21/12/2025
🌳اسلام میں پھل دار درخت لگانے کی اہمیت — قرآن و حدیث کی روشنی میں
1️⃣ تعارف
درخت لگانا صرف زمین کو سبز کرنا نہیں بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو ماحول، معیشت، صحت اور روحانیت کے لحاظ سے بے حد اہم ہے۔
اسلام نے انسان کو صرف عبادت کا حکم نہیں دیا بلکہ زمین کی آبادکاری، پانی کی حفاظت اور مخلوق کو فائدہ دینے کا بھی حکم دیا ہے۔ درخت لگانا ان تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ پورا کرتا ہے۔
2️⃣ قرآن مجید میں درختوں اور باغات کا ذکر
قرآن میں تقریباً 750 آیات میں براہِ راست یا بالواسطہ قدرت، پودوں اور باغات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ فطرت اور سرسبز ماحول ایمان اور شکر گزاری کی علامت ہے۔
سورۃ النحل: 10–11
"اللہ ہی ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے، اس سے تم پیتے ہو اور اس سے چارہ اُگتا ہے جس میں تم اپنے جانور چراتے ہو۔ وہی تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغات پیدا کرتا ہے... اس میں غور کرنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔"
سورۃ التین: 1
"قسم ہے انجیر اور زیتون کی۔"
سورۃ الانعام: 99
"اللہ ہی ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر ہم اس سے ہر قسم کی نباتات اگاتے ہیں... کھجور کے خوشے اور انگور کی بیلیں، زیتون اور انار پیدا کرتے ہیں۔"
3️⃣ احادیث مبارکہ میں فضیلت
💠 درخت لگانا صدقۂ جاریہ ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیت بوتا ہے، پھر اس سے کوئی انسان، پرندہ یا جانور کھاتا ہے، تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔"
(صحیح بخاری 2320، صحیح مسلم 1553)
💠 قیامت کے دن بھی درخت لگاؤ
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو، اور وہ اسے لگا سکتا ہو، تو وہ لگا دے۔"
(مسند احمد، حدیث 12902)
💠 سب کے فائدے کا باعث
آپ ﷺ نے فرمایا:
"جب کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے تو جو کچھ اس سے کھایا جاتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ ہے، جو اس میں سے چوری کیا جاتا ہے، وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے، اور جو کچھ اس میں سے جانور کھا جاتے ہیں، وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔"
(مسند احمد، 4/61)
: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات اعمال ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب بندے کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ، حالاں کہ وہ قبر میں ہوتاہے :
(1) جس نے علم سکھایا ، (2) یا نہر کھدوائی ، (3) یا کنواں کھودا (یا کھدوایا)، (4) یا کوئی درخت لگایا ، (5) یا کوئی مسجد تعمیر کی، (6) یا قرآن شریف ترکے میں چھوڑا، (7) یا ایسی اولاد چھوڑ کر دنیا سے گیا جو مرنے کے بعد اس کے لیے دعائے مغفرت کرے
4️⃣ سائنسی و معاشرتی پہلو
ماحول کی حفاظت: درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کم کرتے ہیں اور آکسیجن پیدا کرتے ہیں 🌱۔
زمین کی زرخیزی: جڑیں مٹی کو باندھ کر کٹاؤ سے بچاتی ہیں۔
پانی کا تحفظ: بارش کا پانی زمین میں جذب کر کے زیرِ زمین پانی بڑھاتی ہیں۔
حیاتیاتی تنوع: پرندوں اور جانوروں کو خوراک اور پناہ فراہم کرتے ہیں۔
5️⃣ روحانی فائدہ
یہ عمل دنیا میں فائدہ اور آخرت میں دائمی اجر دیتا ہے۔
ایک درخت صدقہ جاریہ ہے، جس کا ثواب تب تک جاری رہتا ہے جب تک کوئی اس سے فائدہ لے رہا ہو۔
6️⃣ نتیجہ
درخت لگانا اسلام میں ایک عبادت، معاشرتی خدمت اور ماحول دوست عمل ہے۔ یہ زمین کو سنوارنے، فضا کو صاف کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ماحول چھوڑنے کا طریقہ ہے۔
جو قوم اس سنت کو اپناتی ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتی ہے۔
📚 حوالہ:
صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند احمد