا کر ٹرمپ کو بتانا کہ ایران کہاں تک آ سکتا ہے اور کہاں نہیں آئے گا۔ یہ وہ کام ہے جو ثالث خود کرتا ہے۔ قاصد نہیں بھیجتا۔ خود جاتا ہے۔

سفارتکاری میں ایک اصول ہے جو نصابی کتابوں میں نہیں لکھا مگر ہر تجربہ کار سفارت کار جانتا ہے: "جب آپ ثالث ہوں اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر دو آپس میں دشمنوں میں سے کسی ایک دشمن کے گھر جائیں تو آپ ثالث نہیں رہتے، آپ ضامن بن جاتے ہیں۔"

پاکستان، جو کچھ کرکے دکھا رہا ہے، اس سب کے لیے بڑا جگرا چاہیے. منیر آج ضامن بن گیا ہے۔ پاکستان ضامن بن گیا ہے۔ اسلام آباد پراسیس ضامن بن گیا ہے اور انشاء اللہ یہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اچھی خبر ہے. اب اللہ کرے، یہ اسلام آباد اکارڈ باقاعدہ ایک معاہدے کی شکل اختیار کرے اور اس کے ثمرات پاکستانی عوام تک پہنچ سکیں.

ماشاءاللہ اللہ تعالی نظر بد سے بچائے اللہ تعالی پاکستان کی اور جنرل عاصم منیر کی حفاظت کریں میری دعا ہے اللہ تعالی اپنے فرشتوں سے عاصم منیر کی حفاظت فرمائے

🫶🫶🫶🫶🫶🫶

Pakistan 🇵🇰 Zindabad
Pakistan 🇵🇰 Army Zindabad
Pakistan 🇵🇰 People Zindabad

Page Follow Like Share Tag Comment
DG ISPR

🚨 𝐁𝐑𝐄𝐀𝐊𝐈𝐍𝐆 🙆🙆Trump is reportedly preparing to deploy nearly 12,000 U.S. troops to Iran.This operation is reportedly fund...
29/03/2026

🚨 𝐁𝐑𝐄𝐀𝐊𝐈𝐍𝐆 🙆🙆

Trump is reportedly preparing to deploy nearly 12,000 U.S. troops to Iran.

This operation is reportedly funded by Saudi Arabia, the UAE, Qatar, and Kuwait.

Iran, however, has a much larger military force: around 650,000 active soldiers, 250,000 paramilitary troops, and a total of 2 million personnel including reserves.

Any ground operation involving the U.S., Israel, and Gulf allies would face enormous challenges.

Experts warn that such a mission would be extremely risky—essentially a su***de mission.

غاصبوں کی ایک اور تاریخی ہار:۔ ٹرمپ 'فتح' کا جشن مناتا رہا، اور پوٹن نے خاموشی سے ڈالر کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونک دی...
29/03/2026

غاصبوں کی ایک اور تاریخی ہار:۔
ٹرمپ 'فتح' کا جشن مناتا رہا، اور پوٹن نے خاموشی سے ڈالر کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونک دی!
ایک طرف صدر ٹرمپ دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر دعویٰ کر رہا ہے کہ "ہم یہ جنگ جیت چکے ہیں" ... عین اسی وقت، دنیا کے دوسرے کونے میں روسی صدر پوٹن نے ایک ایسے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں جس نے غاصبوں کے عالمی مالیاتی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
پوٹن نے یکم مئی سے 100 گرام سے بڑے 'ریفائنڈ گولڈ بارز' (Refined Gold Bars) کی ایکسپورٹ پر مکمل پابندی لگا دی ہے! دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک (روس) اپنی سالانہ 310 ٹن سونے کی پیداوار کو اپنی ہی سرحدوں کے اندر 'لاک' کر چکا ہے۔ ٹریڈنگ فلورز پر بیٹھے لوگ اس خبر پر نہیں چونکے، حالانکہ انہیں چونکنا چاہیے تھا!
آئیے اس خاموش معاشی ایٹم بم اور مظلوموں کی جنگ کے اس حیران کن گٹھ جوڑ کا ڈیپ انالیسس کرتے ہیں جس نے ڈالر کا کھیل ختم کر دیا ہے:

رشین سینٹرل بینک کا ماسٹر سٹروک:
روس کی یہ پابندی عام شہریوں اور کمپنیوں کے لیے ہے تاکہ سرمایہ ملک سے باہر نہ جا سکے، البتہ کمرشل بینکوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔ ظاہری وجہ 'بلیک اکانومی' کو روکنا بتائی گئی ہے، لیکن اس کی ٹائمنگ پوری کہانی کھول رہی ہے۔

● پہلے مہنگا بیچا، پھر دروازہ بند کر دیا: رشین سینٹرل بینک نے جنوری اور فروری میں 2002 کے بعد سب سے بڑی سیلنگ کی اور 15 میٹرک ٹن سونا اپنی بلند ترین قیمت پر بیچ کر 1.68 ارب ڈالر کمائے۔

● ریاست نے خود مہنگا سونا بیچا، اور پھر قانون بنا کر سب کے لیے دروازہ بند کر دیا! آج روس کے پاس 74.3 ملین اونس سونا باقی ہے جس کی مالیت 384 ارب ڈالر ہے، اور یہ ان کے کل زرمبادلہ کے ذخائر کا 47 فیصد ہے۔
جس دنیا میں مغربی غاصبوں نے روس کے 300 ارب ڈالر فریز کر رکھے ہیں، وہاں اب یہ سونا ہی روس کا سب سے بڑا اور محفوظ خودمختار اثاثہ (Sovereign Asset) بن چکا ہے۔

برکس کرنسی اور نیا عالمی نظام:
اب اس پابندی کو اکتوبر 2025 میں لانچ ہونے والی نئی برکس کرنسی (BRICS Unit) سے جوڑیں۔
یہ نئی کرنسی ہوا میں نہیں چلتی؛ اسے 40 فیصد فزیکل گولڈ اور 60 فیصد برکس ممالک کی کرنسیوں کی بیکنگ حاصل ہے۔ اس سسٹم کو چلانے کے لیے ممبر ممالک میں سونے کی تجوریاں بنائی جا رہی ہیں۔
روس کا اپنی 310 ٹن سالانہ پیداوار کو ملک میں روکنے کا سیدھا سا مطلب ہے کہ: سونا ملک سے باہر نہیں جائے گا ➔ یہ سونا 'کولیٹرل' (Collateral/ضمانت) بنے گا ➔ یہ کولیٹرل تجارتی سیٹلمنٹ (Settlement) بنے گا ➔ اور یہ سیٹلمنٹ امریکی ڈالر کی جگہ لے گا!

ہرمز سے ماسکو تک: 'ڈی-ڈالرائزیشن' کا سرکٹ!
اب ذرا اس عالمی سرکٹ کو سمجھیں جو غاصبوں کے ہوش اڑا رہا ہے۔ ان دو 'چوک پوائنٹس' کو آپس میں جوڑیں:

1. ایران کا وار: ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے انرجی کا ایسا بحران پیدا کیا جس نے تیل کو نان-ڈالر (Non-dollar) چینلز کی طرف دھکیل دیا۔ ہرمز کے ٹول پلازہ پر ادائیگیاں چینی 'یوآن' اور کرپٹو میں ہو رہی ہیں۔

2. سرکٹ مکمل: ہرمز کا ٹول 'یوآن' میں وصول ہوتا ہے ➔ یوآن کا یہ سرپلس چینی مال خریدتا ہے ➔ اس سے جو تجارتی بچت (Residual) ہوتی ہے وہ سونے میں بدل دی جاتی ہے ➔ وہ سونا سرحدوں میں لاک ہو جاتا ہے ➔ وہ سونا برکس (BRICS Unit) کو بیک (Back) کرتا ہے ➔ اور یہ نیا سسٹم عالمی تجارت میں ڈالر کو دفن کر دیتا ہے!
اس پورے سرکٹ کے ہر ایک حصے (Node) کو اس جنگ نے تیز کر دیا ہے جسے مدہوش ٹرمپ اپنی 'فتح' کہہ رہا ہے!

غاصبوں کی ٹیکنالوجی مظلوموں کے محتاج!
امریکہ جن بموں سے ایران کے 9,000 ٹارگٹس پر حملہ کر رہا ہے، ان بموں کے اندر استعمال ہونے والے 'ریئر ارتھ میگنیٹس' چین سے آتے ہیں۔ وہ 200 ارب ڈالر کا جنگی بجٹ جو وہ ایران کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، وہ چینی معدنیات کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ اور چین کی کرنسی ہرمز میں چل رہی ہے، جبکہ اسے بیک کرنے والا سونا اس روس میں قید ہے جو چین کو سستی انرجی دے رہا ہے۔
یہ جنگ غاصبوں کے مالیاتی نظام کو بچا نہیں رہی... یہ نئے متبادل نظام کی تعمیر کو تیز کر رہی ہے!
پوتن نے یہ قانون صرف جنگ کی وجہ سے سائن نہیں کیا، بلکہ اس لیے کیا ہے کیونکہ ایران کی اس زبردست مزاحمت اور جنگ نے وہ کام کر دکھایا ہے جو صرف پابندیاں کبھی نہیں کر سکتی تھیں: یعنی ہوائی وعدوں پر چلنے والے ڈالر سے نکل کر، ٹھوس اثاثوں (سونے) پر مبنی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی! مالیکیولز (تیل/گیس) ہرمز میں قید ہیں۔ سونا روس میں قید ہے۔ اور امریکی ڈالر ایک ایسے نظام میں قید ہو کر رہ گیا ہے جسے یہ دونوں چوک پوائنٹس مل کر ختم کرنے جا رہے ہیں۔
آپ کے خیال میں جب برکس ممالک کا یہ سونے پر مبنی تجارتی نظام پوری طرح فعال ہو جائے گا، تو کیا غریب اور ترقی پذیر ممالک (جیسے پاکستان) بھی آئی ایم ایف اور ڈالر کی غلامی چھوڑ کر اس نئے اور منصفانہ نظام کا حصہ بننے کی ہمت کر پائیں گے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کرنسی پر دستخط کر کے ایک نئی روایت قائم کر دی ہے، جس کے بعد وہ ڈالر پر دستخط کرنے والے ا...
27/03/2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کرنسی پر دستخط کر کے ایک نئی روایت قائم کر دی ہے، جس کے بعد وہ ڈالر پر دستخط کرنے والے امریکہ کے پہلے صدر بن گئے ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق جون سے امریکی کرنسی کے ہر نوٹ پر صدر ٹرمپ کے دستخط دیکھنے کو ملیں گے، جس سے ڈالر کی ظاہری شکل میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کرنسی کو ایک منفرد شناخت دینا اور اسے مزید نمایاں بنانا ہے، جبکہ اس فیصلے کو تاریخی حیثیت بھی حاصل ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف امریکی کرنسی کو دیگر ممالک کی کرنسیوں سے ممتاز کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی علامتی اہمیت میں اضافہ کرے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی کرنسی پر وزیر خزانہ کے دستخط ہوتے تھے، تاہم اب پہلی بار صدر کے دستخط شامل کیے جا رہے ہیں، جسے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Disclaimer: This report is based on information from news agencies and official statements. Details regarding the issuance of currency and signatures are subject to confirmation and may be updated as more information becomes available.

دنیا کے فیصلے پاکستان کے ہاں اور ناں میں ہوں گے مگر پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ تب مکمل ہوگا جب امریکہ ہاں کرے گا ...
27/03/2026

دنیا کے فیصلے پاکستان کے ہاں اور ناں میں ہوں گے مگر پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ تب مکمل ہوگا جب امریکہ ہاں کرے گا ۔
ٹیکنالوجیا ۔

بحرِ قزوین میں اسرائیل کے مبینہ حملے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جس کا مقصد ایران کو روسی اسلحہ کی ترسیل روکنا بتایا جا رہ...
26/03/2026

بحرِ قزوین میں اسرائیل کے مبینہ حملے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جس کا مقصد ایران کو روسی اسلحہ کی ترسیل روکنا بتایا جا رہا ہے۔
خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے اور ایسے اقدامات مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔

جغرافیائی لحاظ سے بحرِ قزوین ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہے۔

امن ہی خطے اور دنیا کے لیے بہتر راستہ ہے۔

ايٽمي سينٽرن تي حملو عالمي جنگ جو کڙڪو يا نئين طاقت جو اڀار؟​مشرق وسطيٰ هن وقت هڪ اهڙي باهه جي لپيٽ ۾ آهي، جنهن جا شعاع ...
23/03/2026

ايٽمي سينٽرن تي حملو
عالمي جنگ جو کڙڪو يا نئين طاقت جو اڀار؟
​مشرق وسطيٰ هن وقت هڪ اهڙي باهه جي لپيٽ ۾ آهي
، جنهن جا شعاع سڄي دنيا کي پنهنجي گهيري ۾ آڻي سگهن ٿا, نطنز ايٽمي پلانٽ تي اسرائيلي
ايف 35
جهازن جي حملي کانپوءِ ايران جو جواب رڳو دفاعي نه، پر انتهائي جارحاڻو ۽ حيران ڪندڙ رهيو آهي.
ايران پاران اسرائيل جي حساس ترين ايٽمي مرڪز ڊيمونا
(Dimona)
تي ڪيل سڌي ميزائل حملي دنيا جي وڏين طاقتن جي ساهه مٺ ۾ ڪري ڇڏيا آهن
​جديد "ريڍارن" جي ناڪامي؟
آمريڪا ۽ اسرائيل جو اهو غرور ته سندن فضائي دفاعي نظام
(Air Defense System)
ناقابلِ شڪست آهي،
ڊيمونا ۽ اراد جي آسمان تي ميزائلن جي گونج ۾ دفن ٿي ويو. برطانيه جي هندي وڏي سمنڊ ۾ موجود اڏي ڊيگو گارسيا
(Diego Garcia)
تائين ميزائلن جي پهچ اهو ثابت ڪري ڇڏيو آهي ته ايران جي "لانگ رينج" ٽيڪنالاجي هاڻي رڳو ڪاغذ تائين محدود ناهي رهي
​ميڊيا جي خاموشي ۽ حقيقت جو اعتراف
شروعات ۾ عالمي ميڊيا ۽ اسرائيلي حڪومت پاران ڊيمونا تي حملي جي خبرن کي لڪائڻ جي پوري ڪوشش ڪئي وئي. پروپيگنڊا ذريعي اها تاثر ڏيڻ جي ڪوشش ڪئي وئي ته "سڀ خير آهي"، پر جڏهن ميزائل سڌو وڃي نشانن تي لڳا ۽ نقصان جا وڊيوز سامهون آيا، تڏهن اسرائيل کي مجبوريءَ ۾ ايراني حملي جو اعتراف ڪرڻو پيو
​ڇا اسرائيل "ڇتو" ٿي پيو آهي؟
هاڻي صورتحال انتهائي خطرناڪ موڙ تي آهي. اسرائيلي وزيراعظم نتنياهو جا بيان ظاهر ڪن ٿا ته هو "زخمي شينهن" وانگر ڇتو ٿي پيو آهي ۽ ايران تي ڪنهن وڏي حملي جي تياري ڪري رهيو آهي
جيڪڏهن ائين ٿيو ته هي رڳو ٻن ملڪن جي جنگ نه رهندي، پر عالمي تيل جي مارڪيٽ، توانائي جي بحران ۽ عالمي معيشت کي وڏو ڌچڪو لڳندو
​سوال هي آهي ته
ڇا آمريڪا ۽ ان جا اتحادي ايران جي هن نئين ميزائل پاور کي منهن ڏيئي سگهندا؟ يا هي خطو هڪ اهڙي تباهي ڏانهن وڌي رهيو آهي، جنهن کانپوءِ دنيا جو نقشو ئي بدلجي ويندو؟
​توهان جو هن صورتحال بابت ڇا خيال آهي؟ ڪمينٽس ۾ پنهنجي راءِ ضرور ڏيندا

(ڪمائڻ جا 15 بي رحم سچ — جيڪڏهن هضم ٿي ويا ته زندگي بدلجي ويندي۔)​پئسو دعائن سان نه، پر ڊيزائن (منصوبي بندي) سان ايندو آ...
22/03/2026

(ڪمائڻ جا 15 بي رحم سچ — جيڪڏهن هضم ٿي ويا ته زندگي بدلجي ويندي۔)

​پئسو دعائن سان نه، پر ڊيزائن (منصوبي بندي) سان ايندو آهي. دنيا توهان کي ان ڪري پئسا نه ڏيندي جو توهان ٿڪجي پيا آهيو... پر ان ڪري ڏيندي آهي ته توهان ان لاءِ ڪيتري "ويلييو" (قدر) پيدا ڪئي آهي. جيڪڏهن واقعي ڪمائڻ چاهيو ٿا ته جذبات نه، اهي اصول سمجهو:
​1. محنت نه، ويلييو وڪامي ٿي
​دنيا کي توهان جي ٿڪ سان ڪا به همدردي ناهي. مزدور به تمام گهڻي محنت ڪري ٿو، پر امير نٿو بڻجي. پئسو اتي ويندو آهي جتي ڪمي هجي... جتي نايابي هجي، اتي ئي قيمت جڙندي آهي.
​2. وقت وڪڻندؤ ته قيد ۾ رهندؤ
​پگهار هڪ سهڻي جيل آهي. اصل راند تڏهن شروع ٿيندي آهي جڏهن توهان جو سسٽم توهان جي غير موجودگي ۾ به ڪمائي ڏي.
​3. گمنام رهي ڪير به نٿو کٽي
​جيڪڏهن ماڻهو توهان کي نٿا سڃاڻن، ته اهي توهان کان ڪجهه به نه خريد ڪندا. آواز اٿاريو، پاڻ کي ظاهر ڪريو... ڇو ته جيڪو نظر اچي ٿو، اهو ئي وڪامي ٿو.
​4. سور (درد) سڀ کان وڏو بزنس آهي
​ماڻهو خوشي خريد ڪرڻ وقت سوچيندا آهن، پر درد کان بچڻ لاءِ سڀ ڪجهه ڏئي ڇڏيندا آهن. درد ڳوليو، ان جو حل وڪڻو... پئسو پاڻمرادو ايندو.
​5. هڪ آمدني = هڪ خطرو
​جيڪڏهن هڪڙو دروازو بند ٿيو ته راند ختم. گهٽ ۾ گهٽ ٽي رستا رکو، ته جيئن هڪ سڪي وڃي ته ٻيو وهندو رهي.
​6. شرم ۽ پئسو گڏ نٿا رهي سگهن
​وڪڻڻ ۾ شرم؟ پئسا گهرڻ ۾ هٻڪ؟ ته پوءِ غربت جو چونڊ توهان پاڻ ڪيو آهي.
​7. ڊگري نه، هنر ڪمائي ڏيندو آهي
​ڪاغذ (ڊگريون) هر ڪنهن وٽ آهن، پر اصل طاقت اهو هنر آهي جيڪو هر ڪنهن وٽ ناهي.
​8. پئسو تکو هلندڙ ماڻهن کي پسند ڪندو آهي
​سست ماڻهوءَ جا آئيڊيا ٻين جا بزنس بڻجي ويندا آهن. "پرفيڪٽ" ٿيڻ جو انتظار نه ڪريو، بس شروع ڪريو، سکو ۽ اڳتي وڌو.
​9. آئيڊيا نه، عمل بادشاهه آهي
​سوچ سڀني وٽ هوندي آهي، پر همت ڪجهه ماڻهن وٽ هوندي آهي... ۽ پئسو انهن ڏانهن ئي ويندو آهي.
​10. پئسو ماڻهن جي کيسن ۾ آهي
​توهان جو ڪم آهي ان کي اتان ٻاهر ڪڍڻ، عزت سان ۽ ويلييو ڏئي. ماڻهن کي قائل ڪرڻ سکو، اهو ئي اصل هنر آهي.
​11. بچت نه، آمدني وڌايو
​چانهه ڇڏڻ سان ڪير امير ناهي بڻجندو. اصل راند وڌيڪ ڪمائڻ آهي، نه ڪي گهٽ خرچ ڪرڻ.
​12. مفت ڪم = پنهنجي توهين
​جيڪڏهن توهان کي پنهنجي قدر (Value) جي خبر ناهي، ته دنيا به توهان کي مفت ۾ ئي استعمال ڪندي.
​13. اڪيلو ماڻهو امير نٿو بڻجي سگهي
​وڏي ڪمائيءَ لاءِ ليوريج (Leverage) کپي — پوءِ اهي ماڻهو هجن، پئسو هجي يا ٽيڪنالاجي. ورنه توهان سڄي عمر صرف پاڻ کي وڪڻندا رهندؤ.
​14. مسئلا = موقعا
​جتي ماڻهو شڪايتون ڪندا آهن، اتي ئي پئسو پيل هوندو آهي. نظر بدلايو، قسمت بدلجي ويندي.
​15. نيٽ ورڪ ئي اصل دولت آهي
​توهان اهي ئي بڻجو ٿا جن سان توهان ويهو ٿا. صحيح ماڻهن سان ويهو، ذهن پاڻمرادو وڏو سوچيندو۔

Oshi Ali.

JUST INIran has arrested a top Israeli spy who was working inside the country. Authorities say this person was one of th...
21/03/2026

JUST IN

Iran has arrested a top Israeli spy who was working inside the country. Authorities say this person was one of the most important spies for Israel operating in Iran.

ھاڻي دنيا خاموش رھندي جڏھن آمريڪا پنھنجي اصل ٽارگيٽ تي ايندو . پاڪستان ڇا ڪندو آمريڪا کي اگر ھو افغانستان ، ايران ۽ انڊي...
21/03/2026

ھاڻي دنيا خاموش رھندي جڏھن آمريڪا پنھنجي اصل ٽارگيٽ تي ايندو . پاڪستان ڇا ڪندو آمريڪا کي اگر ھو افغانستان ، ايران ۽ انڊيا جا اڏا استعمال ڪري اسان تي حملو ڪندو ، اسان جي فوج آمريڪا سان وڙھي سگھندي، يا الله پاڪ معاف ڪري اگر آمريڪا اسان ملٽري ۽ سيول ٽاپ ليڊرشپ کي ماري ت پوءِ اسان survive ڪري وينداسين . يا الله پاڪ آمريڪا جي شر کان بچاء. ايٽم بم ڪنھن تي کڻنداسين آخر جنگ ت آمريڪا جي ھوندي شروع ايران ۽ افغانستان مان ڪندو . ياد رھي ت چين ۽ روس يا ٻيا ملڪ ڪڏھن ب وچ ۾ ن ايندا .

مشہور حدیث ہے کہ دریائے فرات میں سونے کا پہاڑ ظاہر ہو گا جسے حاصل کرنے کیلئے شدید جنگ ہو گی اور اس میں لڑنے والے ہر 100 ...
18/03/2026

مشہور حدیث ہے کہ دریائے فرات میں سونے کا پہاڑ ظاہر ہو گا جسے حاصل کرنے کیلئے شدید جنگ ہو گی اور اس میں لڑنے والے ہر 100 میں سے 99 سپاہی ہلاک ہو جائیں گے یعنی اشارہ کسی بڑی جنگ کی طرف ہے کسی عالمی جنگ کی طرف جس میں بڑی طاقتیں اور ان کے اتحادی شریک ہوں گے

اکثر علمائے کرام نے سونے کے پہاڑ سے مراد تیل کو لیا ہے چنانچہ ابھی موجودہ ایران جنگ اور خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی بندش پر غور کریں تو لگتا ہے ہم عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں اور یہ scenario وہی ہے جو اارئل کو سوٹ کرتا ہے

ارائل کی خواہش ھے بڑی عالمی طاقتیں نیوکلئیر وار لڑیں بہت بڑی تباہی ہو کیونکہ جتنی مرضی شدید جنگ ہو کبھی بھی 100 میں سے 99 فیصد سپاہی نہیں مرتے اس لئے ممکنہ طور پر نیوکلئیر جنگ ہو گی اور جب یہ جنگ ختم ہو تو اارئل واحد طاقت بن کر ابھرے اور یہی وہ لمحہ ہو گا جب دجال منظر عام پر آئے گا کیونکہ جب تک پورا سیٹ اپ مکمل نہیں ہوتا وہ سامنے نہیں آئے گا۔

Address

Karachi, Sindh
Karachi
021

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Information with Oshi. Ali. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category