saya brand

saya brand اعتبار بہت قیمتی شے ہے

"ارشام لالا!۔۔۔۔ آپ کی بارات پر میں سیاہ لہنگا چولی پہنوں گی اور ڈھول کے آگے خوب ڈانس بھی کروں گی۔۔ 'پیارا بھیا میرا دول...
23/02/2026

"ارشام لالا!۔۔۔۔ آپ کی بارات پر میں سیاہ لہنگا چولی پہنوں گی اور ڈھول کے آگے خوب ڈانس بھی کروں گی۔۔ 'پیارا بھیا میرا دولہا راجا بن کے آ گیا'۔" روحا کی آواز کسی خوش کن گھنٹی کی طرح ملک ولا کے وسیع و عریض ہال میں گونجی۔ وہ اپنے ہی دھیان میں مگن، ہاتھوں میں تھامی کانچ کی چوڑیوں کو کھنکاتی ہوئی گول گول گھوم رہی تھی۔ اس کے لہجے میں ایسی شوخی اور بے فکری تھی جیسے اسے دنیا کے کسی غم یا کسی کی پرواہ نہ ہو۔ وہ تتلی کی طرح اڑتی ہوئی ارشام کے اسٹڈی روم کا دروازہ بغیر دستک دیے کھول کر اندر داخل ہوئی تھی۔ کمرے میں حسبِ معمول بہت ٹھنڈک تھی اور سگار کی مدھم سی مہک فضا میں رچی ہوئی تھی۔ ارشام ملک اپنی بھاری بھرکم آرام دہ کرسی پر براجمان، لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظریں جمائے کچھ اہم میلز چیک کر رہا تھا۔ اس کی پیشانی پر تفکر کی لکیریں تھیں اور چہرے پر ہمیشہ کی طرح ایک رعب دار سنجیدگی طاری تھی۔ لیکن روحا کی آواز سنتے ہی اس کی انگلیاں کی بورڈ پر تھم گئیں۔
روحا ابھی بھی اپنی ہی دنیا میں تھی۔ اس نے ارشام کے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات کو نوٹ نہیں کیا۔ وہ کمرے کے وسط میں آ کر رکی اور اپنی فراک کے گھیر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کسی ماہر رقاصہ کی طرح لہرایا۔
"آپ سن بھی رہے ہیں لالا؟ میں نے ڈیزائنر کو آرڈر دے بھی دیا ہے۔ بلیک ویلوٹ کا لہنگا، اور اس پر گولڈن کام۔۔۔ اف! میں تو سوچ کر ہی ایکسائٹڈ ہو رہی ہوں۔ سب سے زیادہ رونق آپ کی بہن ہی لگائے گی آپ کی شادی میں۔" وہ مسلسل بولے جا رہی تھی، اس بات سے قطعاً بے خبر کہ سامنے بیٹھے شخص کے اندر کون سا لاوا پک رہا ہے۔ ارشام ملک نے آہستہ سے لیپ ٹاپ کی اسکرین جھکائی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر اسے دیکھا۔ اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں ایک عجیب سی طغیانی امڈ آئی تھی۔ لفظ لالا اس کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اترا تھا، اور اس پر روحا کا یہ اعلان کہ وہ ڈانس کرے گی۔۔۔ وہ بھی سب کے سامنے۔۔۔۔۔
ارشام کا چہرہ شدتِ ضبط سے سرخ پڑنے لگا۔ اس کے جبڑے سختی سے بھینچ گئے اور ہاتھ کی مٹھیاں خود بخود میز پر کس گئیں۔ وہ لڑکی، جسے اس نے اپنی نظروں کی حصار میں چھپا کر جوان کیا تھا، جس کی طرف کسی غیر مرد کی نظر اٹھنا بھی اسے گوارا نہیں تھا، وہ آج خود اپنے لیے تماشا بننے کی بات کر رہی تھی۔
روحا نے جب جواب نہ پایا تو کچھ حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔ ارشام کی خاموشی اس بار کچھ مختلف سی تھی۔ یہ وہ معمول کی خاموشی نہیں تھی جو اکثر اس کے غصے سے پہلے چھا جاتی تھی، بلکہ اس خاموشی میں ایک طوفان کا شور قید تھا۔ "کیا ہوا لالا؟ آپ خوش نہیں ہیں؟" روحا نے معصومیت سے پوچھا اور چند قدم چل کر اس کی میز کے قریب آئی۔ "میں تو آپ کی شادی کو یادگار بنانا چاہتی ہوں۔۔۔"
"دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟" ارشام کی آواز بہت دھیمی تھی، لیکن اس دھیمے لہجے میں جو کاٹ تھی، اس نے روحا کے قدم وہیں روک دیے۔۔ ارشام اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا چھ فٹ کا قد اور چوڑے شانے روحا کے سامنے ایک دیوار کی طرح حائل ہو گئے۔ وہ آہستگی سے میز کا چکر کاٹ کر اس کے قریب آیا۔
روحا کا دل دھک سے رہ گیا۔ ارشام کی آنکھوں میں جو وحشت تھی، وہ اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ بے اختیار ایک قدم پیچھے ہٹی، لیکن ارشام اس تک پہنچ چکا تھا۔ " تم مردوں کے سامنے ڈانس کرو گی؟"
اس نے دانت پیس کر دہرایا۔ اس کا لہجہ برف کی طرح سرد اور آگ کی طرح تپتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ روحا کو اپنی سانس گلے میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس کی کس بات نے ارشام کو اتنا مشتعل کر دیا ہے۔ "لالا وہ تو بس شادی کی خوشی میں۔۔۔ سب کرتے ہیں۔۔۔" روحا نے ہکلاتے ہوئے وضاحت دینے کی کوشش کی۔ "سب کرتے ہیں، مگر تم 'سب' نہیں ہو روحا!۔۔۔" ارشام نے اچانک اس کی کلائی اتنی سختی سے جکڑ لی کہ روحا کے منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی۔
اس کی گرفت مضبوط شکنجے جیسی تھی۔ ارشام کی آنکھیں اب مکمل طور پر اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ "تمہارا کیا خیال ہے؟ ارشام ملک کی عزت اب سرِ عام ناچے گی؟ ہزاروں نامحرموں کی ہوس زدہ نظریں تم پر پڑیں گی اور میں خاموشی سے تماشا دیکھوں گا؟
"چھوڑیں لالا! مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔" روحا نے روہانسی آواز میں کہا اور اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی۔ اس کی کلائی ارشام کی مضبوط انگلیوں کی گرفت میں بری طرح قید تھی۔ ❤️
Plz follow

آٹھارہ سالہ مہمل ارمغان خانزادہ  کے سینے سے لگی تھی۔سب پتھر ہوئے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔وہ ونی ہوکر ارمغان خانزادہ کے نکاح...
08/02/2026

آٹھارہ سالہ مہمل ارمغان خانزادہ کے سینے سے لگی تھی۔سب پتھر ہوئے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔وہ ونی ہوکر ارمغان خانزادہ کے نکاح میں آئی تھی۔سب کہتے ہیں آپ کسی پر ظلم نہیں کرتے مجھے بچالیں وہ روتے ہوئے معصومیت سے بولی ۔جبکہ اس کے ہونٹوں سے نکلتا خون بتا رہا تھا کہ حویلی والوں نے اس پر بہت تشدد کیا ہے۔اسے میرے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔نفرت سے اسکے لبوں کا خون اپنی انگلی سے صاف کرتا وہ چہرہ پھیر گیا۔۔وہ معصوم اسے مہربان سمجھتے اس کے کمرے میں گئی تھی ۔مگر نہیں جانتی تھی کہ اصل قیامت تو اب ٹوٹے گی۔کیونکہ کچھ دیر پہلے ہی وہ اپنے بھائی کا جنازہ اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر آیا تھا کچھ دیر بعد ہی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسیع و عریض حویلی کے ہال میں جلتی ہوئی فانوس کی تیز روشنی عجیب سا خوف بکھیر رہی تھی۔ درمیان میں کمزور اور نازک سی مہمل، لرزتے ہاتھ جوڑ کر سب کے سامنے کھڑی رحم کی بھیک مانگ رہی تھی۔ اس کے آنسو رخساروں پر بہہ بہہ کر زمین پر ٹپک رہے تھے۔
خدا کے لیے مجھے نہ ماریں۔۔۔۔۔قاتل میرے بابا ہیں تو مجھے کس بات کی سزا سنائی گئی ہے؟وہ ونی میں آئی تھی، ہچکیاں لیتی، وہ مسلسل رحم کی طالب تھی۔ مگر جواب میں زہر خند جملے تھے،حویلی کی بزرگ عورتوں کے چہروں پر سختی اور مردوں کی آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں سلگ رہی تھیں۔
ایک نوکرانی نے اسے بالوں سے کھینچ کر ہال کے درمیان گرا دیا۔ وہ چیخی، اس کا دوپٹہ سر سے اتر گیا۔ مہمل نے گھبرا کر خود کو ڈھانپنے کی کوشش کی مگر کسی نے لات ماری، کوئی چمٹا لے آیا۔ ونی ہوکر آئی ہے۔۔۔۔۔ یہ ہمارے خون کا کفارہ دے گی! ایک کڑک دار آواز گونجی۔مہمل کو اپنے ارد گرد دنیا گھومتی محسوس ہوئی تھی۔
مہمل نے زمین پر سجدے کی حالت میں زمین پر سر ٹیکا گیا۔اور سامنے بیٹھے فرعون اپنے دشمن کی بیٹی کو زیر کر کہ کروفر سے مسکرائے تھے۔۔۔ خدا کے واسطے، مجھے بخش دو! اس کیلرزتی آواز حویلی کے ستونوں سے ٹکرا کر واپس آئی، مگر کسی کا دل نہیں پسیجا تھا۔
کسی نے اس کی کلائی مروڑی، کسی نے کندھے پر چوٹ ماری۔ اس کا ننھا سا وجود لرزتا رہا، ہونٹوں سے خون بہتا رہا۔ وہ اپنے شوہر کے نام کی دہائی دیتی رہی، ارمغان خانزادہ مجھے بچا لو۔۔۔۔۔اس نے سن رکھا تھا،وہ بہت نرم دل مرد تھا۔اسکی ماں نے کہا تھا کہ وہ اسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔!
مگر ارمغان خانزادہ اس وقت قبرستان میں تھا، بھائی کی قبر پر مٹی ڈال رہا تھا۔ اور حویلی کے ہال میں مہمل کی سسکیاں بے آواز ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حویلی کے ہال میں شور برپا تھا۔ ہر طرف نفرت، طعن و تشدد کی بازگشت گونج رہی تھی۔ ۔۔
خدا کے واسطے۔۔۔۔۔ مجھے بخش دو۔۔۔۔۔ اس کی ٹوٹی پھوٹی آواز، ہال کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجی۔ مگر کوئی کان سننے کو تیار نہ تھا۔
اتنے میں بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی۔ دروازہ دھڑام سے کھلا، اور اندر ارمغان خانزادہ داخل ہوا۔ کالا لباس، چہرے پر خاک اور آنکھوں میں سُرخی۔ سب نے چونک کر رخ موڑا۔ لمحہ بھر کو ہال پر خاموشی طاری ہوگئی۔
اسی لمحے کسی نے مہمل کو زور کا دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی سیدھا ارمغان کے قدموں پر گری۔ پھٹے ہوئے ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا، آنکھوں میں خوف اور امید کی روشنی لرز رہی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا،،،سامنے وہ کھڑا تھا، اس کا شوہر، وہ شخص جسے وہ پناہ گاہ سمجھ رہی تھی۔
ارمغان۔۔۔۔۔! اس کے لبوں پر درد سے نکلا ہوا نام لرز گیا۔ وہ گھسٹتے ہوئے اس کی طرف بڑھی اور یکدم اٹھ کر اس کے سینے سے جا لگی۔ اس کے بازوؤں کے حلقے میں سکون ڈھونڈنے کی ایک معصوم جستجو۔
ہال میں سب سانس روکے یہ منظر دیکھنے لگے۔ ارمغان کے سخت جبڑے بھنچے ہوئے تھے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں، انتقام کی آگ سلگ رہی تھی۔ وہ چند گھنٹے پہلے ہی قبرستان سے واپس آیا تھا، اپنے جواں سال بھائی کو دفنا کر۔ اس کے دل پر غم کا بوجھ تھا، مگر سامنے اپنی بیوی کو خون آلود حالت میں دیکھ کر وہ بوجھ نفرت اور غصے کے طوفان میں بدل گیا۔
اس نے آہستہ سے مہمل کو اپنے پہلو سے الگ کیا۔ اس کی لرزتی انگلیوں کو تھام کر کھڑا کیا۔ پھر گردن موڑ کر حویلی کے مکینوں پر نگاہ ڈالی۔
کس نے ہاتھ اٹھایا ہے اس پر؟ اس کی بھاری آواز دیواروں سے ٹکرا کر گونجی۔
سب چپ۔ مگر ان کی خاموشی مجرم تھی۔ مہمل اس کے پیچھے سہم کر کھڑی ہوگئی۔ ارمغان کی آنکھوں سے شرر برس رہے تھے۔ وہ ایک ایک کو گھورتا گیا، جیسے ابھی چیر پھاڑ دے گا۔
میرے بھائی کی موت کا صدمہ کم تھا۔۔۔۔۔ جو تم لوگوں نے میرے نکاح کی امانت کو روند ڈالا؟میری اجازت کے بغیر ہاتھ کیسے لگایا تم نے؟ اس کی آواز بھاری آواز عجیب تاثر لی ہوئی تھی۔۔
مہمل کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس نے سوچا تھا شاید ارمغان اس کی ڈھال بنے گا۔ مگر اس کی آنکھوں میں ایسا طوفان تھا جو کسی کو بخشنے والا نہیں تھا۔
ہال کا فضا بوجھل ہوگیا۔ سب کو لگا کہ اب قیامت ٹوٹنے والی ہے۔۔۔۔۔۔ہال میں لمحوں کی خاموشی پھیل چکی تھی۔ سب نگاہیں ارمغان خانزادہ پر جمی تھیں۔ وہ مہمل کے کندھے کو تھامے کھڑا تھا، جیسے ابھی فیصلہ سنا دے گا۔ مہمل کے چہرے پر سوجن، ہونٹوں سے بہتا خون اور آنکھوں میں خوف کی نمی تھی۔ وہ اپنے شوہر کو سہارا سمجھ کر تھوڑا سا اس کے قریب ہوگئی، مگر اگلے ہی لمحے اس کی کڑک دار آواز گونجی۔۔
اسے میرے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔۔۔
یہ الفاظ بجلی کی طرح سب پر گرے۔ حویلی کے مکین ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ کسی کے چہرے پر حیرت، کسی کے لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی۔ مگر کسی نے جرات نہ کی کہ کچھ بول سکے۔سب کو لگ رہا تھا کہ ارمغان کمرے میں لے جا کرا س لڑکی وک روند کر اپنے لاڈلے بھائی کی موت کا بدلہ لے گا۔۔
دو نوکرانیاں آگے بڑھیں اور سہارا دے کر مہمل کو کھڑا کیا۔ اس نے چونک کر ارمغان کی طرف دیکھا۔ ایک پل کے لیے اس کے دل میں امید جاگی کہ شاید وہ اب اسے ظلم سے بچا لے گا۔ مگر ارمغان کے چہرے پر غصے کی سخت لکیریں تھیں۔ اس کے ہونٹ بھنچے ہوئے، آنکھوں میں انتقام کی چنگاریاں۔
مہمل کو اس کے کمرے کی دہلیز تک پہنچا کر نوکرانیاں پیچھے ہٹ گئیں۔ وہ اندر داخل ہوئی تو خوف سے اس کے قدم لرز رہے تھے۔ کمرے میں نیم اندھیرا تھا،۔ وہ سہمی ہوئی، آہستہ آہستہ پیچھے ہٹی اور دیوار سے ٹک کر بیٹھ گئی۔ اس کے کپڑے مٹی اور خون سے لت پت تھے، ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
ابھی وہ سکون کی ایک سانس بھی نہ لے پائی تھی کہ بھاری قدموں کی چاپ نے اس کے دل کو مزید دہلا دیا۔ دروازہ چرچراتا ہوا کھلا اور ارمغان خانزادہ اندر داخل ہوا۔ کمرے میں خاموشی اور خوف کی دبیز فضا پھیل گئی۔
مہمل نے دیوار سے ٹیک لگائی، خود کو مزید سمٹایا اور آنکھوں میں سوال لیے اس کی طرف دیکھا۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ اب اسے بچا لے گا۔۔۔۔۔ مگر دماغ یہ بھی ڈر رہا تھا کہ شاید اصل طوفان ابی آنے والا ہے۔
ارمغان خانزادہ کی سرخ آنکھیں اس کے وجود پر جم گئیں۔ اس نے آہستہ سے دروازہ بند کیا۔ کمرے کا ماحول مزید بوجھل ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمرے میں مدھم چراغ کی لرزتی روشنی تھی۔ مہمل دیوار سے ٹکی سہمے وجود کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس کے آنسو مسلسل گالوں پر بہہ رہے تھے۔ دل میں یہ سوال انگڑائی لے رہا تھا کہ شوہر جو ابھی ابھی بھائی کا جنازہ اٹھا کر آیا ہے، وہ اس پر کیا فیصلہ سنائے گا۔
ارمغان خانزادہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا اس کے قریب آیا۔ وہ سمٹی، مگر اگلے ہی لمحے اس کی سخت انگلیاں اس کے جبڑے کو جکڑ چکی تھیں۔ گرفت اتنی سخت تھی کہ مہمل کے آنسو مزید شدت سے بہنے لگے۔ وہ سسکیوں کے درمیان بمشکل لب ہلا سکی۔
میں نے۔۔۔۔۔ کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔!
ارمغان نے اپنا چہرہ جھکا کر اس کی لرزتی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کی آواز بھاری اور زخمی تھی، لیکن اس میں نفرت کی شدت بھی چھپی تھی۔
تم جانتی ہو، مہمل۔۔۔۔۔؟ کبھی میں نے اسی چہرے سے محبت کی تھی۔ یہ آنکھیں، یہ معصومیت۔۔۔۔۔ سب کچھ دل کو چھو جاتا تھا۔ تم وہ واحد لڑکی کو جس نے اس دل کے دروازے پر دستک دی تھی۔۔میں تم سے بہت محبت کرتا تھا۔تمھیں اپنے نکاح میں لینا چاہتا تھا۔مگر تمھارے باپ نے۔۔۔
وہ لمحہ بھر رکا، گرفت مزید سخت ہوگئی۔ مہمل کے لبوں سے ایک دبی ہوئی چیخ نکلی۔
لیکن۔۔۔۔۔! ارمغان کے لہجے میں زہر گھل گیا، آج جب میں نے اپنے بھائی کا جنازہ اپنے ہاتھوں سے اٹھایا ہے، تو یاد رکھنا۔۔۔۔۔ اب یہی چہرہ مجھے نفرت سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
مہمل کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ وہ سر جھٹکنے کی کوشش کرتی رہی، مگر اس کے جبڑے پر جمی ہوئی مضبوط گرفت نے اسے بےبس کر دیا۔ وہ ہچکیوں کے درمیان فریاد کرتی رہی
میں بےقصور ہوں۔۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔ خدا کے لیے میرا یقین کرو۔۔۔۔۔
لیکن ارمغان کی آنکھوں میں غصے کا طوفان ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ اس نے اسے جھٹکے سے دیوار کے ساتھ مزید جکڑ دیا۔
خاموش رہو! تمہاری سسکیاں بھی مجھے اس دن کی یاد دلاتی ہیں۔ میرے بھائی کا لہو۔۔۔۔۔ اور تمہارا وجود۔۔۔۔۔ دونوں اب ایک ساتھ جُڑ چکے ہیں۔
مہمل کی حالت دیدنی تھی۔ آنسو، سسکیاں، کپکپاتے لب اور بندھی ہوئی سانسیں۔ وہ جانتی تھی، اس کے الفاظ اب کسی کے دل کو نہیں چھو سکتے۔ اس کا شوہر، جو کبھی اس کے معصوم چہرے پر فدا ہوتا تھا، آج نفرت کی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
آخرکار ارمغان نے اس کا جبڑا جھٹکے سے چھوڑا۔ مہمل دیوار سے پھسلتی ہوئی زمین پر گر گئی۔ اس نے آنسوؤں میں بھیگے چہرے کو ہاتھوں میں چھپایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارمغان خانزادہ کاروبار کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا۔ اس کے جانے کے بعد حویلی کے مکینوں کو جیسے کھلی چھوٹ مل گئی تھی۔ وسیع حویلی کے صحن میں دن رات کام کی گونج رہتی، اور مہمل کا وجود اس شور میں دب کر رہ جاتا۔
وہ صبح سویرے اُٹھتی، مویشیوں کو چارہ ڈالتی، باورچی خانے میں گھنٹوں کھڑی رہتی، برتن مانجھتی، صحن میں جھاڑو دیتی، اور دن ڈھلتے ہی اس کے وجود سے جان نکلنے لگتی۔ مگر سکون کی ایک سانس بھی میسر نہ تھی۔
ہر وقت کسی نہ کسی کی کڑک دار آواز اس کے کانوں میں پڑتی۔
جلدی کر مہمل!
یہ برتن ابھی تک صاف نہیں ہوئے؟
ونی ہوکر آئی ہے، مزہ تو اسی کو چکھانا ہے۔۔۔۔۔
کبھی اس کے ہاتھ پر جلتا ہوا کوئلہ رکھ دیا جاتا، کبھی کپڑوں پر کھولتا پانی اچھال دیا جاتا۔ وہ چیختی، مگر آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔
راتوں کو جب سب سو جاتے، وہ اکیلی کمرے کے کونے میں بیٹھی زخموں پر پانی چھڑکتی اور روتے روتے سو جاتی۔ اس کے وجود پر نئے نشان بنتے جا رہے تھے، مگر اس کی زبان پر ہمیشہ ایک ہی دعا رہتی
اے خدا۔۔۔۔۔ یہ ظلم کب ختم ہوگا؟
مہمل کو یاد آتا وہ لمحہ جب ارمغان نے اس کے جبڑے کو سختی سے تھام کر کہا تھا کہ وہ اب اس سے محبت نہیں کرتا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلتے مگر دل میں ایک ہلکی سی امید باقی تھی کہ شاید شہر سے لوٹنے کے بعد وہ اس کے زخموں کو دیکھے گا، شاید ایک دن اس کے دل کی سختی پگھل جائے گی۔
لیکن فی الحال حقیقت یہی تھی کہ حویلی میں ہر دن اس کے لیے ایک نئی قیامت لاتا تھا۔ وہ کمزور سی لڑکی جو کبھی خوشبو اور رنگوں کے خواب دیکھتی تھی، اب مٹی، خون اور آنسوؤں میں لپٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارمغان خانزادہ غیر متوقع طور پر ایک دن شہر سے لوٹ آیا۔ حویلی کے۔ وہ تھکن اور سفر کی گرد لئے کمرے میں گیا، کپڑے بدلے، نہایا اور تازہ دم ہو کر کھانے کے ہال میں داخل ہوا۔
ہال میں روایتی رونق تھی۔ بڑے بڑے برتن سجے تھے، مگر ان سب کے بیچ ایک لرزتا ہوا وجود سب کی خدمت میں مصروف تھا۔ مہمل۔
وہ نازک سی لڑکی جھکی گردن اور سہمی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ایک پلیٹ سے دوسری پلیٹ تک کھانا سرو کر رہی تھی۔ ہاتھ کپکپا رہے تھے، قدم ہلکی سی آواز پر بھی کانپ اٹھتے۔ وہ سب کے آگے کھڑی تھی مگر کسی نے اسے عزت کی نگاہ سے نہ دیکھا۔
ارمغان نے قدم اندر رکھتے ہی نگاہ اس پر ڈال دی۔ لمحہ بھر کو دل جیسے رک سا گیا۔ یہ وہی لڑکی تھی جس کا چہرہ کبھی اسے بھایا کرتا تھا۔ مگر آج؟ جھکے ہوئے وجود، آنکھوں میں خاموشی کا کرب، اور لباس۔۔۔۔۔ اس کے دل کو چیر گیا۔
مہمل پرانے اور گھسے ہوئے کپڑوں میں ملبوس تھی۔ غور کرنے پر اس نے پہچانا، یہ تو اس کی بہن کے پرانے جوڑے تھے جو کب کے طاق پر رکھے جا چکے تھے۔ مہمل کو وہی پہنا دیے گئے تھے۔ کپڑے ڈھیلے، جگہ جگہ سے ادھڑتے ہوئے، مگر اس نے خود کو ان میں چھپا رکھا تھا۔
ارمغان کے سینے میں ایک لمحے کو ہلچل ہوئی۔ دل بغاوت پر آمادہ تھا۔ جیسے کہنا چاہ رہا ہو یہ سب کیا ہے؟ یہ حالت کیوں ہے اس کی؟ لیکن اگلے ہی لمحے اس نے سر جھٹک دیا۔
وہ تیز قدموں سے آگے بڑھا اور کرسی کھینچ کر میز پر بیٹھ گیا۔ ایسا ظاہر کیا جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔
مہمل نے کانپتے ہاتھوں سے سالن کی ڈش اس کے سامنے رکھی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، مگر کن آنکھیوں سے وہ اس کے چہرے کو دیکھنے کی جرات کر گئی۔ ارمغان کا چہرہ پتھر سا جمی ہوئی سختی لیے ہوئے تھا۔
وہ اس کے قریب کھڑی تھی، مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے دونوں کے بیچ صدیوں کا فاصلہ ہو۔ مہمل نے آہستہ سے پلیٹ میں روٹی رکھی، ہاتھ لرز گیا تو تھوڑا سالن گر گیا۔ ایک لمحے کو اس کا دل بند سا ہوگیا، کہ کہیں کوئی چیخ نہ پڑے، کہیں کوئی تھپڑ نہ آئے۔
۔

رخصتی سے پہلے اسکے شوہر کا قتل ہوگیا اب وہ سردار کے یہاں ونی ہوکر جا رہی تھی۔۔ جرگہ کا منظر بدل چکا تھا۔ زرتاشہ سفید جوڑ...
05/02/2026

رخصتی سے پہلے اسکے شوہر کا قتل ہوگیا اب وہ سردار کے یہاں ونی ہوکر جا رہی تھی۔۔ جرگہ کا منظر بدل چکا تھا۔ زرتاشہ سفید جوڑے زیب تن کیے سوگوار سی کرسی پر نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔ کبیر اپنی سرمئی آنکھیں اس پر گاڑھیں ، اسے دیکھ رہا تھا۔

اسکی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں پر وہ لب بھینچ گیا۔خود پر نگاہوں کی تپش محسوس کرتی بے اختیار زرتاشہ نے نگاہیں اٹھائیں۔ نظروں سے نظریں ملی۔ کبیر کا دل دھڑکنا بھول گیا۔ زرتاشہ نے نظریں پھر سے جھکا لیں۔ سیاہ کا جل سے سجی آنکھیں کبیر کا چین و قرار لوٹ گئی۔ صرف لمحہ بھر کی بات تھی۔۔ دل پھر سے دغا بازی پر اتر آیا۔

"اف ! کتنی بے باک ظلم آنکھیں تھیں اس کے محبوب کی "۔وہ دل میں سوچ کر مسکرایا۔"زر تا شه بنت بختیار خان آپ کا نکاح کبیر ولد در بیز خانزادہ سے طے پایا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"۔ مولوی صاحب کے الفاظ زرتاشہ کی سماعت میں گونجے۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ وہ بے بسی کی انتہا پر تھی۔ انکار کا آپشن کسی نے زرتاشہ خان کو دیا ہی نہیں تھا۔" قبول ہے "۔ وہ کڑے ضبط سے آنسو پیتی بولی۔" کیا آپ کو قبول ہے "۔ مولوی نے اپنے الفاظ پھر سے دہرائے۔"ق۔ قبول ہے " ۔ لب ذرا سے کپکپائے۔

اس نے ا۔ نے اپنے تمام حقوق مقابل بیٹھے شخص کے نام کر دیئے۔خوبصورت آنکھوں سے ننھا سا قطرہ رخسار پر بہہ گیا۔ کبیر کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچا تھا۔ مولوی صاحب نے اس کی طرف رخ کیا۔ "کبیر ولد دبیز خانزادہ کیا آپ کو زرتاشہ بنت بختیار خان اپنے نکاح میں قبول ہیں ؟"۔ کبیر نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی نظریں زرتاشہ کے چہرے سے نہیں ہٹائیں۔

" قبول ہے "۔ (دل و جان سے قبول ہے میری دشمن جاں ) وہ سکون سے آنکھیں موند کر دھیمے سے بولا۔ " کیا آپ کو قبول ہے "۔ مولوی صاحب نے پھر سے پوچھا۔ " جی قبول ہے " ( تم آج سے ، ابھی سے اور قیامت تک صرف کبیر خان کی ہوئی۔۔۔ )" قبول ہے "۔ تیسری بار اقرار ہوا۔( تم میرانصیب تھیں زرتاشہ تمہیں ہر حال میں میرے ہی نکاح میں آنا تھا۔۔۔)۔ نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے وہ سرشار تھا۔ روم روم میں جیسے سکون سا اترا۔ بلآخر کبیر خانزادہ نے اپنی محبت پالی تھی۔۔ مگر مشکلات ختم نہیں ہوئی تھیں۔

ابھی امتحان باقی تھے۔ دبیز خانزادہ نے بڑی پریشانی سے کبیر کے تاثرات ملاحظہ کیے۔ کبیر نے بے ساختہ نظریں چرائیں۔ نکاح مکمل ہو گیا۔ ایک سمجھوتہ طے پایا۔ بختیار خان لڑکھڑاتے قدموں سے زرتاشہ کی جانب بڑھے۔ اسکا ماتھا چوما اور سینے سے لگالیا۔ "مجھے معاف کر دینا زر تو اپنے اس مجبور بابا کو معاف کر دینا جس نے دشمنی کی بھینٹ میں اپنی سب سے پیاری اولاد کو چڑھا دیا"۔ زرتاشہ ، جواب تک صدمے میں ساکت تھی، اپنے باپ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔ کبیر جو تھوڑی دوری پر کھڑا اپنی جیپ کے ساتھ ٹیک لگائے یہ سب دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر ناگواری کے بادل چھا گئے۔

"بس کیجئے یہ میلو ڈرامہ اپنا "۔۔ وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا آیا اور بختیار خان کے حصار سے زرتاشہ کو تقریباً کھینچتے ہوئے الگ کیا۔ بختیار خان بے بی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔" ہمارے پاس فضول رونے دھونے کے لیے وقت نہیں ہے چلو ! "۔ وہ اسے گھسیٹتا ہوا جیپ تک لے گیا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے تقریباً اندر پٹخ دیا۔ زرتاشہ کا سر سیٹ سے ٹکرایا اور اس کے منہ سے ایک دبی ہوئی سسکی نکلی۔ کبیر نے دھاڑ سے دروازہ بند کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔ جیپ کا رخ حویلی کی جانب تھا۔کچھ دیر تک گاڑی میں زرتاشہ کی دبی دبی سسکیوں کی آواز گونجتی رہی۔ کبیر نے غصے میں اسٹیئرنگ پر گرفت مضبوط کر دی۔ مگر اچانک اس کی نظر زرتاشہ کی اس کلائی پر پڑی۔ کلائی پر سرخ نشان پڑ چکے تھے۔ کبیر کا دل چاہا کہ خود کو شوٹ کردے۔"زرتاشہ ۔۔۔"۔

کبیر نے آہستگی سے پکارا۔ زرتاشہ سانس تک روک گئی۔ گلابی نم آنکھوں سے اس نے کبیر کو دیکھا۔ کبیر نے ہاتھ بڑھا کر اسکی مرمری ودھیا کلائی تھامی اور بے اختیاری میں اس پر لب رکھ دیئے۔ زرتاشہ کا چہرہ سرخ قندھاری ہوا تھا کبیر کے لمس پر۔ اور آہستہ سے انگلیوں کی پوروں سے اسکی کلائی سہلانے لگا۔ زرتاشہ کے وجود میں برقی سی دوڑ گئی۔"درد ہو رہا ہے "۔ کبیر نے نظریں اس کے خوبصورت چہرہ پر جما کر پوچھا۔ زرتاشہ نے بھیگی پلکوں سمیت سر اثبات میں ہلایا۔ "بہت زیادہ سائیں "۔ وہ بھرائی آواز میں بولی۔" ہونا بھی چاہئے ، یہ درد تمہیں یاد دلاتے رہے گے کہ تم ونی ہوں ، تم ایک قاتل کی بہن ہوں، مجھے سے نرمی کی ہر گز توقع مت رکھنا، مجھے تم سے نفرت ہے ( جھوٹ تم سے صرف عشق ہے بے شمار) " ۔ وہ ایکدم ہی خود پر خ*ل چڑھا کر نفرت سے گویا تھا۔ مگر دل کر لایا تھا۔

سینے میں درد سا اٹھا۔ دل چاہا سب روایات بھاڑ میں جھونک کر اپنی محبت کو سینے سے لگالے۔ زرتاشہ نے پل پل بدلتے شخص کو حیرت سے دیکھا تھا۔" ہمارا کیا قصور ہے سائیں "۔ نم آنکھوں سے اس نے استفسار کیا۔ "تمہارے قصور گنوانے بیٹھوں تو زر تاشہ کبیر خانزادہ۔۔۔ تم میرا حساب نہیں دے پاؤ گی ،ا گر میں حساب کرنے پر آگیا، تو تمہاری پوری زندگی بھی کم پڑ جائے گی"۔وہ سخت گیر لہجہ میں بولا۔ گردن کی رگیں تن گئی۔ زرتاشہ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنا سر سیٹ کے پیچھے ٹکادیا۔ کبیر نے اک اچٹتی سی نظر زرتاشہ پر ڈالی۔ اور ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ یہ قسمت کیا کھیل رچار ہی تھی۔ محبت اتنے سالوں بعد ملی بھی تو وہ ونی کی صورت ! دل چاہا پوری دنیا کو آگ لگادے۔ "ایم سوری سائیں کی جان میں روایات سے باندھا ہوں مگر تم سے بیگانہ نہیں ہوں، بس مجھ سے بد گمان مت ہونا، بڑی مشکل سے دل کو سنبھالا ہے ، اب اگر ٹوٹا تو کبیر خان جان سے جائے گا "۔ وہ اس کے چہرہ کو نگاہوں سے سیراب کرتا دل ہی دل میں گویا تھا۔۔
Full Novel phrna ka liya follow like ar comment krn

"پلیز مجھے مت مارنا میں نے کچھ نہیں کیا۔" عائش افندی جو دنیا کیلئے ایک مشہور بزنس مین تہمور افندی کی یتیم بھتیجی تھی لیک...
27/01/2026

"پلیز مجھے مت مارنا میں نے کچھ نہیں کیا۔" عائش افندی جو دنیا کیلئے ایک مشہور بزنس مین تہمور افندی کی یتیم بھتیجی تھی لیکن اُسکی حیثیت ایک ملازمہ سے کم نہ تھی۔ ذرا سی غلطی پر اُسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اب بھی وہ اپنی چچی کے ظلم سے بچنے کیلئے ایک کمرے میں چھپ گئی تھی جو اُسکے چچا زاد کایان افندی کا تھا جس کی دہشت سے پورا خاندان ڈرتا تھا۔ عائش افندی کا یہ ڈرا سہما روپ کایان افندی کو ساکت کر گیا تھا۔

آفندی ولا کے ڈائننگ ہال میں اس وقت گھر کے سبھی مکین موجود تھے اور ڈنر کو انجوائے کر رہے تھے۔ اس گھر کا لاڈلا اور اکلوتا وارث کایان آفندی آج ان سب کے ساتھ ڈنر ٹیبل پر موجود تھا۔ کھانا خاص کایان کی پسند کا بنوایا گیا تھا۔۔۔ سبھی لوگ پُرمسرت ماحول میں ڈنر نوش فرما رہے تھے۔ "تو برخوردار آگے کے کیا پلانز ہیں؟" تیمور صاحب نے فورک منہ میں لیتے ہوئے بیٹے کی طرف دیکھا۔ "میں اپنا بزنس یہاں بھی اسٹیبلش کرنا چاہتا ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی پرسنل لائف پر بھی فوکس کروں گا۔" کایان نے مصروف سے انداز میں کہتے ہوئے ایک نگاہ اپنے ماں باپ کو ضرور دیکھا تھا. "گڈ ٹو لِسن کہ تم اب اپنی پرسنل لائف کے لیے بھی سیریس ہو چکے ہو۔" تیمور صاحب متاثر نظر آئے۔ "تمہاری عمر کے لڑکے دو دو بچوں کے باپ بن چکے ہیں اور تم ہو کے اب تک کنوارے پھر رہے ہو۔" تیمور صاحب کے لطیف سے طنز پر شمسہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ جب کہ کایان مسکرا بھی نہ سکا۔ "جی۔۔۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ آنے والے سال میں دو نہ سہی لیکن آپ کو ایک پوتا تو دے ہی دوں۔

" وہ مسکراتی نگاہوں سے سپاٹ انداز میں ان دونوں کی طرف متوجہ ہوا۔ "تمہاری موم نے کل تمہارے ویلکم کے لیے پارٹی پلان کی ہے۔ تمہارے ماموں کی فیملی بھی مدعو ہے۔ اس کے علاؤہ ہمارا پورا سرکل انوائٹڈ ہے۔" تیمور صاحب نے اپنی پلیٹ میں رائس ڈالتے ہوئے بتایا۔ "حرا بہت اچھی لڑکی ہے۔۔ پڑھی لکھی ہے، سلجھی ہوئی ہے اور بہت سٹائلش بھی ہے۔۔۔ تمہیں یقیناً وہ بہت پسند آئے گی۔ تم کل مل لینا اور اگر تمہیں پسند آ جاتی ہے تو بات آگے بڑھا دیں گے۔" شمسہ بیگم نے شوہر کی طرف منچورین کا باؤل بڑھاتے ہوئے کندھے اچکا کر کہا۔ جن لوگوں نے آٹھ سال اس کا سکون غارت کر رکھا تھا وہ اب بھی اپنی مرضی چلا کر اس کا چین اڑانے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔۔ وہ لڑکی جسے کایان آفندی کی بیوی کی حیثیت نہیں ملی تھی اسے اب سوتن ضرور ملنے والی تھی۔۔۔۔ کایان کو اپنے ماں باپ پر جی بھر کر غصہ آیا۔۔۔ اسے لگتا تھا کہ اس کے والدین کو بھتیجی پر بہت پیار آ گیا ہے اسی لیے زبردستی اسے اس پر مسلط کر دیا گیا۔ "آپ بات آگے بڑھائیں۔" کایان نے کھانا کھاتے ہوئے بڑے ہی مزے سے کہا۔ "ایک بار حرا سے مل تو لو۔" تیمور صاحب نے بیٹے کی جلد بازی پر ہنستے ہوئے ٹوکا۔ "کس لیے ڈیڈ؟" کمال اداکاری کرتا کایان چونکا تھا۔ "شادی کے لیے۔۔" شمسہ بیگم نے بیٹے کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ ان کے بیٹے کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ "میری شادی تو ہو چکی ہے اب رخصتی ہی ہونی ہے۔" کایان نے کھانا کھاتے ہوئے آرام سے بم بلاسٹ کیا۔ "کس سے ہوئی؟" تیمور صاحب نے چونکتے ہوئے پوچھا۔ "آپ کی بھتیجی عائش سے۔۔۔۔ آپ نے ہی تو کیا ہے نکاح بھول گئے۔۔۔؟" کایان نے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں یاد دلایا۔ "وہ ایک مجبوری تھی۔" شمسہ بیگم نے فوراً باور کروایا۔ "میرا نکاح ہوا ہے۔۔۔

مجبوری یا خوشی یہ مجھے نہیں پتہ لیکن میری ناپسندیدگی کو نہ اہمیت دیتے ہوئے آپ لوگوں نے یہ نکاح کیا اور اسی عائش کی وجہ سے مجھے آٹھ سال گھر بدر رہنا پڑا اور اب جب کہ میں واپس آیا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ اسے کایان آفندی کی بیوی کا مقام بھی حاصل نہیں ہے۔" کایان کھانا چھوڑے تفصیلاً ان دونوں کی طرف متوجہ تھا۔ "کیا میں جان سکتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟" وہ ایک نگاہ باری باری ان دونوں پر ڈال کر اپنا فورک ایک بار پھر اٹھا چکا تھا۔ "آدھی جائیداد۔۔۔ آدھی جائیداد کی مالک ہے وہ بے وقوف۔۔۔ جس دولت پر تم دونوں بہن بھائی عیش کر رہے ہو اس کا آدھا حصہ اس لڑکی کا ہے۔" تیمور صاحب اپنا فورک پلیٹ میں پٹختے غرائے تھے۔ "اگر اس کی شادی کہیں اور کی جاتی تو یہ دولت چلی جاتی۔۔۔ پھر میں دیکھتا تم دونوں کو کہ کیسے عیش کی زندگی گزارتے ہو۔۔۔۔ لیکن تمہاری اس موٹی عقل میں یہ بات نہیں آئے گی اور تم خود اپنی مرضی سے گھر بدر ہوئے تھے ہم نے نہیں نکالا تھا۔" تیمور صاحب نے موٹی عقل کہتے وقت اس کے سر کو انگلیوں سے بجایا تھا۔ کایان کے تحمل میں کوئی کمی نہ آئی۔ "اسے مسز کایان آفندی کا مقام دیں جہاں کہیں گے میں شادی کروں گا۔" کایان نے چیئر سے اپنی بیک لگاتے کہا۔ "ناممکن۔۔۔" شمسہ بیگم چلائیں۔ "پھر میری شادی کا خواب چھوڑ دیں۔" کایان نے ہنوز اسی انداز میں کہا۔ "تمہارا دماغ ٹھیک ہے اگر تم اس لڑکی کو اس کی حیثیت دو گے تو ہم سب اس دولت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔" تیمور صاحب کو اپنے بیٹے کی دماغی حالت پر شبہ ہو رہا تھا۔ "عائش۔۔۔" کایان دھاڑا تھا۔ "اسے کیوں بلا رہے ہو؟" شمسہ بیگم نے تیکھے چتونوں سے پوچھا۔ "جی۔۔۔" عائش بوتل کے جن کی طرح حاضر تھی۔ "بیٹھو۔۔۔۔ اور مجھے کھانا سرو کرو۔" کایان نے اپنے ماں باپ کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔ "آپ ڈیڈ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کیوں کھا رہی ہیں۔۔۔۔؟" کایان نے تحمل سے پوچھا۔ "میرا اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔" شمسہ بیگم نے دانت پیستے کہا۔ "کایان مائنڈ یور لینگویج۔۔۔ یہ تمہاری ماں ہے اور میری بیوی۔۔۔" تیمور صاحب نے ناگواری سے ٹوکا۔ "آف کورس یہ میری بیوی ہے۔ یہ اپنے شوہر کے ساتھ آ کر کھانا کھائے۔" اس کے سکون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ "کم آن بھائی۔۔۔ اس کی موجودگی میں میں یہاں نہیں بیٹھوں گی۔" زمل نے ناک چڑھائی۔ "ایز یو وش۔۔" کایان نے کندھے اچکائے۔ "بیٹھو۔۔۔" کایان نے اسے ڈپٹا۔ وہ کپکپاتی چیئر گھسیٹتی بیٹھ گئی وہیں شمسہ بیگم اور زمل کی چیئر گھسیٹنے کی آواز ڈائننگ ہال میں گونجی۔ وہ دونوں اٹھ کر جا چکی تھیں۔ تیمور صاحب اپنے بیٹے کی حرکات و سکنات کو پرسوچ انداز میں ملاحظہ کر رہے تھے۔ وہ طے کر چکے تھے کہ کل آنے والی کسی بھی لڑکی کے ساتھ کایان کی سیٹنگ ہو جانی چاہیے تاکہ اس لڑکی کا بھوت اس کے سر پر چڑھنے سے پہلے کوئی اور اس کے دل پر حکومت کرنا شروع کرے۔۔۔ "تم ہر وقت وائبریشن پر کیوں لگی رہتی ہو؟" کایان نے ناگواری سے پوچھا۔ اس کی زبان تالو سے چپکی ہوئی تھی۔ "اگر اب تم نے کپکپانا بند نہیں کیا تو میں تمہیں کرنٹ دے کر ایک ہی بار میں تمہارا کام فائنل کر دوں گا۔" کایان نے دھمکی آمیز انداز اپنایا۔ اس کی جان لبوں میں آ گئی تھی۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبائی تھیں۔ کایان نے ناگواری سے اس تبدیلی کو دیکھا۔ اسے عائش سے کوئی پہلی نظر میں دھواں دار عشق نہیں ہوا تھا۔ اسے اپنے لائف پارٹنر کی حیثیت سے کبھی بھی ایسی لڑکی نہیں چاہیے تھی جو بات بات پر روتی ہو، کانپتی ہو، جس میں اعتماد کی سخت کمی ہو اور سب سے بڑھ کر پڑھی لکھی بھی نہ ہو۔۔۔۔ لیکن اسے اس بات نے دھچکا ضرور پہنچایا تھا کہ وہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے کمرے میں چھپتی تھی۔۔۔ اس کا سہارا چاہتی تھی۔۔۔ اس کی عدم موجودگی میں بھی اس کی موجودگی محسوس کرنا چاہتی تھی۔۔ اس کے حصار میں خود کو محفوظ تصور کرتی تھی۔۔۔۔ یعنی اس کا جذباتی سہارا اسے سکون پہنچا سکتا تھا۔۔۔۔ تو جن لوگوں نے اس کا سکون غارت کیا تھا۔۔ اس کی جائیداد پر قابض ہو کر بیٹھ گئے تھے۔ وہ اسے ان سے اس کا حق ضرور دلوائے گا۔۔۔ وہ اسے اس کا اصل مقام ضرور دلائے گا۔۔۔ وہ یہ تہیہ کر چکا تھا۔۔۔۔
۔
کیا آپ زبردستی کے نکاح، ظلم اور طاقت کی جنگ پر مبنی ناول پڑھنا چاہتے ہیں

PLz follow me
25/01/2026

PLz follow me

One word for his
25/01/2026

One word for his

21/01/2026
One word about this
16/01/2026

One word about this

Plz follow me
09/01/2026

Plz follow me

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when saya brand posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category