what's new

what's new Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from what's new, Grocers, Lahore, Lahore.

12/10/2025
Reality 🍀
07/08/2025

Reality 🍀

05/08/2025
05/08/2025
   زریاب کافی دیر سے حنین  کی بتائی ہوئی ترکیب پر عمل کرنے کا سوچ رہا تھا. مگر وہ ماہ نور کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا. اس...
03/08/2025





زریاب کافی دیر سے حنین کی بتائی ہوئی ترکیب پر عمل کرنے کا سوچ رہا تھا. مگر وہ ماہ نور کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا. اسے آج بھی ماہ نور سے اُتنی ہی محبت تھی جتنی 25 سال پہلے ، وہ آج بھی اسکے لیے اِتنی ہی حسین تھی جتنی 25 سال پہلے تھی.

چائے.....
ماہ نور کی سرد آواز نے اسے سوچوں سے نکالا اس سے پہلے کہ ماہ نور چائے کا کپ رکھ کر پلٹتی زریاب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھا لیا.

بیٹھو مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے.

زریاب دل میں حنین سے مخاطب ہوا(یار مروا نہ دینا تیرے مشورے بھی تیری طرح عجیب ہوتے ہیں).

ہاں کہو....ماہ نور نے رخ موڑتے ہوئے پوچھا جس کا مطلب تھا وہ زریاب سے ناراض ہے.

میں نے بہت سوچا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے تمہاری بات مان لینی چاہیے میں دوسری شادی کے لیے تیار ہوں....

زریاب کی بات پر ماہ نور پوری اس کی طرف گھوم گئی.

کیا تم دوسری شادی کرو گے...؟
انداز اور لہجہ سے بےیقینی عیاں تھی.

تم خود ہی تو کہتی ہو....( زریاب کو تیر نشانے پے لگتا ہوا نظر آیا.)

نہیں.... میرا مطلب ہے سچ کہہ رہے ہو...

اب کی بار ماہ نور نے اپنے لہجے کو نارمل کیا.

ہاں بلکل سچ ، اور میں نے ایک لڑکی پسند بھی کر لی ہے پر ایک مسئلہ ہے...؟

زریاب نے ماہ نور کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے پرسوچ انداز میں کہا

کیا...؟یک لفظی جواب آیا

وہ تمہارے اور زرناب ساتھ رہنا نہیں چاہتی. زرناب کو تو خیر میں ہاسٹل میں شفٹ کر دوں گا مگر تم.....

زریاب نے سوچنے کی ایکٹنگ کی...

تم ایسا کرنا گاؤں چلی جانا....ہاں یہ ٹھیک رہے گا.

زریاب نے دیکھا کہ ماہ نور کے چہرے پر کافی شکنیں نمودار ہوئیں جو اس بات کاثبوت تھا کہ اسے زریاب کا مشورہ پسند نہیں آیا.

کون ہے وہ......؟
لڑکی ہے .( زریاب نے مزے سے کہتے ہوئے صوفے ساتھ ٹیک لگا لی).

دفع کرو اسے اور کوئی اور دیکھو......

ماہ نور کہتی ہوئی اٹھنے لگی جب زریاب کی بات نے اسے چونکا دیا.

"مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہے مطلب وہ مجھے پسند آ گئی ہے یعنی ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ہیں شاید نہیں بلکل یقیناً مجھے دوسری بار محبت ہو گئی ہے."
🌸🌸🌸🌸

رامین کو کافی دن ہو گئے تھے ارتضی کو تنگ کیے ہوئے اس لیے وہ آج حبا ساتھ ہالہ کے گھر آئی تھی.

پھپھو کیسی ہیں ..؟
حبا نے گلے لگتے ہوئے پوچھا جبکہ رامین کو ہالہ نے خود ہی گلےلگا لیا. جسے دیکھ کر حبا نے کہا

ویسے انکل حنین کے بچوں کو ہر کسی سے محبت وراثت مں ملی ہے....؟؟؟

تم جیلس ہو رہی ہو....
رامین نے آنکھ دبا کر کہا جس سے حبا مزید چڑ گی.

بیٹھو آتے ہی کیا لڑنا شروع کر دیا ہے.

ہالہ نے ہنستے ہوئے دونوں کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
آتی رہا کرو تم دونوں سے ہی میرے گھر میں رونق ہے بیٹیوں کے بغیرگھر بلکل خالی ہوتا ہے.....

یہ تو آپ زیادتی کر رہی ہیں
ارتضی جو کلینک جانے کے لیے سڑھیاں سے اترتا ہوا لیدر کی جیکٹ پہن رہا تھا ہالہ کی بات سنتے ہوئے کہنے لگا جبکہ نظریں رامین پر تھیں.

آؤ"پٹاخے" کیسی ہو بہت دنوں بعد چکر لگایا خیر ہے....؟

ارتضی نےرامین کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

جبکہ حبا ، ہالہ ساتھ کچن میں یہ کہتے ہوئے چلی گی کہ میں آپ لوگوں کی فضول گفتگو سننے کے موڈ میں نہیں ہوں.

رامین کو موقع اچھا لگا کچھ سوچ کراُس نے کہا

"اگر میں کہوں کہ مجھے تم سے شادی نہیں کرنی تو؟"

رامین کے کہنے پر اُسے حیرت ہوئی پر یہ سوچ کر کہ شاید ماما نے کوئی ایسی بات آنٹی نرمین سے کی ہو مطمئن ہو گیا

"تو آپ کہہ لیں میں جانتا ہوں آپ کچھ بھی کہہ سکتی ہیں-کچھ بھی-"

اُس نے مسکرا کر کہا تو وہ رامین کو پہلی بارزہر لگا-

"ایسی بات تو نہیں ہے-"

رامین کو اُس کا یوں کہنا برا لگا تھا-

"ایسی ہی بات ہے کیوں کہ مجھےخبر ہے محبت کسی لحاظ کسی صورت ہر بار میرے ہی آڑے آتی ہے آپ تو ہمیشہ سے ہر لحاظ سے آزاد ہیں-"

وہ پھر مسکرایا اور اسے اُسی کے انداز میں جواب دینے لگا-

"اسی لئے آپ کہیں جو آپ کہنا چاہتی ہیں-"

اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا-

"میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی"

بالآخر رامین نے اسے مزید چڑایا

"اچھا! مگر ایسا ہے کہ میں آپ سے ہی شادی کرنا چاہتا ہوں"

اس نے رسانیت سے کہا-

"مگر میں نہیں چاہتی".

رامین کے سختی سے کہنے پر اُس نے پل بھر کو دیکھا-

"یہ میرا دردِسر نہیں ہے شادی تو بہرحال آپ کی مجھ سے ہی ہوگی آپ چاہیں یا نہ چاہیں- رو کے ہنس کے، لڑ کے جھگڑ کے، آپ کو رہنا میرے ساتھ ہی ہے".

سخت لہجے میں کہتا وہ رامین کے دل کو مطمئن کر گیا.

مگر پھر بھی تم میرے ساتھ بہرحال زبردستی نہیں کر سکتے-“

وہ ہنسنے لگا.....

” آپ میری نرمی کا ہر بار ناجائز فائدہ اُٹھاتی ہیں اور اُٹھانا بھی چاہئے یہ آپ پر جچتا ہے مگر جو آپ مجھ سے کہہ رہی ہیں اُسے مان لینا دراصل مجھ پر نہیں جچتا-تو اگر مجھے زبردستی کرنی پڑی تو میں وہ بھی کروں گا کیوں کہ میں آپ کو کھونا افورڈ نہیں کر سکتا- آپ کی خوشی کے لئے بھی نہیں-“

رامین کا دل چاہا وہ بولتا ہی جائے مگر وہ چپ ہوگیا-

”تم ایک انتہائی ڈھیٹ انسان ہو-“

ایسے کہنے پر وہ مسکرا کر کہنے لگا،

”ہاں بس آپ سے تھوڑا سا ہی زیادہ ہوں-“ اس کے بائیں گال میں پڑتا ڈمپل رامین کو بہت اچھا لگا.

”میں صرف مزاق کر رہی تھی-“

گفتگو سیریس ہونے لگی تھی تو رامین نے سائیڈ بدلی کہیں ہالہ یا حبا نہ آ جائیں.

”ہاں جانتا ہوں یہ مزاق نہ ہوتا تو آپ دوبارہ کبھی کچھ بولنے کے قابل نہیں رہتیں“-

”کیا مطلب ہے تمہارا؟“

”مطلب صاف ہے- اگر یہ سچ ہوتا تو میں آپ کی گُدی سے آپ کی زبان کھینچ لیتا اور آپ پھر دوبارہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہتیں-“

”تم اتنے بدتمیز کبھی نہیں تھے-“

”آپ بھی اتنی بدلحاظ کبھی نہیں تھیں-“

”تم مجھے زہر لگتے ہو-“

”اور آپ تو جیسے مجھے بہت شہد لگتی ہیں ناں-“

ارتضی نے اُس کا مزاق اُڑایا-

”اگر اتنی ہی بری لگتی ہوں تو پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے میرا؟“

”پیچھا چھوڑنے کے لئے تو نہیں کیا جاتا-“

”تم بہت ڈھیٹ ہو-“

”پر آپ سے کم-“

”مجھے تم سے ذرا بھی محبت نہیں ہے-“

”مجھے آپ سے ذرا بھی نفرت نہیں ہے-“

”تم مجھے بلکل اچھے نہیں لگتے-“

”آپ مجھے بلکل بری نہیں لگتیں ، بدتمیزی کرتے وقت بھی نہیں-“

”کیا تم واقعی میری زبان کھینچ لیتے؟“

”ہاں-“

”میں جانتی ہوں تم ایسا نہیں کر سکتے-“

”آپ نہیں جانتیں کیوں کہ میں ایسا کر سکتا ہوں- آپ اگر مجھ سے دور جانے کی بات کریں گی تو میں ایسا ہی کروں گا-“

”اور میں بنا بتائے چلی گئی تو؟“

”تو دنیا گول ہے بی بی! آنا آپ نے میرے پاس ہی ہے-“

”تم مجھ سے واقعی اتنی محبت کرتے ہو؟“

”آپ کو برداشت کرتا ہوں یہ میری محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے-“

”تم انتہائی بےہودہ آدمی ہو-“

”ہاں تھوڑا سا تو ہوں-“

”اچھا سنو! تم نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں میں تم سے شادی کروں گی یا نہیں-“

”کرنی تو ہے ناں ، پوچھنے کا فائدہ؟“

”اچھا پوچھو ناں-“

”مادام کیا آپ ہمیں اپنے مجازی خدا ہونے کا شرف بخشیں گی؟ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟“

”ہاں کروں گی- مگر ایک شرط پر-“ رامین نے گلابی ہوتے ہوئے مسکرا کر کہا تو ارتضی اسے گُھورنے لگا-

”کیسی شرط؟“

”تم نے جو مجھ سے آج اتنی بدتمیزی کی ہے اُس کے لئے مجھے سوری کہو-“

”میں نے بدتمیزی کی ہے یا آپ...“

”سوری کہو“ ادا دکھائی-

وہ نثار ہوا،”سوری“-

”اب اُٹھک بیٹھک کرو-“ رامین نے ہنس کر کہا جس پر ارتضی کا حیرت سے منہ کھل گیا

”یار سوری کہا تو ہے“ اُس نے التجا کی-

”اُٹھک بیٹھک کرو“،
رامین نے دوبارہ کہا اور وہ حقیقتاً مان گیا-

رامین کے بلند ہوتے قہقے شاید اُسے پہلی بار برے لگے تھے-کیونکہ حبا اور ہالہ رامین کے قہقے سن کر لاؤنچ میں آ گئیں تھیں.

یہ کیا ہو رہا ہے....؟

آپ خود ہی تو کہتی ہیں اسکے آنے سے اس گھر میں رونق آتی ہے بس وہی لگی ہوئی ہے.

اور اُس لمحے اُس شخص کو رامین نے اپنے رب سے جنت تک کے لئے مانگ لیا ۔۔۔!!!!
🌸🌸🌸🌸

موسیٰ کو آج آفس سے نکلتے نکلتے کافی دیر ہو گئی تھی بارش بھی پورے زوروشور سے جاری تھی اور ٹریفک بلاک......

ماما پریشان ہو رہی ہوں گی اس خیال کے آتے ہی موسیٰ نے نرمین کو کال کی.

ماما ٹریفک بلاک ہے میں ہائی وے کی طرف سے آؤں گا کچھ ٹائم لگے گا مگر آپ پلیززز پریشان مت ہونا.

سلام کرنے کے بعد موسیٰ نے کہا

اپنا خیال رکھنا، گاڑی آہستہ چلانا اور پوری کوشش کرنا گھر جلدی آنے کی، ابھی تک حنین اور حمین بھی نہیں آئے حنین شاید زریاب کی طرف گیا ہے گپے مارتے ہوئے اُسے وقت کا کہاں احساس ہوتاہے مجھے اتنی پریشانی ہو رہی ہے وہ تو شکر ہے تمہاری دادی ابھی جاگ رہی ہیں ورنہ میرا تو تنہائی میں بہت دل گھبراتا ہے.

نرمین نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا

ماما بےفکر ہو جائیں بس زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ لگے گا اور میں آپ کے پاس....

یہ بتائیں آج کھانے میں کیا ہے....؟؟؟

تمہاری پسند کا ساگ بنا ہے جب تم آؤ گے توہم دونوں ماں بیٹا ساگ ساتھ مکئی کی روٹی کھائیں گے حنین اور حمین کو پسند نہیں اور تمہاری دادی ساتھ رامین نے رات کا کھانا کھا لیا تھا. بس مجھے تمہارا انتظار ہے....

نرمین کے لہجے میں موسیٰ کے لیے محبت ٹپک رہی تھی.

واؤ ......پھر تو آج بہت مزا آئے گا. بات کرتے ہوئے موسیٰ کی نظر میٹر پر پڑی جو "لو فیول" کا اشارہ دے رہا تھا.

اچھا ماما میں پھر بات کرتا ہوں موسیٰ نےجلدی سے کال بند کی اور ادھر ادھر دیکھنے لگا

پتہ نہیں اب پٹرول پمپ کتنی دور ہے رات بھی اور بارش بھی...جناب موسیٰ پھنس گئے آپ.....؟؟

خود کلامی کرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر سڑک کنارے لگے بورڈز دیکھے...

اب اسے موسیٰ کی خوش قسمتی سمجھیں یا بد نصیبی بہرحال اسے دور سے ایک پٹرول کی لائٹس نظر آئیں.

پٹرول ڈلوانے کی نیت سے موسیٰ نے گاڑی روڈ سے نیچے سڑک پر اتاری....

دوسرے الفاظ میں بذاتِ خود بانہیں کھول کر مصیبت کو خوش آمدید کہا

صاحب کتنےکا ڈالنا ہے...؟؟؟

سیل بوائے کے پوچھنے پر موسیٰ نے ٹنکی فل کرنے کا کہا جس پر اسے حذیفہ کا لطیفہ یاد آ گیا.

"ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک سادہ سا شخص پٹرول پمپ پر 20 روپے دے کر بولا
ٹنکی فل کر دو...
جس پر سیل بوائے نے جواب دیا
سر اگر آپ 20 روپے اور دے دیں تو ہم پٹرول پمپ میں آپ کا آدھا حصہ ڈال دیتے ہیں...."

خودبخود مسکراہٹ موسیٰ کے ہونٹوں کو چھو گئی.
کیا چیز ہو کپٹن حذیفہ ایم مسنگ یو.....

سر یہ لیں چابی.....
موسیٰ نے چابی لیتے ہوئے payment کی اور گاڑی ریورس کرنے لگا تبھی اس کے کانوں میں کسی لڑکی کے چیخنے کی آواز آئی.

بچاؤ........بچاؤ........بچاؤ

موسیٰ نے ایک سرسری نظر اس آواز کی سمت دوڑائی تو اسے پٹرول پمپ کے آفس سے بھاگتی ہوئی ایک لڑکی نظر آئی جس کے پیچھے دو سیل بوائے بھی بھاگ رہے تھے.دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکی موسیٰ کی گاڑی کے سامنے آ گئی مجبوراً اسے گاڑی روکنا پڑی.

صاحب میری مدد کریں خدا کے لیے یہ لوگ مجھے زبردستی یہاں لے آئیں ہیں.

دیکھنے میں وہ 18 یا 20 سال کی ایک خوبصورت لڑکی تھی ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا ماتھے پر بھی چوٹ لگی ہوئی تھی دوپٹہ کہیں نہیں تھا میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے وہ کوئی مانگنی والی ہی لگ رہی تھی .

موسیٰ نے سر سے پاؤں تک اسے ایک نظر دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا جس سیل بوائے نے موسیٰ کی گاڑی میں پٹرول ڈالا تھا بول پڑا....

صاحب یہ ہمارے دوست کی بہن ہے آج ہی گاوں سے آئی ہے اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں، ہر آئےگئے کے آگے اسی طرح کرتی ہے آپ جائیں یہ بیمار ہے بیچاری....

اتنی دیر میں وہ دونوں سیل بوائے بھی پہنچ گئے جو اس لڑکی کو پکڑنے کے لیے بھاگے تھے.

یہ جھوٹ بول رہا ہے خدا کے لیے صاحب مجھے بچا لیں ان لوگوں سے...

خون اس کے ہونٹوں سے ہوتا ہوا اس کے کپڑے گندے کر رہا تھا وہ بارش میں مکمل بھیگ چکی تھی اور سردی کی وجہ سے کانپ بھی رہی تھی. جبکہ وہ دونوں سیل بوائے اسے دوبارہ گھیسٹنے لگے.

پٹرول پمپ اور اس کی سڑک اُس وقت بلکل ویران تھی موسیٰ نے ایک نظر اس لڑکی پر ماری جو مسلسل اسے ہی دیکھ کر فریاد کر رہی تھی. موسیٰ نے گاڑی سٹارٹ کر دی مگر اس سے پہلے کہ وہ پٹرول پمپ کی حدود سے نکلتا اس کے کانوں میں لڑکی کا آخری جملہ پڑا.

صاحب آپ کو اپنی "ماں" کا واسطہ میری مدد کریں.

موسیٰ اس قسم کے پھڈوں میں نہیں پڑتا تھا اور وہ بھی لڑکی کے.....
موسیٰ نے نہ چاہتے ہوئے آخری نظر اس پر ماری جسے سیل بوائے بری طرح گھیسٹ کر لے جا رہے تھے اور وہ بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی.

یہ تو اس ملک کا حال ہے جدھر دیکھو یہی ہو رہا ہے موسیٰ نے جھرجھری لیتے ہوئے تیزی سے گاڑی روڈ کی طرف ڈال دی.

✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨

موسیٰ ابھی پمپ سے باہرنکلا ہی تھا کہ اس کے کانوں میں نرمین کی آواز سنائی دی.

"اگر آپ کو اپنے درد کا احساس ھے ... تو آپ زندہ ھیــــں ... اگر آپ کو دوسروں کے درد کا احساس ھے ... تو آپ انسان ھیــــں ......!!!"

ماما.........
موسیٰ نے زور سے مکااسٹیرنگ پر مارا اورگاڑی ریورس کی.

جیسے ہی سیل بوائے نےموسیٰ کی گاڑی واپس آتے دیکھی اس نے فوراً اپنے ساتھیوں کو میسج کیا.

کہاں ہے وہ لڑکی ....؟
تمہیں پتہ ہے میرا بھائی اس ملک کا بہت بڑا وکیل ہے اور چچا سینٹر ہےہم لینڈ لاڈ ہیں اگر ایک منٹ کے اندر اندر لڑکی باہر نہیں نکالی تو میں پولیس کی رِٹ پڑوا دوں گا ساری زندگی کورٹ کچہری کے چکر لگاتے رہو گے سمجھ آئی یا فون ملاوں....؟

موسیٰ نے دھمکی دینے والے انداز میں اپناموبائل ڈیش بورڈسےپکڑا.

صاحب آپ کو بتایا تو ہے اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے جیسی آپ سمجھ رہے ہیں...؟

سیل بوائے نے کنفیوژ ہوتے ہوئے جواب دیا.

میں بچہ نہیں ہوں سمجھے.....
میرے خیال سے تمہیں پیار کی بات سمجھ نہیں آ رہی ہے میں تمہارےمالک اور پولیس کو کال کرتا ہوں .

جیسے ہی نمبر ملا کر موسیٰ نے فون کان ساتھ لگایا سیل بوائے بول پڑا....

صاحب مل کر عیاشی کر لیتے ہیں میں جانتا ہوں آپ کا بھی دل آ گیا ہے اوپر سے موسم بھی بہت سہانا ہے لڑکی چیز ہی ایسی ہے........

سیل بوائے نے آنکھ مارتے ہوئے اب ایک اور پتا پھینکا....

بکواس بند کرو ہر کسی کو اپنے جیسا سمجھا ہوا ہے .
( ابھی دونوں میں بحث جاری تھی کہ ایک اور کار پمپ میں داخل ہوئی)

کیا خیال ہےلڑکی باہر لاتے ہو یا میں رونق لگا دوں. ہم لوگ رونق لگانے کے بہت ماہر ہیں.موسیٰ نے کار میں بیٹھے ہوئے 5 لڑکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

جب اُس نے اپنے آپ کو پھنستے دیکھا تو اپنے ساتھیوں کو میسج کیا.صاحب لڑکی کو لے کر آ رہے ہیں .

مگر کچھ دیر گزرنے کے بعد بھی لڑکی کا کوئی نام و نشان نہ ملا. لگتاہے تم ایسے نہیں مانو گے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ....

موسیٰ نے موبائل کا سپیکر آن کیا مقصد سیل بوائے کو سننا تھا.

ہیلو ایس پی مزمل......
دوسری طرف سے آواز آئی.

(موسیٰ نے کال اٹینڈ کرتے سلام دعا کی اور آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے سیل بوائے کی طرف دیکھا.)

یار پوچھنا یہ تھا کہ آج کل جو نیا قانون لڑکیوں کے ساتھ ریپ کرنے والوں کے لیے بنا ہے میرا مطلب ہے اس کی سزا کیا ہے...؟

سیل بوائے نے جب سچویشن سیریس ہوتے دیکھی تو ہاتھ جوڑ کر معزرت کی اور لڑکی لینے چلا گیا.معبادہ موسیٰ پولیس نہ بلوا لے.

کچھ دیر بعد وہ لڑکی کو لے آیا.

یہ لیں صاحب......
غریب لوگ ہیں شکایت مت کرنا.
اب وہ تینوں منتوں پر اتر آئے تھے.

بیٹھو....
موسیٰ نے لڑکی کو پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا جس پر لڑکی نے بجلی کی تیزی سےعمل کیا.

تم جیسی لڑکیوں کی وجہ سے معصوم لڑکیاں بھی بد نام ہو جاتیں ہیں. گھرمیں سکون نہیں ملتا جو یوں اتنی رات کو اکیلے باہر نکل جاتی ہو. کیسے ماں باپ ہیں تمہارے....؟ بے حس، اتنی لاپرواہی......

میں کوئی فرشتہ نہیں ہوں میں بھی ایک انسان ہوں بلکہ "مرد"....

اور مرد کو" درندہ "بننے میں صرف ایک سیکنڈ لگتا ہے سمجھی.....

کتنی دیر ہو گئی ہے گھر سے نکلے ہوئے...؟

شاید اب تک تمہارے ماں باپ کو ہوش آ گیا ہو کہ بچی گھر سے غائب ہے. ایڈیس بتاو چھوڑ آتا ہوں.

موسیٰ نے بیک مرر سے پیچھے دیکھا جو مسلسل رونے میں مصروف تھی.

آپ یہاں سڑک کنارے اتار دیں.
گھٹی گھتی آواز میں جواب آیا.

اچھا....
تاکہ کوئی اور اپنی عیاشی کے لیے لے جائے. آئے دن اخباروں میں کیسی کیسی خبریں آتیں ہیں مگرمجال ہے جو ہمارے معاشرے پر زرا بھی اثر ہو.....

ایڈریس بتاو....؟
موسیٰ نے غصے سے پوچھا.

میرا گھر نہیں ہے..؟

اب تم کہو گی ماں باپ بھی نہیں ہیں ناجائز اولاد ہو کیا.....؟؟؟

( بس یہ سننا باقی رہ گیا تھا لڑکی نے جلدی سے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی.)

یہ دروازےآٹو لاک ہیں سمجھی....

اگر خود کشی کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو ٹرین کی پٹری پر جاکر لیٹ جاؤ ، میری گاڑی سے کود کر مجھے کسی عذاب میں مبتلا مت کرو....

ریلوے لائن کے پاس سے گزرتے ہوئے موسیٰ نے مشورہ دیا.

لڑکی بھوک، پیاس اورموسیٰ کی باتوں کو مزیدبرداشت نہ کر سکی اور اپنے ہوش کھونے لگی.

🌸🌸🌸🌸

دیکھو دبیر کی گڑیا آج مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے اس لیے تم ادھر بیٹھو اور میڈ سےریفریشمنت منگوا لو کیونکہ کھائے پیئے بغیر میرا گزارا نہیں ہے......

حنین کے کہنے پر عترت نے فوراً عمل کیا

بات یہ ہےکہ تمہاری گڑیامطلب "حبا بخاری" ہماری زوجہ محترمہ کوپسند آ گئی ہے اب وہ چاہتی ہیں کہ ہم اسے اپنے گھر لے آئیں اس طرح بقول اُن کے ہمارے چڑیا گھر میں ایک انسان کا اضافہ ہو جائے گا اور اُن کی آتما کو شانتی بھی ملے گی.

تمہارا کیاخیال ہے ..؟؟؟ کیا تم اپنی دخترنیک اخترکو ہمارے گھر کی رونق بناناپسند کرو گی...؟

میری بیٹی آپ کے گھر کی رونق بنے تو مجھے اور کیا چاہیے میری طرف سے تو آپ ہاں سمجھیں مگران کی دادی اور کونین کے بارے میں ، میں کچھ کہہ نہیں سکتی.

(حنین کی آفر پر عترت نے دل سے اللہ کا شکریہ ادا کیا کیونکہ اسے شروع سے ہی حمین بہت پسند تھا پھر حذیفہ اور حمین کی دوستی بھی بہت تھی. مگراس خوشی میں وہ رامین کو بلکل بھول گئی اور یہی اس کی غلطی تھی جسکا بعد میں اسے احساس ہوا...)

وہ تم مجھ پر چھوڑ دو میں جانو اور وہ.....

مگرسنو ابھی اس بات کا کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے خاص طورپر حبا اور حمین کو.....

ٹھیک ہےآپ جیسا کہیں گے میں ویسا ہی کروں گی....

خوش رہو، آباد رہو، شاد رہو دودھو نہاؤ ، پھولو پھلو.....

حنین نے عترت کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کسی سائیں بابا کیطرح دعائیں ری جس پر وہ ہنس پڑی.

🌸🌸🌸🌸

یاربس کر دے تیری محبت ہے یا مسئلہ کشمیر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی. سچ کہا ہے کسی سیانے نے...

"محبت ہو جائے یا لائٹ چلی جائے
اک واری تے بندہ انا ہو ای جاندا اے"

ایک تو میں نے تیری مددکی ہے اوپرسے تومجھ پر ہی برس رہا ہے.

حنین نےکافی کا کپ منہ کو لگاتے ہوئے کہا

جب سے تیرے مشورے پر عمل کیا ہے تب سے وہ چپ چپ رہنے لگی ہے مجھے دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے . یہ جو تو ہمیں مشورے دیتا ہےکبھی خود بھی ان پر عمل کیا ہے .....؟

زریاب کے جواب میں حنین نے کپ رکھتے ہوئے کہا

"میں ہمیشہ ان لوگوں کی غلطیوں سے سیکھتا ہوں جنہوں نے میرے مشوروں پہ عمل کیا ہوتا ہے."

اب کی بار دبیر نے مسکراتے ہوئے زریاب کے کندھے پر تسلی دینے کے لیے ہاتھ رکھا جو حنین کی باتوں سےکافی ڈسٹرب لگ رہا تھا.

جاری ہے

   مطلب تم بچوں کو ڈرانے کے کام آتی ہو....؛حذیفہ نے اس کی اداسی کو کم کرنا چاہامیں بڑوں کو بھی ڈرا دیتی ہوں آپ بچوں کی ب...
01/08/2025





مطلب تم بچوں کو ڈرانے کے کام آتی ہو....؛

حذیفہ نے اس کی اداسی کو کم کرنا چاہا

میں بڑوں کو بھی ڈرا دیتی ہوں آپ بچوں کی بات کرتے ہیں، کمال کرتے ہیں...؟

اچھا اگر ایسا ہے تو تم مجھے بھی ݙرا کر دیکھاؤ، پھر مانوں گا..؟

نہیں میں اچھے لوگوں کو نہیں ڈراتی، آپ بہت اچھے ہیں.

(بلی کے بچے ہیں.)حذیفہ نے دل میں جملہ پورا کیا.

میرے خیال سے اب مجھے بھی آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اتنی تعریف پر تو بنتا ہے

"بہت بہت شکریہ مس معصومہ"

اور پھر دونوں ہنسنے لگے.
حذیفہ نے پہلی بار معصومہ کو ہنستے ہوئے سنا اس کی ہنسی بہت پیاری تھی جیسے کوئی جھرنا بہہ رہا ہو....

ہنستی رہا کریں اچھی لگتی ہیں اور اب مجھے اجازت دیں وقت کم ہے اور مقابلہ سخت یعنی ابھی بہت کام کرنے ہیں ، اپنا خیال رکھنا اداس بلکل مت ہونا ٹھیک ہے اللہ حافظ

حذیفہ نے کلاک پر نظر مارتے ہوئے کہا

کچھ دیر خاموشی رہی پھر کال کٹ گئی.

"اور سے اور ہوتے جا رہے ہو۔۔۔
قابل غور ہوتے جا رہے ہو۔...."

چل بچے حذیفہ جلدی جلدی کام سمیٹ اس سے پہلے کہ یہ عشق تجھے DC کے ہاتھوں ذلیل کروائے.

حذیفہ نے خودکلامی کرتے ہوئے دوبارہ پیکنگ شروع کر دی.

ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻧﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺳﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﻧﺎ ﺧﻮﺵ ﮨﮯ،

ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ؟

ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ؟

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ؟

ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ؟

ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ، ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﺎ ﺧﻼ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﯽ ﮐﻤﯽ،
ﮔﻮﯾﺎ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺑﺎﺳﯽ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺟﻮ ﮨﺮ ﭘﻞ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺳﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﭘﻞ ﻭﮦ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﮐﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮧ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﮯ۔

ﺗﺐ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺑﺲ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ، ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺟﻮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ، ﭘﻮﻧﭽﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍس کی ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﻟﺠﮭﻨﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭﺍس کا ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻝ ﭼﮍﮬﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﺭﺏ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ پاک ﺫﺍﺕ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﺧﻮﺩ ﺳﭙﺮﺩﮔﯽ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ !

معصومہ نے دل میں سوچتے ہوئے بے آواز خدا حافظ کہا اور سر جھکا کر زمین کو دیکھنے لگی.
🌸🌸🌸🌸
تمہارا کیا خیال ہے وہ لوگ کیوں آئے تھے..؟

نرمین نے ڈریسنگ ٹیبل سے لوشن اٹھاتے ہوئے حنین سے پوچھا جو سونے کےلیے بیڈ پر لیٹنے لگا تھا.

میرا خرچہ کرانے اور دماغ چاٹنے آئے تھے.....

کمال کرتی ہو ملنے آئےتھے یار اور کیوں آئے تھے، پتہ نہیں تم کیا سوچتی رہتی ہو.؟

میرے خیال سے وہ رامین کے رشتے کیلئے آئے تھے مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کون مانگا چاہ رہا تھا مطلب حذیفہ یا ارتضیٰ....

مجھے ارتضیٰ زیادہ پسند ہے حذیفہ سے تو توبہ ہے دماغ چاٹ جاتا ہے......

رامین نے لوشن ہاتھ پر ملتے ہوئے پر سوچ انداز میں کہا

پہلے مجھے شک تھا مگر اب یقین ہے کہ تمہارا دماغ بلکل خراب ہو گیا ہے رامین ابھی بچی ہے.....

حمین کو نرمین کی بات بلکل پسند نہیں آئی.

تمہارے لیے چھوٹی ہے مگر دنیا کی نظر میں بڑی ہو گئی ہے.

یار کیسی باتیں کرتی ہو وہ اگر اس گھر سے وہ چلی گئی تو ہمارا گھر ویران ہو جائے گا اسی کے دم سے تو رونق لگی ہوئی ہے میں نے اپنی بیٹی کو رخصت نہیں کرنا سمجھی.....

حنین جو سونے کی نیت سے بیڈ پر لیٹ رہا تھا نرمین کی بات سن کر اٹھ بیٹھا.

اس گھر میں رونق لگانے کے لیے ویسے تو تم اکیلے ہی کافی ہو مگر تمہاری تسلی کے لیے عرض ہے کہ تمہارے لاڈلے(حمین) سے زیادہ رونق کوئی اور نہیں لگا سکتا.

اور یہ کیا کہا تم نے کہ اسے رخصت نہیں کروں گے تو اور کیا کرو گے شادی نہیں کرنی اس کی ...؟

کرنی ہےبلکل کرنی ہے بلکہ بہت دھوم دھام سے کرنی ہے مگررخصت نہیں کرنا.

نرمین کی فکر پر حنین مسکرایا.

تم گھر داماد رکھو گے...؟

حنین تم اتنا اُلٹا کیسے سوچ لیتے ہو ...؟

پلیززز بیٹی کے معاملہ میں کوئی ایڈونچر نہیں....

واہ نرمین بی بی تم تو بہت ذہین ہو گئی ہو.میں بلکل ایسا ہی کروں گا کیونکہ اگر صبح مجھے میری بیٹی نظر نہ آئے تو مجھے کچھ بھی نظر نہیں آتا.

حنین تم اور تمہارے ڈرامے....؟
اس سے پہلے کہ نرمین اور کچھ کہتی حنین بول پڑا

اچھا تو یہ بات تھی مگر میں پہلے رامین سے پوچھوں گا کہ اسے کوئی اور تو پسند نہیں..؟

حنین نے لیٹنے کے لیے دوبارہ تکیہ سیٹ کیا اسے لیٹتا دیکھ کر نرمین پھربول پڑی

حنین مجھے موسیٰ کے لیے حبا پسند ہے تمہیں کیسی لگتی ہے..؟

نرمین نے بیک وقت اپنی رائے بھی دی اور اس کی مانگ بھی لی.

وہ ڈر پوک سی........

نہیں یار اس طرح تو دونوں ایک جیسے ہو جائیں گے اور ان کے بچے ان سے بھی چار ہاتھ آگے ہوں گے .میرے خیال سے کوئی تیز تراز سی لڑکی دیکھنی چاہیے موسیٰ کے لیے، تاکہ دونوں میں سے ایک تو شیر ہو.....

مگر.....
اس سےپہلے کہ نرمین کچھ کہتی دروازےپر دستک ہوئی اور حمین اندر آیا .

گرے کلر کی ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں وہ بہت پیارا لگ رہا تھا.

آ میرے شیر،ادھر بیٹھ....
حنین نے اپنے پاس جگہ بناتے ہوئے کہا

(چلو جی چھٹی ہوئی اب ان باپ بیٹے نے میری ایک نہیں سننی.)

نرمین دل میں سوچتی ہوئی خود بھی سونے کی تیاری کرنی لگی. مگر اس سےپہلے کہ وہ سونے کے لیے لیٹتی ایک بار پھر دستک کی آواز کے ساتھ موسیٰ اور رامین کمرے میں داخل ہوئے.

ارے واہ کمال ہو گیا آج تو ماں کا لاڈلا باپ کی موجودگی میں بھی آ گیا.

بیٹھو.....

حمین بلکل حنین کے سامنے جبکہ رامین اور موسیٰ نیچے کارپٹ پر ہیٹر پاس بیٹھ گئے.

بزنس کیسا جا رہا ہے..؟ صاحبزادے.....

بلکل ٹھیک ٹھاک ، آپ بھی چکر لگائیں نااااا کسی دن....

چلو صبح دیکھتے ہیں .موسیٰ کے کہنے پر حنین نے جواب دیا.

جی نہیں بڑا میں ہوں پہلے میرے آفس آنا پھر جہاں دل کرے جانا.....

ویسے کیا باتیں ہو رہی تھیں اپنی ڈارلنگ سے ، حمین نے آنکھ مار کر حنین سےپوچھا

حنین نے ایک لمبی سانس لی اور دکھی شکل بناتے ہوئے کہا

رومنس تو تمہاری ماں کو چھوکر نہیں گزرا مجھے حسرت ہی رہ گئی.......

اس لیے ہم تم لوگوں کی شادیوں کا سوچ رہے تھے.

مجھے زرناب بہت پسند ہے اور تمہاری ماں حبا کے واری صدقے جا رہی ہے.

وہ چڑیا......چوں چوں چوں
ماما کی چوائس بلکل ماما جیسی ہے اور آپ کی آپ جیسی ایکدم زبردست......

رامین نے مسکراتے ہوئے داد دی.

مسٹر حنین آپ پلیز زرناب کانام نہ لیں میں اُسے کورٹ میں بڑی مشکل سے برداشت کرتا ہوں گھر میں تو بلکل نہیں کروں گا......؟؟؟

بھائی یہاں آپ زیادتی کر رہے ہیں قسم سے اتنی اچھی ہے وہ...

موسیٰ نے زرناب کی سائیڈ لی جس میں رامین نے پورا ساتھ دیا.

براہ مہربانی اس گھر کو گھر رہنے دو چڑیا گھر مت بناؤ.....

نرمین جو کافی دیر سے ان سب کی باتیں برداشت کر رہی تھی بول پڑی.

چڑیا گھر......
تینوں نے ایک ساتھ کہتے ہوئے حنین کو دیکھا

ظاہری سی بات ہے جس گھر میں باپ حنین جیسا، بیٹا حمین جیسا، بیٹی رامین جیسی ، بہو زرناب جیسی اور داماد حذیفہ جیسا ہو تو بس.....

کم از کم ہم اس علاقے میں رہنے کے قابل نہیں رہیں گے.
میری مانو تو اس گھر کے باہر ملک ویلاز کی تختی اتار کر چڑیا,گھر یا پاگل خانہ کی لگا دو.

نرمین نے انتہائی غصہ اور دکھ کے ملے جلے لہجہ میں کہا

Objection u honour.....
یہ تو زیادتی ہے آپ نے اپنے لاڈلے کے علاوہ سب کو رگڑ دیا.

حمین نے احتجاج کیا جبکہ رامین اور حنین نے ہاتھ اوپر کر کے باقاعدہ احتجاج کے نعرے لگائے.

احتجاج...احتجاج...احتجاج
انصاف.....انصاف.....انصاف

بند کرو یہ ڈرامہ بازی، ساری دنیا سو رہی ہے اور تم لوگ شور مچا رہے ہو اپنا نہیں تو دوسروں کا خیال کرو. زرا گھڑی کی طرف دیکھو رات کے 11بج رہے ہیں بھلا یہ وقت شور کرنے کا ہے....

نرمین نے ڈانٹا

اب ہم زیادتی پر احتجاج بھی نہ کریں....

رامین نے معصوم شکل بنا کر حمین کو دیکھا کیونکہ وہ جانتی تھی ایسے موقعوں پر کہاں سے اور کس سے سپوٹ ملے گی.

میری مانو تو تم دونوں اس وقت دھرنا دے دو جب تک "ہوم منسٹر" تمہارے مطالبات مان نہ لے.میں بھی ایسا ہی کرتا تھا.

حنین نے انھیں مزید شہ دی.

شاباش حنین یہ کس طرف لگا رہے ہو اولاد کو.....

(اس ساری کاروائی کے دوران موسیٰ صرف مسکرانے پر اکتفا کر رہا تھا وہ ایسا ہی تھا چپ چاپ سا...)

مجھے لگتا ہے تم لوگوں کی انھی حرکتوں کی وجہ سے ایک دن میرا ہارٹ اٹیک ہو جائے گا یاپھر دماغ کی کوئی رگ پھٹ جائے گی اتنی ٹنشن دیتے ہو تم سب مل کر.....

نرمین نے اپناسر پکڑ لیا.

پھر ایسا کرتے ہیں کہ فوجی داماد کی جگہ ڈاکٹر داماد لے لیتے ہیں اس طرح کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں آپ کو فوراً طبی امداد گھر پر ہی مل جائے گی. کیسا آئیڈیا ہے...؟

رامین نے موسیٰ اور حمین سے پوچھا.
موسیٰ تو چپ رہا جبکہ حمین نے انگوٹھے سے آئیڈیا کو ok کیا. حنین نے پھیکی مسکراہٹ سے رامین کو دیکھا اور ایک گہری سانس خارج کی.(شرم نام کی چیز حنین کی اولاد میں نہیں) نرمین نے افسوس سے سر ہلایا.

چلو اب تم سب آج کا ڈرامہ یہاں روک کر سونے چلے جاؤ بہت دیر ہو گئی ہے کل یہاں سے دوبارہ شروع کر لینا....

نرمین کے کہتے ہی موسیٰ، حمین اور رامین اپنی ہنسی دباتے چلے گئے.

ان سب کے جاتے ہی حنین بھی بیڈ سے نیچے اتر کر اپنے سلیپر پہننے لگا.

اب تم کہاں جا رہے ہو...؟

آتا ہوں مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے رامین سے جو میں سب کے سامنے نہیں پوچھ سکتا تھا.تم شاید ٹھیک کہہ رہی تھی رامین اب بڑی ہو گئی ہے.

حنین کہتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا جبکہ نرمین اسے اداس دیکھ کر اداس ہو گئی اور نم آنکھوں سے مسکرانے لگی. اسے حنین کے اندر ایک شفیق باپ لی جھلک نظر آئی جو اپنی بیٹی کی رخصت کا سوچ کر دکھی ہو گیا.
کتنے روپ ہیں تمہارے "حنین ملک"......
🌸🌸🌸🌸

✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨

زریاب کو اب سچ مچ ماہ نور کی ضد پریشان کر رہی تھی . اس مسئلہ کا کیا حل نکالا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے یعنی میں شادی بھی نہ کروں اور ماہ نور راضی بھی ہو جائے.

ابھی وہ انھیں سوچوں میں گم تھا کہ اس کا فون جگما اٹھا اور ساتھ ہی زریاب کا چہرہ بھی ....

جی جناب فرمائیں بلکہ حکم کریں ہم پوری قوم کے خادم ہیں مگر آپ کے خاص طور پر......

سردار زریاب علی خاں یہ میں ہوں "حنین ملک" تیری پیرنی نہیں جو یوں شہد ٹپکا رہاہے اُسی طرح بات کر جیسے کرتا ہے تاکہ مجھے کوئی خوش فہمی کا شکار نہ ہوں.

حنین کی بات پر زریاب نے قہقہ لگایا پھر کچھ سوچ کر کہا

یار میں آج کل ماہ نور کی وجہ سے بہت پریشان ہوں بلکہ سیدھے لفظوں میں اس نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے

تُو اس کی وجہ سے خوش کب تھا....؟ بلکہ سیدھے لفظوں میں اُس نے تجھے ہمیشہ پریشان ہی کیا ہے......

دکھی آتما.......

یار میں اس ٹنشن سے نکل کر خوش رہنا چاہتا تو میری مدد نہیں کرسکتا....

زریاب کی بات پرحنین نے ہنستے ہوئے کہا

"اگر زندگی میں خوش رہنا چاہتا ہے تو دو ⁦✌️⁩اصول اپنا لے۔۔۔
1-کسی کے معاملے میں"اباجان"مت بن ۔....
2-کسی کو اپنے معاملے میں "اباجان" مت بننے دیں ۔۔"

حنین............

دل تو کرتا ہے تجھے دفا کردو اورتیرے اوپر فاتحہ پڑھ کر فارغ ہو جاؤں پر کیا کرو تویارہے اپنا.....
بتا کیا مدد کر سکتا ہوں میں تیری......؟

بس بیٹا چاہیے اسے ، اس کے اندر کی محرومی بولتی ہے مجھے شادی کے لیے فورس کر رہی ہے...

بس جی اپنےاپنے نصیب ہیں ، خوش قسمت ہے تو یار ورنہ ہم.......

حنین نے ایک سرد آہ بھری

زیادہ ڈرامہ بازی نہیں میرے مسئلہ کا حل بتا.

واہ جی کمال ہے رعب تو ایسے ڈال رہا ہے جیسے میں تیری بیوی ہوں ، ہاں یار ایک آئیڈیا آیا میرے دماغ میں.....

تُو ایسا کر مجھے اپنی بیوی بنا لے یاپھر تو میری بیوی بن جا ، اگر تو میری بیوی بنا تو جو میں کہوں گا وہ تجھے کرنا پڑے گا اور اگر میں تیری بیوی بنا تو میری ساری ذمہ داریاں تجھ پر مطلب "خرچا ورچہ"...

زیادہ بکواس نہیں سیدھی طرح بتا دے کیا چاہیے تجھے ، لالچ کے بغیر بھی کام کر دیا کر....

میری جان یہ سب پیسے کا کھیل ہے اگر تو مجھے ابھی تھوڑی سی شاپنگ کرا دے تو میں تیرا مسئلہ ایسےحل کروں گا( کہ تو خود بول اٹھے گا اس سے اچھا تو مسئلہ ہی تھا یہ بات حنین نے دل میں کہی) کہ تو حیران رہ جائے گا اور مسکرا کر زریاب کیطرف دیکھا جواپنا کریڈٹ کارڈ حنین کی طرف بڑھا رہا تھا.

بس اب تو میری بات غور سے سن.....

‏بیویاں چاہتی ہیں شوہر ان پر مریں،جب شوہر ان پر مرتے ہیں تو کہتی ہیں

" پراں جاکے مر "

جب وہ پراں جاکے مرتے ہیں , تو کہتی ہیں
" ہاۓ میں مرگئ "

مطلب اب تو ایک بار پھر عشق کر .......وہ کیا ہے ناااا

دوجی واری وی ہویا پیار دوجی واری وی ہویا اے تیرے نال.....

حنین نے اپنی گول مٹول آنکھوں کو گھما کرکہا جبکہ زریاب نےناسمجھی سےاسے دیکھا
🌸🌸🌸🌸
بی بی جی جلدی کریں میرے کپڑے پہن لیں سچ میں آج بہت اچھا موقعہ ہے مجھے نہیں لگتا کہ ایسا موقع پھر ہمیں ملے گا.

نور (نوکرانی کی بیٹی)نے زرتاشے کو کہا اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے کپڑے اس کی طرف بڑھائے

نور تم میری وجہ سے اتنا خطرہ مول مت لو. مجھےکہیں نہیں جانا.....

حد کرتیں ہیں آپ ......

نور نے افسوس سےزرتاشے کو دیکھا

میں یہاں سےنکل کر کہاں جاؤں گی کس کے پاس پناہ لوں گی اگر میرا کوئی ہوتا تو میں بابا کے چہلم والے دن ہی یہاں سے چلی جاتی......

زرتاشے نے آنسو صاف کرتے ہوئے جواب دیا

بی بی یتیم خانے چلی جانا یہاں سے تو اچھا ہو گا.....

نور کےاصرارپر نہ چاہتے ہوئے بھی زرتاشے اسکے کپڑے پہن کر تیار ہو گئی.

بی بی اپنے ضروری کاغذات رکھ لیں اور یہ پیسے بھی....

نور نےاپنے دوپٹے کے کونے میں بندھےہوئےکچھ روپے زرتاشے کو دیے.

میں تمہارا احسان ساری زندگی یاد رکھوں گی. مگر سمجھ نہیں آ رہی کہاں جاؤں....

زرتاشےنے نور کے گلے لگتے ہوئے کہا

بی بی میری مانے تو ٹرین پر بیٹھ کر سکی دور شہرچلی جائیں ٹرین کا سفر لمبا بھی ہوتا ہے اور محفوظ بھی، آپ کو سوچنےکے لیے کافی وقت مل جائے گا. جلدی کریں کہیں چھوٹے صاحب نہ آ جائیں....

نور نے باہر دیکھتے ہوئے کہا

مگرگاؤں والے مجھے پہنچانتے ہیں میں ٹرین تک کیسے پہنچوں گی...؟

زرتاشے کی پریشانی پر نور نے تسلی دیتے ہوئے کہا

اس کا بندوبست میں نے کر لیا ہے. گاؤں میں دوسرے شہر کی بارات آئی ہوئی ہےمیں آپ کو باراتیوں کی بس میں سوارکر دیتی ہوں بس وہاں سے آگے آپ خود سمبھال لیناکسی محفوظ مقام پر پہنچ کر مجھے اطلاع کر دینا....

ٹھیک ہے ، مگر تم میرا دوسرا کام بھی یاد سے کر دینا.
زرتاشے نے دوبارہ گلے لگتے ہوئے کہا
🌸🌸🌸🌸
حمین ڈرائونگ سیٹ پر تھا حذیفہ اس کے ساتھ فرنٹ پر جبکہ موسیٰ،ارتضی اور مرتضی پیچھے بیٹھے ہوئے تھے. یہ سب مل کر آج حذیفہ کو یونٹ چھوڑنے جا رہے تھے.

گاڑی میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی. موسیٰ اور مرتضی موبائل پر اپنی اپنی بزنس اب ڈیٹس چک کر رہے تھے جبکہ ارتضی ایک پیشنٹ کی بائیو گرافی دیکھ رہا تھا جس کا کل آپریشن تھا اور حذیفہ مسلسل مس معصومہ کو کال کر رہا تھا وہ چاہتا تھا کہ جانے سے پہلے ایک بار اُس سے بات ہو جائے .

حمین کب سے سب کی سرگرمیوں کو غور سے دیکھ رہا تھا. بلاآخر اُس کا صبر جواب دے گا.

"طوئیں , ظوئیں , عَین , غین
جاؤ وے عاشقو توانوں کُتے پین"

حمین کے شعر پر سب نے ایک بار سر اٹھا کر اسے حیرت سے دیکھا اور پھر ہنسنے لگے.

یہ تجھے اچانک کیا دورے پڑنے لگتے ہیں مجھے لگتا ہے تُو "اسلام آباد" کی بجائے "امرتسر" میں پیدا ہوا ہے . عجیب سکھوں والے اشعار اورکہاوتیں ہوتیں ہیں تیری........

حذیفہ نے کہا جس پر حمین نے اپنی گول مٹول آنکھوں سے اُسے گھورا اور ایک سرد آہ بھرتے ہوئے جواب دیا.

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک بہادر فوجی ہوتا تھا پھر اُسے رانگ نمبر پر ایک حسینہ مل گئی جس کے بعد وہ ہمیشہ یہ کہتا ہوا ملا....

"میرا پاس تم ہو"

ساری کار قہقوں سے گونج اُٹھی.

بس کرو یار اب اس ڈرامے کا پیچھا چھوڑ بھی دو.جبکہ حذیفہ نے حمین کی کمر پر مکا مارتے ہوئے جواب دیا.

"میرے پاس بم ہے"

جس پر ایک بار پھر سب ہنسنے لگے.

ویسے زرناب بلکل ٹھیک کہتی ہے تجھے پڑھنے "لندن" بھیجا تھا مگر شاید تو "لندن " کی بجائے "امرتسر"چلا گیا اور سکھوں سے یاریاں لگالیں جس کا تیری شخصیت پر گہرا اثر ہوا.

پہلی بات یہ کہ میرے نزدیک "لندن" اور "امرتسر" میں کوئی خاص فرق نہیں دونوں شہروں میں کثیر تعداد میں سکھ نظر آتے ہیں دوسری بات میرا "روم میٹ" ایک سکھ تھا جو اکثر مجھے پنجابی jokes سناتا رہتا تھا. تمہیں بھی میں ایک خشونت سنگھ کا واقعہ سناتا ہوں.

خشونت سنگھ لکھتے ہیں :
"ایک بار میں جہاز میں ممبئی سے سنگاپور جارہا تھا. ایک خاتون میرے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی مجھے مسلسل گھورے جارہی تھیں. میں سمجھ گیا کہ اس عورت نے آج تک کوئی سردار نہیں دیکھا. سفر کے دوران جب ایئر ہوسٹس چائے اور اسنیک لائی تو میں نے سوچا کہ اس خاتون سے گفتگو کا آغاز کروں.

اس کا نام مارگریٹا تھا اور اس کا تعلق اسپین سے تھا.
دوران گفتگو اس نے پوچھا.

" آپ کون ہیں؟"
میں نے انگریزی میں کہا.
" I m sikh"
" آئی ایم سوری" وہ خاتون کہنے لگیں. " امید ہے آپ جلد ٹھیک ہو جائیں گے"

" میں نے اس پر کہا.

" نہیں محترمہ آپ غلط سمجھی ہیں.

I am not sick as that of the body, I am Sikh as of religion."
وہ خاتون بہت خوش ہوئیں اور مجھ سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا. کہنے لگیں.
"it is nice meeting you, I am also sick of religion."

واقعہ سن کر سب ہنسنے لگے.

حد ہے یار تُو وکیل کم اور مزاح نگار زیادہ لگتا ہے ارتضی نے کہا جس پر سب نے اُس کا ساتھ دیا.

اچھا پھریہ حذیفہ کیا لگتا ہے تمہیں......؟؟؟ اس کی حرکتیں بھی تو نوٹ کرو .
حمین کے کہنےپر حذیفہ نے گھور کر اُسے دیکھا.

ہاں جی! فوجی بھائی آپ آج کل کیا کر رہے ہیں. موسیٰ اور مرتضی نے پوچھا.

تمہیں پتہ ہے حمین ہر وقت بکواس کرتا رہتا ہے اس کی باتوں کو سیریس نہ لیا کرویہ مجبور ہے چپ رہ نہیں سکتا....

"میں نے چپ رہ کر دیکھ لیا ہے نہیں رہا جاتا چپ......"

حمین نے شرمندہ ہونے کی بجائے آگے سے اقرار کیا.

یار ویسے ایک بات ہے محبت ہے بڑی ظالم چیز اگر سچ میں ہو جائے تو.....

موسیٰ کے بیان پر ایک بار حمین اور حذیفہ نے بیک مرر میں اسے حیرت سے دیکھا.

زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں نے یہ بات کہیں پڑھی تھیکہ انسان کی پہچان دولت سے نہیں بلکہ......

موسی ابھی اتنا ہی بول پایا تھا کہ حمین نے اس کا جملہ اچک لیا.

"انسان کی پہچان دولت سے نہیں شناختی کارڈ سے ہوتی ہے پاگلو...... کیڑی کیڑی کم دی گل دساں میں توانوں......."

جس پر سب ہنسنے لگے جبکہ موسیٰ نے نفی میں سر ہلایا.

اس کے ساتھ کوئی بھی کام کی بات کرنا فضول ہے حذیفہ نے موسیٰ کی طرف دیکھ کر کہا اور ایک بار پھرمعصومہ کا نمبر ڈائل کیا.( اللہ خیرکرے کیوں فون نہیں اٹھا رہی..؟ بل تو جا رہی ہے ) پتہ نہیں کیوں مگر حذیفہ کو عجیب سی بےچینی ہو رہی تھی جسے کوئی محسوس کرے نہ کرے مگر حمین محسوس کر رہا تھا.

زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے فون silent پر ہو گا. حمین نے آہستہ آواز میں حذیفہ کو تسلی دی .

جلیں جی کپٹن سید حذیفہ بخاری آپ کا سسرال آ گیا رخصت ہونے کی تیاری کریں.

یونٹ کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے حمین نے نیچے اترنے کا اشارہ کیا جس پرسب نیچے اتر گئے اور باری باری حذیفہ کو گلے لگا کر خدا حافظ کہا

اپنا خیال رکھنا اور شہید ہونے کے بارے میں سوچنا بھی مت کیونکہ ہم نے ابھی بہت سارے دن ساتھ گزارنے ہیں.
موسیٰ نے پیار سے کہتے ہوئے حذیفہ کو خود سے الگ کیا اور کمر تھپکی...

"شہیدِ محبت نہ کافر نہ غازی..."

حمین نے مکا بنا کر حذیفہ کے مکے پر مارا اور ہاتھ ملاتے ہوئے مسکرا کر کہا

میں تیراکام کرنے کی پوری کوشش کروں گا.

پھر سب گاڑی میں بیٹھ گئے اور حذیفہ نے انھیں ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کیا.

مگر ان پانچوں میں سے کوئی بھی آنے والے وقت سے باخبر نہیں تھا اگر ہوتا تو وقت کو روک لیتا. کیونکہ شاید آج کے بعد وہ کبھی اس طرح اکھٹے نہیں ہو سکیں گے .

زندگی انتہائی سفاک اور خوفناک حد تک ظالم ہے یہ آپ کو وہ دن بھی دکھاتی ہے جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا.

زندگی ہر وقت آپ کو ماں کی گود میں لوری نہیں دیتی بلکہ کبھی کبھی یہ آپ کو زمین پر یوں پٹختی ہے کہ آپ چیخنے کے بھی قابل نہیں رہتے ، ہنسا تو بہت دور کی بات ہے....

ان پانچوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہونے والا تھا....

جاری ہے

Address

Lahore
Lahore
3098

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when what's new posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category