03/01/2026
قید . Episode 7
𝐎𝐰𝐍𝐞𝐑─
✍️★مَلِک مَعصُوم رائِٹس💫
جمیلہ خاتون کو گھر سے گئے خاصی دیر ہو چکی تھی۔ وہ بار بار اپنی ماں کو کال کرتی، مگر دوسری طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ یہ صورت حال اس کے لیے نئی اور خوفناک تھی—اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔
ایک لمحے کو سارہ کے دل میں خیال آیا کہ شاید اُسے زارون سے مل لینا چاہیے، شاید اس طرح اس کی ماں محفوظ رہ سکتی ہے۔ مگر اگلے ہی لمحے اس نے یہ سوچ جھٹک دی۔ وہ کسی صورت اس آ وارہ انسان سے نہیں ملے گی۔
سورج سر پر آیا، پھر ڈھلا۔ شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے، مگر جمیلہ خاتون واپس نہ آئیں۔ اب سارہ کی حالت قریب تھی کہ چیخیں مار کر رو دے۔ خالہ الماس بھی کچھ دیر پہلے اپنے گھر جا چکی تھیں۔ سارہ نے ایک بار پھر کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی ماں کو فون کیا، لیکن بدستور کوئی جواب نہ ملا۔
تبھی دروازے کی بیل بجی۔
سارہ ہڑبڑا کر اٹھی اور بھاگ کر دروازہ کھولا۔ سامنے جو منظر تھا، اُس نے اُسے گویا پتھر کا کر دیا۔ مطلب زارون نے اپنا کہا سچ کر دیکھایا۔
جمیلہ خاتون کی پیشانی پر پٹی بندھی تھی، ہاتھ پر معمولی زخم تھا، اور چہرے پر ہلکی تھکن کی پرچھائیاں تھیں۔
"امی... یہ سب کیسے ہوا؟"
سارہ تڑپ کر اُن کے قریب پہنچی اور سہارا دے کر صوفے تک لے آئی۔ خود بھاگ کر پانی کا گلاس لائی۔
جمیلہ خاتون نے چند گھونٹ پانی پیے اور گلاس میز پر رکھتے ہوئے بیٹی کو دیکھا، جس کے چہرے کا رنگ زرد ہو چکا تھا۔
"ارے بیٹا، تم اتنی پریشان کیوں ہو؟ کچھ خاص چوٹ نہیں آئی۔ اب یہ ڈاکٹر بھی تو... چھوٹے سے زخم پر اتنی بڑی پٹی باندھ دیتے ہیں،"
انہوں نے نرم لہجے میں بیٹی کو تسلی دی۔
"مگر امی... یہ سب ہوا کیسے؟"
سارہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔
"بیٹا، ان امیر زادوں کو نہ اپنی گاڑیوں کا ہوش ہوتا ہے نہ سڑک پر چلنے والوں کا۔ ایک لڑکے کی گاڑی سے معمولی ٹکر ہو گئی تھی۔"
وہ چادر اتار کر ایک طرف رکھ چکی تھیں۔ سارہ کی بےچینی بدستور قائم تھی۔
"امی، آپ مجھے بلوا لیتیں... میں صبح سے آپ کو کال کر رہی ہوں، آپ کا نمبر بند آ رہا تھا۔"
"ارے بیٹا، پریشان نہ ہو۔ ایک نیک دل لڑکا تھا، اُسی نے مجھے ہسپتال پہنچایا۔ میرے ساتھ رُکا بھی، دوائیں بھی لے آیا، اور ابھی مجھے گلی کے باہر اُتار کر گیا ہے۔ فون تو بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو گیا تھا، یاد ہی نہیں رہا چارج پر لگانا۔"
انہوں نے بیگ سے فون نکال کر سارا کو دیا تاکہ وہ اُسے چارج پر لگا دے۔
سارہ ماں سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
"امی، اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو؟ بس، آج کے بعد آپ کہیں نہیں جائیں گی... وعدہ کریں۔"
جمیلہ خاتون بیٹی کے اندازِ محبت پر مسکرا دیں۔
"ارے میری پاگل بچی، یہ حادثے تو زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ اب کیا ان سے ڈر کر ہم گھر میں قید ہو جائیں؟"
کافی دیر تک سارہ اپنی ماں کے ساتھ لگی بیٹھی رہی۔ وہ جان چکی تھی کہ زارون صرف دھمکی دینے تک محدود نہیں ہے۔ اس کے دل میں ایک خوف بیٹھ چکا تھا—خوف اپنی ماں کو کھونے کا۔
تب ہی اُس نے ایک فیصلہ کیا۔
زارون سے ملنے کا فیصلہ۔
جمیلہ خاتون کو دوائی کھلا کر، اُن کے ماتھے پر بوسہ دے کر، سارہ نے اُنہیں سلایا۔ پھر دبے قدموں سے اپنے کمرے میں آئی، اور اُس نمبر پر کال ملائی، جس سے اُسے گزشتہ رات کال آئی تھی۔
******************
زارون بےچینی سے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ غصے اور جھنجھلاہٹ نے اُسے جکڑ رکھا تھا۔ سارہ کا اُس سے نہ ملنا، اُسے بے حد برہم کر رہا تھا۔ اب وہ پختہ ارادہ کر چکا تھا کہ صبح ہوتے ہی خود اُس کے گھر جائے گا۔
ابھی وہ انہی خیالات میں گم تھا کہ اچانک اُس کے فون کی اسکرین پر سارہ کا نام جگمگایا۔ اُس لمحے کی حیرت نے زارون کو ساکت کر دیا۔
"سارہ کی کال؟"
یہ وہ لمحہ تھا جس کی اُسے امید نہیں تھی۔ اُس نے فوراً کال اٹھا لی۔
"ہیلو، سارہ!" زارون نے بےتابی سے اُس کا نام پکارا۔
دوسری طرف سے سارہ کی زخمی، مگر مضبوط آواز ابھری:
"تو تم نے واقعی وہی کیا جس کی دھمکی دی تھی؟ ہم نے تمہارا آخر کیا بگاڑا ہے، کیوں میری اور میری ماں کی زندگی عذاب بنا دی ہے؟"
زارون لمحہ بھر کے لیے گڑبڑا گیا۔ اُسے اندازہ نہیں تھا کہ سارہ کیا کہ رہی ہے۔ وہ کچھ سمجھ نہ پایا کہ وہ کس بات کا الزام دے رہی ہے۔
"ٹھیک ہے، میں صبح تم سے ملوں گی۔ لیکن یاد رکھنا، اگر تم نے دوبارہ میری ماں کو کوئی نقصان پہنچایا تو میں سیدھا پولیس کے پاس جاؤں گی!"
سارہ کی آواز میں اب کی بار لرزش کم اور حوصلہ زیادہ تھا۔
زارون نے اُس کی "پولیس" والی بات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اُس لمحے بس ایک ہی بات اُس کے دل کو بھا رہی تھی — سارہ کل اس سے ملنے آ رہی تھی۔
حالانکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ سارہ کسی غلط فہمی کا شکار ہے۔ شاید اُسے لگا تھا کہ جمیلہ خاتون کے حادثے کے پیچھے بھی اُسی کا ہاتھ ہے۔ مگر زارون نے دانستہ طور پر اُس غلط فہمی کو دور نہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر سچ بتا دیا، تو شاید سارہ ملنے کا ارادہ بدل دے۔
"ٹھیک ہے، تم کل یونیورسٹی آ جانا،"
زارون نے نرمی سے کہا۔
سارہ نے بغیر کچھ کہے کال منقطع کر دی۔
زارون نے فون ایک طرف رکھا اور خود بستر پر گر کر آنکھیں موند لیں۔ جو کچھ ہو رہا تھا، وہ اس کے منصوبے کا حصہ تو نہ تھا، لیکن اب اُسے لگتا تھا کہ شاید یہی واحد راستہ ہے۔
چند لمحے بعد اُس نے قاسم کو فون کیا۔
قاسم نے فون اٹھایا، تو زارون نے تفصیل سے اُسے اگلے دن کے حوالے سے خصوصی ہدایات دیں۔
قاسم کچھ دیر خاموش رہا۔ اُس کی خاموشی حیرت سے لبریز تھی، لیکن اُس نے زارون کی کسی بات پر سوال نہ کیا—کیونکہ وہ جانتا تھا، جب زارون کوئی فیصلہ کر لے، تو اُسے روکنا آسان نہیں ہوتا
******************
اگلی صبح، سارہ نے جمیلہ خاتون کو ناشتہ کرایا۔ ماں کے چہرے پر ابھی تک گزشتہ شام کے واقعے کی تھکن نمایاں تھی، لیکن سارہ نے خود کو مضبوط ظاہر کیا۔ وہ اُن کے سامنے اپنے دل کی ہلچل نہ آنے دینا چاہتی تھی۔
"امی، آج یونیورسٹی سے کال آئی تھی، کچھ ضروری بات کرنی ہے، اسی لیے بلایا ہے۔"
جمیلہ خاتون نے چونک کر اُسے دیکھا۔
"کیا کوئی خاص بات ہے بیٹا؟
سارہ نے مسکرا کر سر ہلایا،
"جی امی، سب ٹھیک ہے، بس شاید کسی ریسرچ یا فائنل ورک کا معاملہ ہو۔"
جمیلہ خاتون کو تشویش ضرور ہوئی، لیکن بیٹی کی نرمی اور اعتماد بھری گفتگو نے اُن کی تشویش کو وقتی طور پر دبایا۔
"اچھا، خیال سے جانا۔ اور ہاں، واپسی میں رکنا مت، مجھے فکر ہو گی۔"
سارہ نے اثبات میں سر ہلایا، اُن کے ہاتھ تھامے، ماتھے پر بوسہ دیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
یونیورسٹی کی وین نے آنا نہیں تھا، اس لیے سارہ نے
رکشے کا انتخاب کیا۔ رکشے میں بیٹھتے ہی اُسے عجیب سا خوف محسوس ہوا۔ جیسے وہ کسی انجانی سمت، انجانے انجام کی طرف بڑھ رہی ہو۔ رکشے کی آواز، سڑکوں کا شور، ہر چیز اُسے معمول سے کہیں زیادہ بلند لگ رہی تھی۔ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں، اور ذہن میں بس ایک ہی خیال گونج رہا تھا — "زارون نے مجھے آج پھر اُسی وجہ سے بلایا ہے… بس اسی ضد، اسی زبردستی، اسی بےرحمی کی بنا پر۔"
سارا کی انگلیاں دوپٹے کا کونا بار بار مروڑ رہی تھیں۔ دل بےقرار تھا،
وہ ایک نسبتاً سنسان، سڑک سے گزر رہی تھی، جب اچانک اُس کے رکشے کے عین سامنے ایک سیاہ رنگ کی "پرادو" آ کر رکی۔ سارہ کا دل ایک لمحے کو جیسے سینے میں ہی رک گیا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا، اور زارون اطمینان سے باہر نکلا۔ اُس نے خاموشی سے سارہ کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔
رکشے والا ایک لمحے کو گڑبڑا سا گیا، جیسے سوچ رہا ہو یہ شخص کون ہے؟ سارہ کی حالت تو پہلے ہی نڈھال تھی، اب اور گھبرا گئی۔ زارون نے پیچھے کھڑی گاڑی میں بیٹھے قاسم کو اشارہ کیا، وہ فوراً آگے بڑھا اور رکشے والے کو کرایہ تھما دیا۔
سارہ کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، جیسے اپنے اندر کی جنگ لڑ رہی ہو۔ اُترے یا نہ اُترے؟ اُس کا جسم خوف سے کپکپا رہا تھا، دل کی دھڑکن قابو سے باہر تھی، مگر پھر بھی اُس نے خود کو مضبوط رکھا۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد، اُس نے گہرا سانس لیا اور رکشے سے نیچے اُتر آئی۔
زارون نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔ سارہ خاموشی سے آ کر بیٹھ گئی۔ دروازہ بند ہوا اور زارون ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا، گاڑی نرمی سے چلنے لگی۔
سارہ نے آج گلابی پھولوں والا نفیس کُرتا پہنا تھا، اور ساتھ میں ہم رنگ دوپٹہ بھی نہایت قرینے سے سر پر اوڑھا تھا۔ اُس کے چہرے پر کسی قسم کا میک اپ نہ تھا، مگر اس سادگی میں جو حسن تھا، وہ بیان سے باہر تھا۔ اُس کا چہرہ کم عمری اور معصومیت کا عکس تھا، جیسے وہ کوئی چھوٹی سی بچی ہو، جو اس سنگدل دنیا میں وقت سے پہلے بڑی ہو گئی ہو۔
زارون کے سامنے سارہ بالکل بچی ہی لگتی تھی ۔زارون کی عمر انتیس برس تھی—دراز قد، چوڑے کندھے، کسرتی جسم، ہلکی ہلکی بھوری داڑھی اور گہری بھوری آنکھیں، اُس کی شخصیت میں ایک پرُکشش ٹھہراؤ پیدا کرتی تھیں۔
زارون نے گاڑی کا رخ اپنے فلیٹ کی جانب موڑ دیا۔ اگرچہ وہ عمومی طور پر اپنی بنگلے نما رہائش گاہ میں مقیم تھا، مگر سارہ کو وہاں لے جانا فی الحال ممکن نہ تھا۔
"کہاں لے جا رہے ہو تم مجھے؟"
سارہ کی آواز میں گھبراہٹ اور بداعتمادی دونوں جھلک رہے تھے۔
"پتا چل جائے گا، تھوڑا صبر کرو۔"
زارون نے نگاہیں سڑک پر جمائے رکھتے ہوئے سرد لہجے میں جواب دیا۔
"مجھے جلدی گھر جانا ہے، امی میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔" سارہ کی آواز میں التجا تھی، اور اس کی آنکھیں بے چین ہو چلی تھیں۔ زارون کے قریب بیٹھنا، اور اس کا مسلسل خاموش رہنا، اسے کسی اندھیرے غار میں داخل ہونے جیسا محسوس ہو رہا تھا۔
"دو گھنٹے میں تمہیں واپس چھوڑ آؤں گا۔"
زارون نے یقین دلانے کی کوشش کی، مگر سارہ کو یقین تھا کہ یہ دو گھنٹے بھی ان لمبی اذیت ناک راتوں کی طرح ہی گزریں گے جن میں وہ خود سے لڑتی رہی ہے۔
بیس منٹ بعد گاڑی ایک فلک بوس عمارت کے سامنے آ رکی۔
زارون نے گاڑی پارک کی، اور سارہ کو ساتھ لیے لفٹ کی جانب بڑھا۔ جلد ہی وہ مخصوص منزل پر پہنچ گئے۔ زارون نے چابی سے فلیٹ کا دروازہ کھولا۔ اسی دوران قاسم اور دو محافظ بھی وہاں آ پہنچے۔
"سر، کام ہو گیا ہے۔"
قاسم کے لبوں سے ادا ہونے والے یہ الفاظ سارہ کے کانوں میں بجلی کی طرح گونجے۔ وہ فوراً متوجہ ہو گئی، اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔
زارون، سارہ کو لے کر اپنے بیڈروم میں آیا اور صوفے کی طرف اشارہ کیا،
"بیٹھ جاؤ، مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔"سارہ دروازے کے قریب ہی ساکت کھڑی رہی، جیسے کسی بھی لمحے فرار کی راہ دیکھ رہی ہو۔
"بیٹھ جاؤ۔ فکر مت کرو، میں تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا… لیکن اگر اسی طرح کھڑی رہیں تو پھر کسی بات کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔"
زارون کے طنزیہ الفاظ پر وہ بےاختیار صوفے پر آ بیٹھی، اگرچہ اس کی سانسیں اب بھی بے ترتیب تھیں۔ زارون کو اس بات کا دکھ ضرور تھا کہ سارہ اس کے پاس خود کو اتنا غیر محفوظ
محسوس کر رہی ہے۔
"تھوڑی دیر بعد ہمارا نکاح ہے۔ سب انتظامات مکمل ہیں۔ بیوٹیشن بھی آ رہی ہے۔"
زارون نے ایک سانس میں سب کچھ کہہ دیا،
سارہ پر گویا آسمان ٹوٹ پڑا۔ وہ کچھ لمحے کے لیے ساکت ہو گئی، جیسے اس کے ارد گرد کی دنیا ختم ہو گئی ہو۔
"دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟ یہ کیا بکواس ہے؟ اگلے ہفتے میری شادی ہے!"
وہ چیخ کر دروازے کی طرف بڑھی، مگر وہ وہاں تک پہنچتی، اس سے پہلے ہی زارون نے پھرتی سے اسے دبوچ لیا اور کھینچ کر بیڈ کے قریب لے آیا۔
"سکون سے میری بات سنو۔ اگر تم نے یہ نکاح نہ کیا، تو تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں کیا کچھ کر سکتا ہوں۔"
زارون نے اُسے کہنی سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔ سارہ پوری قوت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
"میرے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا، مسٹر زارون! تم اب مجھے کس بات کی دھمکی دے رہے ہو؟"
وہ ٹوٹ چکی تھی، مگر اس کی آواز میں تلخی اور تھکن سے بھری سچائی تھی۔
"اگر تم اپنی ماں کو زندہ دیکھنا چاہتی ہو، تو جیسے میں کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو۔ میرے آدمی تمہارے گھر کے آس پاس پھیل چکے ہیں۔ میرے ایک اشارے پر تمہاری ماں… اوپر پہنچ جائے گی۔"
زارون نے سرد لہجے میں کہتے ہوئے سارہ کے سامنے موبائل اسکرین کر دی۔ اسکرین پر وہی جانا پہچانا گھر دکھائی دیا، مگر اس کے اردگرد عام کپڑوں میں مشتبہ چہروں کی بھرمار تھی۔ سارہ کا رنگ فق ہو گیا۔
اب اس کے پاس کسی انکار یا مزاحمت کا راستہ نہ بچا تھا۔ وہ جانتی تھی، کچھ بھی ہو جائے، وہ اپنی ماں کو کھونے کی تاب نہیں لا سکتی۔ ہاں، اُس نے اثبات میں سر ہلایا، مگر اس کی آنکھیں شعلہ فشاں ہو چکی تھیں۔
"اللہ کرے تم مر جاؤ… یاد رکھنا، جیسا میرے ساتھ کر رہے ہو، کل تمہاری بیٹی کے ساتھ بھی یہی سب ہو گا!"
سارہ نے غصے اور نفرت سے بھرے ہاتھوں سے زارون کے سینے پر ضربیں برسانی شروع کر دیں۔ وہ خاموش کھڑا رہا، نہ روکا، نہ پلٹا۔ لیکن جب سارہ نے بیٹی کا کہا، تو جیسے اس کے دل پر کوئی بجلی گری ہو۔
سارہ مار مار کر تھک گئی تو وہ نیچے بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ مسلسل بددعائیں دیتی رہی، مگر زارون خاموشی سے سن کر دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
"برائیڈل ڈریس اور بیوٹیشن بھیجوا رہا ہوں۔ بنا کسی tamasha کے تیار ہو جانا۔"
اس نے جاتے جاتے کہا، مگر پھر جیسے وہ ایک آواز میں ٹھٹھک گیا۔
"سفید چادر بھیجوانا... جنازے پر سفید کفن ہی اوڑھایا جاتا ہے!"
سارہ کے سپاٹ لہجے میں چھپی بےبسی اور زہر نے زارون کے دل کو چیر کر رکھ دیا۔ اس نے آنکھیں سختی سے بند کیں، ایک گہرا سانس لیا اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
کچھ ہی دیر بعد، وہ سارہ ابراہیم سے سارو زارون بن گئ۔ اس نے نہ کوئی سنگھار کیا، نہ بیوٹیشن کو اندر آنے دیا۔ بلکہ بیڈ کی سفید چادر کو خود پر لپیٹ لیا۔
آج اُس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ اسے زندگی میں کبھی ایسی بےبسی محسوس نہ ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی، کاش اس کا کوئی بھائی ہوتا، جو آج اس کی ڈھال بنتا، تو
شاید یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
نکاح کی مختصر سی رسمی کارروائی مکمل ہو چکی تھی۔ سارہ کمرے کے ایک کونے میں بیڈ کے ساتھ زمین پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ چہرہ بے رنگ، وجود بےجان۔ زارون صوفے پر بیٹھا اُسے دیکھتا رہا۔ آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا، مگر سارہ کی خاموشی نہ ٹوٹی۔
زارون جانتا تھا کہ وہ ذہنی طور پر کس مقام پر ہے، اس لیے اس نے خاموش رہنے کو ہی بہتر سمجھا۔
"چلو، میں تمہیں گھر چھوڑ آتا ہوں۔"
زارون کے نرم لہجے میں کہے گئے الفاظ پر بھی سارہ میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ وہ یونہی بیٹھی رہی جیسے کچھ سن ہی نہ پائی ہو۔
زارون نے آگے بڑھ کر نرمی سے اس کے بازو تھامے، اور اُسے سہارا دے کر آہستہ آہستہ گاڑی تک لے گیا۔قیدمکمل ناول کیلیے اس چینل کو فا لو کریں شکریہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7YP6UDJ6GwkskPtu1Q ✍️💫🌟✨
Channel • 8 followers