MALIK Sajid Islamic videos page

MALIK Sajid Islamic videos page اسلامی ویڈیوز معلومات کیلیے فالو کریں

15/05/2026

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ-وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(177)

ترجمۂ کنز الایمان

کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصل نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں۔

تفسیر صراط الجنان

{لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ: اصل نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو۔} مفسرین نے اس آیت کا خاص شانِ نزول بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ خطاب اہلِ کتاب اور مؤمنین سب کو ہے اور معنی یہ ہیں کہ صرف قبلہ کی طرف منہ کرلینا اصل نیکی نہیں جب تک عقائد درست نہ ہوں اور دل اخلاص کے ساتھ ربِّ قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ضروری اعمال کو بجالاتے ہوئے اور دوسروں کے عمل کو حقیر اور معمولی نہ سمجھتے ہوئے کسی خاص عمل کو زیادہ رغبت و محبت اور کثرت کے ساتھ کرنا تو درست ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ضروری عمل مثلاً فرائض و واجبات ترک کرنے کی صورت میں یا اپنے عمل اور طریقے کے علاوہ دوسروں کے عمل اور طریقے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کسی ایک عمل کوہی اچھا سمجھنا سراسر باطل اور غلط ہے۔ مثلاً ایک آدمی روزوں کی کثرت کرتا ہے تو وہ روزے نہ رکھنے والے کو حقیر نہ سمجھے، یونہی ذکرودرود کی کثرت کرنے والا تبلیغِ دین میں مشغول آدمی کو کم تر نہ سمجھے، یونہی وعظ و نصیحت کرنے والاتحریرو تصنیف اور تدریس سے دین کی خدمت کرنے والے کو کم ترنہ سمجھے۔ یہودیوں کا رد اسی وجہ سے کیا گیا کہ ایمان صحیح اور اعمالِ صالحہ کی طرف تو آتے نہ تھے ، رشوت،حرام خوری، سود، فیصلہ کرنے میں ناانصافی، بغض و کینہ اور دیگر گناہوں میں تو دلیر تھے اور قبلہ کے مسئلہ میں حق بات معلوم ہونے کے باوجود بلاوجہ جھگڑتے تھے اور ایک خاص قبلے والا ہونے کو کافی سمجھتے تھے۔ آیت سے معلو م ہوا کہ اعمال سے ایمان مقدم ہے ، پہلے ایمان لاؤ، پھر نیک عمل کرو کیونکہ جڑ شاخوں سے پہلے ہوتی ہے۔ ایمان جڑ ہے اور اعمال شاخیں ، ایمان میں سب سے اول اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے۔

{مَنْ اٰمَنَ: جو ایمان لائے۔} آیت کے اس حصے سے لے کر آخر تک نیکی کے چھ اہم طریقے ارشاد فرمائے گئے ہیں : (۱) ایمان لانا۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی محبت میں مستحق افراد کو اپنا پسندیدہ مال دینا۔ (۳) نماز قائم کرنا۔ (۴) زکوٰۃ دینا۔ (۵) عہد پورا کرنا۔ (۶) مصیبت ، سختی اور جہاد میں صبر کرنا۔ان کی تفصیل درج ذیل ہے :

ایمان کی تفصیل:

ایمان کی تفصیل یہ ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے کہ وہ حی و قیوم ، علیم وحکیم، سمیع وبصیر ، غنی وقدیر، ازلی و ابدی،واحد، لاشریک لہ ہے۔

دوسرا قیامت پر ایمان لائے کہ وہ حق ہے، اس میں بندوں کا حساب ہوگا، اعمال کی جزا دی جائے گی، مقبولانِ بارگاہِ الہٰی شفاعت کریں گے، حضورسید ِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سعادت مندوں کو حوض کوثر پر سیراب فرمائیں گے ،پل صراط پر گزر ہوگا اور اس روز کے تمام احوال جو قرآن میں آئے یا سیدالانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے بیان فرمائے سب حق ہیں۔

تیسرا فرشتوں پر ایمان لائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور فرمانبردار بندے ہیں ، نہ مردہیں نہ عورت ،ان کی تعداد اللہ تعالیٰ جانتا ہے ۔چار ان میں سے بہت مقرب ہیں : (1)حضرت جبرئیل۔ (2)حضرت میکائیل۔ (3)حضرت اسرافیل۔ (4) حضرت عزرائیل عَلَیْہِمُ السَّلَام ۔

چوتھا کتب الہٰیہ پر ایمان لانا کہ جو کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی حق ہے ان میں چار بڑی کتابیں ہیں : (1) توریت جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل ہوئی۔ (2) انجیل جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل ہوئی۔ (3) زبور جو حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل ہوئی۔ (4) قرآن، جو کہ حضرت محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہوئی اور اس کے علاوہ حضرت شِیث، حضرت ادریس ،حضرت آدم اورحضرت ابراہیم عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر بہت سے صحیفے نازل ہوئے۔

پانچواں تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانا کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں اور معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہیں۔ان کی صحیح تعداد اللہ تعالیٰ جانتا ہے ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں۔(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۷، ص۴۷-۴۸)

یاد رہے کہ ایمان مفصل جو بچوں کو سکھایا جاتا ہے، اس کی اصل یہ آیت بھی ہے اور اس کے علاوہ دوسری آیات بھی ہیں۔

{وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ: اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے۔}اس سے پہلے ایمان کا بیان ہوا اور اب اعمال کا ذکر کیا جا رہا ہے اورآیت کے اس حصے میں نیکی کا دوسرا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں مستحق افراد کو اپنا پسندیدہ مال دیا جائے۔

مال کے مستحق افراد اور انہیں مال دینے کے فضائل کا بیان:

اس آیت میں مال دینے کے 6 مصرف ذکر فرمائے گئے ہیں :

(1)…رشتہ داروں پر خرچ کرنا۔ حضرت سلمان بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو ثواب ہیں ایک صدقہ کرنے کا اورایک صلہ رحمی کرنے کا۔(ترمذی، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء فی الصدقۃ علی ذی القرابۃ، ۲ / ۱۴۲، الحدیث: ۶۵۸)

حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سب سے ا فضل صدقہ کنارہ کشی اختیار کرنے والے مخالف رشتہ دار پر صدقہ کرنا ہے۔(معجم الکبیر، حکیم بن بشیر عن ابی ایوب، ۴ / ۱۳۸، الحدیث: ۳۹۲۳)

(2)… یتیموں پر خرچ کرنا۔ جس نابالغ شخص کے باپ کا انتقال ہو چکا ہو اسے یتیم کہتے ہیں۔ حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جو شخص یتیم کی کفالت کرے، میں اور وہ کفالت کرنے والادونوں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ حضورا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ کیا۔(بخاری، کتاب الادب، باب فضل من یعول یتیمًا، ۴ / ۱۰۱، الحدیث: ۶۰۰۵)

(3)… مسکینوں پر خرچ کرنا۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مسکین وہ نہیں جو لوگوں میں گھومتا رہتا ہے اور ایک لقمہ یا دو لقمے اور ایک کھجور یا دو کھجوریں لے کر چلا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی :یارسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، پھرمسکین کون ہے؟ ارشاد فرمایا جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اس کی ضروریات سے اسے مستغنی کر دے اور نہ اس کے آثار سے مسکینی اور فقر کا پتا چلے تاکہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب المسکین الذی لا یجد غنی۔۔۔ الخ، ص۵۱۷، الحدیث: ۱۰۱(۱۰۳۹))

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ایک لقمہ روٹی اور ایک مُٹھی خُرما اور اس کی مثل کوئی اور چیز جس سے مسکین کو نفع پہنچے، اُن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تین شخصوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے، ایک صاحب خانہ جس نے حکم دیا، دوسری زوجہ کہ اسے تیار کرتی ہے، تیسرے خادم جو مسکین کو دے کر آتا ہے، پھر حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: حمد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے جس نے ہمارے خادموں کو بھی نہ چھوڑا۔ (یعنی رحمت سے محروم نہ چھوڑا۔)(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴ / ۸۹، الحدیث: ۵۳۰۹)

(4)… مسافروں پر خرچ کرنا۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ مومن کو اس کے عمل اور نیکیوں سے مرنے کے بعد بھی یہ چیزیں پہنچتی رہتی ہیں۔ علم جس کی اس نے تعلیم دی اور اشاعت کی ۔ نیک اولاد جسے چھوڑ کر مرا ہے یا مُصحف جسے میراث میں چھوڑا یا مسجد بنائی یا مسافر کے لیے مکان بنادیا نہر جاری کردی یا اپنی صحت اور زندگی میں اپنے مال میں سے صدقہ نکال دیا جو اس کے مرنے کے بعد اس کو ملے گا۔(ابن ماجہ، کتاب السنّۃ، باب ثواب معلّم الناس الخیر، ۱ / ۱۵۷، الحدیث: ۲۴۲)

(5)…سائلوں کو دینا۔ یاد رہے کہ صرف ا س سائل کو اپنا مال دے سکتے ہیں جسے سوال کرنا شرعی طور پر جائز ہو جیسے مسکین، جہاد اور علم دین حاصل کرنے میں مشغول افراد وغیرہ، اور جسے سوال کرنا جائز نہیں اس کے سوال پر اسے دینا بھی ناجائز ہے اور دینے والا گناہگار ہو گا، البتہ بعض لوگوں کو سوال کرنا جائز نہیں ہوتا لیکن ضرورت مند ہوتے ہیں انہیں بغیر مانگے دینا جائز ہے جیسے فقیر۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’آج کل ایک عام بلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اوروں کو کھلائیں ، مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے، کون محنت کرے مصیبت جھیلے، بے مشقت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے۔ ناجائز طور پر سوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں کہ مزدوری تو مزدوری، چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لیے بے عزتی و بے غیرتی ہے مایۂ عزت جانتے ہیں اور بہت ساروں نے تو بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے، گھر میں ہزاروں روپے ہیں ، سود کا لین دین کرتے، زراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشہ ہے واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں۔ حالانکہ ایسوں کو سوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو، اُسے جائز نہیں کہ ان کو دے۔(بہار شریعت، حصہ پنجم، سوال کسے حلال ہے اور کسے نہیں ، ۱ / ۹۴۰-۹۴۱)

(6)…گردنیں چھڑانے میں خرچ کرنا۔ گردنیں چھڑانے سے غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنا مراد ہے۔ حضرت ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو مسلمان مرد کسی مسلمان مرد کو آزاد کرے گا، اللہ تعالیٰ غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے نجات دے گا۔ حضرت سعید بن مرجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں :جب میں نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ حدیث سنی اورمیں نے جا کر اس کا ذکر حضرت علی بن حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے کیا تو انہوں نے اپنے ایک ایسے غلام کو آزاد کر دیا جس کی حضرت عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار قیمت دے رہے تھے۔(مسلم، کتاب العتق، باب فضل العتق، ص۸۱۲، الحدیث: ۲۴(۱۵۰۹))

یہاں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اگر صدقات ِ واجبہ ہوں تو اس کے دیگر احکام کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔

راہ خدا میں کیسا مال دینا چاہئے ؟

اللہ تعالیٰ کی راہ میں رضائے الہٰی کی خاطر پیارا مال دینا چاہیے نیز زندگی و تندرستی میں دے جب خود اسے بھی مال کی ضرورت ہو کیونکہ اس وقت مال زیادہ پیارا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کا وصف بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸)اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا(دہر:۸، ۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں خاص اللہ کی رضاکے لیے کھانا کھلاتے ہیں ، ہم تم سے کوئی بدلہ یا شکر یہ نہیں چاہتے۔

اور ارشاد فرماتا ہے:

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ(ال عمران:۹۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم ہرگزبھلائی کو نہیں پا سکو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ایک آدمی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ،کونسا صدقہ ثواب کے لحاظ سے بڑا ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’جب کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ دو اور تمہیں خود مال کی ضرورت ہو اور تنگدستی کاخوف بھی ہو اور مالداری کا اشتیاق بھی۔ یہ نہ ہو کہ جان گلے میں آ پھنسے اور کہے کہ اتنا فلاں کے لئے اور اتنافلاں کے لئے حالانکہ اب تو وہ فلاں کا ہوچکا۔(بخاری، کتاب الزکاۃ، باب ایّ الصدقۃ افضل۔۔۔ الخ، ۱ / ۴۷۹، الحدیث: ۱۴۱۹)

{وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ: اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے۔}آیت کے اس حصے میں نیکی کا تیسرا اور چوتھا طریقہ بیان کیا گیا کہ فرض نمازیں ان کے ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرے اور اس کے مال میں جو زکوٰۃ واجب ہو اسے ادا کرے۔

{وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ: اور اپنے عہد پورا کرنے والے۔}یہاں نیکی کے پانچویں طریقے کابیان ہے اور اس آیت میں عہد سے سارے جائز وعدے مراد ہیں خواہ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوں یا رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے یا اپنے شیخ سے یا نکاح کے وقت بیوی سے یا کسی اور سے جیسے حکمرانوں کے وعدے عوام سے، بشرطیکہ جائز وعدے ہوں ، ناجائز وعدوں کو پورا کرنے کی اجازت نہیں۔

{وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ:اور مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت صبرکرنے والے۔} آیت کے اس حصے میں نیکی کے چھٹے طریقے کا بیان ہے کہ فَقر و فاقہ اور بیماری وغیرہ کی مصیبت و سختی میں اور راہ خدا میں ہونے والی جنگ میں قتال کے وقت صبر کیا جائے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۷، ۱ / ۱۱۵)

یاد رہے کہ اس آیت میں صبر کے چند مقامات بیان ہوئے ،ان کے علاوہ بھی صبر کے بہت سے مقامات ہیں ، نیز صبر کے فضائل سورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر 153کے تحت گزر چکے ہیں۔

{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ: یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔ }یعنی صحیح عقائد رکھنے والے اور نماز، زکوٰۃ، صدقات کے عامل، صبر کے عادی، وعدے کے پابند اور نیک اعمال کرنے والے ہی اپنےدعوی ایمان میں کامل طور پرسچے ہیں جو کفر اور دیگرتمام گناہوں سے بچنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے ایمان کا دعویٰ پرکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

15/05/2026

اللہ کی محبت کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ کو کس طرح اور کن کن تسبیحات کے ذریعے پکا کیا جا سکتا ہے
پروفیسر صاحب: خدا اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں تفریق اور جدائی ہو ہی نہیں سکتی. کسی pattern میں نہیں ہو سکتی۔
حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ حاضر ہوئے حضورِگرامیﷺ کی خدمت میں۔ پوچھا
"اے کعب! کیا پڑھتے ہو۔"
فرمایا "یارسول اللہ ﷺ میں یہ، یہ اور یہ تسبیحات پڑھتاہوں۔"
فرمایا: "کعب! درود پڑھا کرو مجھ پہ۔"
فرمایا: "یا رسول اللہﷺ ایک تہائی کرلوں۔"
آپ ﷺ نےفرمایا: "کعب! اور پڑھا کرو۔"
فرمایا: "یا رسول اللہ ﷺ نصف کردوں۔"
فرمایا حضور اکرم ﷺنے: "اور پڑھ لو."
فرمایا کعب نے "یا رسول اللہﷺ میں درود ہی نہ پڑھا کروں۔"
فرمایا: "کفایت کرے گا"
تو درود کی فضیلت یہ ہے کہ یہ تسبیحِ تسبیحات ہے اور درود کا اصل مطلب جو ہے وہ یاد ہے۔۔۔۔ محبت کی یاد۔۔۔۔ اور یہ جو آپ دیکھتے ہو کہ اللہ اور اس کے ملائکہ کا رسول اللہﷺ پر درود بھیجتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے ملائکہ محمدﷺ کو یاد کرتے ہیں۔ سو آپ بھی اپنے رسول اللہﷺ کو یاد کرو۔ ادھر اللہ نے اپنے بارے میں حکم دیا:
فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠(۱۵۲)
(تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکرادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو)
ایک اللہ کے ولی سے کسی نے پوچھا کہ یار! یہ جو طویل اور بے ہنگم قسم کی تسبیح تم لیے پھرتے ہو تو کیا خدا بھی تم کو یاد کرتا ہے کہ نہیں۔ تو اس نے کہا کہ اے جاہلِ مطلق! میں اللہ کے وعدے پر اعتبار نہ کروں اور تیری بات پر کروں۔ جب وہ قرآن پاک میں کہتا ہے کہ جو مجھے یاد کرتا ہے میں اسے ضرور یاد کرتا ہوں۔ میری یاد تو ناقص ہے، فضول سی ہے، لذاتِ دنیا میں، ہزار interests میں الجھی ہوئی یاد ہے۔ لیکن جب اللہ مجھے یاد کرے گا تو یقیناً میری ذات کے اندر اور باہر ضرور اس کا بےپناہ فرق پڑے گا۔ جب وہ مجھے یاد کرے گا تو میں اپنے آپ پر ناز کرنے کے قابل ہوں گا اور محمد رسول اللہﷺ کی یاد، اور اللہ کی یاد، یہ درود میں آکر مکمل ہوجاتی ہے۔ لوگ یہ درود پڑھتے ہیں "صلی اللہ علیہ وسلم" یہ ناقص ہے جن بزرگوں نے یہ تلقین کیا ان کو مطلب سمجھ نہیں آیا۔ درود کا تو مطلب ہی بیک وقت اللہ اور رسولﷺ کے نام کی تلاوت کرنا ہے۔
"اللھم صلی علی محمد" تو جوں جوں یہ درود پڑھا جائے گا، اللہ کا اسمِ گرامی آپ کی زبان پر آئے گا۔
محمد رسول اللہ ﷺ کا اسمِ گرامی مبارک آپ کی زبان پر آئے گا اور حضورﷺ فرماتے ہیں، جس نے میرا نام لیا اور مجھ پر سلام نہ پڑھا وہ بخیل ہے۔ اب دیکھئے! درود پڑھنے والا بخیل کیسے ہو سکتا ہے؟ فطرتِ انسان کو بدل دے گا درود۔ رحمتِ کبریا اس کے شاملِ حال ہوگی۔ رحمت اللعالمین کی دعا ان کے شریک ہوگی۔ البتہ تسبیحات میں ہم اس کی تلقین کم کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر تسبیح کے خلاف ایک Mechanism کھڑا ہوتا ہے۔ جیسے "رحمان" کے خلاف غضب کھڑا ہے۔ جیسے "شکور حلیم" کے خلاف "احضرت الا نفس الشح" کھڑی ہے۔ اسی طرح درود پاک کے خلاف بعض اوقات انسانی ذہن میں Sacrilege کے خیالات ابھرتے ہیں اور ایک عام انسان جس کا اچھا ذہن نہیں ہے تو درود پڑھتے ہوئے وہ Guilt کا شکار ہو جاتا ہے۔ تو درود آخری تسبیح ہے اور اللہ کی یاد میں اس کو ایک معتبر ترین مقام حاصل ہے اور محبتِ خداو رسولﷺ دونوں کے لئے درود کافی ہے۔

Peman e Azal
Page #633
اللہ کی محبت کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ کو کس طرح اور کن کن تسبیحات کے ذریعے پکا کیا جا سکتا ہے

15/05/2026

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
*🍁فہم القران🍁*
سورۃ نمبر 3 آل عمران
آیت نمبر 145

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

*📖وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَ مَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡيَا نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ۚ وَمَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الۡاٰخِرَةِ نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ؕ وَسَنَجۡزِى الشّٰكِرِيۡنَ ۞*

*▪️ترجمہ:*
اللہ تعالیٰ کے حکم کے سوا کوئی جاندار نہیں مر سکتا مقرر شدہ وقت لکھا ہوا ہے۔ دنیا چاہنے والے کو ہم دنیا دیتے ہیں اور آخرت کا ثواب چاہنے والے کو ہم آخرت کا ثواب دیں گے اور شکر گزاروں کو ہم بہت جلد بدلہ دیں گے
******************************************
*✒️تفسیر:*
ربط کلام : رسول اللہ ﷺ کی موت کا اشارہ دے کر ہر کسی کا مرنا یقینی بتلایا ہے اور حوصلہ دیا ہے کہ موت سے ڈرنا اور موت کی وجہ سے نیکی کے کام اور جہاد سے پیچھے ہٹنا گناہ ہے۔
موت ایسی حقیقت ہے کہ اس سے کوئی شخص محفوظ نہیں۔ موت کا وقت اور اس کی جگہ کا تعین کردیا گیا ہے۔ کوئی ذی روح اس ضابطے سے بچ نہیں سکتا۔ جب موت یقینی ‘ اس کا وقت مقرر اور اس کی جگہ متعین کردی گئی ہے تو اس سے ڈرنے کا کیا مطلب ؟ اسلام نے موت کا تصور اس انداز میں پیش کیا ہے کہ جس سے انسان میں بیک وقت شجاعت اور احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان جان لے کہ اس نے مر کر ملیا میٹ نہیں ہونا بلکہ اپنے ایک ایک عمل کا اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا ہے۔ موت پر یقین محکم ہو تو آدمی گھمسان کے رن میں اتر کر بھی خوف زدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کی موت کا دن اور جگہ متعین ہے۔ اسی جذبہ کے پیش نظر مجاہد تلوار کی دھار ‘ نیزے کی نوک کے سامنے اور توپ کے برستے ہوئے گولوں میں مسکرایا کرتا ہے۔ وہ موت کو سامنے آتے ہوئے دیکھ کر کترانے کی بجائے اس سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے یقین کامل ہے کہ موت ہر وقت اور ہر جگہ نہیں آسکتی۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَنَّہٗ قَالَ مِنْ خَیْرِ مَعَاش النَّاسِ لَھُمْ رَجُلٌ مُمْسِکٌ عِنَانَ فَرَسِہٖ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَطِیْرُ عَلٰی مَتْنِہٖ کُلَّمَا سَمِعَ ھَیْعَۃً أَوْ فَزْعَۃً طَارَ عَلَیْہِ یَبْتَغِی الْمَوْتَ وَالْقَتْلَ مَظَانَّہٗ أَوْ رَجُلٌ فِيْ غَنِیْمَۃٍ فِيْ رَأْسِ شَعَفَۃٍ مِنْ ھٰذِہِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ ھٰذِہِ الْأَوْدِیَۃِ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤتِيَ الزَّکٰوۃَ وَیَعْبُدُ رَبَّہٗ حَتّٰی یَأْتِیَۃُ الْیَقِیْنُ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِيْ خَیْرٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الأمارۃ، باب فضل الجھاد والرباط ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر زندگی اس آدمی کی ہے جو جہاد میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے اس کی پیٹھ پر اڑتا پھرتا ہے جب بھی کوئی شور یا ہنگامہ سنتا ہے تو وہ اس پر اڑتا ہواپہنچتا ہے موت اور قتل کی جگہوں کو تلاش کرتا ہے یا وہ آدمی سب سے بہتر زندگی والا ہے جو پہاڑ کی چوٹیوں میں کسی چوٹی یا وادیوں میں سے کسی وادی میں اپنی بکریوں کے ساتھ رہتا ہے۔ وہاں نماز پڑھتا ‘ زکوٰۃ ادا کرتا اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہتا ہے وہ لوگوں میں بہترین آدمی ہے۔ “
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کا چچا غزؤہ بدر میں حاضر نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ میں نبی کریم ﷺ کی پہلی جنگ میں غیر حاضر تھا اگر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیسی بہادری کے ساتھ لڑتا ہوں۔ غزوۂ احد کے موقع پر جب مسلمانوں کی جماعت میں افراتفری پھیلی تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں اس معاملہ میں معذرت کرتا ہوں جو مسلمانوں نے کیا اور میں مشرکین کے مسلمانوں پر غلبہ پانے سے تیرے حضور برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھے تو سعد بن معاذ کو ملے۔ کہنے لگے اے سعد ! کہاں جا رہے ہو ؟ میں تواحد کی دوسری طرف جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ پھر وہ آگے بڑھے اور شہید ہوگئے۔ پہچانے نہ گئے یہاں تک کہ میں نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے ان کی لاش کو پہچانا۔ ان کے جسم پر نیزہ ‘ تیر اور تلوار کے 80 سے اوپر زخم آئے تھے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ أحد ]
حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنی وفات کے وقت مدینے کے نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہی فلسفہ بیان کیا تھا کہ آج تم موت سے ڈرتے اور کتراتے ہو میری طرف دیکھو کہ میرے جسم پر درجنوں نشانات ہیں اور میں ہمیشہ میدان جنگ میں ہر اول دستہ کے طور پر لڑتا رہا ہوں لیکن افسوس ! مجھے شہادت نصیب نہیں ہوئی۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں نمناک ہوگئیں اور ہونٹ کانپنے لگے۔ تب ایک بزرگ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو رسول معظم ﷺ نے ” سیف من سیوف اللّٰہ “ کا خطاب دیا تھا اگر یہ تلوار ک فار کے ہاتھوں ٹوٹ جاتی تو رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر آنچ اور اسلام کے لیے آپ کی موت طعنہ بن جاتی۔ ک فار کہتے کہ ہم نے اللہ کی تلوار توڑ دی ہے۔ (سیرت خالد بن ولید ؓ
******************************************
*✒️مسائل*
1۔ کوئی ذی روح اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں مرتا۔ 2۔ ہر کسی کے لیے موت کا دن اور جگہ مقرر ہے۔
3۔ دنیا چاہنے والے کو دنیا اور آخرت چاہنے والے کو اللہ تعالیٰ آخرت کا اجر دیں گے۔

*✒️تفسیر بالقرآن*
دنیا اور آخرت کے طلب گار میں فرق :
1۔ دنیا دار صرف دنیا طلب کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 220) 2۔ نیکو کار دنیا وآخرت کی اچھائی چاہتے ہیں۔ (البقرۃ : 201)
3۔ دنیا چاہنے والوں کو دنیا اور آخرت چاہنے والوں کو آخرت ملتی ہے۔ (آل عمران : 145)
4۔ دنیا کی زیب وزینت عارضی اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (الکہف : 46)
******************************************
۔۔۔ جاری ان شااللہ

15/05/2026

لوگ سمجھتے ہیں کہ فرعون صرف ایک بادشاہ تھا لیکن قرآن پڑھو تو محسوس ہوتا ہے کہ فرعون دراصل ایک نفسیاتی نظام تھا قرآن نے اس کی سب سے بڑی طاقت فوج خزانہ یا محل نہیں بتایا بلکہ ایک جملے میں پوری حقیقت کھول دی فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ یعنی اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا پھر وہ اس کے فرمانبردار بن گئے غور کریں دوستوں قرآن یہ نہیں کہتا کہ اس نے سب کو زنجیروں میں جکڑا بلکہ ان کی سوچ کو کمزور کیا جب انسان کی سوچ مر جائے تو وہ خود ہی اپنی غلامی کا محافظ بن جاتا ہے۔
پھر وہ ہر بات پر تالیاں بجاتا ہے ہر ظلم کو مصلحت سمجھتا ہے ہر جھوٹ کو حکمت مان لیتا ہے اور سوال کرنے والے کو گستاخ یا باغی کہنے لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن فرعون کی کہانی کو صرف تاریخ کے طور پر نہیں سناتا بلکہ انسانی نفسیات کی سب سے خطرناک بیماری دکھاتا ہے دنیا میں سب سے طاقتور انسان وہ نہیں جس کے پاس ایٹم بم ہوں بلکہ وہ ہے جو لوگوں کے دماغوں کا رخ موڑ دے جب قومیں دلیل چھوڑ کر شخصیتوں کی پوجا شروع کر دیں تو وہاں سوچنے والے کم اور اندھی تقلید کرنے والے زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ اج یہی کام بہت سے مولوی، پیر، اور مذہبی ٹھیکیدار بھی کر رہے ہیں وہ لوگوں کو قرآن پر غور کرنے کے بجائے اپنی شخصیتوں کا قیدی بنا دیتے ہیں عوام کو اس طرح تربیت دی جاتی ہے کہ سوال کرنا بے ادبی لگے تحقیق کرنا گناہ لگے اور اختلاف کرنا دین سے بغاوت محسوس ہو یوں انسان اللہ کی کتاب سے زیادہ انسانوں کے فتووں سے ڈرنے لگتا ہے شاید اسی لیے قرآن بار بار عقل، تدبر اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کیونکہ اللہ کو غلام نہیں، شعور رکھنے والے انسان چاہییں۔

:نبی کریم ﷺپر درود بھیجنے کے 63 فوائدثَلَاثَۃٌ وَّ سِتُّوْنَ فَوَائِدٌ مِّنْ فَوَائِدِالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ(1) ا...
15/05/2026

:نبی کریم ﷺپر درود بھیجنے کے 63 فوائد

ثَلَاثَۃٌ وَّ سِتُّوْنَ فَوَائِدٌ مِّنْ فَوَائِدِالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ
(1) اِمْتِثَالُ اَمْرِ اللّهِ سُبْحَانَهٗ وَتَعَالَى۔
نبی کریمﷺ پر درود بھیجنے کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔
(2) مُوَافَقَتُهٗ سُبْحَانَهٗ وَتَعَالٰى فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ وَاِنِ اخْتَلَفَتِ الصَّلَاتَانِ فَصَلَاتُنَا عَلَيْهِ دُعَاءٌ وَسُؤَالٌ ،وَصَلَاةُ اللّهِ تَعَالٰى عَلَيْهِ ثَنَاءٌ وَتَشْرِيْفٌ۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کےدرود میں موافقت ہوتی ہے، اگرچہ دونوں کا درود مختلف ہوتا ہے، کیونکہ ہمارا درود سوال اور دعاء ہے، اور اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا درود ثناء اور تشریف ہے۔
(3) مُوَافَقَةُ مَلَائِكَتِهٖ فِيْهَا۔
فرشتوںکے درود میں موافقت ہوتی ہے۔
(4) حُصُوْلُ عَشَرَ صَلَوَاتٍ مِّنَ اللّهِ عَلَى الْمُصَلِّيْ مَرَّةً۔
ایک بار درود پڑھنے سے اللہ کی طرف سے درود پڑھنے والے کو دس رحمتیں حاصل ہوتی ہیں۔
(5) اَنَّهٗ يُرْفَعُ لَهٗ عَشَرَ دَرَجَاتٍ ۔
بے شک درودپڑھنے والے کےدس درجے بلند کیے جاتے ہیں۔
(6) اَنَّهٗ يُكْتَبُ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ۔
بے شک درودپڑھنے والے کےلیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
(7) اَنَّهٗ يُمْحٰى عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ۔
بے شک درودپڑھنے والے کےدس گناہ معاف کیےجاتے ہیں۔
(8) اَنَّهٗ يُرْجٰى اِجَابَةُ دُعَائِهٖ اِذَا قَدَّمَهَا اَمَامَهٗ فَهِيَ تَصَاعَدُ الدُّعَاءَ اِلٰى عِنْدِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَكَانَ مَوْقُوفًا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ قَبْلَهَا۔
امید ہے کہ اس کی دعا قبول ہوگی اگر درود پاک اپنی دعا ءکے شروع میں رکھے، کیونکہ درود پاک دعاکو آسمان کی طرف بلند کرتا ہے اور اس سے پہلے دعا آسمان اور زمین کے درمیان روک لی جاتی ہے۔
(9) اَنَّهَا سَبَبُ الْغُفْرَانِ الذُّنُوْبِ۔
بے شک درود پاک یہ گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔
(10) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّكِفَايَةِ اللّهِ الْعَبْدَ مَا اَهَمَّهٗ مِنْ اَنْوَاعِ الْكُرُوْبِ ۔
اللہ کی طرف سے بندے کےلیے کفایت کا سبب ہے جو اسے مختلف اقسام کی پریشانیاں آتی ہیں۔
(11) اَنَّهَا سَبَبُ الْقُرْبِ الْعَبْدِ مِنْهُ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۔
بے شک درود پاک قیامت کے دن نبی ﷺ کے قریب ہونے کا سبب ہے۔
(12) اَنَّهَا تَقُوْمُ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِّذِي الْعُسْرَةِ ۔
بے شک درود پاک تنگ دست کے لیے صدقہ کے قائم مقام ہے۔
(13) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّقَضَاءِ الْحَوَائِجِ عَلَيْهِ ۔
بے شک درود شریف پڑھنے والے کی حاجت روائی کا سبب ہے۔
(14) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّصَلَاةِ اللّهِ عَلَى الْمُصَلِّيْ وَصَلَاةِ مَلَائِكَتِهٖ۔
بے شک درودپاک پڑھنے والےپر اللہ تعالیٰ جل جلالہ اوراس کے فرشتوں کے درود کا سبب ہے۔
(15) اَنَّهَا زَكَاةٌ لِّلْمُصَلِّيْ وَطَهَارَةٌ لَّهُ۔
درود پاک پڑھنے والے کے لیے پاکیزگی اور طہارت کا سبب ہے۔
(16) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّتَبْشِيْرِ الْعَبْدِ بِالْجَنَّةِ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۔
یہ بندے کو موت سے پہلے جنت کی بشارت ملنے کا سبب ہے۔
(17) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّلنَّجَاةِ مِنْ اَهْوَالِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۔
درود پاک قیامت کی ہولناکیوں سے نجات کا سبب ہے۔
(18) اَنَّهَا سَبَبٌ لِرَدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى الْمُصَلِّيْ وَالْمُسَلِّمْ عَلَيْهِ۔
درود پاک نبی کریمﷺ کی دعاء اور سلام کے جواب کا سبب ہے جو پڑھنےوالے کو حاصل ہوتاہے۔
( 19) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّطِيْبِ الْمَجْلِسِ وَاَنْ لَّا يَعُوْدَ حَسْرَةً عَلٰى اَهْلِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
یہ مجلس کی پاکیزگی کا سبب ہے اور اہل مجلس کے لیے قیامت کے دن حسرت کا سبب نہیں بنے گی۔
(20) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّتَذْكِرَةِ الْعَبْدِ مَا نَسِيَهٗ. ذَكَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ ۔
درودپاک بندے کو بھولی ہوئی چیز یاد دلانے کا سبب ہے، جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے۔
(21) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّنَفْيِ الْفَقْرِ۔
درود پاک فقر کو دور کرنے کا سبب ہے۔
(22) اَنَّهَا تَنْفِيْ عَنِ الْعَبْدِ اسْمَ الْبُخْلِ اِذَا صَلّٰى عَلَيْهِ عِنْدَذِكْرِهٖ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهٖ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ۔
درود پاک بندے کو بخیل کے نام سے بچاتا ہے جب وہ آپ ﷺ پر درود پاک پڑھے۔
(23) نَجَاتِهٖ مِنَ الدُّعَاءِ عَلَيْهِ بِرَغْمِ الْاَنْفِ اِذَا تَرَكَهَا عِنْدَ ذِكْرِهٖ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهٖ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ۔
نبی کریمﷺ کے ذکر کے وقت آپ ﷺپر درود نہ پڑھنے پر ہلاکت کی دعا سے بچنےکا سبب ہے۔
(24) اَنَّهَا تُرْمِيْ صَاحِبَهَا عَلٰى طَرِيْقِ الْجَنَّةِ وَتُخْطِئُ بِتَارِكِهَا۔
درود پاک پڑھنے والے کو جنت کے راستے پرلانے کا سبب ہے اورنہ پڑھنے والے جنت کا راستہ بھول جائے گا۔
(25) اَنَّهَا تُنْجِيْ مِنْ نَتْنِ الْمَجْلِسِ الَّذِيْ لَا يُذْكَرُ فِيْهِ اللّهُ وَرَسُوْلُهٗ وَيُحْمَدُ وَيُثْنٰى عَلَيْهِ وَيُصَلّٰى عَلٰى رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ۔
درود پاک ایسی مجلس سے نجات کا سبب ہے جس میں اللہ تعالیٰ جل جلالہ اور اس کے رسول ﷺکا ذکر نہیں کیاجاتااور نہ ہی اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی حمد و ثناءکی جاتی ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺپر درود پڑھا جاتا ہے ۔
(26) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّتَمَامِ الْكَلَامِ الَّذِي ابْتَدِئَ بِحَمْدِ اللّهِ وَالصَّلَاةِ عَلٰى رَسُوْلِهٖ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ۔
یہ اس کلام کے مکمل ہونے کا سبب ہے جس کا آغاز اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی حمد اور رسول اللہ ﷺ پر درودسے ہوا ہو۔
(27) اَنَّهَا سَبَبٌ لِوُفُوْرِ نُوْرِ الْعَبْدِ عَلَى الصِّرَاطِ۔
درود پاک بندے کوپل صراط پر کثیر نور حاصل ہونے کا سبب ہے۔
(28) اَنَّهٗ يَخْرُجُ بِهَا الْعَبْدُ عَنِ الْجَفَاءِ ۔
درود پاک بندے کو جفا سے نکالتا ہے۔
(29) اَنَّهَا سَبَبٌ لِاِبْقَاءِ اللّهِ سُبْحَانَهٗ وَتَعَالَى الثَّنَاءِ الْحَسَنِ لِلْمُصَلِّي عَلَيْهِ بَيْنَ اَهْلِ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ۔
یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے درود پڑھنے والے کے لیے آسمان اور زمین والوں کے درمیا ن تعریف کا سبب ہے۔
( 30) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّلْبَرَكَةِ فِيْ ذَاتِ الْمُصَلِّي وَعَمَلِهٖ وَعُمُرِهٖ وَاَسْبَابِ مَصَالِحِہٖ
یہ پڑھنے والے کے لیے اُس کی ذات، عمل ،عمر اور اسباب مصالحت میں برکت کا سبب ہے ۔
(31) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّنَيْلِ رَحْمَةِ اللّهِ لَهٗ ۔
یہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی رحمت کے حصول کا سبب ہے۔
(32) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّدَوَامِ مُحَبَّةِ الْمُصَلِّيْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ وَزِيَادَتِهَا وَتَضَاعُفِهَا ، وَذٰلِكَ عَقْدٌ مِنْ عُقُوْدِ الْاِيْمَانِ الَّتِيْ لَا يَتِمُّ الْاِيْمَانُ اِلَّا بِهَا۔
درود پاک پڑھنے والے کی محبت رسولﷺ کے دوام کا سبب ہے اور اس میںمسلسل ترقی و اضافہ ہوتا ہے، جو ایمان کے عہود میں سے ایک عہدہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔
(33) اِنَّ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ سَبَبُ الْمَحَبَّةِ لِلْعَبْدِ۔
نبی کریمﷺ پر درود پڑھنابندے کی محبت کا سبب ہے۔
(34) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّھِدَایَۃَ الْعَبْدِ وَحَيَاةِ قَلْبِهٖ۔
بے شک درود پاک بندے کی ہدایت اور حیاتِ دل کا سبب ہے۔
(35) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّعَرْضِ اسْمِ الْمُصَلِّيْ عَلَيْهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ وَ ذِكْرِهٖ عِنْدَهٗ۔
درودپاک اپنےپڑھنے والے کا نام نبی کریمﷺ کے سامنے پیش کیےجانےکا سبب ہے۔
( 36) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّثَبِيْتِ الْقَدَمِ عَلَى الصِّرَاطِ وَالْجَوَازِ عَلَيْهِ ۔
درودپاک پل صراط پر ثابت قدم رہنے اور اس پر سےسلامتی کے ساتھ گزرنے کاسبب ہے۔
(37) اَنَّ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ اَدَاءٌ لِلْاَقَلِّ الْقَلِيْلِ مِنْ حَقِّهٖ وَشُكْرًا لَّهٗ عَلٰى نِعْمِهِ الَّتِيْ اَنْعَمَ اللّهُ بِهَا عَلَيْنَا مَعَ اَنَّ الَّذِيْ يَسْتَحِقُّ مِنْ ذٰلِكَ لَا يُحْصِيْهِ عِلْمُهٗ وَلَا قُدْرَتُهٗ وَلَا اِرَادَةُ وَلٰكِنَّ اللّهَ سُبْحَانَهٗ لِكَرَمِهٖ رَضِيَ مِنْ عِبَادِهٖ بِالْيَسِيْرِ مِنْ شُكْرِهٖ وَاَدَاءِ حَقِّهٖ۔
نبی ﷺ پر درود بھیجنا آپ کے حقوق میں سے تھوڑی سی ادائیگی ہے اور اُن نعمتوں کا شکر ہے جو اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے ہم پر کی ہیں، حالانکہ اس کا حق ادا کرنا نہ علم کے بس میں ہے، نہ قدرت کے بس میں ہے اور نہ ارادے کے بس میں ہے، لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے محض اپنے فضل وکرم سے اپنے بندوں سے تھوڑا سا شکر اور حق ادا کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔
(38) اَنَّهَا مُتَضَمِّنَةٌ لِّذِكْرِ اللّهِ وَشُكْرِهٖ وَمَعْرِفَةِ اِنْعَامِهٖ عَلٰى عِبَادِهٖ بِاِرْسَالِهٖ۔
درود پاک اللہ کے ذکر، شکر اوراپنے بندوں پر اس کی نعمتوں کی معرفت کا سبب ہے۔
(39) اَنَّهَا تَحُلُّ مَحَلَّ الشَّيْخِ ۔
درود پاک پڑھنے والا بزرگی کامقام حاصل کرلیتا ہے۔
(40)اَنَّهَا تَثْمَرُ مَحَبَّتَهٗ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ فِيْ۔
یہ نبی کریمﷺ کی محبت کو ثابت اور مستحکم کرنے کا سبب ہے۔
(41) اِنْطِبَاعِ صُوْرَتِهِ الْكَرِيْمَةِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ فِي النَّفْسِ انْطِبَاعًا ثَابِتًا مُتَاَصِّلًا مُتَّصِلًا۔
درود پاک پڑھنے سے نبی کریم ﷺ کاحلیہ مبارک اور صورت کریمہ دل میں مسلسل نقش اور ثابت ہوجاتی ہے۔
(42) اَنَّهَا دُعَاءٌ مِّنَ الْعَبْدِ۔
یہ بندے کی طرف سے دعا ہے ۔
(43) اَنَّهٗ يَحْصُلُ بِهَا قُرَّةُ الْعَيْنِ لَهٗ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ وَكَذَا لِلْمُصَلِّي۔
درود پاک نبی کریمﷺ کی مبارک آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور اسی طرح پڑھنے والے کی بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
(44) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّبُلُوْغِ الْمَآرِبِ وَنَيْلِ الْمَطَالِبِ وَقَضَاءِ الْحَاجَةِ فِي الْحَيَاةِ وَبَعْدَ الْمَمَاتِ۔
یہ زندگی میںاور وفات کے بعد بھی مقاصد و ضروریات تک پہنچنے اور مطلوب حاصل کرنے اور حاجت روائی کا سبب ہے۔
(45) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّغُشْيَانِ الرَّحْمَةِ وَمَا اَجَلَّ ذٰلِكَ مِنْ نِعْمَةٍ۔
درود پاک رحمت الٰہی میں غوطہ زن ہونے کا سبب ہےتو اس سے بڑی نعمت کیا ہوگی ۔
(46) اَنَّهَا تُوْجِبُ الْاَمَانَ مِنْ سَخَطِ اللّهِ تَعَالٰى۔
درودپاک اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے غضب سے امان کا سبب ہے۔
(47) اَنَّهَا تُزَيِّنُ الْمَجْلِسَ ۔
یہ مجلس کو زینت دینے کا سبب ہے۔
(48) اَنَّهَا تُطَهِّرُ الْقَلْبَ مِنَ النِّفَاقِ وَالصَّدَأَ ۔
یہ قلب کو نفاق اورگناہوں کے زنگ سے پاک کرنے کا سبب ہے۔
(49) اَنَّهَا تُوْجِبُ مُحَبَّةَ النَّاسِ وَرُؤْيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ وَتَمْنَعُ مِنْ اغْتِيَابِ صَاحِبِهَا۔
درودپاک لوگوں کی محبت کاموجب ہے اور خواب میںنبی کریم ﷺ کی زیارت کا سبب ہے اور پڑھنے والے کو غیبت سے روکتاہے۔
(50) اَنَّهَا تَنْفَعُ الْمُصَلِّيْ وَوَلَدَهٗ وَوَلَدَ وَلَدِهٖ۔
بے شک درود پاک پڑھنے والے کو ، اس کی اولاد کو اور اس کی اولاد کی اولادکو بھی نفع دیتا ہے۔
(51) اَنَّهَا يُكْتَبُ لَهٗ قِيْرَاطٌ مِّثْلُ اُحُدٍ مِّنَ الْاَجْرِ۔
بے شک درود پڑھنے والے کے لیے ایک قیراط یعنہ اُحدپہاڑ کے برابر اجر لکھا جاتا ہے۔
(52) اَنَّهَا لَمْحَقِ الْخَطَايَا وَاَنَّهَا اَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الرِّقَابِ.
بےشک درود پاک گناہوں کو مٹاتا ہے اورتحقیق یہ غلام آزاد کرنے سے بھی افضل ہے ۔
(53) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّشَفَاعَتِهٖ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ اِذَا قَرَنَهَا بِسُؤَالِ الْوَسِيْلَةِ لَهٗ اَوْ اَفْرَدَهَا۔
بے شک درود پاک نبی کریمﷺ کی شفاعت کا سبب ہے اگر اسے اپنی دعاء وسیلہ بنایا جائےیا اکیلا پڑھاجائے۔
(54) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّرُؤْيَةِ الْمُصَلِّي عَلَيْهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ فِيْ مَنَامِهٖ۔
بے شک درود پاک خواب میں نبی کریمﷺ کے دیدارپرانوار کا سبب ہے۔
(55) اَنَّهٗ يَرٰى مَقْعَدَهٗ مِنَ الْجَنَّةِ قَبْلَ الْمَوْتِ۔
بے شک درود پڑھنے والا موت سے قبل جنت میں اپنا مقام دیکھ لے گا۔
(56) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّلدُّخُوْلِ تَحْتَ ظِلِّ الْعَرْشِ۔
بے شک یہ پڑھنے والے کے لیے عرش کےسائے میں داخل ہونے کا ذریعہ ہے ۔
( 57) اَنَّهٗ يُلْقَى اللّهُ وَهُوَ رَاضٍ عَنْهُ۔
بےشک درودپڑھنےوالےسےاللہ تعالیٰ جل جلالہ یوںملاقات فرمائے گا کہ وہ اُس سے راضی ہو گا ۔
( 58) اَنَّهَا سَبَبٌ لِّرُجْحَانِ الْمِيْزَانِ۔
درود پاک میزان کی طرف توجہ دینے کا سبب ہے۔
(59) وَمِنْهَا : وُرُوْدُ الْحَوْضِ۔
بے شک درود پاک حوض کوثر پر حاضر ہونےکا وسیلہ ہے ۔
( 60) اَلْاَمَانُ مِنَ الْعَطَشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
بے شک درود پاک قیامت کے دن پیاس سے بچنے کا سبب ہے ۔
(61) اَلْجَوَازُ عَلَى الصِّرَاطِ۔
یہ پل صراط سے گزرنے کا پروانہ ہے ۔
(62) كَثْرَةُ الْاَزْوَاجِ فِي الْجَنَّةِ ۔
اس کے وسیلہ سے جنت میں متعدد پاک بیویاں ملیں گی ۔(حوریں)
(63) اَنَّ الْمُكْثِرِيْنَ مِنْهَا اَوْلَى النَّاسِ بِهٖ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ اَيْ اَقْرَبُهُمْ مِنْهُ فِي الْقِيَامَةِ-
بے شک کثرت سے درود پاک پڑھنے والے قیامت کے دن نبی کریمﷺ کےسب سے زیادہ قریب ہوں گے ۔‘‘

Address

Mohala Qabool WALA
Lodhran

Telephone

+923055450786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MALIK Sajid Islamic videos page posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MALIK Sajid Islamic videos page:

Share