06/11/2025
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
اور بھی کچھ قرض ہیں میری ذرا سی جان پر
ورنہ میں بھی مر گیا ہوتا کسی عنوان پر
اس قدر بھاری تو پتھر بھی نہیں ہیں قبر کے
زندگی بھاری ہے جتنی آج کے انسان پر
لُٹ گیا پہلے قدم پر ہی وفا کی راہ میں
نازتھا کتنا مسافر کو سروسامان پر
شاخ سے ٹوٹے ہوۓ بےجان پھولوں کیطرح
تتلیاں اڑ کر کبھی آتی نہیں گلدان پر
پوچھتے کیا ہو سبب مجھ سے شکستِ ذات کا
رکھ دیا تھا میں نے اک شیشے کو غم کی سان پر
دیکھتا رہتا ہوں اک چہرہ دیوانوں کیطرح
خواب کےمنظر سجا کر پردہ ٕ امکان پر
اس قدر آساں نہیں اسکو سمجھنا اے نذیر
کوٸی سورج کو نہ تولے برف کی میزان پر
نذیرقیصرانی مرحوم