Sumra King of layyah

Sumra King of layyah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sumra King of layyah, Grocers, Layyah.

08/02/2025
04/10/2024

📯💰 ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم و ستم کرکے بہت سا خزانہ جمع کر لیا اور شہر سے باہر جنگل بیابان میں ایک خفیہ غار میں چھپا دیا اس خزانہ کی صرف دو چابیاں تھیں- ایک بادشاہ کے پاس دوسری اس کے معتمد وزیر کے پاس ان دو کے علاوہ کسی کو اس خفیہ خزانے کا پتہ نہیں تھا۔.
ایک دن صبح کو بادشاہ اکیلا سیر کو نکلا۔ اور اپنے خزانہ کو دیکھنے کے لیئے دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگیا۔ خزانے کے کمروں میں سونے چاندی جواہرات کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ ہیرے جواہرات بکسوں میں سجے ہوئے تھے۔ دنیا کے نوادرات کونے کونے میں بکھرے ہوئے تھے۔ وہ انکو دیکھ دیکھ کر بہت خوش ہوا۔.
اسی دوران اتفاقیہ اسکے وزیر کا اس علاقہ سے گزر ہوا۔ اس نے خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا اسے خیال ہوا کہ کل رات جب وہ خزانہ دیکھنے آیا تھا تو شاید اس وقت وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا- اس نے جلدی سے دروازہ بند کرکے باہر سے مقفل کردیا۔. ادھر بادشاہ جب اپنے دل پسند خزانہ کے معائنہ کرکے فارغ ہوا تو واپس دروازہ پر آیا لیکن یہ کیا...؟
دروازہ تو باہر سے مقفل تھا اس نے زور زور سے دروازہ پیٹنا اور چیخنا چلانا شروع کردیا لیکن افسوس اس کی آواز سننے والا وہاں کوئی نہ تھا ۔ وہ لوٹ کر پھر اپنے خزانے کی طرف گیا اور ان سے دل بہلانے کی کوشش کی لیکن بھوک اور پیاس کی شدت نے اسے تڑپانا شروع کیا وہ پھر بھاگ کر دروازہ کی طرف آیا لیکن وہ بدستور بند تھا۔ وہ زور سے چیخا چلایا۔ لیکن وہاں اس کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا وہ نڈھال ہوکر دروازے کے پاس گرگیا۔. جب بھوک پیاس سے وہ بری طرح تڑپنے لگا تو رینگتا ہوا ہیروں کی تجوری تک گیا اس نے اسے کھول کر بڑے بڑے ہیرے دیکھے جن کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں تھی اس نے بڑے خوشامدانہ انداز میں کہا :--
اے لکھ پتی ہیروں مجھے ایک وقت کا کھانا دیدو۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ ہیرے زور زور سے قہقہے لگا رھے ہوں۔ اس نے ان ہیروں کو دیوار پر دے مارا۔ پھر وہ گھسٹتا ہوا موتیوں کے پاس گیا اور ان سے بھیک مانگنے لگا ۔ اے آبدار موتیوں, مجھے ایک گلاس پانی دیدو ۔ لیکن موتیوں نے ایک بھر پور قہقہہ لگایا اور کہا اے دولت کے پجاری کاش تو نے دولت کی حقیقت سمجھ لی ہوتی۔ تیری ساری عمر کی کمائی ہوئی دولت تجھے ایک وقت کا کھانااور پانی نہیں دے سکتی۔. بادشاہ چکرا کر گرگیا۔
جب اسے ھوش آیا تو اس نے سارے ہیرے اور موتی بکھیر کر دیوار کے پاس اپنا بستر بنایا اور اس پر لیٹ گیا - وہ دنیا کو ایک پیغام دینا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس کاغذ اور قلم نہیں تھا ۔ اس نے پتھر سے اپنی انگلی کچلی اور بہتے ھوئے خون سے دیوار پر کچھ لکھ دیا۔.
حکومتی عہدیدار بادشاہ کو تلاش کرتے رھے لیکن بادشاہ نہ ملا, جب کئی دن کی تلاش کے بعد وزیر خزانہ کا معائنہ کرنے آیا تو دیکھا بادشاہ ہیرے جواہرات کے بستر پر مردہ پڑا ہے۔ اور سامنے کی دیوار پرخون سے لکھا تھا ۔
🎈
’’یہ ساری دولت ایک گلاس پانی کے برابر بھی نہیں ہے"

اب اندازہ لگائیں کہ یہاں بھی جسطرح دولت اندھادھند جمع کرکے عوام کو غربت کے غاروں میں دھکیل کر دنباوی ہوس کے جو مظاہرے ہوئے ہیں انکے چہرے بھی بینقاب ہو چکے ہیں - یہاں نہ سہی مگر الل٘ہ کو کیا جواب دو گے ؟؟؟
(منقول)

Address

Layyah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sumra King of layyah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category