Misbah Uddin Sheikh

Misbah Uddin Sheikh Remember Me

**کہانی: پاکستان چوک — تاریخ، کاروبار اور بدلتے حالات**تحریر: مصباح الدین شیخ ۔کراچی کے دل میں واقع **پاکستان چوک** صرف ...
02/05/2026

**کہانی: پاکستان چوک — تاریخ، کاروبار اور بدلتے حالات**

تحریر: مصباح الدین شیخ ۔

کراچی کے دل میں واقع **پاکستان چوک** صرف ایک چوراہا نہیں بلکہ ایک پوری تاریخ ہے۔
یہ وہ علاقہ ہے جس نے برصغیر کی تقسیم، قیامِ پاکستان، اور کراچی کے ابتدائی تجارتی دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد جب کراچی نئے ملک کا دارالحکومت بنا، تو پاکستان چوک شہر کے پہلے بڑے کمرشل مراکز میں شمار ہونے لگا۔ یہاں پرانی طرزِ تعمیر والی عمارتیں، بلند کھڑکیاں، لوہے کی بالکونیاں، اور تنگ مگر مصروف سڑکیں شہر کے ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔

وقت کے ساتھ یہ علاقہ پاکستان کی سب سے بڑی **پرنٹنگ مارکیٹ** بن گیا۔

صبح ہوتے ہی یہاں زندگی دوڑنے لگتی ہے۔
پرنٹنگ پریس کی مشینوں کی مسلسل آواز، کاغذ کے بنڈل اٹھاتے مزدور، ڈیزائنرز کی جلد بازی، گاہکوں کی بھیڑ، اور ہر دکان پر کام کی الگ رفتار۔

کوئی کتابیں چھپوا رہا ہوتا ہے، کوئی شادی کارڈ، کوئی فلیکس، کوئی کارپوریٹ بروشر، تو کوئی اپنی نئی برانڈنگ کا آرڈر دینے آیا ہوتا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا علاقہ مسلسل حرکت میں ہو۔

مگر اس کاروباری مرکز کی چمک کے پیچھے مسائل کی ایک لمبی فہرست بھی موجود ہے۔

سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں۔
بارش کے بعد گڑھوں میں پانی کئی کئی دن کھڑا رہتا ہے۔

پانی کی لائنوں کے مسائل الگ ہیں۔ کہیں سپلائی متاثر ہوتی ہے تو کہیں لیکیج کے باعث سڑک مزید خراب ہو جاتی ہے۔

گیس کی شکایات بھی عام ہیں۔
قریب کے رہائشی اور کاروباری افراد اکثر کم پریشر یا طویل لوڈشیڈنگ کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شام کے بعد جب دکانیں بند ہونا شروع ہوتی ہیں، پاکستان چوک کا منظر بھی بدلنے لگتا ہے۔

دن کے شور کی جگہ خاموشی لے لیتی ہے۔

اسی خاموشی میں خوف بھی شامل ہو جاتا ہے۔

رات کے وقت یہاں اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
موبائل چھیننا، موٹر سائیکل اسنیچنگ، اور راہ چلتے افراد سے نقدی لوٹنا معمول بنتا جا رہا ہے۔

کئی دکانوں کے باہر CCTV کیمرے لگے ہیں، مگر اکثر وارداتوں کے بعد صرف فوٹیج باقی رہ جاتی ہے۔

چند ماہ پہلے ایک پرنٹنگ پریس میں کام کرنے والا نوجوان رات گئے اپنا کام ختم کرکے نکلا۔
ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ اور جیب میں دن بھر کی محنت کی رقم۔

چند قدم ہی چلا تھا کہ دو موٹر سائیکل سوار اس کے سامنے رکے۔

"فون اور بیگ دو۔"

اس نے مزاحمت نہیں کی۔

چند سیکنڈ بعد وہ خالی ہاتھ کھڑا تھا، اور ملزمان اندھیرے میں غائب ہو چکے تھے۔

اگلے دن ویڈیو ہر دکان میں چل رہی تھی۔

لوگ چند لمحے دیکھتے، سر ہلاتے، اور دوبارہ اپنے کام میں لگ جاتے۔

شاید اس لیے کہ یہ واقعہ اب غیر معمولی نہیں رہا۔

پاکستان چوک آج بھی کراچی کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔
یہاں تاریخ بھی زندہ ہے، کاروبار بھی زندہ ہے، مگر مسائل بھی ساتھ ساتھ موجود ہیں۔

پرانی عمارتیں اب بھی کھڑی ہیں، مشینیں اب بھی چلتی ہیں، آرڈرز اب بھی بنتے ہیں۔

لیکن سوال وہی ہے:

کیا پاکستان چوک صرف ماضی کی شان پر زندہ رہے گا، یا کبھی اسے موجودہ مسائل سے بھی نجات ملے گی؟
مصباح الدین شیخ

آصف زرداری نے صدر پاکستان ہونے کے باوجود مشکل وقت میں ذاتی فائدے کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوششیں ک...
23/04/2026

آصف زرداری نے صدر پاکستان ہونے کے باوجود مشکل وقت میں ذاتی فائدے کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوششیں کی جس کا علم ریاست کو ہوگیا ،اسکے بعد انھیں انکے کرتوت کے تمام ثبوت دیکھا کر اہم ملکی معاملات سے دور کردیا گیا ،
حال ہی میں ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے دوران جب ایران نے اپنا دفاع کرتے ہوئے خلیج میں موجود امریکی اثاثوں کو ہدف بنانا شروع کیا تو اس میں دبئی کو بھی لپیٹ میں لیا ۔
دبئی میں موجود کاروباری مراکز اور پلازہ کو ہدف بنایا ، ہدف بن نے والے کئی پلازے اور عمارتیں ایسی تھیں جس میں زرداری خاندان کا پاکستان سے لوٹا ہوا پیسہ لگا ہوا تھا ، زرداری خاندان کو بل آخر اپنے مال کو بچانے کے لیے میدان میں آنا پڑا ، ایک طرف بختاور بھٹو نے ٹوئٹر پر دبئی پر ایرانی جوابی کارروائیوں کی بھرپور مذمت کرنا شروع کردی اور امریکا وغیرہ سے حفاظت کی اپیلیں کردیں ،
جبکہ دوسری جانب آصف زرداری نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے دبئی حکومت سے کہا کہ آپ پاکستان سے اپنا قرضہ واپس مانگ لیں تاکہ پاکستان دباؤ میں آ کر ایران پر دباؤ ڈالے اور ایران کو روکے ، بحر حال ریاست نے زرداری کے اس گندے اقدام کو سمجھ لیا اور مشکل فیصلہ جو کہ پیٹرول اور دیگر قیمتوں میں اضافہ تھا کر کہ اور کچھ قرضہ دوست ممالک سے جمع کر کے دبئی کو واپس کردیا
اس تمام تناظر میں ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ جو پیسہ دبئی نے پاکستان کو دے رکھا تھا وہ سب پاکستان کا ہی پیسہ ہے جو زرداری خاندان نے پاکستان سے لوٹا ہے اور دوبارہ دبئی حکومت کے ذریعے پاکستان منتقل کردیا تھا
اسکے بدلے میں زرداری نے دبئی کو یہ یقین دھانی کروائی تھی کہ آپ اس کام میں میرا ساتھ دیں اسکے بدلے میں ، میں کراچی کو تباہ حال شکل میں رکھ کر دبئی کو آگے لے جانے کا موقع آپکو فرہام کروں گا ، اور ڈیل ہوگئی تھی
جبکہ دوسری جانب زرداری وفاق میں اور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے خود کو وفاقی رہنما ثابت کرتے رہے جبکہ پیٹھ پیچھے سندھی قوم پرستوں کے ذریعے ریاست کو بلیک میل کرتے رہے ، زرداری نے وفاق کے سامنے چھے کینال منصوبے کی رضا مندی ظاہر کی اور دوسری جانب قوم پرستوں کو مال دے کر اس منصوبے کے خلاف میدان میں بھیج دیا ، یہ چال بھی ریاست نے ثبوت کے ساتھ بھانپ لی
اور ایسی تمام دیگر وجوہات کی بنا پر ریاست نے اب زرداری کو گھر بھیجنے کی تیاری کرلی ہے ، اس ہی کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو کا وزیر اعظم بن جانے کا خواب بھی ختم کردیا گیا ہے،
یہی تمام وجوہات ہیں کہ جنکے باعث زرداری خاندان کو منظر سے ہٹادیا گیا ہے اور بہت جلد سندھ بھر اور کراچی سے بھی انھیں روانہ کردیا جائے گا...😜

17/04/2026
17/04/2026

☺😊
*کالج اور یونیورسٹی تک دونوں کی محبت پروان چڑھتی رہی مگر پِھر رَستے جُدا ہو گئے* 😔

*کالج ری یونین کی تقریب میں اچانک دونوں مِلے۔*

*بات چیت میں پتہ چلا کہ خاتون 4 سال پہلے 65 سال کی عُمر میں بیوہ ہوئی تھیں۔*
*جب کہ موصوف خود بھی 70 سال کی عُمر میں 5 سال پہلے ہی رَنڈوے ہوئے تھے۔*

*موقع غنیمت جان کر صاحب نے پوچھا* :
*“ کیا آپ مجھ سے شادی کر سکتی ہیں ؟”*

*خاتون نے کچھ لمحے توقّف کے بعد ہاں کر دی۔*

*دو دِن گزر گئے ۔۔*
*تو صاحب کو خیال آیا کہ مَیں نے تقریب میں شادی کا پوچھا تھا-*
*پتہ نہیں ۔۔ خاتون نے ہاں کہا تھا یا ناں؟*

*کافی دیر تک یاد نہ آنے پر خاتون کو فون کیا اور شرماتے جِھجَھکتے ہوئے پوچھا* :

*” مَیں نے آپ کو شادی کا پروپوزل دیا تھا ۔۔ مگر اس عُمر میں یاداشت چلی گئی ہے اور کچھ یاد نہیں آ رہا کہ آپ نے ہاں کہا تھا یا ناں؟“*

*خاتون نے قہقہہ لگاتے ہوئے خوشی سے کہا* :
۔۔ *”ہاں ہاں ، 'ہاں' کہا تھا۔ ۔ ۔ اور یقین مانیے مَیں بھی دو دِن سے سوچ رہی ہوں کہ مجھے پروپوز کِس نے کیا تھا؟“*
🤔🧐
*بُڑھاپا بھی نِعمَت ہے*
*سَلامَت رہیں !!*

*تمام سینئر سیٹیژن اور پینشنرز کے نام*

13/04/2026

جب کوئی چیز مفت میں ملے تو سمجھ لیں کہ آپ کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔
نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے ایک بار کہا تھا کہ 'جب مشنری افریقہ آئے تو ان کے پاس بائبل تھی اور ہمارے پاس زمین تھی۔ کہنے لگے ہم آپ کے لیے دعا کرنے آئے ہیں۔
ہم نے آنکھیں بند کر لیں، جب آنکھ کھلی تو ہمارے ہاتھ میں بائبل تھی، اور ان کے پاس ہماری زمین تھی۔
اسی طرح جب سوشل نیٹ ورک سائٹس آئیں تو ان میں فیس بک اور واٹس ایپ تھے اور ہمارے پاس آزادی اور رازداری تھی۔
انہوں نے کہا، 'یہ مفت ہے۔' ہم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، اور جب آنکھ کھلی تو ہمارے پاس فیس بک اور واٹس ایپ تھے، اور ان کے پاس ہماری آزادی اور ذاتی معلومات تھیں۔
جب بھی کوئی چیز مفت ہوتی ہے تو ہمیں اپنی آزادی دے کر اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

Pakistan revolution Day.
22/03/2026

Pakistan revolution Day.

Eid UL fitar Mubarak
22/03/2026

Eid UL fitar Mubarak

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Misbah Uddin Sheikh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Misbah Uddin Sheikh:

Share