Girils like Man

Girils like Man Welcome to our page | Quality content & daily updates | Stay connected 👍”

میں رات کو فری ہوتی ہوں چلیں پیار بھری باتیں کریں😘
16/05/2026

میں رات کو فری ہوتی ہوں چلیں پیار بھری باتیں کریں😘

*جھکتا نہيں يہ سر کسی نواب کے آگے* ♥️🙂 *ہم اپنی غريبی ميں بھی اميری کی ادا رکھتے ہيں*♥️🙂
13/05/2026

*جھکتا نہيں يہ سر کسی نواب کے آگے* ♥️🙂
*ہم اپنی غريبی ميں بھی اميری کی ادا رکھتے ہيں*♥️🙂

آج پہلی بار کسی نے سڑک کے قریب جھاڑیوں میں لی ہے🙈
12/05/2026

آج پہلی بار کسی نے سڑک کے قریب جھاڑیوں میں لی ہے🙈

عمدہ سیکس کی نشانی یہ بھی ہے کہ اس کے بعد عورت کے بال بکھرے جسم پسینے سے شرابور ہو اور وہ ہلنے جلنے کی قابل نہ ہو اور مر...
12/05/2026

عمدہ سیکس کی نشانی یہ بھی ہے کہ
اس کے بعد عورت کے بال بکھرے جسم پسینے سے شرابور ہو اور وہ ہلنے جلنے کی قابل نہ ہو اور مرد بھی مدہوش پڑا ھو......😘😘😘

رات کا وقت ہے جھوٹ نہیں بول رہی ہوں مجھے ایک مرد کی ضرورت ہے میری شرط 1 ہے سچا پیار کریں اور ہر روز کریں😘
11/05/2026

رات کا وقت ہے جھوٹ نہیں بول رہی ہوں مجھے ایک مرد کی ضرورت ہے میری شرط 1 ہے سچا پیار کریں اور ہر روز کریں😘

**شادی شدہ جوڑے کی پرجوش رات**رات بہت گہری ہو چکی تھی۔ کمرے میں صرف ایک ہلکی سی لیمپ کی روشنی پھیل رہی تھی۔ احمد اور سائ...
10/05/2026

**شادی شدہ جوڑے کی پرجوش رات**

رات بہت گہری ہو چکی تھی۔ کمرے میں صرف ایک ہلکی سی لیمپ کی روشنی پھیل رہی تھی۔ احمد اور سائمہ، دس سال کی شادی کے بعد بھی ایک دوسرے کے لیے ویسے ہی بے تاب تھے جیسے شادی کے پہلے دن تھے۔ آج ان کی بیٹی دادی کے گھر گئی ہوئی تھی، گھر میں صرف وہ دونوں تھے۔

سائمہ باورچی خانے سے واپس آئی تو احمد صوفے پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے ساڑھی کا پلو تھوڑا سا ڈھیلا چھوڑ رکھا تھا۔ احمد نے اسے اپنی گود میں کھینچ لیا اور گہرے بوسے سے اس کے ہونٹوں کو بھر دیا۔ سائمہ شرما کر اس کے گلے سے لپٹ گئی۔ دونوں کے جسم ایک دوسرے میں گھلنے لگے۔

احمد نے سائمہ کو اٹھا کر بستر پر لے آیا۔ اس نے آہستہ آہستہ اس کی ساڑھی اتاری، بلاؤز کے ہک کھولے اور برا بھی اتار دیا۔ سائمہ کی خوبصورت چھاتیں اس کے سامنے تھیں۔ احمد نے انہیں ہاتھوں سے سہلایا، چوما اور نرم نچوڑا۔ سائمہ کی سانسوں کی رفتار بڑھ گئی۔ وہ آہستہ آہستہ کراہ رہی تھی۔

احمد کا ہاتھ سائمہ کی ٹانگوں کے درمیان گیا۔ اس نے شلوار کا ناڑا کھولا اور پینٹی بھی اتار دی۔ سائمہ اب پوری طرح ننگی اس کے سامنے لیٹی تھی۔ اس نے احمد کی شرٹ اور پینٹ بھی اتاری۔ احمد کا جسم سخت ہو چکا تھا۔ سائمہ نے شرماتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اسے چھوا اور آہستہ آہستہ سہلانے لگی۔

احمد نے سائمہ کی ٹانگیں الگ کیں اور اس کے اوپر آ گیا۔ دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے میں گھل گئیں۔ احمد نے آہستہ سے اپنا عضو سائمہ کی گرم اور نم جگہ پر رکھا اور دباؤ کے ساتھ اندر داخل ہو گیا۔ سائمہ نے لمبی آہ بھری اور اس کی پیٹھ میں ناخن گڑا دیے۔

احمد نے دھیرے دھیرے حرکت شروع کی۔ ہر حرکت کے ساتھ سائمہ کی چھاتیں ہل رہی تھیں۔ وہ اسے مزید گہرائی میں لینے کے لیے کمر اٹھا رہی تھی۔ احمد کی رفتار بڑھتی گئی۔ وہ زور زور سے اس کے اندر باہر ہو رہا تھا۔ سائمہ کے منہ سے مسلسل سسکاریاں نکل رہی تھیں۔ "اور گہرا… اور تیز…" وہ تڑپ رہی تھی۔

کچھ دیر بعد سائمہ نے احمد کو الٹا لٹا دیا اور خود اس کے اوپر آ گئی۔ اب وہ اس پر سوار تھی۔ اس نے اپنی کمر کو اوپر نیچے کرنا شروع کیا۔ احمد کے ہاتھ اس کی کمر، چھاتیوں اور نشیمن کو سہلا رہے تھے۔ سائمہ تیزی سے حرکت کر رہی تھی۔ اس کے لمبے بال احمد کے چہرے پر بکھر رہے تھے۔ اچانک اس کا جسم تن کر کانپ اٹھا اور وہ پہلی بار عروج پر پہنچ گئی۔

احمد نے اسے نیچے لٹایا اور پھر سے اس کے اندر داخل ہو گیا۔ اب اس کی حرکتیں بہت تیز اور گہری تھیں۔ سائمہ کی آنکھیں بند تھیں، وہ لذت کے سمندر میں ڈوب چکی تھی۔ احمد نے اس کے ہاتھ اوپر پکڑ لیے اور پوری طاقت سے پیار کیا۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد دونوں ایک ساتھ عروج کے قریب پہنچ گئے۔ احمد نے آخری زور دار دھکے مارے اور اپنا گرم مادہ سائمہ کے اندر چھوڑ دیا۔ سائمہ بھی دوسری بار کانپ اٹھی۔ دونوں تھک کر ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔

تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد سائمہ باتھ روم سے تولیہ لپیٹ کر واپس آئی۔ احمد نے مسکراتے ہوئے اسے دوبارہ بستر پر کھینچ لیا۔ اس بار اس نے سائمہ کو گھٹنوں کے بل کروایا اور پیچھے سے اسے اپنے ساتھ ملا لیا۔ سائمہ کی نشیمن ہر حرکت کے ساتھ ہل رہی تھی۔ احمد نے اس کے بال ہلکے سے پکڑے اور تیز تیز پیار کرنے لگا۔

رات بھر یہ حسین سلسلہ جاری رہا۔ کبھی وہ اوپر، کبھی سائمہ اوپر، کبھی دونوں ایک دوسرے کے سامنے لیٹے ہوئے۔ بار بار وہ ایک دوسرے کو نئی لذت دے رہے تھے۔ صبح کے قریب دونوں بالکل تھک چکے تھے لیکن چہروں پر خوشی چمک رہی تھی۔

سائمہ احمد کے سینے سے سر لگائے لیٹی تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا، "یہ رات میں کبھی نہیں بھولوں گی۔"

احمد نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولا، "شادی شدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارا رومانس اور جذبہ ختم ہو گیا۔ ہم ہر ہفتے ایسی راتیں گزارا کریں گے۔"

دونوں مسکرائے اور ایک دوسرے کی گرم بانہوں میں سماتے رہے۔ باہر سورج نکل آیا تھا مگر ان کے کمرے میں اب بھی عشق کی مستی باقی تھی۔

میرے والد مرحوم ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ پاکستانی لوگ بہت وفادار اور مخلص ہوتے ہیں۔ میں ڈنمارک سے ہوں اور ایک اچھے، ایماندا...
10/05/2026

میرے والد مرحوم ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ پاکستانی لوگ بہت وفادار اور مخلص ہوتے ہیں۔ میں ڈنمارک سے ہوں اور ایک اچھے، ایماندار اور سچے پاکستانی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔
مجھے ایک ایسا انسان چاہیے جو دل کا صاف، عزت کرنے والا اور رشتے کی قدر کرنے والا ہو۔ عمر کی کوئی قید نہیں۔
اگر آپ سنجیدہ ہیں تو اس پیج پر آئیں اور اپنا نمبر کمنٹ میں چھوڑ دیں، میں خود آپ سے رابطہ کروں گی۔
تمام خرچہ میں خود برداشت کروں گی۔

09/05/2026

گرم ہوں بہت زیادہ اپنا whatsappنمبر لکھ کر دے رات کو بات کروں گی پیچ کو فالو کرنا نہ بولنا شکریہ❤️❤️

میرا نام ارشد ہے اور میں سرگودھا رہتا ہوں میری عمر 30 سال ہے اور میں شادی شدہ ہوں ۔میں ایک درمیانے خاندان سے ہوں ہمارے گ...
09/05/2026

میرا نام ارشد ہے اور میں سرگودھا رہتا ہوں میری عمر 30 سال ہے اور میں شادی شدہ ہوں ۔
میں ایک درمیانے خاندان سے ہوں ہمارے گھر کے سامنے ایک کریانہ کی دوکان ہے جیسے محلے کے گھروں میں بنی ہوتی میرا ان کے گھر بھی آنا جانا تھا کیوں کہ ان کے گھر کوئ مرد نہیں رہتا وہ ایک ماں اور دو بیٹیاں رہتی ہیں ایک کی عمر 26 سال ہے اور دوسری 18 سال کی بڑی بیٹی کو طلاق ہوئ تھی اسکا جسم جیسے کوئ سراہی دل کرتا بندا دیکھتا جاۓ میرے خیال سے 36 سائز ہوگا میں جب دیکھتا منہ سے پانی نکلنے لگتا اب آتے ہے ہیں کہانی کی طرف۔
اس کے گھر آتے جاتے یا دوکان پے سامان لیتے وہ مجھے دیکھتی رہتی اور میں اسے آنکھوں میں ایک دوسرے کی پیاس دیکھتی لیکن ڈد کی وجہ سے بول نا پاتے میرے وائف 5 ماہ سے حمل سے تھی اور میرا صبر بھی اب ختم تھا میں ایک دن سیکس کے علاوہ مشکل سے نکالتا اور اب 5 ماہ ہو گۓ ایک دن دوپہر کو میں انکی دوکان پے کچھ لینے گیا وہ ہی نکلی اسکا نام مہوش تھا میں نے سامان لیا اسے پیسے دیے اور نوٹ نیچے گر گیا وہ جھک کے اٹھانے لگی اسکا کھلا گلا اس کے فٹ بال جیسے گول گول ممے دیکھ کے میں تو سکتے میں چلا گیا اس نے کب نوٹ اٹھایا اوپر کھڑی ہوئ مجھے نہیں معلوم مجھے تب ہوش آیا جب اس نے مجھے ہلا کے بولا کیا ہوا میں کہا کچھ نہیں کہتی کہ۔تم نے یہ پہلی بار تھوڑا دیکھا جو یہ حالت بنا لی میں کہا ایسا پہلی بار دیکھا یہ بول کے وہ بھی چلی گئ اور میں بھی گھر آگیا پھر شام کو ہم آمنے سامنے آۓ تو میں کہا مہوش تم خود کو کیسے سنبھال لیتی میرے حوالے کر دو کہتی سوچوں گی پھر دو دن بعد اسکی ماں اور چھوٹی بہن ہسپتال گئ اور میں دوکان پے گیا میں پوچھا کدر ہیں کہتی میں اکیلی ہوں میں بولا آج چاۓ پلا دو کہتی دودھ نہیں میں بولا نکال لوں گا تم۔اجازت دو کہتی تمہاری مرضی پھر ہم دونوں کمرے میں چلے گئے وہ میرے پاس بیٹھ گئ جیسے میں نے اپنا ھاتھ اسکی گردن پے رکھا اسے تو کرنٹ لگ گیا کہتی آرام سے بہیت سالوں کی پیاسی ہوں میں اسے پکڑا اور ہونٹ چوسنے شروع کر دیئے وہ مجھ سے زیادہ گرم اور جوش میں تھی مجھے ایسا لگا جیسے وہ میرے ہونٹ کھا جاۓگی میں اسکی گردن پے ھاتھ پھیرنے لگا اور وہ مست ہوتی گئ ہم دونوں نے کب ایک دوسرے کو ننگا کر دیا معلوم نہیں اسکے ممے تو ایسے جیسے فٹبال گول گول سخت اسکی نپل پنک دیکھ کے مجھے ہوش نا رھا میں پاگلوں کی طرح مموں کو چوسنے لگا چاٹنے لگا اسکی گلائیاں ایسے جیسے کسی نے زاویے سے بنائ ہوں میں چوستا رہا ہم دونوں ایک دوسرے میں کھو گئے اب اس نے ایک دم سے میرا لن پکڑا اور اسکی مالش شروع کر دی میں اور مدہوش ہو گیا پھر اس نے جب منہ کھولا میں حیران ہو گیا کہ اتنی سادہ نظر آنے والی اتنی گرم ہے اندر سے اس نے چوسنا شروع کر دیا کبھی زبان پھیرے کبھی چوسے تو کبھی چاٹے میں اسے بالوں سےپکڑ کر زور زور سے لن پے دبا رہا پھر میں نے اسے بیڈ پے لیٹا دیا اسکی ٹانگیں کھولی اسکی پھدی جو آج ہی صاف کی تھی اس نے مجھے اپنی طرف بلا رہی تھی میں نے اپنے ھاتھ سے اسکی مالش کی بہت دنوں بعد اسکی پھدی کو کسی نے ٹچ کیا میرے ٹچ کرنے سے اسکی پھدی گیلی ہو گئ میں اسکی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا اور پھدی کے آس پاس زبان پھیرنے لگا وہ سسکیاں بھرنے لگی میں نے اسکی پھدی کو کھولا اور اپنی زبان اندر ڈال دی اور چوسنے لگا وہ آہ آہ کرنے لگی اسکی اواز مجھے اور جوش دلا رہی تھی میں پھدی کو زور زور سے چاٹ رہا اسکا پانی نکلنے لگا میں اسکے پانی کی بو سے اور مدہوش ہو گیا مجھے نہیں معلوم ہوا کہ میں پانی بھی پی گیا اسکے ممے اب انگڑائیاں لے رہے تھے بہت سی دیر پھدی کو چوسنے چاٹنے کے بعد وہ بولی اب اسکو اپنے لن سے چودو اتنا چودو کہ اسکا سارا زنگ اتر جاۓ پھر میں نے اسے گھوڑی بنا کے اسکی گانڈ پے ھاتھ پھیرا اسکی مالش کی اسکی گانڈ بھی اسکے مموں کی طرح گول تھی پھر میں نے اپنا لن پکڑا اور تھوک لگا کے اسکی پھدی پے پھیرنا شروع کیا وہ تڑپنے لگی کہتی اب ڈال دو پھر میں نے ٹوپی اندر ڈالی تو اسکی آہ نکلی میں پھر نکال لی وہ اور تڑپنے لگی پھر اس نے میرا لن پکڑ ک پھدی پے رکھا اور بولا جتنا زور لگتا لگا دو میں نے ایک ہی جھٹکے سے سارا اندر کر دیا وہ چیخنے لگی اور بولی چودو اس ترسی ہوئی پھدی کو میں بھی جوش میں جھٹکے لگا رھا تھا اسکی گردن سے پکڑ کے پورا اندر ڈال رہا تھا نکال رہا تھا ہم دونوں کا جوش اب عروج پر تھا پھر میں نے اسے لمبا کر کے ٹانگیں اٹھا کے اپنے کندھوں پے رکھی اور اسکی پھدی کی چدائی شروع کر دی میرا لن اسکی پھدی کی گہرائی تک جا رہا تھا میں جب اسے جھٹکا لگاتا وہ مجھے زور سے باہوں میں کس لیتی اسکے گول گول ممے میں چوسنے لگا اور زور زور سے چودنے لگا اسکا پانی نکلنے لگا لن سلپ ہو رہا تھا پھدی کے پانی سے سلپ ہو کر پن ایک دم سے گانڈ میں چلا گیا اور اسکی چیخ نکل گئی بولی مار دیا مجھے پھاڑ دی میری گانڈ میرا لن بھی اپنی پانی نکالنے کو تیار تھا میں زور زور سے چودنے لگا اسکی گانڈ ماری اب ایک زور کا جھٹکا لگا کے اسکے اوپر لیٹ گیا اور لن کا سارا پانی گانڈ کے اندر نکال دیا اب میں اسکے مموں کو آرام آرام سے چوس رہا تھا اور میرا لن اسکی گانڈ میں ٹھنڈا ہونے لگا پھر ہم نے ایک دوسرے کو زور سے گلے لگایا اور اب جب بھی موقع ملتا ہم ایک دوسرے کی پیاس بجھاتے

آجاو کینیڈا، پیسے اور مزے دونوں ملیں گے۔ میری عمر اکتیس سال ہے، کینیڈا کی رہائشی ہوں۔ دو شوہر تھے، دونوں نے چھوڑ دیا۔ می...
09/05/2026

آجاو کینیڈا، پیسے اور مزے دونوں ملیں گے۔ میری عمر اکتیس سال ہے، کینیڈا کی رہائشی ہوں۔ دو شوہر تھے، دونوں نے چھوڑ دیا۔ میں بچے پیدا نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی سچا اور مخلص پاکستانی ہو وہ میرے پیج پر آ کر کمٹمنٹ کرے اور اپنا نام اور اپنا واٹس ایپ نمبر شیئر کرے، میں خود ان سے رابطہ کروں گی۔ کوئی نکاح کرنا چاہے نکاح کر لے، اگر نکاح نہیں کرنا ویسے ساتھ رہنا ہے ویسے بھی ساتھ رہے۔ تو وہ حضرات رابطہ کریں جن کو مردانہ مسئلہ نہ ہو۔ پہلے بھی دو شوہر پاکستان سے منگوائے تھے، ان کو مردانہ مسئلہ تھا۔ اس لیے اب وہ آئیں جن کو مردانہ مسئلہ نہ ہو۔ جو ڈنڈا ہے نا وہ مضبوط ہونا چاہیے۔ ہفتے میں پانچ بار کرنا ہوگا لازمی۔


🌿 فروخت کے لیے شاندار زرعی زمین – جھبیل (چکوال خوشاب روڈ) 🌿🏡 رقبہ: 12 ایکڑ💧 خصوصیات:✔ نہری پانی دستیاب✔ ڈیرہ موجود✔ انتہ...
01/02/2026

🌿 فروخت کے لیے شاندار زرعی زمین – جھبیل (چکوال خوشاب روڈ) 🌿
🏡 رقبہ: 12 ایکڑ
💧 خصوصیات:
✔ نہری پانی دستیاب
✔ ڈیرہ موجود
✔ انتہائی زرخیز اور قابلِ کاشت زمین
🛣️ لوکیشن:
📍 جھبیل، چکوال–خوشاب روڈ
مین روڈ کے ساتھ واقع، آسان رسائی، پُرامن ماحول
✨ یہ زمین زراعت کے لیے بہترین ہے اور فارم ہاؤس یا رہائشی استعمال کے لیے بھی نہایت موزوں ہے۔
💰 قیمت اور مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:
📞 0336-0121299

Address

Khushab

Telephone

+923360121299

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Girils like Man posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Girils like Man:

Share