10/06/2026
پاکستان اپنے اعلیٰ معیار کے آموں کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن آم مختلف ممالک کو برآمد کیے جاتے ہیں، لیکن اس سال حالات کچھ مختلف نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندش اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث برآمدات کا حجم معمول سے کم ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بڑی مقدار میں اعلیٰ معیار کے آم مقامی منڈیوں میں دستیاب ہیں۔
عام طور پر جو بہترین اقسام، جیسے سندھڑی، چونسا، انور رٹول اور لنگڑا بیرونِ ملک بھیجی جاتی ہیں، ان میں سے کافی مقدار اب مقامی خریداروں تک پہنچ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت شہری نسبتاً مناسب قیمت پر معیاری اور ذائقے دار آم خرید سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب برآمدات میں کمی آتی ہے تو مقامی مارکیٹ میں رسد بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر دباؤ کم ہوتا ہے اور صارفین کو فائدہ پہنچتا ہے۔
آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی آم اپنے منفرد ذائقے، خوشبو اور مٹھاس کی وجہ سے مشہور ہیں۔ موجودہ حالات میں اگرچہ برآمد کنندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن عام پاکستانی صارفین کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ کم قیمت پر بہترین معیار کے آموں سے لطف اندوز ہوں۔
کسانوں اور تاجروں کی خواہش ہے کہ خطے میں حالات معمول پر آئیں اور برآمدی راستے دوبارہ مکمل طور پر فعال ہوں، تاکہ پاکستان کی آم کی صنعت مزید ترقی کر سکے۔ تاہم، جب تک یہ صورتحال برقرار ہے، مقامی منڈیوں میں عمدہ آموں کی فراوانی پاکستانی عوام کے لیے ایک خوشگوار خبر سمجھی جا سکتی ہے۔