SAJ. onlinestore

SAJ. onlinestore style on a click

29/05/2026

3pc chunri chiffon Dopptty farshi shlwar k sath 2500 m dc alg jaldi book krway

*R1150*/each - New Double Layer Velvet Jewelry Organiser (Mix/Random Colour/Design)  DC ApplicableSKU: BA5465VJB
29/05/2026

*R1150*/each - New Double Layer Velvet Jewelry Organiser (Mix/Random Colour/Design)

DC Applicable
SKU: BA5465VJB

🛑 ارے رکیے! کل کے طوفان کے بعد ذرا حاضری تو لگوائیں... 😅جی جناب کیسا گزرا کل کا دن؟ سچی بتانا کل جس طرح کی گرمی تھی اس ن...
28/05/2026

🛑 ارے رکیے! کل کے طوفان کے بعد ذرا حاضری تو لگوائیں... 😅
جی جناب کیسا گزرا کل کا دن؟ سچی بتانا کل جس طرح کی گرمی تھی اس نے تو اچھے اچھوں کا 'سسٹم ہینگ' کر دیا تھا! 🥵
صبح کا وقت ہم مرد حضرات کے لیے کسی محاذ سے کم نہیں تھا۔ قصائی کے نخرے گوشت کے شاپروں کی ترسیل اور اوپر سے پسینے کی بارش...

لیکن اصل کریڈٹ تو ہماری خواتین کو جاتا ہے! دوپہر کے بعد کچن کے چولہے اور باہر کے سورج کا جو مقابلہ چل رہا تھا اس میں خواتین نے واقعی بہادری دکھائی ہے۔

تو اب ذرا جلدی سے کمنٹس میں اپنی کل کی پروگریس رپورٹ جمع کروائیں

کل کچن میں کیا کیا منفرد پکوان بنائے گئے؟

کتنا گوشت کھایا گیا اور ہاضمے کے لیے آج کون سا چورن استعمال ہو رہا ہے؟

یا اللہ! جس طرح آج یہ بندے تیری بارگاہ میں حاضر ہیں،  ہمیں بھی اپنی رحمت سے یہ سعادت نصیب فرما۔ آمین 🤲   #عرفات
26/05/2026

یا اللہ! جس طرح آج یہ بندے تیری بارگاہ میں حاضر ہیں،
ہمیں بھی اپنی رحمت سے یہ سعادت نصیب فرما۔ آمین 🤲

#عرفات

Lawn Embroidered Article 03 PcEmbroidered Plazo Embroidered shirtSize : Small Medium and Large Length : 38-39Price : 350...
25/05/2026

Lawn Embroidered Article 03 Pc
Embroidered Plazo Embroidered shirt
Size : Small Medium and Large
Length : 38-39
Price : 3500 with dc
Karachi walo k liy only advance payment pr

✨ٹرینڈی آرٹیکل لانگ شرٹ ود پلازو✨🌸 آرگنزا دوپٹہ📏 سائز ڈیٹیل:👗 شرٹ کی لمبائی: 43👗 دامن: 23👗 شولڈر: 15👗 چیسٹ: 19/20👗 آستین...
25/05/2026

✨ٹرینڈی آرٹیکل لانگ شرٹ ود پلازو✨
🌸 آرگنزا دوپٹہ
📏 سائز ڈیٹیل:
👗 شرٹ کی لمبائی: 43
👗 دامن: 23
👗 شولڈر: 15
👗 چیسٹ: 19/20
👗 آستین: 22
💖 ابھی بک کروانے پر قیمت صرف 3800 بمعہ ڈیلیوری چارجز
🎉 عید کے بعد بک کر4000 لیے ابھی آفر سے فائدہ اٹھائیں ✨
آ ✨ri

#بوتیک

میری ایک میٹنگ اچانک منسوخ ہو گئی۔ میں دوپہر کو ہی گھر واپس آ گیا۔ جیسے ہی دروازہ کھولا، بچے کے رونے کی آواز میرے سینے م...
25/05/2026

میری ایک میٹنگ اچانک منسوخ ہو گئی۔ میں دوپہر کو ہی گھر واپس آ گیا۔ جیسے ہی دروازہ کھولا، بچے کے رونے کی آواز میرے سینے میں اتر گئی۔ وہ عام رونا نہیں تھا۔ وہ خوف زدہ رونا تھا۔ میں گھبرا کر اندر داخل ہوا۔ ڈرائنگ روم بکھرا پڑا تھا۔ کچن میں سالن چولہے پر گرا ہوا تھا۔ فرش پر آدھے تہہ کیے کپڑے پڑے تھے۔ اور صوفے پر نورین بے ہوش تھی۔ اُس کا ایک ہاتھ نیچے لٹک رہا تھا۔ چہرہ بالکل سفید پڑ چکا تھا ہونٹ خشک۔ سانس تیز۔ میرا دل جیسے رک گیا۔
ازلان پالنے میں چیخ چیخ کر رو رہا تھا۔ اور چند قدم کے فاصلے پر…امی سکون سے کھانا کھا رہی تھیں۔ میں ساکت کھڑا رہ گیا۔
༺❥༻ Sadz Hassan ༺❥༻
میرا نام سہام ہے۔
اور میں نے اپنی زندگی کے پینتیس سال یہ سمجھتے ہوئے گزارے کہ میری ماں دنیا کی سب سے مضبوط عورت ہیں۔
اب جا کر احساس ہوا ہے…
بعض عورتیں مضبوط نہیں ہوتیں، بس اُنہیں اتنا رُلایا جاتا ہے کہ وہ درد محسوس کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔
میرے والد، رشید صاحب، محکمہ آبپاشی میں ملازم تھے۔
انتہائی خاموش انسان۔
گھر میں اُن کی آواز کم سنائی دیتی تھی اور امی کے اصول زیادہ۔
امی ہمیشہ کہا کرتی تھیں،
“عورت اگر آرام کی عادی ہو جائے نا، تو گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔”
ہم دو بھائی اور ایک بہن تھے۔
ہم نے بچپن سے امی کو بس کام کرتے دیکھا۔
شدید بخار ہو…
یا سردیوں کی یخ رات…
مہمان پھر بھی سنبھلتے تھے، سالن پھر بھی بنتا تھا، اور صبح کا ناشتہ کبھی دیر سے نہیں ہوتا تھا۔
مجھے یاد ہے ایک بار امی کے ہاتھ جل گئے تھے۔
جلتے تیل کی کڑاہی اُن پر گر گئی تھی۔
میں چھوٹا تھا مگر آج بھی اُن کی سرخ پڑتی جلد یاد ہے۔
میں ڈر گیا تھا۔
مگر امی نے ہاتھ پر کپڑا لپیٹا… اور دوبارہ روٹیاں پکانے لگ گئیں۔
میں نے پوچھا تھا،
“امی درد نہیں ہو رہا؟”
وہ ہنس پڑی تھیں۔
“عورتیں درد کے ساتھ جینا سیکھ لیتی ہیں، بیٹا۔”
تب مجھے یہ جملہ بہت عظیم لگا تھا۔
آج سمجھ آتا ہے…
وہ عظمت نہیں، مجبوری تھی۔
اُن کے زمانے میں عورتوں کے پاس تھکنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔
بچے پیدا کرنے کے دوسرے دن ہی وہ پانی بھر رہی ہوتیں، چولہا جلا رہی ہوتیں، اور ساس کے سامنے سیدھی کھڑی ہوتی تھیں۔
نہ ڈپریشن کا لفظ عام تھا…
نہ ذہنی تھکن کو بیماری سمجھا جاتا تھا…
نہ کسی نے یہ پوچھا کہ عورت بھی انسان ہے یا نہیں۔
اُنہیں بس یہ سکھایا جاتا تھا کہ برداشت کرو۔
اور برداشت کرتے کرتے وہ خود کو بھول جاتی تھیں۔
پھر میری شادی نورین سے ہوئی۔
نورین لاہور کے ایک نرم مزاج گھرانے کی لڑکی تھی۔
دھیمی آواز میں بات کرنے والی۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں کا خیال رکھنے والی۔
وہ گھر میں آتی تو یوں لگتا جیسے خاموشی میں روشنی گھل گئی ہو۔
امی نے شروع میں اُسے بہت پسند کیا۔
“بڑی سلیقے والی بچی ہے۔”
“آج کل کی لڑکیوں جیسی نہیں ہے۔”
نورین ہر وقت کوشش کرتی کہ امی خوش رہیں۔
صبح اُن سے پہلے اٹھتی۔
چائے بناتی۔
دوپہر میں اُن کے ساتھ بیٹھ کر سبزی کاٹتی۔
حتیٰ کہ اگر امی کو ہلکا سا سر درد بھی ہوتا تو وہ خاموشی سے اُن کے لیے تیل گرم کر کے لے آتی۔
مگر شاید کچھ عورتیں محبت سے نہیں بدلتیं…
کیونکہ اُن کے اندر برسوں کا دبا ہوا درد زندہ رہتا ہے۔
آہستہ آہستہ امی کے لہجے بدلنے لگے۔
“آج کل کی لڑکیاں جلد تھک جاتی ہیں۔”
“اتنا سا کام کر کے بیٹھ گئی؟”
“گھر سنبھالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔”
نورین ہر بار مسکرا دیتی۔
اور میں…
میں ہر بار خاموش ہو جاتا۔
مجھے لگتا تھا وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
پھر ہماری زندگی میں ہمارا بیٹا آیا۔
ننھا سا ازلان۔
اُس کی پیدائش آسان نہیں تھی۔
نورین تین دن تک شدید تکلیف میں رہی۔
آپریشن کے بعد اُس کا جسم بالکل ٹوٹ چکا تھا۔
ڈاکٹر نے خاص طور پر مجھے سمجھایا تھا،
“اِنہیں مکمل آرام چاہیے۔ جسمانی بھی اور ذہنی بھی۔ یہ وقت بہت حساس ہوتا ہے۔”
میں مطمئن ہو گیا کیونکہ امی خود ہمارے پاس رہنے آ گئی تھیں۔
مجھے لگا اب نورین کو سہارا مل جائے گا۔
شروع کے دو دن واقعی اچھے تھے۔
امی بچے کو سنبھالتیں۔
نورین کو سوپ بنا کر دیتیں۔
میں دل ہی دل میں شکر ادا کرتا کہ میری ماں کتنی خیال رکھنے والی ہیں۔
پھر تیسرے دن سب بدلنے لگا۔
“بچہ اتنا کیوں روتا ہے؟”
“تم وقت پر دودھ نہیں پلاتی ہوگی۔”
“ہم نے بھی بچے پالے ہیں، ہر وقت بستر پر نہیں پڑے رہے۔”
نورین رات بھر جاگتی۔
بچے کو چپ کرواتی۔
خود رو لیتی۔
اور صبح آنکھ لگتی تو امی کی آواز آ جاتی،
“اُٹھ جاؤ۔ گھر بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔”
ایک دن میں نے دیکھا وہ بمشکل کھڑی تھی۔
میں نے کہا،
“تم آرام کر لو۔”
مگر اُس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
“امی ناراض ہو جائیں گی۔”
یہ پہلی بار تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ میرے گھر میں محبت سے زیادہ خوف رہنے لگا ہے۔
مگر میں پھر بھی مکمل حقیقت نہیں سمجھ سکا۔
کیونکہ ہم مرد اکثر وہ درد نہیں سمجھتے جو خاموشی سے برداشت کیا جا رہا ہو۔
ہمیں چیخ سنائی دیتی ہے…
خاموش ٹوٹنا نہیں۔
ایک رات نورین میرے پاس بیٹھی تھی۔
کمرے کی لائٹ بند تھی۔
صرف بچے کے ننھے جھولے پر پڑتی ہلکی روشنی تھی۔
اُس نے بہت آہستہ کہا،
“سہام… مجھے لگتا ہے میں اچھی ماں نہیں ہوں۔”
میں چونک گیا۔
“ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟”
اُس کی آنکھوں میں عجیب سا خوف تھا۔
“ازلان روتا ہے تو مجھے لگتا ہے سب میری غلطی ہے… امی کہتی ہیں میں کمزور ہوں… شاید واقعی ہوں…”
میں نے فوراً اُس کا ہاتھ پکڑا۔
“تم کمزور نہیں ہو۔ بس تھکی ہوئی ہو۔”
مگر شاید یہ جملہ کافی نہیں تھا۔
کیونکہ بعض اوقات انسان کو صرف تسلی نہیں…
حفاظت چاہیے ہوتی ہے۔
پھر وہ دن آیا جس نے میری پوری سوچ بدل دی۔
میری ایک میٹنگ اچانک منسوخ ہو گئی۔
میں دوپہر کو ہی گھر واپس آ گیا۔
جیسے ہی دروازہ کھولا، بچے کے رونے کی آواز میرے سینے میں اتر گئی۔
وہ عام رونا نہیں تھا۔
وہ خوف زدہ رونا تھا۔
میں گھبرا کر اندر داخل ہوا۔
ڈرائنگ روم بکھرا پڑا تھا۔
کچن میں سالن چولہے پر گرا ہوا تھا۔
فرش پر آدھے تہہ کیے کپڑے پڑے تھے۔
اور صوفے پر نورین بے ہوش تھی۔
اُس کا ایک ہاتھ نیچے لٹک رہا تھا۔
چہرہ بالکل سفید پڑ چکا تھا۔
ہونٹ خشک۔
سانس تیز۔
میرا دل جیسے رک گیا۔
ازلان پالنے میں چیخ چیخ کر رو رہا تھا۔
اور چند قدم کے فاصلے پر…
امی سکون سے کھانا کھا رہی تھیں۔
میں ساکت کھڑا رہ گیا۔
امی نے میری طرف دیکھا اور بالکل نارمل لہجے میں بولیں،
“بس ذرا سی کمزوری ہے۔ نئی مائیں خود کو مریض بنا لیتی ہیں۔”
میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔
میں فوراً بچے کو اٹھانے گیا۔
اُس کا ننھا جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔
پھر میں نورین کے پاس بیٹھ گیا۔
“نورین… سنو…”
اُس نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔
آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے تھے۔
ہونٹ کانپ رہے تھے۔
“میں… ٹھیک ہوں…”
امی فوراً بولیں،
“صبح سے ڈرامہ کر رہی ہے کہ چکر آ رہے ہیں، مگر کھانا ادھورا چھوڑنا تھا نا؟”
میں نے پہلی بار غور سے میز کی طرف دیکھا۔
امی کی پسند کے سارے کھانے بنے ہوئے تھے۔
مٹن روسٹ۔
پلاؤ۔
سلاد۔
رائتہ۔
وہ سب کچھ… جو ایک صحت مند عورت بھی مشکل سے بناتی۔
اور نورین صبح سے بمشکل سیدھی کھڑی ہو پا رہی تھی۔
میں نے بہت دھیرے سے پوچھا،
“یہ سب نورین نے بنایا؟”
امی بولیں،
“تو اور کون بناتا؟ بہو ہے۔ بچے کے بعد عورتیں کام چھوڑ دیں تو گھر برباد ہو جاتے ہیں۔ ہم نے بھی بچے پیدا کیے تھے، اگلے دن سے کام شروع کر دیا تھا۔”
اُن کے الفاظ میرے کانوں میں گونجنے لگے۔
“ہم نے بھی…”
ہاں، اُنہوں نے بھی۔
مگر کیا اُس کا مطلب یہ تھا کہ ہر اگلی عورت بھی وہی تکلیف سہے؟
صرف اس لیے کہ پچھلی نسل سہتی رہی؟
میں نے پہلی بار اپنی ماں کو ایک نئی نظر سے دیکھا۔
وہ ظالم نہیں لگ رہی تھیں…
وہ زخمی لگ رہی تھیں۔
ایسی عورت جو خود کبھی آرام نہ پا سکی، اس لیے اب آرام کو کمزوری سمجھتی تھی۔
نورین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اُس نے بمشکل کہا،
“میں نے کہا تھا مجھ سے نہیں ہو رہا…”
میرا دل ڈوب گیا۔
اور اچانک مجھے ابو یاد آئے۔
ہر وہ لمحہ یاد آیا جب امی تکلیف میں تھیں اور ابو خاموش رہے۔
اور اب…
میں بھی وہی کر رہا تھا۔
میں نے نہ چیخا۔
نہ لڑا۔
بس آہستہ سے کہا،
“امی… ہمیں ابھی ہسپتال جانا ہوگا۔”
شاید پہلی بار میرے لہجے میں فیصلہ تھا۔
امی نے ناگواری سے کہا،
“اتنی بھی کیا ایمرجنسی ہے؟”
میں نے نورین کو سہارا دیا۔
“امی، یہ تھکی ہوئی نہیں… بیمار ہے۔ اور میں بہت دیر سے یہ بات سمجھا ہوں۔”
ہسپتال پہنچتے پہنچتے میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد مجھے الگ بلایا۔
“اِنہیں شدید کمزوری، نیند کی کمی اور بعد از زچگی ڈپریشن ہے۔ اگر مزید کچھ دن یہی حالت رہتی تو صورتحال خطرناک ہو سکتی تھی۔”
میرے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
اُس رات میں ہسپتال کے کمرے میں بیٹھا اپنے بیٹے کو دیکھتا رہا۔
اور پہلی بار مجھے احساس ہوا…
زمانہ واقعی بدل گیا ہے۔
پہلے عورتیں برداشت کر لیتی تھیں کیونکہ اُن کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
آج عورتیں بولتی ہیں…
کیونکہ اب اُنہیں انسان سمجھا جانے لگا ہے۔
پہلے درد چھپانا تربیت تھی۔
آج درد بتانا ہمت ہے۔
پہلے عورت بچے کی پیدائش کے دوسرے دن چولہے کے سامنے کھڑی کر دی جاتی تھی۔
آج ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اُسے آرام، خیال اور جذباتی سہارا چاہیے۔
اور شاید یہی ترقی ہے۔
یہ نہیں کہ عورت کمزور ہو گئی ہے…
بلکہ یہ کہ اب ہم اُس کی تکلیف کو اہمیت دینا سیکھ رہے ہیں۔
دو دن بعد امی ہسپتال آئیں۔
بہت خاموش۔
پہلی بار واقعی خاموش۔
وہ نورین کے قریب بیٹھیں۔
کافی دیر تک کچھ نہیں بولیں۔
پھر آہستہ سے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“شاید… میں نے سختی زیادہ کر دی۔”
نورین کی آنکھیں بھر آئیں۔
اور پہلی بار میں نے اپنی ماں کے چہرے پر غرور نہیں دیکھا…
صرف تھکن دیکھی۔
برسوں کی تھکن۔
وہ تھکن جو اُنہوں نے کبھی کسی کو دکھانے کی اجازت نہیں دی تھی۔
ہم اُس گھر واپس تو گئے…
مگر بہت کچھ بدل چکا تھا۔
میں نے نورین کے لیے نرس رکھی۔
گھر کے کام بانٹے۔
اور پہلی بار امی سے اختلاف کرنا سیکھا۔
اب جب کبھی امی کہتی ہیں،
“ہم نے تو ایسے نہیں کیا تھا…”
میں مسکرا کر جواب دیتا ہوں،
“اسی لیے اب ہمیں بہتر کرنا ہے۔”
کیونکہ ہر پرانی روایت قابلِ فخر نہیں ہوتی۔
کچھ روایتیں صرف دہرایا گیا درد ہوتی ہیں۔
اور بعض اوقات انسان کو اپنی ماں سے نفرت نہیں کرنی پڑتی…
صرف اُن کے زخم اگلی نسل تک پہنچنے سے روکنے پڑتے ہیں۔
آج کے دور میں بھی، جہاں لوگ خود کو ترقی یافتہ اور سمجھدار کہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بے شمار عورتیں اب بھی اُسی پرانے ظلم کے نیچے دبی ہوئی ہیں جسے “ذمہ داری” اور “روایت” کا نام دے دیا گیا ہے۔ ایک عورت جو ابھی زندگی اور موت کی سرحد سے گزر کر ماں بنی ہوتی ہے، اُس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ چند دنوں میں نہیں بلکہ بعض گھروں میں تو اگلے ہی دن اٹھ کر پورے گھر کی خدمت شروع کر دے۔ صرف اپنے شوہر اور بچے کی نہیں، بلکہ دیور، جیٹھ، نند، سسر اور پورے خاندان کی ضروریات بھی اُس کی ذمہ داری سمجھ لی جاتی ہیں۔ اُس کے جسم کے ٹانکے، اُس کی نیند سے خالی آنکھیں، اُس کی ذہنی تھکن، اُس کا خوف، اُس کی کمزوری… سب کو “ڈرامہ” یا “آج کل کی لڑکیوں کی نازک مزاجی” کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ خاموش ظلم ہے جو آہستہ آہستہ عورت کے دل میں محبت کی جگہ تھکن بھر دیتا ہے۔ جب ایک نئی ماں کو سہارا دینے کے بجائے امتحان بنایا جائے، تو گھر صرف دیواروں سے قائم رہتے ہیں، رشتوں سے نہیں۔ آج بے شمار گھر اس لیے ٹوٹ رہے ہیں کیونکہ عورتوں سے محبت نہیں، صرف خدمت مانگی جاتی ہے۔ اُنہیں انسان کم اور مشین زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک خوشحال گھر وہ نہیں ہوتا جہاں بہو سب کچھ اکیلے کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں اُس کی تکلیف کو بھی اُسی اہمیت سے سنا جائے جیسے اُس کی ذمہ داریوں کو دیکھا جاتا ہے۔ کیونکہ عورت اگر عزت، سکون اور سہارا محسوس کرے تو وہ گھر کو جنت بنا دیتی ہے، لیکن اگر اُسے صرف بوجھ اٹھانے والی ہستی بنا دیا جائے، تو پھر خاموشیاں رشتوں کو اندر سے کھا جاتی ہیں۔

*GUL-AHMED WASH & WEAR LUXURY MEN COLLECTION** 4 meter complete cutting * brand bag packing * 8 fancy buttons* inlay car...
24/05/2026

*GUL-AHMED WASH & WEAR LUXURY MEN COLLECTION*

* 4 meter complete cutting
* brand bag packing
* 8 fancy buttons
* inlay card
* cuff tag
* color may slightly vary from the picture

wholesale price:*2800* dc free free free

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SAJ. onlinestore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share