07/04/2026
درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا۔
الھم یا منزل القرآن و یا محرک القرآن
وہ شخص جس نے قرآن کو خلا تک پہنچایا — عبدالاحد مومند
جب انسان پہلی بار زمین سے باہر گیا تو دنیا نے اسے سائنس کی فتح کہا۔ جب مختلف ممالک کے خلا باز اپنے اپنے قومی پرچم خلا میں لے گئے تو اسے قومی فخر سمجھا گیا۔ لیکن ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب ایک مسلمان خلا باز اپنے ساتھ صرف اپنے ملک کی نمائندگی ہی نہیں بلکہ ایمان کی روشنی بھی لے گیا — وہ لمحہ تھا جب عبدالاحد مومند نے مقدس قرآن مجید کو خلا میں اپنے ساتھ لے جا کر تاریخ میں ایک منفرد باب رقم کیا۔
1988 میں (اکثر لوگ غلطی سے 1989 کہتے ہیں) جب عبدالاحد مومند خلائی سفر پر روانہ ہوئے تو وہ صرف افغانستان کے پہلے خلا باز نہیں تھے بلکہ ایک ایسی روحانی علامت بن گئے جس نے یہ ثابت کیا کہ انسان جہاں بھی جائے، اپنی شناخت اور اپنے عقیدے کو ساتھ لے کر جاتا ہے۔
سوچیے، زمین ہزاروں میل نیچے خاموشی سے گردش کر رہی ہو، چاروں طرف لامتناہی خلا ہو، اور ایک انسان اپنے ہاتھوں میں قرآن تھامے بیٹھا ہو۔ اس لمحے میں صرف ایک خلا باز موجود نہیں تھا، بلکہ ایک پوری تہذیب، ایک پوری تاریخ، اور کروڑوں دلوں کی عقیدت بھی اس کے ساتھ محوِ سفر تھی۔
خلاء میں پہنچ کر انہوں نے پشتو زبان میں گفتگو بھی کی، اور یوں پہلی مرتبہ پشتو کی آواز زمین سے بلند ہو کر خلا تک پہنچی۔ یہ صرف ایک زبان نہیں تھی، یہ اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو تھی جو ستاروں کے درمیان سنائی دی۔
عبدالاحد مومند کا یہ عمل اس لیے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ سائنس اور ایمان ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ انسان کے اندر دونوں ساتھ ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں۔ راکٹ انسان کو زمین سے اوپر لے جا سکتا ہے، مگر روح کو سکون پھر بھی انہی لفظوں سے ملتا ہے جو دل کے قریب ہوں۔
بہت سے خلا باز اپنے ساتھ جھنڈے لے گئے، کچھ یادگار اشیاء لے گئے، لیکن عبدالاحد مومند اپنے ساتھ وہ کتاب لے گئے جسے کروڑوں لوگ اللہ کا کلام مانتے ہیں۔
اسی لیے ان کا نام صرف خلائی تاریخ میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے جذبات میں بھی محفوظ ہے — کیونکہ انہوں نے ثابت کیا کہ آسمان کی بلندی بھی ایمان کی روشنی کو کم نہیں کر سکتی۔
آپ ایسے شخص کیلئے ماشاا للہ لکھو گے یا سبحان الله