Syed Nisar Ahmed Haqyar

Syed Nisar Ahmed Haqyar روزانہ کی بنیاد پر حدیث مبارکہ اور شرعی مسائل دیکھنے کے لیے پیج فالو کریں

04/06/2026

*بئیر پینے کا حکم*

سوال

شراب کی ایک قسم بئیر(beer)ہے، اس میں8٪الکحل ہوتی ہے اور92٪آبِ جو یاآبِ گندم ہوتاہے اور اس کے پینے سے پہلی دفعہ پینے والے کو ہلکا سا نشا ہوتا ہے جس میں بندے کے حواس باقی ہوتے ہیں۔

برائےمہربانی یہ بتادیں اس کا پینا حلال ہے یا حرام؟

جواب
بیئر شراب ہے اور شراب (میں اگرچہ نشہ نہ ہو تو بھی اس) کا پینا حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 143609200024

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

04/06/2026
03/06/2026

*دوبارہ عمرہ کے لیے احرام کہاں سے باندھے؟*

سوال

حج وعمرہ کرنے کے بعد، پھر عمرہ کرنا چاہے تو کہاں سے احرام باندھے؟

جواب
حج و عمرہ کے بعد ''مکۃ المکرمۃ'' میں موجود آدمی اگر عمرہ کرنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ حدودِ حرم سے باہر جاکر احرام کی نیت کرے، خواہ ''تنعیم'' (مسجدِ عائشہ) سے یا جعرانہ وغیرہ سے، البتہ مسجدِ عائشہ سے احرام باندھنا افضل ہے۔

الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین میں ہے:

"والمیقات لمن بمکة یعني من بداخل الحرم للحج الحرم وللعمرة الحل؛ لیتحقق نوع سفر، والتنعیم أفضل․ والمراد بالمکي من کان داخل الحرم سواء کان بمکة أولا، وسواء کان من أهلها أو لا."

(کتاب الحج، مطلب في المواقيت، ج: 2، صفحہ: 484، ط: ایچ، ایم، سعید) ، وکذا فی ارشاد الساری ص: 117، باب المواقيت)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144411100494

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

03/06/2026

*قبر کے پاس ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا*

سوال

کیا قبر کے پاس ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہے؟ اگر ہے تو قبر کے کس جانب کھڑے ہو کر دعا کرنی چاہیے؟

جواب
بعض مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہے، لیکن ان مواقع پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر دعا فرماتے تھے۔

قبر کی طرف رخ کر کے دعا مانگنے میں صاحبِ قبر سے مانگنے کا شبہ ہو سکتا ہے؛ اس لیے بہتر ہے کہ قبر پر جاکر دعا کرنی ہو تو ہاتھ اٹھائے بغیر ہی دعا کرلے، اور اگر ہاتھ اٹھاکر دعا کرنی ہو تو قبلہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھاکر دعا کرلی جائے؛ تاکہ قبر یا صاحبِ قبر سے مانگنے کا شبہ نہ ہو۔

ملفوظات حکیم الامت میں ہے:

”قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا نہ مانگنا چاہیے، حتی کہ دفن کے وقت بھی انتظامِ شریعت اسی میں ملحوظ ہے؛ تا کہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو جائے کہ مردہ سے حاجت مانگی جاتی ہے“ ۔(11/164، ط:تالیفات اشرفیہ)

الفتاوى الهندية (5 / 350):
"وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة، كذا في خزانة الفتاوى".

فتح الباري لابن حجر (11/ 144):
"وفي حديث بن مسعود رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي النجادين، الحديث، وفيه فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعاً يديه، أخرجه أبو عوانة في صحيحه". فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144107200194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

01/06/2026

*سر پر ٹوپی پہننے کا شرعی حکم*

سوال

کیا ٹوپی سر پر رکھنا سنت ہے؟اورکیا ٹوپی سر پر نہ رکھنا سنت کے خلاف ہے؟

جواب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمومی اَحوال میں عمامہ یا ٹوپی کے ذریعہ سر مبارک کو ڈھانپا کرتے تھے؛ اس لیے سر پر عمامہ یا ٹوپی پہنناسننِ زوائد میں سے ہے جس کا درجہ مستحب کا ہے۔ اور سر کاڈھانپنالباس کا حصہ ہے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان اور صلحائے امت کا بھی یہی معمول تھا۔بعض صحابہ کرام کا ٹوپی یا عمامہ نہ پہننا احادیث میں مذکور ہے، وہ تنگ دستی کے زمانے کی بات ہے، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔

کبھی کبھار ننگے سرہوجاناگناہ نہیں ، البتہ مستقل طور پرننگے سررہنا شرعاً ناپسندیدہ اور خلافِ ادب ہے، اور ننگے سر رہنے کو معمول اور فیشن بنالینااسلامی تہذیب کے خلاف ہے۔

زاد المعاد في هدي خير العباد (1/ 130):

"فصل في ملابسه صلى الله عليه وسلم
كانت له عمامة تسمى: السحاب كساها علياً، وكان يلبسها ويلبس تحتها القلنسوة. وكان يلبس القلنسوة بغير عمامة، ويلبس العمامة بغير قلنسوة".

مفتی رشیداحمد گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

’’سر برہنہ ہونا احرام میں ثابت ہے ،سوائے احرام کے بھی احیاناً ہوگئے ہیں ،نہ کہ دائماً چلتے پھرتے تھے‘‘۔(فتاوی رشیدیہ ،ص:590)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144206201532

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

30/05/2026

*ایامِ تشریق میں قضا نماز کے بعد تکبیرات تشریق پڑھی جائیں گی؟*

سوال

اگر ایامِ تشریق میں کوئی قضا نماز ادا کریں تو کیا تکبیرات تشریق ہوں گی؟

جواب
ایامِ تشریق میں اگر کوئی نماز قضاہوئی اور اس کی قضا اسی سال ایام تشریق میں کی گئی تو اس نماز کے فوراً بعد تکبیراتِ تشریق پڑھنا ضروری ہوگا، تاہم اگر سابقہ فوت شدہ نماز ایامِ تشریق میں پڑھی گئی، یا ایامِ تشریق میں فوت شدہ نماز ایامِ تشریق گزرنے کے بعد قضا کی گئی تو تکبیرات نہیں پڑھی جائیں گی۔ جیساکہ "فتاوی ہندیہ" میں ہے:

"ومن نسي صلاة من أيام التشريق فذكرها في أيام التشريق من تلك السنة قضاها و كبرها، كذا في الخلاصة". (١/ ١٥٢، ط: رشيدية) ۔ فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 143909202229

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

30/05/2026

*ہر نماز کی تمام رکعات میں سورۃ الفاتحہ سے پہلے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا سنت ہے۔*

یہ حکم امام کے لیے بھی ہے اور اکیلے نماز ادا کرنے والے مرد اور عورت کے لیے بھی ہے کیوں کہ ان کے ذمے قرأت ہے، جبکہ مقتدی امام کے پیچھے کسی بھی رکعت میں بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نہیں پڑھے گا کیوں کہ اس کے ذمے قرأت نہیں۔

(مصنف ابن ابی شیبہ، رد المحتار)
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

Address

Gulshan
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Nisar Ahmed Haqyar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category