Laiba khan

Laiba khan مکمل ناول کے لیے میرا واٹس ایپ چینل فالو کریں شکریہ،
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7YP6UDJ6GwkskPtu1Q

قید       .    Episode 7𝐎𝐰𝐍𝐞𝐑─✍️★مَلِک مَعصُوم رائِٹس💫جمیلہ خاتون کو گھر سے گئے خاصی دیر ہو چکی تھی۔ وہ بار بار اپنی ماں...
03/01/2026

قید . Episode 7
𝐎𝐰𝐍𝐞𝐑─
✍️★مَلِک مَعصُوم رائِٹس💫

جمیلہ خاتون کو گھر سے گئے خاصی دیر ہو چکی تھی۔ وہ بار بار اپنی ماں کو کال کرتی، مگر دوسری طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ یہ صورت حال اس کے لیے نئی اور خوفناک تھی—اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔
ایک لمحے کو سارہ کے دل میں خیال آیا کہ شاید اُسے زارون سے مل لینا چاہیے، شاید اس طرح اس کی ماں محفوظ رہ سکتی ہے۔ مگر اگلے ہی لمحے اس نے یہ سوچ جھٹک دی۔ وہ کسی صورت اس آ وارہ انسان سے نہیں ملے گی۔
سورج سر پر آیا، پھر ڈھلا۔ شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے، مگر جمیلہ خاتون واپس نہ آئیں۔ اب سارہ کی حالت قریب تھی کہ چیخیں مار کر رو دے۔ خالہ الماس بھی کچھ دیر پہلے اپنے گھر جا چکی تھیں۔ سارہ نے ایک بار پھر کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی ماں کو فون کیا، لیکن بدستور کوئی جواب نہ ملا۔
تبھی دروازے کی بیل بجی۔
سارہ ہڑبڑا کر اٹھی اور بھاگ کر دروازہ کھولا۔ سامنے جو منظر تھا، اُس نے اُسے گویا پتھر کا کر دیا۔ مطلب زارون نے اپنا کہا سچ کر دیکھایا۔
جمیلہ خاتون کی پیشانی پر پٹی بندھی تھی، ہاتھ پر معمولی زخم تھا، اور چہرے پر ہلکی تھکن کی پرچھائیاں تھیں۔
"امی... یہ سب کیسے ہوا؟"
سارہ تڑپ کر اُن کے قریب پہنچی اور سہارا دے کر صوفے تک لے آئی۔ خود بھاگ کر پانی کا گلاس لائی۔
جمیلہ خاتون نے چند گھونٹ پانی پیے اور گلاس میز پر رکھتے ہوئے بیٹی کو دیکھا، جس کے چہرے کا رنگ زرد ہو چکا تھا۔
"ارے بیٹا، تم اتنی پریشان کیوں ہو؟ کچھ خاص چوٹ نہیں آئی۔ اب یہ ڈاکٹر بھی تو... چھوٹے سے زخم پر اتنی بڑی پٹی باندھ دیتے ہیں،"
انہوں نے نرم لہجے میں بیٹی کو تسلی دی۔
"مگر امی... یہ سب ہوا کیسے؟"
سارہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔
"بیٹا، ان امیر زادوں کو نہ اپنی گاڑیوں کا ہوش ہوتا ہے نہ سڑک پر چلنے والوں کا۔ ایک لڑکے کی گاڑی سے معمولی ٹکر ہو گئی تھی۔"
وہ چادر اتار کر ایک طرف رکھ چکی تھیں۔ سارہ کی بےچینی بدستور قائم تھی۔
"امی، آپ مجھے بلوا لیتیں... میں صبح سے آپ کو کال کر رہی ہوں، آپ کا نمبر بند آ رہا تھا۔"
"ارے بیٹا، پریشان نہ ہو۔ ایک نیک دل لڑکا تھا، اُسی نے مجھے ہسپتال پہنچایا۔ میرے ساتھ رُکا بھی، دوائیں بھی لے آیا، اور ابھی مجھے گلی کے باہر اُتار کر گیا ہے۔ فون تو بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو گیا تھا، یاد ہی نہیں رہا چارج پر لگانا۔"
انہوں نے بیگ سے فون نکال کر سارا کو دیا تاکہ وہ اُسے چارج پر لگا دے۔
سارہ ماں سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
"امی، اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو؟ بس، آج کے بعد آپ کہیں نہیں جائیں گی... وعدہ کریں۔"
جمیلہ خاتون بیٹی کے اندازِ محبت پر مسکرا دیں۔
"ارے میری پاگل بچی، یہ حادثے تو زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ اب کیا ان سے ڈر کر ہم گھر میں قید ہو جائیں؟"
کافی دیر تک سارہ اپنی ماں کے ساتھ لگی بیٹھی رہی۔ وہ جان چکی تھی کہ زارون صرف دھمکی دینے تک محدود نہیں ہے۔ اس کے دل میں ایک خوف بیٹھ چکا تھا—خوف اپنی ماں کو کھونے کا۔
تب ہی اُس نے ایک فیصلہ کیا۔
زارون سے ملنے کا فیصلہ۔
جمیلہ خاتون کو دوائی کھلا کر، اُن کے ماتھے پر بوسہ دے کر، سارہ نے اُنہیں سلایا۔ پھر دبے قدموں سے اپنے کمرے میں آئی، اور اُس نمبر پر کال ملائی، جس سے اُسے گزشتہ رات کال آئی تھی۔

******************
زارون بےچینی سے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ غصے اور جھنجھلاہٹ نے اُسے جکڑ رکھا تھا۔ سارہ کا اُس سے نہ ملنا، اُسے بے حد برہم کر رہا تھا۔ اب وہ پختہ ارادہ کر چکا تھا کہ صبح ہوتے ہی خود اُس کے گھر جائے گا۔
ابھی وہ انہی خیالات میں گم تھا کہ اچانک اُس کے فون کی اسکرین پر سارہ کا نام جگمگایا۔ اُس لمحے کی حیرت نے زارون کو ساکت کر دیا۔
"سارہ کی کال؟"
یہ وہ لمحہ تھا جس کی اُسے امید نہیں تھی۔ اُس نے فوراً کال اٹھا لی۔
"ہیلو، سارہ!" زارون نے بےتابی سے اُس کا نام پکارا۔
دوسری طرف سے سارہ کی زخمی، مگر مضبوط آواز ابھری:
"تو تم نے واقعی وہی کیا جس کی دھمکی دی تھی؟ ہم نے تمہارا آخر کیا بگاڑا ہے، کیوں میری اور میری ماں کی زندگی عذاب بنا دی ہے؟"
زارون لمحہ بھر کے لیے گڑبڑا گیا۔ اُسے اندازہ نہیں تھا کہ سارہ کیا کہ رہی ہے۔ وہ کچھ سمجھ نہ پایا کہ وہ کس بات کا الزام دے رہی ہے۔

"ٹھیک ہے، میں صبح تم سے ملوں گی۔ لیکن یاد رکھنا، اگر تم نے دوبارہ میری ماں کو کوئی نقصان پہنچایا تو میں سیدھا پولیس کے پاس جاؤں گی!"
سارہ کی آواز میں اب کی بار لرزش کم اور حوصلہ زیادہ تھا۔
زارون نے اُس کی "پولیس" والی بات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اُس لمحے بس ایک ہی بات اُس کے دل کو بھا رہی تھی — سارہ کل اس سے ملنے آ رہی تھی۔
حالانکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ سارہ کسی غلط فہمی کا شکار ہے۔ شاید اُسے لگا تھا کہ جمیلہ خاتون کے حادثے کے پیچھے بھی اُسی کا ہاتھ ہے۔ مگر زارون نے دانستہ طور پر اُس غلط فہمی کو دور نہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر سچ بتا دیا، تو شاید سارہ ملنے کا ارادہ بدل دے۔
"ٹھیک ہے، تم کل یونیورسٹی آ جانا،"
زارون نے نرمی سے کہا۔
سارہ نے بغیر کچھ کہے کال منقطع کر دی۔
زارون نے فون ایک طرف رکھا اور خود بستر پر گر کر آنکھیں موند لیں۔ جو کچھ ہو رہا تھا، وہ اس کے منصوبے کا حصہ تو نہ تھا، لیکن اب اُسے لگتا تھا کہ شاید یہی واحد راستہ ہے۔
چند لمحے بعد اُس نے قاسم کو فون کیا۔
قاسم نے فون اٹھایا، تو زارون نے تفصیل سے اُسے اگلے دن کے حوالے سے خصوصی ہدایات دیں۔
قاسم کچھ دیر خاموش رہا۔ اُس کی خاموشی حیرت سے لبریز تھی، لیکن اُس نے زارون کی کسی بات پر سوال نہ کیا—کیونکہ وہ جانتا تھا، جب زارون کوئی فیصلہ کر لے، تو اُسے روکنا آسان نہیں ہوتا
******************
اگلی صبح، سارہ نے جمیلہ خاتون کو ناشتہ کرایا۔ ماں کے چہرے پر ابھی تک گزشتہ شام کے واقعے کی تھکن نمایاں تھی، لیکن سارہ نے خود کو مضبوط ظاہر کیا۔ وہ اُن کے سامنے اپنے دل کی ہلچل نہ آنے دینا چاہتی تھی۔
"امی، آج یونیورسٹی سے کال آئی تھی، کچھ ضروری بات کرنی ہے، اسی لیے بلایا ہے۔"
جمیلہ خاتون نے چونک کر اُسے دیکھا۔
"کیا کوئی خاص بات ہے بیٹا؟
سارہ نے مسکرا کر سر ہلایا،
"جی امی، سب ٹھیک ہے، بس شاید کسی ریسرچ یا فائنل ورک کا معاملہ ہو۔"
جمیلہ خاتون کو تشویش ضرور ہوئی، لیکن بیٹی کی نرمی اور اعتماد بھری گفتگو نے اُن کی تشویش کو وقتی طور پر دبایا۔
"اچھا، خیال سے جانا۔ اور ہاں، واپسی میں رکنا مت، مجھے فکر ہو گی۔"
سارہ نے اثبات میں سر ہلایا، اُن کے ہاتھ تھامے، ماتھے پر بوسہ دیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
یونیورسٹی کی وین نے آنا نہیں تھا، اس لیے سارہ نے

رکشے کا انتخاب کیا۔ رکشے میں بیٹھتے ہی اُسے عجیب سا خوف محسوس ہوا۔ جیسے وہ کسی انجانی سمت، انجانے انجام کی طرف بڑھ رہی ہو۔ رکشے کی آواز، سڑکوں کا شور، ہر چیز اُسے معمول سے کہیں زیادہ بلند لگ رہی تھی۔ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں، اور ذہن میں بس ایک ہی خیال گونج رہا تھا — "زارون نے مجھے آج پھر اُسی وجہ سے بلایا ہے… بس اسی ضد، اسی زبردستی، اسی بےرحمی کی بنا پر۔"
سارا کی انگلیاں دوپٹے کا کونا بار بار مروڑ رہی تھیں۔ دل بےقرار تھا،

وہ ایک نسبتاً سنسان، سڑک سے گزر رہی تھی، جب اچانک اُس کے رکشے کے عین سامنے ایک سیاہ رنگ کی "پرادو" آ کر رکی۔ سارہ کا دل ایک لمحے کو جیسے سینے میں ہی رک گیا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا، اور زارون اطمینان سے باہر نکلا۔ اُس نے خاموشی سے سارہ کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔
رکشے والا ایک لمحے کو گڑبڑا سا گیا، جیسے سوچ رہا ہو یہ شخص کون ہے؟ سارہ کی حالت تو پہلے ہی نڈھال تھی، اب اور گھبرا گئی۔ زارون نے پیچھے کھڑی گاڑی میں بیٹھے قاسم کو اشارہ کیا، وہ فوراً آگے بڑھا اور رکشے والے کو کرایہ تھما دیا۔
سارہ کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، جیسے اپنے اندر کی جنگ لڑ رہی ہو۔ اُترے یا نہ اُترے؟ اُس کا جسم خوف سے کپکپا رہا تھا، دل کی دھڑکن قابو سے باہر تھی، مگر پھر بھی اُس نے خود کو مضبوط رکھا۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد، اُس نے گہرا سانس لیا اور رکشے سے نیچے اُتر آئی۔
زارون نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔ سارہ خاموشی سے آ کر بیٹھ گئی۔ دروازہ بند ہوا اور زارون ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا، گاڑی نرمی سے چلنے لگی۔
سارہ نے آج گلابی پھولوں والا نفیس کُرتا پہنا تھا، اور ساتھ میں ہم رنگ دوپٹہ بھی نہایت قرینے سے سر پر اوڑھا تھا۔ اُس کے چہرے پر کسی قسم کا میک اپ نہ تھا، مگر اس سادگی میں جو حسن تھا، وہ بیان سے باہر تھا۔ اُس کا چہرہ کم عمری اور معصومیت کا عکس تھا، جیسے وہ کوئی چھوٹی سی بچی ہو، جو اس سنگدل دنیا میں وقت سے پہلے بڑی ہو گئی ہو۔
زارون کے سامنے سارہ بالکل بچی ہی لگتی تھی ۔زارون کی عمر انتیس برس تھی—دراز قد، چوڑے کندھے، کسرتی جسم، ہلکی ہلکی بھوری داڑھی اور گہری بھوری آنکھیں، اُس کی شخصیت میں ایک پرُکشش ٹھہراؤ پیدا کرتی تھیں۔

زارون نے گاڑی کا رخ اپنے فلیٹ کی جانب موڑ دیا۔ اگرچہ وہ عمومی طور پر اپنی بنگلے نما رہائش گاہ میں مقیم تھا، مگر سارہ کو وہاں لے جانا فی الحال ممکن نہ تھا۔
"کہاں لے جا رہے ہو تم مجھے؟"
سارہ کی آواز میں گھبراہٹ اور بداعتمادی دونوں جھلک رہے تھے۔
"پتا چل جائے گا، تھوڑا صبر کرو۔"
زارون نے نگاہیں سڑک پر جمائے رکھتے ہوئے سرد لہجے میں جواب دیا۔
"مجھے جلدی گھر جانا ہے، امی میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔" سارہ کی آواز میں التجا تھی، اور اس کی آنکھیں بے چین ہو چلی تھیں۔ زارون کے قریب بیٹھنا، اور اس کا مسلسل خاموش رہنا، اسے کسی اندھیرے غار میں داخل ہونے جیسا محسوس ہو رہا تھا۔
"دو گھنٹے میں تمہیں واپس چھوڑ آؤں گا۔"
زارون نے یقین دلانے کی کوشش کی، مگر سارہ کو یقین تھا کہ یہ دو گھنٹے بھی ان لمبی اذیت ناک راتوں کی طرح ہی گزریں گے جن میں وہ خود سے لڑتی رہی ہے۔
بیس منٹ بعد گاڑی ایک فلک بوس عمارت کے سامنے آ رکی۔

زارون نے گاڑی پارک کی، اور سارہ کو ساتھ لیے لفٹ کی جانب بڑھا۔ جلد ہی وہ مخصوص منزل پر پہنچ گئے۔ زارون نے چابی سے فلیٹ کا دروازہ کھولا۔ اسی دوران قاسم اور دو محافظ بھی وہاں آ پہنچے۔
"سر، کام ہو گیا ہے۔"
قاسم کے لبوں سے ادا ہونے والے یہ الفاظ سارہ کے کانوں میں بجلی کی طرح گونجے۔ وہ فوراً متوجہ ہو گئی، اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔
زارون، سارہ کو لے کر اپنے بیڈروم میں آیا اور صوفے کی طرف اشارہ کیا،
"بیٹھ جاؤ، مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔"سارہ دروازے کے قریب ہی ساکت کھڑی رہی، جیسے کسی بھی لمحے فرار کی راہ دیکھ رہی ہو۔
"بیٹھ جاؤ۔ فکر مت کرو، میں تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا… لیکن اگر اسی طرح کھڑی رہیں تو پھر کسی بات کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔"
زارون کے طنزیہ الفاظ پر وہ بےاختیار صوفے پر آ بیٹھی، اگرچہ اس کی سانسیں اب بھی بے ترتیب تھیں۔ زارون کو اس بات کا دکھ ضرور تھا کہ سارہ اس کے پاس خود کو اتنا غیر محفوظ

محسوس کر رہی ہے۔
"تھوڑی دیر بعد ہمارا نکاح ہے۔ سب انتظامات مکمل ہیں۔ بیوٹیشن بھی آ رہی ہے۔"
زارون نے ایک سانس میں سب کچھ کہہ دیا،
سارہ پر گویا آسمان ٹوٹ پڑا۔ وہ کچھ لمحے کے لیے ساکت ہو گئی، جیسے اس کے ارد گرد کی دنیا ختم ہو گئی ہو۔
"دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟ یہ کیا بکواس ہے؟ اگلے ہفتے میری شادی ہے!"
وہ چیخ کر دروازے کی طرف بڑھی، مگر وہ وہاں تک پہنچتی، اس سے پہلے ہی زارون نے پھرتی سے اسے دبوچ لیا اور کھینچ کر بیڈ کے قریب لے آیا۔
"سکون سے میری بات سنو۔ اگر تم نے یہ نکاح نہ کیا، تو تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں کیا کچھ کر سکتا ہوں۔"
زارون نے اُسے کہنی سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔ سارہ پوری قوت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
"میرے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا، مسٹر زارون! تم اب مجھے کس بات کی دھمکی دے رہے ہو؟"
وہ ٹوٹ چکی تھی، مگر اس کی آواز میں تلخی اور تھکن سے بھری سچائی تھی۔

"اگر تم اپنی ماں کو زندہ دیکھنا چاہتی ہو، تو جیسے میں کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو۔ میرے آدمی تمہارے گھر کے آس پاس پھیل چکے ہیں۔ میرے ایک اشارے پر تمہاری ماں… اوپر پہنچ جائے گی۔"
زارون نے سرد لہجے میں کہتے ہوئے سارہ کے سامنے موبائل اسکرین کر دی۔ اسکرین پر وہی جانا پہچانا گھر دکھائی دیا، مگر اس کے اردگرد عام کپڑوں میں مشتبہ چہروں کی بھرمار تھی۔ سارہ کا رنگ فق ہو گیا۔
اب اس کے پاس کسی انکار یا مزاحمت کا راستہ نہ بچا تھا۔ وہ جانتی تھی، کچھ بھی ہو جائے، وہ اپنی ماں کو کھونے کی تاب نہیں لا سکتی۔ ہاں، اُس نے اثبات میں سر ہلایا، مگر اس کی آنکھیں شعلہ فشاں ہو چکی تھیں۔
"اللہ کرے تم مر جاؤ… یاد رکھنا، جیسا میرے ساتھ کر رہے ہو، کل تمہاری بیٹی کے ساتھ بھی یہی سب ہو گا!"
سارہ نے غصے اور نفرت سے بھرے ہاتھوں سے زارون کے سینے پر ضربیں برسانی شروع کر دیں۔ وہ خاموش کھڑا رہا، نہ روکا، نہ پلٹا۔ لیکن جب سارہ نے بیٹی کا کہا، تو جیسے اس کے دل پر کوئی بجلی گری ہو۔

سارہ مار مار کر تھک گئی تو وہ نیچے بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ مسلسل بددعائیں دیتی رہی، مگر زارون خاموشی سے سن کر دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
"برائیڈل ڈریس اور بیوٹیشن بھیجوا رہا ہوں۔ بنا کسی tamasha کے تیار ہو جانا۔"
اس نے جاتے جاتے کہا، مگر پھر جیسے وہ ایک آواز میں ٹھٹھک گیا۔
"سفید چادر بھیجوانا... جنازے پر سفید کفن ہی اوڑھایا جاتا ہے!"
سارہ کے سپاٹ لہجے میں چھپی بےبسی اور زہر نے زارون کے دل کو چیر کر رکھ دیا۔ اس نے آنکھیں سختی سے بند کیں، ایک گہرا سانس لیا اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
کچھ ہی دیر بعد، وہ سارہ ابراہیم سے سارو زارون بن گئ۔ اس نے نہ کوئی سنگھار کیا، نہ بیوٹیشن کو اندر آنے دیا۔ بلکہ بیڈ کی سفید چادر کو خود پر لپیٹ لیا۔
آج اُس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ اسے زندگی میں کبھی ایسی بےبسی محسوس نہ ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی، کاش اس کا کوئی بھائی ہوتا، جو آج اس کی ڈھال بنتا، تو
شاید یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
نکاح کی مختصر سی رسمی کارروائی مکمل ہو چکی تھی۔ سارہ کمرے کے ایک کونے میں بیڈ کے ساتھ زمین پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ چہرہ بے رنگ، وجود بےجان۔ زارون صوفے پر بیٹھا اُسے دیکھتا رہا۔ آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا، مگر سارہ کی خاموشی نہ ٹوٹی۔
زارون جانتا تھا کہ وہ ذہنی طور پر کس مقام پر ہے، اس لیے اس نے خاموش رہنے کو ہی بہتر سمجھا۔
"چلو، میں تمہیں گھر چھوڑ آتا ہوں۔"
زارون کے نرم لہجے میں کہے گئے الفاظ پر بھی سارہ میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ وہ یونہی بیٹھی رہی جیسے کچھ سن ہی نہ پائی ہو۔
زارون نے آگے بڑھ کر نرمی سے اس کے بازو تھامے، اور اُسے سہارا دے کر آہستہ آہستہ گاڑی تک لے گیا۔قیدمکمل ناول کیلیے اس چینل کو فا لو کریں شکریہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7YP6UDJ6GwkskPtu1Q ✍️💫🌟✨

Channel • 8 followers

02/01/2026

Episode 5 /6
𝐎𝐰𝐍𝐞𝐑─
✍️★مَلِک مَعصُوم رائِٹس💫
Qaid

جیسے ہی سارہ گھر میں داخل ہوئی، جمیلہ بیگم کا دل دھڑکنا بند ہونے لگا۔ بیٹی کی زرد رنگت، لرزتے قدم اور بجھی ہوئی آنکھیں اُن کے دل میں خنجر بن کر پیوست ہو گئیں۔ انہوں نے لپک کر سارہ کو تھاما، اور سہارا دے کر آہستہ آہستہ اُس کے کمرے تک لے آئیں۔ بستر پر لٹا کر جب اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا، تو اُسے دیکھتے ہی اُن کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ پوچھنے کو ہزار سوال تھے، مگر ہونٹ خشک اور آواز گم تھی۔
وہ کچھ لانے کے لیے پلٹیں ہی تھیں کہ سارہ نے کمزور ہاتھوں سے اُن کا بازو تھام لیا۔۔ "امی... وہ واپس آ گیا ہے..." اُس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی"امی... وہ مجھے ڈھونڈتا ہوا یہاں تک پہنچ گیا ہے... اب وہ مجھے نہیں چھوڑے گا، وہ ابو سے بدلہ لینا چاہتا ہے... مجھے نہیں معلوم کون سا بدلہ، مگر امی... وہ مجھے مار دے گا..."
جمیلہ بیگم کو لگا جیسے زمین اُن کے قدموں تلے سے نکل گئی ہو۔ اُن کے لبوں پر کانپتی دعا آ کر اٹک گئی۔ "کون واپس آ گیا ہے، بیٹا...؟"
انہوں نے ٹوٹتے دل سے پوچھا، اور دل ہی دل میں دعا کی کہ اُن کا خدشہ غلط ہو۔
"امی... وہی... جس نے میری زندگی برباد کی... اُس کا نام زارّون ہے... اور وہ... وہ اب ہمارا ICT کا نیا اُستاد ہے..." سارہ کی آواز ہچکیوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔ "امی... میں یونیورسٹی نہیں جاؤں گی... آپ مجھے کہیں چھپا دیں... میں اب گھر سے باہر نہیں نکلوں گی... نہیں امی، میں نہیں جاؤں گی!"
وہ ماں کی گود میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی جیسے کوئی معصوم بچہ خوفناک خواب سے ڈر کر ماں کے دامن میں پناہ لیتا ہے۔ جمیلہ بیگم ساکت تھیں، اُن کی آنکھیں دور خلا میں گم تھیں،
"امی... آپ کچھ بول کیوں نہیں رہیں...؟"
سارہ نے اُن کے ساکت چہرے کو دیکھا تو جھنجھلا کر پکارا۔
جمیلہ بیگم جیسے کسی گہری سوچ سے باہر آئیں، بیٹی کے آنسو چومتے ہوئے بولیں: "نہیں بیٹا، اب تم باہر نہیں جاؤ گی... اب تم میرے پاس رہو گی، گھر میں، محفوظ۔ اب میں اُس سایے کو تم پر دوبارہ نہیں پڑنے دوں گی۔ میں ابھی خالہ الماس کو بلاتی ہوں... تمہارے لیے ایک اچھا سا رشتہ دیکھتی ہوں۔ جلد ہی تمہاری شادی کر دوں گی۔"
وہ خود سے ہی بڑبڑا رہی تھیں، جیسے فیصلہ کر لیا ہو،
مگر "شادی" کا لفظ سارہ کے لیے بجلی بن کر گرا۔
"امی... شادی؟ مطلب... میں... کیسے شادی کر سکتی ہوں؟"

"کیوں نہیں؟ تم میں کون سی کمی ہے؟ تم خاموش رہو، کچھ نہیں ہوا تمہارے ساتھ، کسی کو کچھ پتا نہیں۔"
جمیلہ بیگم نے تھپکی دی،
"امی... سب کو سب پتا ہے۔ اور اگر شادی کے بعد بھی وہ شخص مجھ تک پہنچ گیا تو... ہم کیا کریں گے؟"
سارہ نے وہ سوال کر دیا جس کا جواب اُن کے پاس بھی نہ تھا۔
وہ جانتی تھی، اب وہ پہلے جیسی نہیں رہی۔ اب یہ زخم عمر بھر کے لیے اُس کی ہستی کا حصہ بن چکے تھے۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اب وہ کبھی مکمل نہیں ہو سکے گی۔
"میں تمہاری شادی اس ملک سے باہر کروں گی۔ دو تین رشتے ذہن میں ہیں... ویسے بھی، ان عورتوں نے خود مجھ سے تمہارے بارے میں پوچھا تھا۔"
جمیلہ بیگم یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں کہ کچھ کھانے کو لائیں۔ اور سارہ...؟ سارہ بستر پر پڑی، چھت کو تکتے ہوئے، خاموشی سے اپنی تقدیر کے ورق پلٹنے لگی...
*****************
رات کے پُرسکون سناٹے میں زارّون اپنے کمرے کے اٹیچڈ ٹیرس میں بیٹھا سارہ کے متعلق سوچوں میں گم تھا۔ سارہ کا ردِعمل بالکل ویسا ہی تھا جیسا زارّون نے تصور کیا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے چھپا خوف زارّون کے دل میں ایک کرب سا بٹھا گیا تھا۔۔
وہ چاہتا تھا کہ سارہ سے معافی مانگے، لیکن اس نے غلطی نہیں گناہ کیا تھا اور گناہوں کی معافی نہیں ہوتی ،
زارّون نے موبائل کی اسکرین پر وقت دیکھا، رات کے نو بج کر دس منٹ ہو چکے تھے۔ اس نے قاسم کو کال کی۔
قاسم، جو گھر جانے کی تیاری میں تھا، زارّون کی کال پر ٹھٹک گیا۔ تھکی تھکی سانس لیتے ہوئے بیگ واپس رکھا اور ہلکے قدموں سے اُس کے کمرے کی طرف چل پڑا۔
ادھر زارّون نے اپنی الماری کھولی۔ قاسم کے دروازے پر
دستک دینے پر اندر آنے کی اجازت دی اور صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ زارّون نے ایک فائل اٹھا کر قاسم کے سامنے رکھ دی۔ قاسم نے چونک کر پہلے فائل کو دیکھا، پھر حیرانی سے زارّون کی طرف دیکھا۔
"یہ کیا ہے؟" قاسم کی آواز میں حیرت کے ساتھ تھکن بھی شامل تھی۔
"چیک کر لو، ابھی کے ابھی۔" زارّون نے بےنیازی سے جواب دیا اور ساتھ ہی LED آن کر کے Netflix پر فلم لگا دی۔
قاسم نے فائل کو دوبارہ کھولا۔"یہ… ICT پارٹ ون کے ٹیسٹ پیپرز ہیں؟"
قاسم نے جیسے سر پیٹ لیا ہو۔ زارّون نے ایک نظر اس پر ڈالی اور واپس مووی کی طرف متوجہ یو گیا، "ہاں، اب جب میں پڑھا رہا ہوں تو چیکنگ تمھیں ہی کرنی ہو گی۔"
قاسم نے دانت پیستے ہوئے آ ہستہ آ واز میں کہا ، جو کہ زارون کے کان تک پہنچ گئی ، "اگر یہی کام کرنا تھا تو میں پہلے ہی کسی کالج یا یونیورسٹی میں اپنی سی وی دے آتا!"
"دی ہو گی، لیکن شاید کسی نے تمہیں اس قابل نہیں سمجھا۔"
قاسم کی تیوری چڑھ گئی۔
یہ فقرہ محض مزاحیہ انداز میں کہا گیا تھا، حالانکہ زارّون خود بھی بخوبی جانتا تھا کہ اگر قاسم تدریس کے شعبے میں ہوتا، تو بلاشبہ ایک قابل، محنتی اور باصلاحیت استاد ثابت ہوتا۔
قاسم واقعی اب جھنجھلا چکا تھا۔ ایک تو دن بھر کی تھکن کے بعد وہ گھر جا کر کچھ دیر آرام کرنا چاہتا تھا، اور اُوپر سے زارّون نے اُسے پیپرز کی جانچ پر بٹھا دیا — اور جیسے یہ سب کافی نہ تھا، اُلٹا اُسے نالائقی کا طعنہ بھی دے ڈالا۔
قاسم نے منہ بنایا اور دل ہی دل میں کوسنے لگا،
قاسم نے تقریباً پینتیس منٹ میں تمام پیپرز چیک کر لیے تھے۔ کام ختم کرتے ہی اُس نے پیپرز کو ترتیب سے فائل میں رکھا اور اُٹھ کر
Episode 6
ا

زارون نے قاسم کو ہدایت دی: "سارہ کے گھر پر نظر رکھو…"
ساتھ ہی اپنے خاص آدمیوں کو بھی وہاں تعینات کر دیا۔ ایک لمحے کو خود اُس کے ذہن میں سوال ابھرا— "میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں؟" وہ الجھن میں تھا، بےچینی میں مبتلا، جیسے اپنے ہی افعال کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہو۔
حقیقت تو یہی تھی کہ زارون سارہ سے صرف معذرت کرنا چاہتا تھا۔ اُس کے دل پر بوجھ تھا، جسے ہلکا کرنے کے لیے وہ بس ایک موقع چاہتا تھا۔ وہ آزادی سے اپنی زندگی جئے، جس سے چاہے شادی کرے—زارون کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا… ہونا بھی نہ چاہیے تھا۔
مگر جب سے اُس نے سارہ کی شادی کی خبر سنی تھی، جیسے کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا ہو۔ اُس کے اندر کی زمین ہل گئی تھی۔ وہ خود کو کھو بیٹھا تھا۔ اُس کی سوچیں، اُس کے فیصلے، سب کچھ بےربط ہو چکا تھا۔
اب وہ ہر وہ قدم اٹھا رہا تھا جو عقل، اخلاق اور اصولوں کے منافی تھا— اور اُسے خود بھی اس کا شعور تھا۔ مگر احساسِ جرم، بےچینی اور انجانا سا کھو دینے کا خوف اُسے کچھ بھی کر گزرنے پر مجبور کر رہا تھا۔

***************
"رانا زارون! یہ تم کیا کرتے پھر رہے ہو؟ مجھے اپنی تربیت پر افسوس ہونے لگا ہے۔"
زارون نے جیسے ہی دادا جان کی کال وصول کی، دوسری طرف سے ان کی جھنجھلاتی ہوئی آواز اُس کے کانوں میں گونجی۔ وہ جانتا تھا کہ رانا قیوم کی نگاہیں اُس کے ہر قدم پر جمی ہوئی ہیں، اس لیے اس سرزنش پر اُسے قطعاً کوئی حیرت نہ ہوئی۔
"کیا کر رہا ہوں میں؟"
زارون نے بےنیازی اور تمسخر سے جواب دیا، جیسے انجام کی پروا ہی نہ ہو۔

"کیوں اُس لڑکی کی زندگی میں مداخلت کر رہے ہو، زارون؟ اُس معصوم بچی کی جتنی زندگی تم نے برباد کی، کیا وہ کم تھی کہ اب تم اُس کا باقی ماندہ سکون بھی چھیننے چلے ہو؟"
رانا قیوم کا صبر اب آخری حد کو چھو چکا تھا۔ غصے سے ان کی آواز کپکپانے لگی۔ دل چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ ایسا کر گزریں جو زارون کی آنکھیں کھول دے۔
مگر زارون نے اپنی روایتی سنگدلی کے ساتھ جواب دیا،
"اگر اُس کی زندگی برباد کی ہے تو اُسے آباد بھی میں ہی کروں گا۔ اور ویسے بھی، میں نے اُسے ابراہیم کے ساتھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ جب تک یہ معاملہ واضح نہیں ہو جاتا، وہ کہیں نہیں جا سکتی۔"

زارون کے لہجے میں وہی پرانا تکبر اور ضد بول رہی تھی۔ رانا قیوم کا ضبط اب لبریز ہو چکا تھا۔ دل چاہا کہ وہ اُس کی زبان بند کر دیں—کاش کوئی گولی ہوتی جو اُس کی خودسری کا علاج کر سکتی۔
"زارون! جو اُس بچی کے ساتھ ہو چکا ہے، وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اب اگر تم نے اُس کی زندگی میں مزید مداخلت کی، تو یاد رکھو، مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا!"
یہ کہہ کر رانا قیوم نے فون بند کر دیا۔ اُن کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں، چہرہ سرخ تھا اور خون کا دباؤ حد سے تجاوز کر رہا تھا۔ وہ جانتے تھے، زارون اُن کی بات کا اثر لینے والا نہیں۔ وہ بچپن سے ہی ایسا تھا—ضدی، خودسَر، اور حد سے بڑھ کر خود کو درست سمجھنے والا۔
رانا قیوم بےبسی سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے، دل میں بس ایک ہی دعا تھی کہ اللہ سارہ کو زارون جیسے آندھی صفت انسان سے محفوظ رکھے۔

***************

سارہ کے گھر شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ اگرچہ یہ ایک سادہ سی نکاح کی تقریب تھی، مگر جمیلہ خاتون شب و روز بازاروں کے چکر لگا رہی تھیں۔ وہ اپنی بیٹی کی ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا بھی خیال رکھ رہی تھیں۔ بظاہر وہ پُرسکون دکھائی دیتیں، مگر اندر ہی اندر ایک انجانی بےچینی انہیں مسلسل گھیرے جا رہی تھی۔ ان کے دل میں بار بار یہی سوال اٹھتا کہ کیا واقعی انہوں نے یونیورسٹی میں سارہ کی شادی کی خبر دے کے درست کیا؟ انہوں نے اس بارے میں سارہ سے کوئی بات نہ کی تھی کہ کہیں وہ مزید پریشان نہ ہو جائے۔
شام کے سات بج رہے تھے۔ سارہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں خاموشی سے کھڑی چاند کو تک رہی تھی۔ کبھی یہی چاند اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا تھا، اور وہ اسی سے اپنے خیالی شہزادے کی باتیں کیا کرتی تھی۔ مگر آج، اُسی چاند کی چمک میں اُسے کوئی کشش محسوس نہ ہوئی۔ نہ کوئی خواہش باقی رہی، نہ کوئی خواب۔ جہاں لڑکیاں شادی کے موقع پر شوخیوں، ہنسیوں، اور نئی زندگی کے سہانے تصور میں کھوئی ہوتی ہیں، وہاں سارہ تھی—خوف اور اندیشوں میں گھری ہوئی۔ اُسے کسی قسم کی اچھی فضا محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ وہ محض اپنی ماں کی خوشی کے لیے خاموش تھی۔
اسی سوچ میں ڈوبی، وہ کھڑکی سے پلٹی ہی تھی کہ اس کے موبائل فون پر اچانک بیل بجی۔ اُس نے گردن موڑ کر بیڈ پر رکھے فون کی طرف دیکھا۔ اسکرین پر وہی نامعلوم نمبر جگمگا رہا تھا، جس کی کال اسے چند روز قبل موصول ہوئی تھی۔ سارہ نے فوراً کال کو نظر انداز کر دیا۔ فون مسلسل بجتا رہا، پھر خاموش ہو گیا۔ لیکن اگلے ہی لمحے میسج الرٹ کی آواز نے خاموشی توڑ دی۔ کسی نے مسلسل کئی پیغامات بھیجے تھے۔
سارہ نے بیزاری سے موبائل اٹھایا اور پیغامات کھولے۔ اُن الفاظ کو پڑھ کر اس کا چہرہ ایک دم زرد پڑ گیا۔
"اگر اب تم نے میری کال نہ اُٹھائی، تو انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔"
ایک لمحے کو اُس کے بدن میں سنسنی دوڑ گئی۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی، اور وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسکرین کو تکتی رہ گئی۔
فون دوبارہ بجنے لگا۔ سارا نے کانپتے ہاتھوں سے کال اُٹھائی۔
"کل تم مجھ سے ملنے آؤ گی!"
زَارون کا لہجہ تحکم بھرا تھا،
"نہیں! میں نہیں آؤں گی۔ کبھی بھی نہیں! تم ایک سایے کی طرح میرے پیچھے لگ گئے ہو۔ میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ ابھی بھی کیا کچھ باقی رہ گیا ہے؟... خدا کرے تم غرق ہو جاؤ!"
سارہ کی آواز میں چیخ تھی، کرب تھا، اور ہذیانی کیفیت نمایاں تھی۔ وہ بلند آواز میں بولنے لگی۔ کمرے کی خاموش فضا اس کے الفاظ سے لرزنے لگی، لیکن اس کی والدہ جمیلہ خاتون جو سر درد کی دوا لے کر سو چکی تھیں، سارہ کی آواز سے بے خبر نیند کی آغوش میں تھیں۔
زَارون کو لمحے بھر کو سارہ کی حالت پر افسوس ضرور ہوا، مگر وہ جانتا تھا کہ اگر اب وہ نرم پڑا تو سارہ کبھی اُس کی بات نہیں مانے گی۔
"اگر تم نے میری بات نہ مانی، تو اس کا خمیازہ تمہاری ماں کو بھگتنا پڑے گا۔ میرے لیے معمولی سا حادثہ کروانا کوئی بڑی بات نہیں!"
یہ الفاظ کسی دھمکی سے زیادہ، ایک زہر آلود تلوار کی مانند تھے جو سارہ کے وجود کو چیر گئی۔ زَارون جانتا تھا کہ سارہ کمزور دل ہے، اور وہ ڈر کے مارے جھک جائے گی۔
لیکن سارہ اس لمحے خوفزدہ ہونے کے باوجود پست نہیں ہوئی۔ اس کی آواز روہانسی ضرور تھی، مگر لہجہ پُرعزم:
"مجھ سے بہتر تمہیں کون جانتا ہے، ؟ میں جانتی ہوں تم کیا کچھ کر سکتے ہو، مگر... اب نہیں۔"
زَارون نے دکھ سے آنکھیں موند لیں۔ دل میں خواہش جاگ اُٹھی کہ کاش وہ اُس لمحے کو اپنی زندگی سے مٹا سکتا،
"کل یونیورسٹی کے باہر مجھ سے—"
ابھی وہ جملہ مکمل بھی نہ کر پایا تھا کہ سارہ نے کال کاٹ دی۔ زَارون کی آواز فضاء میں گم ہو گئی: "ہیلو؟... سارہ؟"
لیکن دوسری جانب خاموشی تھی۔ سارہ نے فون بند کیا، اور اسے سائیڈ ٹیبل کی دراز میں رکھ دیا۔ پھر وہ بستر پر بیٹھ گئی، گھٹنوں کو بانہوں میں جکڑا اور دھیرے دھیرے رونے لگی۔

"یا اللہ! پلیز... میری مدد فرما۔"

"اگر وہ واقعی کچھ کرنے پر اُتر آیا ہے، تو وہ ضرور کرے گا... یا اللہ میری امی کی حفاظت فرمانا، میرے پاس صرف وہی ایک رشتہ ہے... کہیں وہ انسان مجھ سے وہ بھی نہ چھین لے..."
اندیشوں کے اندھیرے میں سارہ کی آنکھیں نم تھیں۔ لیکن اُس کا دل جانتا تھا — کچھ بھی ہو جائے، وہ زَارون سے ملنے نہیں جائے گی۔ کسی صورت نہیں۔
****************
رات آنکھوں میں کٹ گئی۔ سارہ کی پلکوں کو لمحے بھر کو بھی سکون نہ ملا۔ جیسے جیسے سحر قریب آئی، درد سر نے اُس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ دیر تک بستر پر لیٹی رہی، پھر تھکے قدموں سے اُٹھی اور نڈھال بدن کے ساتھ شاور لیا۔ کمرے سے نکلی تو سامنے ہی جمیلہ خاتون چادر سنوار رہی تھیں، شاید بازار جانے کی تیاری میں تھیں۔
سارہ کی آنکھوں میں رات کی ہولناک دھمکیاں اب بھی لرز رہی تھیں۔ دل میں ایک انجانی بےچینی نے جگہ بنالی تھی۔ وہ فوراً ماں کے قریب پہنچی۔
"امی، آپ کہیں جا رہی ہیں؟" اُس نے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں بیٹا، کچھ ضروری چیزیں لینی ہیں اور تمہارے کپڑے بھی درزی کے ہاں سے اُٹھانے ہیں،" جمیلہ خاتون نے مصروف لہجے میں کہا۔ اُنہیں اندازہ ہی نہ ہوا کہ سارہ کا چہرہ زرد پڑ چکا ہے، اور لب کانپ رہے ہیں۔
"امی، آج نہ جائیں... میرا خیال ہے جتنی خریداری ہو چکی وہی کافی ہے، اب مزید کچھ نہ لیں،" سارہ کی آواز میں عجیب التجا چھپی تھی،

"ارے بیٹا، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک ہی تو بیٹی ہے میری، کچھ نہ کچھ تو لینا پڑے گا۔ تم بس دروازہ اچھی طرح بند رکھنا، میں خالہ الماس سے کہہ آئی ہوں، وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد چکر لگاتی رہیں گی۔"
یہ کہہ کر جمیلہ خاتون نے سارہ کی بات سنے بغیر دروازہ کھولا اور تیزی سے گھر سے نکل گئیں۔ سارہ وہیں دروازے کے قریب کھڑی رہ گئی، آنکھوں سے آنسو خاموشی سے بہنے لگے۔
اسے اپنا جسم تپتا ہوا محسوس ہو رہا تھا، اُس کے پاؤں کانپنے لگے، اور وہ قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ دل میں ایک ہی دعا بار بار دھڑکنے لگی:
"یا اللہ میری امی کی حفاظت فرمانا… یا اللہ میری ماں کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا..."وہ آنکھیں بند کیے، لرزتے ہونٹوں سے دُعا مانگتی رہیمکمل ناول کیلیے اس چینل کو فا لو کریں شکریہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7YP6UDJ6GwkskPtu1Q

✍️💫🌟✨

02/01/2026

𝐎𝐰𝐍𝐞𝐑─
✍️★مَلِک مَعصُوم رائِٹس💫
قید
Episodes 4

ایک سیاہ لینڈ کروزر حویلی کے وسیع و عریض صحن کے سامنے آہستہ سے آ کر رکی۔ گاڑی کے دروازے سے، سیاہ رنگ کے لباس میں ملبوس، اور اسی رنگ کی گرم شال اوڑھے، زارّون باہر نکلا۔ اس کے چہرے پر ایک سنجیدہ سکوت طاری تھا

حویلی کے اندر داخل ہوتے ہی، ملازم مؤدبانہ انداز میں سلام کرتے گئے، مگر زارّون ان سب کو نظرانداز کرتا ہوا، سیدھا اوپری منزل پر واقع لائبریری کی جانب بڑھا۔ وہ جس راستے سے گزرتا، وہاں خاموشی چھا جاتی۔
لائبریری میں پہنچ کر، وہ بھاری سانس لیتا ہوا ایک صوفے پر بیٹھ گیا اور سر کی پشت ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ کتابوں سے سجے کمرے میں سکوت چھا گیا۔
لائبریری کے ساتھ ہی ایک بیڈ روم کا دروازہ کھلا، اور سفید ریش، ستر سالہ بزرگ آہستہ آہستہ اندر داخل ہوئے۔ یہ تھے رانا قیوم، زرّون کے دادا، جن کے چہرے پر فہم، ضبط اور درد کا سنگم جھلک رہا تھا۔
"تو ہو گیا تمہارا بدلہ پورا، رانا زارّون؟"
ان کی آواز میں طنز تھا۔
زارّون نے آنکھیں بند رکھیں، وہ جو کچھ کہنے آیا تھا، رانا قیوم کو پہلے سے معلوم تھا۔
"میں نے تمہیں روکا تھا، کہا تھا کہ اس انتقام کے پیچھے مت جاؤ۔ انصاف کا اختیار اللہ کو دو۔ مگر تم باز نہ آئے۔ اب بتاؤ، کیا ملا؟ دل کو سکون ملا؟"
قیوم صاحب راکنگ چیئر پر بیٹھ گئے۔ ان کی آواز میں لرزش تھی، جیسے یقین نہیں آ رہا ہو کہ ان کا زارّون ایسی سنگین حد تک جا سکتا ہے۔
زارّون آہستہ سے سیدھا ہو کر بیٹھا۔ اس کے چہرے پر اذیت اور ندامت صاف جھلک رہی تھی۔
"نہیں ملا، دادا حضور... بلکہ جو تھوڑا بہت سکون تھا، وہ بھی چھن گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی، یہ سب کیسے ہو گیا؟ میں کیسے دھوکہ کھا گیا؟ میں نے خود سارہ کو اُس شخص کے ساتھ دیکھا، وہ ابراہیم ہی تھا! پھر وہ اس کا باپ کیسے نہیں ہو سکتا؟ اگر وہ باپ نہیں، تو سارہ اس کے ساتھ کیا کر رہی تھی؟"
زارّون کی آواز میں بے بسی تھی، اور نظریں خلا میں گم۔
"ابھی بھی تم وہی سوچ رہے ہو جو پہلے سوچا تھا، زارّون میں تمہیں کیسے سمجھاؤں، کہ اگر ابراہیم مجرم تھا تو سزا صرف اُسے ملنی چاہیے تھی، اُس کی بیٹی کو نہیں۔ وہ ابراہیم کی بیٹی ہو یا نہ ہو، تم نے گناہ کیا ہے۔"
اب رانا قیوم کی آواز میں سختی آ چکی تھی۔
زارّون نے نظریں نیچی کیں، اور نرمی سے کہا، "فی الحال میں کسی بدلے کے بارے میں نہیں سوچ رہا، بس... سارہ کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔"
اس نے دوبارہ سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا اور چھت کی جانب دیکھنے لگا۔
قیوم صاحب نے ٹھنڈی سانس بھری، "تو پھر جاؤ، اس لڑکی سے معافی مانگو۔ اُس کے گھر والوں سے بھی۔ اگر وہ قانونی کارروائی کرنا چاہیں تو اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دو۔"
زارّون نے آنکھیں بند کیں، اور ہونٹ بھینچتے ہوئے آہستہ سے کہا، "کر دوں گا، لیکن پہلے... میں سارہ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔"
وہ تیزی سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا۔
"خبردار، جو تم نے اب کچھ اور کہا اُس بچی سے ، زارّون... زارّون! میری بات سنو! زارّون!" قیوم صاحب پکارنے لگے، مگر زارّون ان کی بات سنی ان سنی کرتا ہوا حویلی سے نکل گیا۔ پیچھے صرف قیوم صاحب کی جھنجلائی ہوئی آواز باقی رہ گئیں۔
****************
اسی شام زارّون نے اسلام آباد سے فلائٹ لی اور کراچی واپس لوٹ آیا۔
دوسری طرف سارہ یونیورسٹی کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ جمیلہ خاتون کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھیں، اور سارہ، کمرے کے ڈریسنگ مرر کے سامنے کافی دیر سے خود کو دیکھ رہی تھی۔ بلاشبہ، وہ بےحد خوبصورت لڑکی تھی۔ لمبی گھنی پلکیں، دودھ جیسا شفاف رنگ، چمکدار براؤن آنکھیں اور ریشم جیسے بکھرتے ہوئے لمبے بال—وہ کسی بھی نظر کو پل بھر میں روک لینے والی شخصیت کی مالک تھی۔
کبھی وہ جب آئینے میں دیکھتی تو ہنستی تھی۔ اب آئینہ دیکھنا جیسے ایک سزا بن چکا تھا۔ وہ خاموش ہو گئی تھی—وہ جو پہلے آنسو بہاتی تھی، اب اندر ہی اندر ٹوٹنے لگی تھی۔
اس وقت بھی، وہ ہاتھ میں ہیئر برش تھامے آئینے کے سامنے بےحس و حرکت کھڑی تھی، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ اتنے میں جمیلہ خاتون کمرے میں آئیں تو سارہ کو ایک ہی حالت میں کھڑا پایا۔ وہ آگے بڑھیں، نرمی سے اس کے ہاتھ سے برش لیا اور اس کے بال سنوارنے لگیں۔
سارہ کا سکوت توڑا، سارہ نے آئینے میں ہی اپنی ماں کی جانب دیکھ کر ایک مدھم سی مسکراہٹ دی۔ جمیلہ خاتون جانتی تھیں کہ یہ مسکراہٹ صرف انھیں تسلی دینے کے لیے ہے، حقیقت کا عکس نہیں۔ مگر وہ خاموش رہیں—گزرا ہوا وقت چھیڑنا انھیں مناسب نہ لگا۔
"چلو بیٹا، آ جاؤ... میں نے ناشتہ لگا دیا ہے۔"
برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے، انہوں نے سارہ کے گال پر ہلکا سا ہاتھ رکھا اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔ پیچھے سارہ نے آہستہ سے اپنا بیگ اٹھایا اور سیڑھیاں اترنے لگی۔
"امی! آج میرا ٹیسٹ ہے، نئے ٹیچر آئے ہیں... بہت سخت مزاج لگتے ہیں۔ دعا کریں میرا ٹیسٹ اچھا ہو جائے۔"
ناشتہ ختم کرنے کے بعد سارہ دروازے کی جانب بڑھی۔
جمیلہ خاتون نے، اپنے دل کی گہرائی سے دعا دیتے ہوئے کہا، "میری بیٹی کا ٹیسٹ بہترین ہوگا، ان شاء اللہ! دیکھ لینا، سب سے زیادہ نمبر میری بیٹی کے ہی آئیں گے۔"
سارہ نے محبت سے مسکرا کر ماں کا ماتھا چوما اور باہر نکل گئی۔ پیچھے جمیلہ خاتون دروازے کی چوکھٹ پر کھڑی رہ
گئیں، اور نظریں دروازے سے آگے جاتی اپنی بیٹی کے قدموں میں دعا کے پھول بچھاتی رہیں—اس کی دائمی خوشیوں کی تمنّا لیے
******************
سارہ اپنی پہلی دو کلاسز لے چکی تھی، اب تمام طلبہ نئے آئی سی ٹی کے استاد کا انتظار کر رہے تھے، جنہوں نے آج پہلا لیکچر دینا اور ساتھ ہی ٹیسٹ بھی لینا تھا۔ سارہ کلاس میں کسی سے غیر ضروری گفتگو نہیں کرتی تھی۔ وہ خاموش مزاج لڑکی تھی— بات چیت کم کرتی، اور اکثر فارغ وقت میں اپنی ڈائری لکھا کرتی۔ مگر اگر کوئی ہم جماعت پڑھائی سے متعلق سوال کرتا تو وہ ضرور جواب دیتی، یہاں تک کہ دوسروں کی مدد بھی کرتی تھی۔
آج بھی کچھ طلبہ آپس میں گپ شپ میں مصروف تھے اور کچھ جلدی جلدی ٹیسٹ کی تیاری کر رہے تھے۔ اچانک کلاس روم کا دروازہ کھلا، اور ایک نوجوان استاد، سیاہ جینز اور اوپر سے کالی لیدر جیکٹ میں ملبوس اندر داخل ہوا۔
تمام طلبہ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ لیکن اُن کے چہرے پر حیرت کا رنگ بھی نمایاں تھا—خصوصاً لڑکیاں، جو اُس کی پرکشش شخصیت سے بے ساختہ متاثر ہو گئیں۔ سارہ بھی دیگر طلبہ کے ساتھ کھڑی ہوئی، مگر اُسکی نظر ابھی نئے استاد پہ نہیں پڑی تھی

"Sit down, please!" وہ آواز پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اُس کے کانوں میں پڑی۔ سارہ جیسے پتھر کی ہو گئی۔ اُس کے ارد گرد سب طلبہ بیٹھ گئے، مگر وہ اب بھی کھڑی لرز رہی تھی، جیسے زمین پیر کے نیچے سے نکل گئی ہو۔
"آپ بھی بیٹھ جائیں!" یہی آواز پھر ابھری، اور اس بار اُس نے بمشکل ہمت مجتمع کرتے ہوئے سر اٹھایا۔ سامنے زارّون کھڑا تھا۔ وہی زارّون... جو اُس کی زندگی کا سب سے تاریک باب بن چکا تھا۔
زارّون بھی اُسے ہی دیکھ رہا تھا—خاموش، جامد، اور نگاہوں میں ایک گہری خلش لیے۔
سارہ ابھی چیخ پڑتی یا شاید آنسو بہا دیتی، کہ اسی لمحے اُس کے ساتھ بیٹھی نیلوفر نے اُس کا ہاتھ تھاما اور جھک کر سرگوشی کی، "پتا ہے... سر بہت ہینڈسم ہیں، لیکن یہ کیا طریقہ ہے یوں گھورنے کا؟"
نیلوفر کو لگا سارہ اُن کی شخصیت سے متاثر ہو گئی ہے، اور اس لیے نظریں ہٹانا بھول گئی ہے، جبکہ سارہ تو ابھی تک لرز رہی
تھی۔ اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ خواب ہے یا حقیقت۔ "یہ آدمی پھر سے کیوں آ گیا ہے؟!"
دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو چلی تھیں۔ اُس نے کانپتی آواز میں بمشکل نیلوفر سے کہا: "میری طبیعت خراب ہو رہی ہے... مجھے باہر جانا ہے..."
نیلوفر گھبرا گئی، سارہ کا رنگ اُڑ چکا تھا۔
"سر، میری فرینڈ کی طبیعت کافی خراب ہو رہی ہے، کیا وہ کلاس سے باہر جا سکتی ہیں؟" نیلوفر فوراً کھڑی ہو کر بولی۔
زارّون اب بھی سارا کو ہی دیکھ رہا تھا، لیکن اُس کا سوال نیلوفر سے تھا: "کیا ہوا ہے آپ کی فرینڈ کو؟"
تمام طلبہ مُڑ کر سارہ کو دیکھنے لگے۔ نظروں کے اس بوجھ نے سارہ کو مزید بےچین کر دیا۔
"سر... انھیں suffocation ہو رہی ہے، چکر بھی آ رہے ہیں۔"
زارّون نے نیلوفر کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ہلکی طنزیہ مسکراہٹ سے بولا:
"جی... جب ٹیسٹ کی تیاری نہ ہو، تو suffocation بھی ہوتی ہے اور چکر بھی آتے ہیں۔"
تمام کلاس قہقہہ مار کر ہنسنے لگی۔
سارہ نے غصے سے زارّون کی طرف دیکھا، اور وہ اب بھی اُسے ہی دیکھ رہا تھا— نیلوفر کو زارّون کی بات بری لگی، وہ جانتی تھی کہ سارہ کلاس کی سب سے قابل طالبہ ہے۔

زارّون بخوبی جانتا تھا کہ سارہ اُس کی موجودگی پر ردعمل ضرور دے گی۔ اُس نے اندازہ لگایا تھا کہ شاید وہ چیخ پڑے گی، چیخیں مارے گی یا ممکن ہے بے ہوش ہو جائے… مگر سارہ نے جس حوصلے اور خاموشی سے خود کو سنبھالا، وہ زارّون کے لیے حیرت کا باعث تھا۔
اس نے ماحول کو نارمل رکھنے کے لیے طلبہ کو ٹیسٹ کے لیے ترتیب سے بیٹھنے کی ہدایت دی سارہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے، وہ نگاہیں جھکائے، خامشی سے آنسو پونچھتی رہی۔ نیلوفر اُس کی کیفیت کو دیکھ کر رنجیدہ ہو گئی۔ وہ جو کچھ لمحے پہلے زارّون کی شخصیت سے متاثر ہوئی تھی، اب اُسے بیزاری محسوس ہونے لگی۔
سارہ دل ہی دل میں اپنی ماں کو پکارنے لگی:
"امی... کہاں ہیں آپ؟ پلیز آ جائیں... مجھے یہاں سے لے جائیں... ورنہ یہ آدمی اس بار واقعی مجھے ختم کر دے گا!"
اُس کے منتشر خیالات کو زارّون کی آواز نے توڑا:
"چلیں، ٹیسٹ شروع کرتے ہیں۔ سب تیار ہیں؟"
"یس سر!" کلاس نے بیک آواز جواب دیا۔
"گڈ!" زرّون نے سوالات تقسیم کیے اور ٹیسٹ کا وقت بتاتے ہوئے ماحول کو سنجیدہ کر دیا۔ سارہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر اُس نے قلم سنبھالا، اور لکھنا شروع کیا۔ وہ جتنی خائف اور گھبراہٹ کا شکار تھی، اتنی ہی ضدی بھی ہو چکی تھی۔ اُس نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو، وہ یہ ثابت کر کے رہے گی کہ وہ نالائق نہیں، اور اُسے اپنا ٹیسٹ آتا ہے۔
کچھ دیر بعد زارّون کسی کام سے کلاس سے باہر چلا گیا اور ایک دوسرے استاد کو نگرانی کے لیے چھوڑ گیا۔ زارّون کی غیرموجودگی نے سارہ کو کچھ حد تک سکون دیا، اُس کی گرفت قلم پر مضبوط ہونے لگی، اور وہ دل جمعی سے پرچہ حل کرنے لگی۔
دس منٹ گزر چکے تھے، زارّون واپس نہیں آیا تھا، سارہ کا خوف کچھ دھندلا پڑنے لگا تھا۔ اب وہ پوری تیزی سے لکھ رہی تھی۔ اُس کی خواہش تھی کہ ٹیسٹ مکمل ہوتے ہی زارون کے آ نے سے پہلے یہاں سے نکل جائے۔
لکھتے لکھتے اُس کا قلم ہاتھ سے گر گیا۔ وہ جھکنے ہی والی تھی کہ کسی نے اُس کے پرچے پر خاموشی سے ایک قلم رکھ دیا۔ اُس
نے بنا دیکھے قلم اٹھایا اور لکھنا جاری رکھا۔ لیکن اُسے محسوس ہوا کہ کوئی اُس کے عین سر پر کھڑا ہے۔
پرچہ مکمل کرنے کے بعد جب اُس نے شکریہ ادا کرنے کے لیے سر اُٹھایا—تو سانس جیسے رُک گئی۔ وہ زارّون تھا—اُس کا چہرہ، اُس کی آنکھیں، بالکل سامنے... اتنے قریب کہ ماضی کا ہر لمحہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔ آنسو بےقابو ہو کر بہنے لگے۔ اُس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ زارّون نے اُس کی حالت دیکھی، تو اضطراب اُس کے چہرے پر بھی نمایاں ہو گیا۔
"اگر آپ کی طبیعت خراب ہے، تو آپ باہر جا سکتی ہیں۔"
زارّون نے اُس کا پیپر اٹھایا اورپانی کی بوتل اُس کے سامنے رکھی۔
سارہ کچھ کہے بغیر فوراً کلاس سے باہر کی طرف بھاگی، لیکن اُس کے قدم اُس کا ساتھ نہ دے سکے۔ کلاس روم کے دروازے پر ہی وہ لڑکھڑائی، اور بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑی۔
زارّون فوراً لپکا، مگر اُس سے پہلے نیلوفر اور ایک اور طالبہ نے اُسے سنبھالا اور فوراً اسٹاف روم لے گئیں۔
زارّون لبوں کو سختی سے بھینچ کر وہیں کھڑا رہ گیامکمل ناول کیلیے اس چینل کو فا لو کریں شکریہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7YP6UDJ6GwkskPtu1Q

✍️💫🌟✨

Address

Quata
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Laiba khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category