23/02/2026
"ارشام لالا!۔۔۔۔ آپ کی بارات پر میں سیاہ لہنگا چولی پہنوں گی اور ڈھول کے آگے خوب ڈانس بھی کروں گی۔۔ 'پیارا بھیا میرا دولہا راجا بن کے آ گیا'۔" روحا کی آواز کسی خوش کن گھنٹی کی طرح ملک ولا کے وسیع و عریض ہال میں گونجی۔ وہ اپنے ہی دھیان میں مگن، ہاتھوں میں تھامی کانچ کی چوڑیوں کو کھنکاتی ہوئی گول گول گھوم رہی تھی۔ اس کے لہجے میں ایسی شوخی اور بے فکری تھی جیسے اسے دنیا کے کسی غم یا کسی کی پرواہ نہ ہو۔ وہ تتلی کی طرح اڑتی ہوئی ارشام کے اسٹڈی روم کا دروازہ بغیر دستک دیے کھول کر اندر داخل ہوئی تھی۔ کمرے میں حسبِ معمول بہت ٹھنڈک تھی اور سگار کی مدھم سی مہک فضا میں رچی ہوئی تھی۔ ارشام ملک اپنی بھاری بھرکم آرام دہ کرسی پر براجمان، لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظریں جمائے کچھ اہم میلز چیک کر رہا تھا۔ اس کی پیشانی پر تفکر کی لکیریں تھیں اور چہرے پر ہمیشہ کی طرح ایک رعب دار سنجیدگی طاری تھی۔ لیکن روحا کی آواز سنتے ہی اس کی انگلیاں کی بورڈ پر تھم گئیں۔
روحا ابھی بھی اپنی ہی دنیا میں تھی۔ اس نے ارشام کے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات کو نوٹ نہیں کیا۔ وہ کمرے کے وسط میں آ کر رکی اور اپنی فراک کے گھیر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کسی ماہر رقاصہ کی طرح لہرایا۔
"آپ سن بھی رہے ہیں لالا؟ میں نے ڈیزائنر کو آرڈر دے بھی دیا ہے۔ بلیک ویلوٹ کا لہنگا، اور اس پر گولڈن کام۔۔۔ اف! میں تو سوچ کر ہی ایکسائٹڈ ہو رہی ہوں۔ سب سے زیادہ رونق آپ کی بہن ہی لگائے گی آپ کی شادی میں۔" وہ مسلسل بولے جا رہی تھی، اس بات سے قطعاً بے خبر کہ سامنے بیٹھے شخص کے اندر کون سا لاوا پک رہا ہے۔ ارشام ملک نے آہستہ سے لیپ ٹاپ کی اسکرین جھکائی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر اسے دیکھا۔ اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں ایک عجیب سی طغیانی امڈ آئی تھی۔ لفظ لالا اس کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اترا تھا، اور اس پر روحا کا یہ اعلان کہ وہ ڈانس کرے گی۔۔۔ وہ بھی سب کے سامنے۔۔۔۔۔
ارشام کا چہرہ شدتِ ضبط سے سرخ پڑنے لگا۔ اس کے جبڑے سختی سے بھینچ گئے اور ہاتھ کی مٹھیاں خود بخود میز پر کس گئیں۔ وہ لڑکی، جسے اس نے اپنی نظروں کی حصار میں چھپا کر جوان کیا تھا، جس کی طرف کسی غیر مرد کی نظر اٹھنا بھی اسے گوارا نہیں تھا، وہ آج خود اپنے لیے تماشا بننے کی بات کر رہی تھی۔
روحا نے جب جواب نہ پایا تو کچھ حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔ ارشام کی خاموشی اس بار کچھ مختلف سی تھی۔ یہ وہ معمول کی خاموشی نہیں تھی جو اکثر اس کے غصے سے پہلے چھا جاتی تھی، بلکہ اس خاموشی میں ایک طوفان کا شور قید تھا۔ "کیا ہوا لالا؟ آپ خوش نہیں ہیں؟" روحا نے معصومیت سے پوچھا اور چند قدم چل کر اس کی میز کے قریب آئی۔ "میں تو آپ کی شادی کو یادگار بنانا چاہتی ہوں۔۔۔"
"دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟" ارشام کی آواز بہت دھیمی تھی، لیکن اس دھیمے لہجے میں جو کاٹ تھی، اس نے روحا کے قدم وہیں روک دیے۔۔ ارشام اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا چھ فٹ کا قد اور چوڑے شانے روحا کے سامنے ایک دیوار کی طرح حائل ہو گئے۔ وہ آہستگی سے میز کا چکر کاٹ کر اس کے قریب آیا۔
روحا کا دل دھک سے رہ گیا۔ ارشام کی آنکھوں میں جو وحشت تھی، وہ اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ بے اختیار ایک قدم پیچھے ہٹی، لیکن ارشام اس تک پہنچ چکا تھا۔ " تم مردوں کے سامنے ڈانس کرو گی؟"
اس نے دانت پیس کر دہرایا۔ اس کا لہجہ برف کی طرح سرد اور آگ کی طرح تپتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ روحا کو اپنی سانس گلے میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس کی کس بات نے ارشام کو اتنا مشتعل کر دیا ہے۔ "لالا وہ تو بس شادی کی خوشی میں۔۔۔ سب کرتے ہیں۔۔۔" روحا نے ہکلاتے ہوئے وضاحت دینے کی کوشش کی۔ "سب کرتے ہیں، مگر تم 'سب' نہیں ہو روحا!۔۔۔" ارشام نے اچانک اس کی کلائی اتنی سختی سے جکڑ لی کہ روحا کے منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی۔
اس کی گرفت مضبوط شکنجے جیسی تھی۔ ارشام کی آنکھیں اب مکمل طور پر اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ "تمہارا کیا خیال ہے؟ ارشام ملک کی عزت اب سرِ عام ناچے گی؟ ہزاروں نامحرموں کی ہوس زدہ نظریں تم پر پڑیں گی اور میں خاموشی سے تماشا دیکھوں گا؟
"چھوڑیں لالا! مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔" روحا نے روہانسی آواز میں کہا اور اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی۔ اس کی کلائی ارشام کی مضبوط انگلیوں کی گرفت میں بری طرح قید تھی۔ ❤️
Plz follow