10/04/2026
حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) کی بہادری کا ایک اور نہایت ایمان افروز واقعہ جنگِ یرموک کا ہے، جو رومیوں کے خلاف لڑی گئی تھی۔ یہ واقعہ ان کی ذہانت اور اللہ پر بھروسے کی بہترین مثال ہے۔
قلعے کا دروازہ اور اکیلے جنگ
ایک بار جنگ کے دوران، حضرت خالد بن ولید نے دیکھا کہ رومیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ ایک قلعہ بند جگہ سے مسلمانوں پر تیر برسا رہے ہیں۔ آپ نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ایک ایسا فیصلہ کیا جو بظاہر ناممکن لگ رہا تھا۔
حیران کن حملہ: آپ نے صرف 60 جانبازوں کو ساتھ لیا اور رومیوں کے 60,000 کے لشکر کی طرف بڑھ گئے۔ لوگ حیران تھے کہ 60 آدمی اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کیسے کریں گے؟
ایمان کا جواب: جب آپ سے پوچھا گیا کہ "اے خالد! آپ اتنے کم ساتھیوں کے ساتھ اتنے بڑے لشکر پر حملہ کیوں کر رہے ہیں؟" تو آپ نے وہ تاریخی جملہ کہا جو آج بھی یاد کیا جاتا ہے:
"تم رومیوں کی تعداد دیکھ رہے ہو، میں اللہ کی مدد دیکھ رہا ہوں۔"
دشمن کا خوف: حضرت خالد بن ولید اس تیزی اور دلیری سے لڑے کہ رومیوں کو لگا کہ شاید ان کے پیچھے کوئی بہت بڑی غیبی طاقت ہے یا ہزاروں سپاہی ہیں۔ آپ دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے اندر داخل ہو گئے اور دشمن کے پاؤں اکھاڑ دیے۔
ایک اور دلچسپ بات: کبھی شکست نہیں ہوئی
آپ کی زندگی کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ آپ نے اسلام لانے سے پہلے اور اسلام لانے کے بعد 100 سے زیادہ جنگیں لڑیں، لیکن آپ کبھی ایک بھی جنگ نہیں ہارے۔
کہا جاتا ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا، تو آپ رو رہے تھے۔ کسی نے پوچھا کہ "آپ کیوں رو رہے ہیں؟" تو آپ نے اپنے جسم سے کپڑا ہٹا کر دکھایا، پورے جسم پر تلواروں اور نیزوں کے زخم تھے، کوئی جگہ خالی نہیں تھی۔ آپ نے فرمایا:
"میں چاہتا تھا کہ مجھے میدانِ جنگ میں شہادت ملے، لیکن دیکھو میں بستر پر مر رہا ہوں۔"
مگر سچ تو یہ ہے کہ جس کو اللہ کے رسول ﷺ نے "اللہ کی تلوار" (سیف اللہ) کا لقب دے دیا ہو، اسے کوئی انسان کیسے شکست دے سکتا تھا؟ اگر خالد بن ولید میدانِ جنگ میں کسی انسان کے ہاتھوں شہید ہو جاتے، تو لوگ کہتے کہ "نعوذ باللہ، اللہ کی تلوار ٹوٹ گئی"۔ اللہ نے اپنی اس تلوار کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیا۔