02/05/2026
**کہانی: پاکستان چوک — تاریخ، کاروبار اور بدلتے حالات**
تحریر: مصباح الدین شیخ ۔
کراچی کے دل میں واقع **پاکستان چوک** صرف ایک چوراہا نہیں بلکہ ایک پوری تاریخ ہے۔
یہ وہ علاقہ ہے جس نے برصغیر کی تقسیم، قیامِ پاکستان، اور کراچی کے ابتدائی تجارتی دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
قیامِ پاکستان کے بعد جب کراچی نئے ملک کا دارالحکومت بنا، تو پاکستان چوک شہر کے پہلے بڑے کمرشل مراکز میں شمار ہونے لگا۔ یہاں پرانی طرزِ تعمیر والی عمارتیں، بلند کھڑکیاں، لوہے کی بالکونیاں، اور تنگ مگر مصروف سڑکیں شہر کے ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
وقت کے ساتھ یہ علاقہ پاکستان کی سب سے بڑی **پرنٹنگ مارکیٹ** بن گیا۔
صبح ہوتے ہی یہاں زندگی دوڑنے لگتی ہے۔
پرنٹنگ پریس کی مشینوں کی مسلسل آواز، کاغذ کے بنڈل اٹھاتے مزدور، ڈیزائنرز کی جلد بازی، گاہکوں کی بھیڑ، اور ہر دکان پر کام کی الگ رفتار۔
کوئی کتابیں چھپوا رہا ہوتا ہے، کوئی شادی کارڈ، کوئی فلیکس، کوئی کارپوریٹ بروشر، تو کوئی اپنی نئی برانڈنگ کا آرڈر دینے آیا ہوتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا علاقہ مسلسل حرکت میں ہو۔
مگر اس کاروباری مرکز کی چمک کے پیچھے مسائل کی ایک لمبی فہرست بھی موجود ہے۔
سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں۔
بارش کے بعد گڑھوں میں پانی کئی کئی دن کھڑا رہتا ہے۔
پانی کی لائنوں کے مسائل الگ ہیں۔ کہیں سپلائی متاثر ہوتی ہے تو کہیں لیکیج کے باعث سڑک مزید خراب ہو جاتی ہے۔
گیس کی شکایات بھی عام ہیں۔
قریب کے رہائشی اور کاروباری افراد اکثر کم پریشر یا طویل لوڈشیڈنگ کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
شام کے بعد جب دکانیں بند ہونا شروع ہوتی ہیں، پاکستان چوک کا منظر بھی بدلنے لگتا ہے۔
دن کے شور کی جگہ خاموشی لے لیتی ہے۔
اسی خاموشی میں خوف بھی شامل ہو جاتا ہے۔
رات کے وقت یہاں اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
موبائل چھیننا، موٹر سائیکل اسنیچنگ، اور راہ چلتے افراد سے نقدی لوٹنا معمول بنتا جا رہا ہے۔
کئی دکانوں کے باہر CCTV کیمرے لگے ہیں، مگر اکثر وارداتوں کے بعد صرف فوٹیج باقی رہ جاتی ہے۔
چند ماہ پہلے ایک پرنٹنگ پریس میں کام کرنے والا نوجوان رات گئے اپنا کام ختم کرکے نکلا۔
ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ اور جیب میں دن بھر کی محنت کی رقم۔
چند قدم ہی چلا تھا کہ دو موٹر سائیکل سوار اس کے سامنے رکے۔
"فون اور بیگ دو۔"
اس نے مزاحمت نہیں کی۔
چند سیکنڈ بعد وہ خالی ہاتھ کھڑا تھا، اور ملزمان اندھیرے میں غائب ہو چکے تھے۔
اگلے دن ویڈیو ہر دکان میں چل رہی تھی۔
لوگ چند لمحے دیکھتے، سر ہلاتے، اور دوبارہ اپنے کام میں لگ جاتے۔
شاید اس لیے کہ یہ واقعہ اب غیر معمولی نہیں رہا۔
پاکستان چوک آج بھی کراچی کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔
یہاں تاریخ بھی زندہ ہے، کاروبار بھی زندہ ہے، مگر مسائل بھی ساتھ ساتھ موجود ہیں۔
پرانی عمارتیں اب بھی کھڑی ہیں، مشینیں اب بھی چلتی ہیں، آرڈرز اب بھی بنتے ہیں۔
لیکن سوال وہی ہے:
کیا پاکستان چوک صرف ماضی کی شان پر زندہ رہے گا، یا کبھی اسے موجودہ مسائل سے بھی نجات ملے گی؟
مصباح الدین شیخ