12/04/2026
"آخری چراغ"
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان اپنی زندگی کی رفتار سے بہت پریشان تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ سب کچھ جلدی حاصل ہو جائے—کامیابی بھی، پیسہ بھی اور شہرت بھی۔ وہ اکثر سمندر کے کنارے بیٹھ کر سوچتا کہ کاش وقت اس کے ہاتھ میں ہوتا۔
ایک شام وہاں سے ایک بوڑھا ملاح گزرا۔ اس نے نوجوان کی پریشانی بھانپ لی اور کہا: "بیٹا، دریا کی لہریں کبھی ایک ساتھ نہیں چلتیں، کوئی لہر پہلے آتی ہے اور کوئی بعد میں۔ لیکن ہر لہر کا اپنا وقت اور اپنا مقام ہوتا ہے۔"
نوجوان نے پوچھا: "بابا، پھر میں اپنی منزل تک کیسے پہنچوں گا؟"
بوڑھے ملاح نے مسکرا کر ایک چھوٹا سا چراغ اسے دیا اور کہا: "اس چراغ کی روشنی صرف دو قدم تک جائے گی۔ تم بس وہی دو قدم چلو، جیسے ہی تم آگے بڑھو گے، اگلے دو قدم خود بخود روشن ہو جائیں گے۔ اگر تم ایک ہی جگہ کھڑے رہ کر پوری منزل دیکھنا چاہو گے، تو اندھیرے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔"
نوجوان کو سمجھ آ گئی کہ زندگی میں صبر اور مستقل مزاجی ہی اصل کامیابی ہے۔ منزل ایک دم نہیں ملتی، بلکہ ہر روز چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے سے ملتی ہے۔