pyaar ki azam

pyaar ki azam My name alisher

12/04/2026

"آخری چراغ"
​ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان اپنی زندگی کی رفتار سے بہت پریشان تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ سب کچھ جلدی حاصل ہو جائے—کامیابی بھی، پیسہ بھی اور شہرت بھی۔ وہ اکثر سمندر کے کنارے بیٹھ کر سوچتا کہ کاش وقت اس کے ہاتھ میں ہوتا۔
​ایک شام وہاں سے ایک بوڑھا ملاح گزرا۔ اس نے نوجوان کی پریشانی بھانپ لی اور کہا: "بیٹا، دریا کی لہریں کبھی ایک ساتھ نہیں چلتیں، کوئی لہر پہلے آتی ہے اور کوئی بعد میں۔ لیکن ہر لہر کا اپنا وقت اور اپنا مقام ہوتا ہے۔"
​نوجوان نے پوچھا: "بابا، پھر میں اپنی منزل تک کیسے پہنچوں گا؟"
​بوڑھے ملاح نے مسکرا کر ایک چھوٹا سا چراغ اسے دیا اور کہا: "اس چراغ کی روشنی صرف دو قدم تک جائے گی۔ تم بس وہی دو قدم چلو، جیسے ہی تم آگے بڑھو گے، اگلے دو قدم خود بخود روشن ہو جائیں گے۔ اگر تم ایک ہی جگہ کھڑے رہ کر پوری منزل دیکھنا چاہو گے، تو اندھیرے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔"
​نوجوان کو سمجھ آ گئی کہ زندگی میں صبر اور مستقل مزاجی ہی اصل کامیابی ہے۔ منزل ایک دم نہیں ملتی، بلکہ ہر روز چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے سے ملتی ہے۔

07/04/2026

محبت مونکي ماريو آ، پر جيئڻ جو ڏانءُ به سيکاريو آ،
تنهنجي يادن جي خوشبوءِ سان، مون پنهنجو روح سنواريو آ۔

تنهنجي نالن جي سرگوشين ۾، راتين جا راز لڪايا آ،
هر اداس پل جي اوٽ ۾، مون تنهنجا خواب سجایا آ۔

تنهنجي مرڪ جي روشنيءَ سان، منهنجا اندھيرا هاريا آ،
تنهنجي وڇوڙي جي دردن ۾، مون پاڻ کي سڃاڻيا آ۔

محبت صرف ساڙيو ناهي، پر مونکي ٺاهيو به آهي،
تنهنجي وڃڻ کان پوءِ ئي، مون جيئڻ کي سمجهيو آهي۔ 🌹

07/04/2026

ناول ڈیش بورڈ (تعارف)
​نامِ ناول: لفظوں کی لکیر
صنف: رومانوی / ادبی
مرکزی کردار: زریاب (اردو شاعر) اور ماروی (سندھی ادیبہ)
مختصر خلاصہ: یہ کہانی دو ایسے لوگوں کی ہے جو الگ الگ زبانیں بولتے ہیں، لیکن ان کے دلوں کی دھڑکن ایک ہی نظم پر دھڑکتی ہے۔ کیا محبت کی کوئی اپنی زبان ہوتی ہے یا یہ صرف احساس کا نام ہے؟ اس کا جواب آپ کو اس سفر میں ملے گا۔
​پہلی قسط (Episode 1)
​کراچی کی تپتی دوپہر میں آرٹس کونسل کی لائبریری ہمیشہ کی طرح خاموش اور پرسکون تھی۔ زریاب اپنی پرانی ڈائری سامنے رکھے کسی الجھن میں گرفتار تھا۔ وہ ایک ایسی نظم لکھنا چاہتا تھا جو ہجوم سے ہٹ کر ہو، مگر لفظ تھے کہ جیسے اس سے روٹھ گئے تھے۔
​"اگر لفظ نہیں مل رہے، تو خاموشی کو لکھ لیں زریاب صاحب!"
​ایک کھنکتی ہوئی آواز نے سکوت توڑ دیا۔ زریاب نے چونک کر اوپر دیکھا۔ سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی جس نے اجرک کا دوپٹہ بڑے سلیقے سے اوڑھ رکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک اور لہجے میں سندھ کی مٹی جیسی مٹھاس تھی۔
​"آپ۔۔۔؟" زریاب کے لبوں سے بس اتنا ہی نکل سکا۔
​"میں ماروی ہوں۔ لاڑکانہ سے آئی ہوں، صرف یہ دیکھنے کہ شہر کے بڑے شاعر اپنی ڈائری میں کیا چھپاتے ہیں،" وہ مسکرا کر بولی۔
​زریاب نے اپنی ڈائری بند کر دی، لیکن اسے محسوس ہوا کہ اس لڑکی کی آمد نے اس کے بنجر کاغذوں پر ایک نئی نظم کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ماروی نے اس کی ڈائری پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، "سائیں! محبت صرف اردو کی نزاقت میں نہیں ہوتی، کبھی سندھ کی لہروں میں اتر کر دیکھیں، وہاں عشق سچل اور لطیف کی صورت میں بولتا ہے۔"
​زریاب کو لگا جیسے آج اسے پہلی بار کوئی چیلنج ملا ہو۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ماروی کے ساتھ یہ پہلی ملاقات اسے ایک ایسے راستے پر لے جائے گی جہاں اردو اور سندھی کے لفظ مل کر ایک انوکھی 'پیار کی نظم' بن جائیں گے۔

اگر آپ کو اس کہانی کی قسط نمبر 2 چاہیے، تو کمنٹ میں ضرور بتائیں! 👇


پیار_کی_نظم #محبت #شاعری #داستانِ_عشق #ادب

03/04/2026
03/04/2026

*کہا تھا نا۔۔۔*

کہا تھا نا کہ ایسے سوتے ہوئے مت چھوڑ کر جانا
مجھے بے شک جگا دینا، بتا دینا

تمہیں رستہ بدلنا ہے، میری حد سے نکلنا ہے
تمہیں کس بات کا ڈر تھا؟

تمہیں جانے نہیں دیتا؟ کہیں پر قید کر لیتا؟
ارے پاگل! محبت کی طبیعت میں زبردستی نہیں ہوتی

جسے رستہ بدلنا ہو، اسے رستہ بدلنے سے
جسے حد سے نکلنا ہو، اسے حد سے نکلنے سے
نہ کوئی روک پایا ہے، نہ کوئی روک پائے گا

تمہیں کس بات کا ڈر تھا؟
مجھے بے شک جگا دیتیں
میں تم کو دیکھ ہی لیتا
تمہیں کوئی دعا دیتا

کم از کم یوں تو نہ ہوتا

میرے ساتھی! حقیقت ہے
تمہارے بعد کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں باقی

مگر۔۔۔
کھونے سے ڈرتا ہوں
میں اب سونے سے ڈرتا ہوں

🥀🥀🥀

Address

Village Muhammad Yousif Nangor, MeharHaji, Taluka Mahrabpur District Naushahro Feroze
Karachi
75750

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when pyaar ki azam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category