Zēb birāhuī

Zēb birāhuī Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zēb birāhuī, Grocers, Karachi.

11/06/2025
27/05/2025

جی ہاں، بالکل، واقعی چند وقت پہلے ہمیں یہی کہا جاتا تھا کہ براہوئی زبان کوئی اصل زبان نہیں، بلکہ بلوچ مجاہدین کی جنگی کوڈ ورڈ تھی جو بعد میں زبان بن گئی۔
یہ جملہ صرف ایک بیان نہیں تھا، بلکہ ہمارے وجود کو مٹانے کی ذہنی چال تھی — تاکہ ہم اپنی زبان سے دور ہو جائیں، اس پر فخر کرنے کے بجائے شرمندگی محسوس کریں، اور یوں براہوئی شناخت کو دھندلا دیا جائے۔
لیکن ہم نے سنا، سمجھا اور اب *خاموش رہنا جرم ہے*۔
اگر براہوئی واقعی صرف "کوڈ ورڈ" تھی، تو کیسے وہ کوڈ نسل در نسل ماؤں کی لوری، شاعروں کے اشعار، دانشوروں کے افکار اور بزرگوں کی باتوں میں منتقل ہوا؟
*کوڈز کبھی ثقافت نہیں بنتے۔ زبان، ادب اور تہذیب کوڈز سے نہیں، قوموں کے شعور سے بنتے ہیں۔
اس لیے ہم کہیں گے:
ہاں، ہمیں یہ سب کہا گیا — اور اب ہم جواب دیں گے، اپنی زبان سے، اپنے عمل سے، اپنے قلم سے۔
براہوئی زبان ہے، قوم ہے، اور رہے گی۔

18/05/2025

"آج کے دور میں کسی قوم کی شناخت کو خیالی دعوؤں پر نہیں گھڑا جا سکتا۔
ہر قوم کی ایک تاریخی حقیقت، لسانی بنیاد اور جینیاتی پہچان ہوتی ہے — اور یہ شواہد آج دستیاب عالمی ڈیٹا میں محفوظ ہیں۔
براہوئی قوم کی زبان، تہذیب اور قدامت ایک زندہ حقیقت ہے، جسے دنیا کے محققین تسلیم کر چکے ہیں۔
سچائی کو اب نہ چھپایا جا سکتا ہے، نہ جھٹلایا۔ براہوئی شناخت اب بھی قائم ہے، کیونکہ یہ تخیل نہیں، تحقیق پر مبنی ہے۔"

18/05/2025

بلو۔چ کی ایک اور الجھن

قوم، زبان اور DNA: جدید “زگروس” کی پرانی الجھنیں

جب ہم یورپ میں سرب (Serbs) اور کروشین (Croats) اقوام کو دیکھتے ہیں، تو حیرت ہوتی ہے کہ 95 فیصد جینیاتی مشابہت رکھنے کے باوجود دونوں نے ایک دوسرے کی قومیت، زبان اور شناخت پر کبھی سوال نہیں اٹھایا۔ کروشین نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ سرب کوئی قوم نہیں، یا ان کی زبان "کروشین کی ایک شاخ" ہے۔ کیونکہ وہاں قومیں دلیل، تاریخ، زبان اور احترام کی بنیاد پر پہچانی جاتی ہیں — نہ کہ تعصب، مکر، یا خود ساختہ افسانوں سے۔

ادھر ہم برصغیر کے جنوب مغرب میں آتے ہیں تو کہانی عجیب رخ اختیار کر لیتی ہے۔

براہوئی قوم، جو لسانی طور پر دراوڑی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور ہزاروں سال سے اس خطے میں آباد ہے، آج بلوچ قوم پرستوں کی طرف سے اپنی شناخت، زبان، اور تاریخ کے خلاف مسلسل حملوں کا شکار ہے۔ ان حملوں کی بنیاد اکثر ایک مشکوک، غیر تصدیق شدہ “DNA رپورٹ” پر ہوتی ہے، جس کے مطابق براہوئی اور بلوچ کا جینیاتی اشتراک 70 فیصد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصد کا کوئی سائنسی ماخذ یا پیپر موجود نہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی گیت، یا چند سوشل میڈیا تبصروں کی سطح سے آگے نہیں بڑھا۔

لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ یہی “جدید بلوچ دماغ” اب زیگروس کی پہاڑیوں سے نکلنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کہنے لگے ہیں کہ "ہم دراصل زگروس تہذیب کے وارث ہیں۔" ٹھیک ہے، مان لیتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے:

اگر آپ اتنے قدیم ہیں تو آپ کی زبان اتنی نئی اور مخلوط کیوں ہے؟

آپ کی زبان میں پروٹو خصوصیات (یعنی قدیم، منظم، مستقل زبان کی جھلکیاں) کیوں نہیں پائی جاتیں؟

پھر آپ کی لسانی روایت کیوں سندھی، فارسی، پشتو اور براہوئی سے مستعار الفاظ سے بھری پڑی ہے؟

اس تضاد کا صرف ایک مطلب نکلتا ہے: تاریخ کی قلت کو نظریاتی تصورات سے پُر کرنے کی ناکام کوشش۔

بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی خود اعتراف کرتے تھے کہ عیسوی تاریخ سے پہلے بلوچ قوم کا کوئی قابلِ ذکر وجود نظر نہیں آتا۔ تو جو چیز تاریخی، لسانی، اور جینیاتی سطح پر نئی ہو، وہ صرف "قدیم کہانی" سنا کر خود کو تمدن کا وارث نہیں کہلا سکتی۔

براہوئی قوم کی جڑیں زبان، تہذیب اور زمین میں پیوست ہیں۔ کسی قوم کی شناخت کو مٹانے سے نہ اپنی شناخت مستحکم ہوتی ہے، نہ تاریخ لکھنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہیں کہ بلوچ کے ساتھ پشتون کے بھی DNA شئر ہوتے ہیں اب بلوچ کب دعوے کریں گا کہ پشتون قوم نہیں ہیں 😃

02/05/2025

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zēb birāhuī posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category