10/05/2026
**شادی شدہ جوڑے کی پرجوش رات**
رات بہت گہری ہو چکی تھی۔ کمرے میں صرف ایک ہلکی سی لیمپ کی روشنی پھیل رہی تھی۔ احمد اور سائمہ، دس سال کی شادی کے بعد بھی ایک دوسرے کے لیے ویسے ہی بے تاب تھے جیسے شادی کے پہلے دن تھے۔ آج ان کی بیٹی دادی کے گھر گئی ہوئی تھی، گھر میں صرف وہ دونوں تھے۔
سائمہ باورچی خانے سے واپس آئی تو احمد صوفے پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے ساڑھی کا پلو تھوڑا سا ڈھیلا چھوڑ رکھا تھا۔ احمد نے اسے اپنی گود میں کھینچ لیا اور گہرے بوسے سے اس کے ہونٹوں کو بھر دیا۔ سائمہ شرما کر اس کے گلے سے لپٹ گئی۔ دونوں کے جسم ایک دوسرے میں گھلنے لگے۔
احمد نے سائمہ کو اٹھا کر بستر پر لے آیا۔ اس نے آہستہ آہستہ اس کی ساڑھی اتاری، بلاؤز کے ہک کھولے اور برا بھی اتار دیا۔ سائمہ کی خوبصورت چھاتیں اس کے سامنے تھیں۔ احمد نے انہیں ہاتھوں سے سہلایا، چوما اور نرم نچوڑا۔ سائمہ کی سانسوں کی رفتار بڑھ گئی۔ وہ آہستہ آہستہ کراہ رہی تھی۔
احمد کا ہاتھ سائمہ کی ٹانگوں کے درمیان گیا۔ اس نے شلوار کا ناڑا کھولا اور پینٹی بھی اتار دی۔ سائمہ اب پوری طرح ننگی اس کے سامنے لیٹی تھی۔ اس نے احمد کی شرٹ اور پینٹ بھی اتاری۔ احمد کا جسم سخت ہو چکا تھا۔ سائمہ نے شرماتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اسے چھوا اور آہستہ آہستہ سہلانے لگی۔
احمد نے سائمہ کی ٹانگیں الگ کیں اور اس کے اوپر آ گیا۔ دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے میں گھل گئیں۔ احمد نے آہستہ سے اپنا عضو سائمہ کی گرم اور نم جگہ پر رکھا اور دباؤ کے ساتھ اندر داخل ہو گیا۔ سائمہ نے لمبی آہ بھری اور اس کی پیٹھ میں ناخن گڑا دیے۔
احمد نے دھیرے دھیرے حرکت شروع کی۔ ہر حرکت کے ساتھ سائمہ کی چھاتیں ہل رہی تھیں۔ وہ اسے مزید گہرائی میں لینے کے لیے کمر اٹھا رہی تھی۔ احمد کی رفتار بڑھتی گئی۔ وہ زور زور سے اس کے اندر باہر ہو رہا تھا۔ سائمہ کے منہ سے مسلسل سسکاریاں نکل رہی تھیں۔ "اور گہرا… اور تیز…" وہ تڑپ رہی تھی۔
کچھ دیر بعد سائمہ نے احمد کو الٹا لٹا دیا اور خود اس کے اوپر آ گئی۔ اب وہ اس پر سوار تھی۔ اس نے اپنی کمر کو اوپر نیچے کرنا شروع کیا۔ احمد کے ہاتھ اس کی کمر، چھاتیوں اور نشیمن کو سہلا رہے تھے۔ سائمہ تیزی سے حرکت کر رہی تھی۔ اس کے لمبے بال احمد کے چہرے پر بکھر رہے تھے۔ اچانک اس کا جسم تن کر کانپ اٹھا اور وہ پہلی بار عروج پر پہنچ گئی۔
احمد نے اسے نیچے لٹایا اور پھر سے اس کے اندر داخل ہو گیا۔ اب اس کی حرکتیں بہت تیز اور گہری تھیں۔ سائمہ کی آنکھیں بند تھیں، وہ لذت کے سمندر میں ڈوب چکی تھی۔ احمد نے اس کے ہاتھ اوپر پکڑ لیے اور پوری طاقت سے پیار کیا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد دونوں ایک ساتھ عروج کے قریب پہنچ گئے۔ احمد نے آخری زور دار دھکے مارے اور اپنا گرم مادہ سائمہ کے اندر چھوڑ دیا۔ سائمہ بھی دوسری بار کانپ اٹھی۔ دونوں تھک کر ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔
تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد سائمہ باتھ روم سے تولیہ لپیٹ کر واپس آئی۔ احمد نے مسکراتے ہوئے اسے دوبارہ بستر پر کھینچ لیا۔ اس بار اس نے سائمہ کو گھٹنوں کے بل کروایا اور پیچھے سے اسے اپنے ساتھ ملا لیا۔ سائمہ کی نشیمن ہر حرکت کے ساتھ ہل رہی تھی۔ احمد نے اس کے بال ہلکے سے پکڑے اور تیز تیز پیار کرنے لگا۔
رات بھر یہ حسین سلسلہ جاری رہا۔ کبھی وہ اوپر، کبھی سائمہ اوپر، کبھی دونوں ایک دوسرے کے سامنے لیٹے ہوئے۔ بار بار وہ ایک دوسرے کو نئی لذت دے رہے تھے۔ صبح کے قریب دونوں بالکل تھک چکے تھے لیکن چہروں پر خوشی چمک رہی تھی۔
سائمہ احمد کے سینے سے سر لگائے لیٹی تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا، "یہ رات میں کبھی نہیں بھولوں گی۔"
احمد نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولا، "شادی شدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارا رومانس اور جذبہ ختم ہو گیا۔ ہم ہر ہفتے ایسی راتیں گزارا کریں گے۔"
دونوں مسکرائے اور ایک دوسرے کی گرم بانہوں میں سماتے رہے۔ باہر سورج نکل آیا تھا مگر ان کے کمرے میں اب بھی عشق کی مستی باقی تھی۔