26/04/2026
ماں کا سایہ سر سے اٹھ جائے تو زندگی کی دھوپ اور بھی تیز لگنے لگتی ہے…
دانش تیمور کی آنکھوں میں آج وہ خاموشی تھی جو لفظوں سے بیان نہیں ہوتی۔
ماں صرف ایک رشتہ نہیں ہوتی، وہ دعا ہوتی ہے، وہ سکون ہوتی ہے، وہ زندگی کا سب سے مضبوط سہارا ہوتی ہے۔
آج وہ سہارا چھن گیا…
گھر ویسا ہی تھا، دیواریں وہی تھیں، مگر ہر چیز اداس لگ رہی تھی۔
ہر کونے میں ماں کی آواز گونج رہی تھی، مگر وہ خود کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔
دانش تیمور ٹوٹ تو چکا تھا، مگر آنسو بھی جیسے اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔
وہ جانتا تھا کہ ماں کبھی واپس نہیں آئے گی… مگر دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔
ماں کے بغیر زندگی ادھوری لگتی ہے…
اور کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے… صرف انسان جینا سیکھ لیتا ہے۔