Qazi shaheen Moon

Qazi shaheen Moon Qazi shab

06/01/2025

My best..😘
𝐏𝐚𝐭𝐡𝐢𝐯𝐚𝐫𝐚 𝐓𝐨𝐮𝐫 𝐏𝐚𝐜𝐤𝐚𝐠𝐞 𝟒𝐍/𝟓𝐃 9829807653855 -809746560587
@17000𝐩𝐞𝐫 𝐏𝐞𝐫𝐬𝐨𝐧 𝐁𝐲 𝐉𝐞𝐞𝐩
@12000 𝐩𝐞𝐫 𝐩𝐞𝐫𝐬𝐨𝐧 𝐛𝐲 𝐁𝐮𝐬
𝐃𝐚𝐲 𝟏: 𝐊𝐚𝐭𝐡𝐦𝐚𝐧𝐝𝐮 𝐭𝐨 𝐁𝐢𝐫𝐭𝐚𝐦𝐨𝐝𝐡
* Depart early in the morning from your location via Sindhuli BP Highway.
* Have lunch on the way.
* Explore the Terai road.
* Stay at Birtamodh.
* Have dinner at the hotel.
𝐃𝐚𝐲 𝟐: 𝐁𝐢𝐫𝐭𝐚𝐦𝐨𝐝𝐡 𝐭𝐨 𝐓𝐚𝐩𝐥𝐞𝐣𝐮𝐧𝐠
* Have an early morning breakfast at the hotel and head towards Taplejung.
* Enjoy the journey with sightseeing opportunities.
* Explore the ways of Taplejung.
* Have lunch on the way.
* Stay at Taplejung.
* Have dinner at the hotel.
𝐃𝐚𝐲 𝟑: 𝐓𝐚𝐩𝐥𝐞𝐣𝐮𝐧𝐠 𝐭𝐨 𝐓𝐡𝐮𝐥𝐨𝐩𝐡𝐞𝐝𝐢 – 𝐏𝐚𝐭𝐡𝐢𝐯𝐚𝐫𝐚
* Take a jeep to Thulofedi early in the morning (self-cost for jeep, which is 400 for going and 400 for coming back).
* Trek about 5km from Thulofedi towards Pathivara.
* After visiting Pathivara, return back to the hotel.
* Have dinner at the hotel.
* Stay at the hotel.
𝐃𝐚𝐲 𝟒: 𝐓𝐚𝐩𝐥𝐞𝐣𝐮𝐧𝐠 𝐭𝐨 𝐊𝐚𝐧𝐲𝐚𝐦
* Have an early morning breakfast at the hotel.
* Have lunch on the way.
* Explore Kanyam and the Ilam District.
* Have dinner at the hotel.
* Stay at Kanyam.
𝐃𝐚𝐲 𝟓: 𝐊𝐚𝐧𝐲𝐚𝐦 𝐭𝐨 𝐊𝐚𝐭𝐡𝐦𝐚𝐧𝐝𝐮
* Have breakfast at the hotel.
* Head back to Kathmandu.
* Have lunch on the way.
* Reached Kathmandu
𝐏𝐚𝐜𝐤𝐚𝐠𝐞 𝐈𝐧𝐜𝐥𝐮𝐝𝐞 :-
✅ Lunch
✅ Dinner
✅ Breakfast
✅ Room Accommodation ( sharing Basis)
✅ Transportation ( bus or jeep as per your preference)
𝐍𝐨𝐭 𝐈𝐧𝐜𝐥𝐮𝐝𝐞𝐝 𝐢𝐧 𝐏𝐚𝐜𝐤𝐚𝐠𝐞 😕
𝐏𝐚𝐜𝐤𝐚𝐠𝐞 𝐧𝐨𝐭 𝐈𝐧𝐜𝐥𝐮𝐝𝐞𝐝
❌ Snacks & cuisines
❌ Drinking beverages (Beer, Mineral Water)
❌ Personal expenses
❌ Travel Insurance
❌ Overstay due to any natural calamities/strikes
𝐅𝐨𝐫 𝐦𝐨𝐫𝐞 𝐨𝐫 𝐁𝐨𝐨𝐤𝐢𝐧𝐠 𝐂𝐨𝐧𝐭𝐚𝐜𝐭 : 097980-7653855
𝐒𝐚𝐧𝐬𝐡𝐫𝐞𝐞 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐓𝐫𝐚𝐯𝐞𝐥 𝐀𝐧𝐝 𝐓𝐨𝐮𝐫𝐬 (𝐏𝐯𝐭. 𝐋𝐭𝐝.) 𝐊𝐚𝐭𝐡𝐦𝐚𝐧𝐝𝐮
Note: School

06/01/2025
08/07/2024

‏بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں چلتے دیکھا تو کمہار سے پوچھا، "تم انہیں کس طرح سیدھا رکھتے ہو؟"
کمہار نے جواب دیا کہ "جو بھی گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں، بسی اسی خوف سے یہ سب سیدھا چلتے ہیں۔"
بادشاہ نے کہا، "کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟"
کمہار نے حامی بھر لی، بادشاہ نے اسے منصب عطا کر دیا۔ پہلے ہی دن کمہار کے سامنے ایک چوری کا مقدمہ لایا گیا۔
کمہار نے فیصلہ سنایا کہ "چور کے ہاتھ کاٹ دو۔"
جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں بولا کہ "جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔"
کمہار نے دوبارہ کہا کہ "چور کے ہاتھ کاٹ دو۔"
اس کے بعد خود وزیر نے کمہار کے کان میں سرگوشی کی کہ "جناب تھوڑا خیال کریں۔ یہ اپنا خاص آدمی ہے۔"
کمہار بولا، "چور کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں اور سفارشی کی زبان کاٹ دی جائے۔"
اور کہتے ہیں کمہار کے صرف اس ایک فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا۔
ہمارے ہاں بھی امن قائم ہو سکتا ہے مگر اس کے لیئے چوروں کے ہاتھ کاٹنا پڑیں گے اور کچھ لوگوں کی زبانیں کاٹنا پڑیں

08/07/2024

اللہ تعالیٰ نے رزق کے 16 دروازے مقرر کئے ہیں
اور اس کی چابیاں بھی بنائی ہیں۔ جس نے یہ چابیاں حاصل کر لیں وہ کبھی تنگدست نہیں رہے گا۔
۔
* پہلا دروازہ نماز ہے۔ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ان کے رزق سے برکت اٹھا دی جاتی ہے۔ وہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی پریشان رہتے ہیں۔

* دوسرا دروازہ استغفار ہے۔ جو انسان زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے توبہ کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے کبھی اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔

* تیسرا دروازہ صدقہ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے کر رہے گا، انسان جتنا دوسروں پر خرچ کرے گا اللہ اسے دس گنا بڑھا کر دے گا

* چوتھا دروازہ تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ گناہوں سے دور رہتے ہیں اللہ اس کیلئے آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں۔

* پانچواں دروازہ کثرتِ نفلی عبادت ہے۔ جو لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کرتے ہیں اللہ ان پر تنگدستی کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے اگر تو عبادت میں کثرت نہیں کرے گا تو میں تجھے دنیا کے کاموں میں الجھا دوں گا، لوگ سنتوں اور فرض پر ہی توجہ دیتے ہیں نفل چھوڑ دیتے ہیں جس سے رزق میں تنگی ہوتی ہے

٭ چھٹا دروازہ حج اور عمرہ کی کثرت کرنا ، حدیث میں آتا ہے حج اور عمرہ گناہوں اور تنگدستی کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونا چاندی کی میل دور کر دیتی ہے

٭ ساتواں دروازہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا۔ ایسے رشتہ داروں سے بھی ملتے رہنا جو آپ سے قطع تعلق ہوں۔

٭ آٹھواں دروازہ کمزوروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے۔ غریبوں کے غم بانٹنا، مشکل میں کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے

٭ نوواں دروازہ اللہ پر توکل ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھے کہ اللہ دے گا تو اسے اللہ ضرور دے گا اور جو شک کرے گا وہ پریشان ہی رہے گا

٭دسواں دروازہ شکر ادا کرنا ہے۔ انسان جتنا شکر ادا کرے گا اللہ رزق کے دروازے کھولتا چلا جائے گا

٭ گیارہواں دروازہ ہے گھر میں مسکرا کر داخل ہونا ،، مسکرا کر داخل ہونا سنت بھی ہے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ رزق بڑھا دوں گا جو شخص گھر میں داخل ہو اور درود پڑھ کر مسکرا کر سلام کرے

٭بارہواں دروازہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ہے۔ ایسے شخص پر کبھی رزق تنگ نہیں ہوتا

٭ تیرہواں دروازہ ہر وقت باوضو رہنا ہے۔ جو شخص ہر وقت نیک نیتی کیساتھ باوضو رہے تو اس کے رزق میں کمی نہیں ہوتی

٭چودہواں دروازہ چاشت کی نماز پڑھنا ہے جس سے رزق میں برکت پڑھتی ہے۔ حدیث میں ہے چاشت کی نماز رزق کو کھینچتی ہے اور تندگستی کو دور بھگاتی ہے

٭ پندرہواں دروازہ ہے روزانہ سورہ واقعہ پڑھنا ۔۔ اس سے رزق بہت بڑھتا ہے

٭ سولواں دروازہ ہے اللہ سے دعا مانگنا۔ جو شخص جتنا صدق دل سے اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کو بہت دیتا ہے

اللّه ہمیں ان سب پے اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
صلیّ اللہ علیہ وآلہِ وسلم

06/07/2024

طلاقیں کیوں ہوتی ہیں.
آپ کمال ملاحظہ کریں گجرانوالہ میں ماسٹرز کی طالبہ نے وین ڈرائیور کے ” چکر ” میں اپنے پڑھے لکھے ، محبت کرنے والے شوہر سے طلاق لے لی ۔
یہ میرے نہیں سیشن کورٹ گجرانوالہ کے الفاظ ہیں ۔
آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق محض 10 مہینوں میں 12913 خلع کے مقدمات تھے ۔ صرف ستمبر کے مہینے میں گجرانوالہ شہر میں 2385 خلع کے مقدمات آئے ۔

آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 5000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 3000 ” لو میرجز ” تھیں ۔

پاکستان کے دوسرے بڑے اور پڑھے لکھے شہر میں روزانہ اوسط 150 طلاقیں رجسٹرڈ ہوتی ہیں ۔

یہ تو دیگ کا صرف ایک دانہ ہے ۔
عرب ممالک میں طلاق و خلع کا اوسط تو کئی یورپی ممالک سے بھی گیا گذرا ہے ۔
اس سے انکار نہیں ہے کہ ان میں سے بہت سارے واقعات میں عام طور پر سسرال والوں کا لڑکی سے رویہ اور شوہر کا بیوی کو کوئی حیثیت نہ دینا بھی اصل وجوہات ہیں لیکن آپ کسی بھی دارالافتاء چلے جائیں ہفتے کی بنیاد پر سینکڑوں خطوط ہیں جو خواتین نہیں مرد حضرات لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہماری بیوی کو کسی اور کے ساتھ ” محبت ” ہوگئی ہے ۔ وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے ۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے یا بچہ بھی ہے ۔ بتائیں کیا کروں

نبی مہربانﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالی کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے “۔

ایک عالم دین نے کیا خوب فرمایا تھا ” یہ قوم اسلام پر مرنے کے لئیے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لئیے تیار نہیں ہے “۔

آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ سے لے کر والناس تک چلے جائیں ۔ آپ کو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملینگی ۔ آپ کو یہ تک نظر نہیں آئیگا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں پتہ چل پائینگی ۔

لیکن نکاح ، طلاق ، خلع ، شادی ، ازدواجی معاملات ، میاں بیوی کے تعلقات ، گھریلو ناچاقی ، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام ۔آپ کو سارا کچھ اللہ تعالی کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائیگا جس کو ہم اور آپ” چوم چوم ” کر رکھتے ہیں ۔

آپ مان لیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے ۔

یاد رکھیں اچھا اور صحت مند گھرانہ کسی اچھے مرد سے نہیں بنتا بلکہ ایک اچھی عورت کی وجہ سے بنتا ہے۔

” جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے “۔

قربانی، ایثار ، احسان، درگذر ، معافی، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں آتے ہیں ۔



خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کیا ہے ۔
الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔
محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔

گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔

سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔

پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ،بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔
یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔

مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔

لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔
بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔
خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لئیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے ۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں۔ قیامت کے دن میزان میں پہلی چیز جو تولی جائیگی وہ شوہر سے بیوی کا اور بیوی سے شوہر کا سلوک ہوگا ۔

یاد رکھیں
مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگی تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔

ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحتمند معاشرہ وجود میں آتا ہے اور یہیں اسلام کی منشاء ہے

06/07/2024

"اور زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو"

05/07/2024

طاقت کے نشے میں اکثر لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ
اللہ پاک نے دنیا کے ہر چیز کیلئے زوال رکھا ہیں

05/07/2024

ایک طلاق یافتہ اکیلی ماں نے لکھا:

میں آپ کو یہ بات سمجھانے کے لیے لکھ رہی ہوں کہ اپنے شریک حیات کی خوبیوں کی قدر کرنا ضروری ہے، چاہے ان میں خامیاں ہوں۔

میری عمر 32 سال ہے۔

میرے سابق شوہر اور میں نے 6 سال تک ڈیٹ کی۔

ہم بہترین دوست تھے۔

میں نے انتظار کیا یہاں تک کہ اس نے کالج مکمل کر لیا اور کام شروع کر دیا۔

پھر میرے خاندان اور اس کے خاندان نے ملاقات کی۔

ہماری شادی ہوئی اور ہمارا ایک بیٹا ہوا۔ [اب 7 سال کا ہے]۔

میرا شوہر کبھی کبھار غصے میں آ جاتا تھا لیکن ہمارے مسائل تب شروع ہوئے جب میں نے اسے یہ محسوس کرانا چاہا کہ وہ مجھے کنٹرول نہیں کر سکتا۔

جب بھی ہم جھگڑتے، میں اپنا سامان باندھ کر اپنے خاندان کے پاس چلی جاتی اور انہیں صورتحال سمجھاتی۔

میری بہنیں میرے شوہر کو فون کرتیں اور اس پر چیختیں۔

اگر وہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تو میں ہمیشہ اسے کہتی کہ اگر وہ چاہے تو مجھے طلاق دے سکتا ہے۔

میں کبھی طلاق نہیں چاہتی تھی۔

مجھے صرف اپنی عزت کا خیال تھا اور میں کبھی بھی اس کی نظروں میں ایک کمزور عورت نہیں بننا چاہتی تھی۔

ایک دن میں نے اسے اتنا تنگ کیا کہ پہلی بار اس نے مجھے مارا اور گھر سے باہر نکال دیا۔

میں اپنے خاندان کے پاس چلی گئی، میرے خاندان نے اسے پولیس میں رپورٹ کر دیا، ہر بار ایسا لگتا تھا جیسے میں ہی مظلوم ہوں!

لیکن حقیقت میں، میں اپنے شوہر کو جذباتی طور پر تکلیف پہنچاتی تھی۔

اسے گرفتار کر لیا گیا اور حراست میں رکھا گیا۔

اس کے خاندان نے مجھ سے کیس واپس لینے کو کہا۔

مجھے محسوس ہوا کہ میں غلط کر رہی ہوں۔

میرا شوہر کبھی بھی پرتشدد انسان نہیں تھا، اس نے جو کیا وہ اس لیے کیا کیونکہ میں نے اسے مجبور کیا اور اس نے کھلے دل سے معافی مانگی۔

میں نے کیس واپس لے لیا، اور ہم دوبارہ مل گئے۔

تین ماہ بعد، ایک چھوٹے مسئلے پر میں نے پھر سے اپنا سامان باندھ لیا اور وہ اکیلا رہ گیا۔

دو دن بعد، مجھے کال آئی کہ وہ ہسپتال میں ہے۔

میرے خاندان نے مجھے کہا کہ وہاں نہ جاؤں کیونکہ ایسا لگے گا جیسے میں اسے منانے جا رہی ہوں اور میری بہنیں مانتی تھیں کہ وہ بیماری کا ڈرامہ کر رہا ہے۔

اس دوران، لوگ مجھے مظلوم سمجھتے رہے جیسے میں ہی ظلم کا شکار ہوں۔

وہ ایک ہفتہ ہسپتال میں رہا، جب وہ واپس آیا، مجھے صرف طلاق کا نوٹس ملا۔

میں طلاق کو رد کرنا چاہتی تھی، لیکن میرے غرور کی وجہ سے، میں چاہتی تھی کہ وہ اپنا فیصلہ بدلے اور مجھ سے معافی مانگے۔

میں نے اسے فون کیا اور کہا کہ اسے طلاق مل جائے گی کیونکہ میں جہنم میں جی رہی تھی۔

جب ہم عدالت گئے، میں چاہتی تھی کہ وہ قیمت چکائے، اس لیے میں نے عدالت سے کہا کہ اس کی جائیداد تقسیم کی جائے۔

میری حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے کھلے عام عدالت کو بتایا کہ جو کچھ بھی ہم نے اکٹھا حاصل کیا ہے وہ مجھے دیا جائے، اسے صرف طلاق چاہیے۔

ہم جولائی 2009 میں طلاق یافتہ ہو گئے۔

اب، میرا شوہر شادی شدہ ہے، جبکہ میں یہاں برباد ہو رہی ہوں!

میرے خاندان والے میرے بارے میں چغلی کرتے ہیں۔

میں اپنی بقا کے لیے اپنے بیٹے کے لیے جو میرے سابق شوہر دیتا ہے، اس پر انحصار کرتی ہوں۔

مجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنی شادی برباد کی۔

میں یہاں تمام بیویوں کو بتا رہی ہوں کہ انہیں مشورہ لیتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔

دھوکہ نہ کھائیں، اپنے خاندان کی مداخلت کو اپنی شادی میں نہ آنے دیں میرے عزیز قاری۔

یہاں تک کہ میری چھوٹی بہنیں بھی مجھ سے زیادہ عزت پاتی ہیں۔

جن لوگوں نے مجھے طلاق لینے کی ترغیب دی، وہ ہمیشہ میرا مذاق اڑاتے ہیں اور میرے بارے میں بری باتیں کرتے ہیں۔

براہ کرم خواتین، اپنی شادی میں چوکسی سے کام لیں۔

سوچا کہ اپنی کہانی شیئر کروں تاکہ آپ کی شادی بچ سکے۔

غرور میں کوئی فائدہ نہیں۔

کبھی کبھی یہ مرد کا قصور نہیں ہوتا،
یہ آپ کا غرور ہوتا ہے، اور وہ لوگ جو آپ کو مشورہ دیتے ہیں، اس لیے اپنی شادی میں ہوشیار اور چوکنا رہیں۔

اللہ ہمیں برائی سے، برے لوگوں سے، ان سے جو برائی کرتے ہیں اور دوسروں کو برائی کی دعوت دیتے ہیں، محفوظ رکھے یا کریم۔ آمین

جزاک اللہ خیرا آپ کے وقت کے لیے۔copy

05/07/2024

کبھی ہنس بھی لیا کرو

ﺍﯾﮏ ﮨﻮﭨﻞ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
👈 ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺁﭖ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ، ﭘﯿﺴﮯ ﺁپکے ﭘﻮﺗﮯ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ

ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ
ﮐﮧ ﻭﺍﮦ ﺑﮭﺌﯽ ﻭﺍﮦ...
ﯾﮧ ﺗﻮ ﮐﻤﺎﻝ ﮨـﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﭘﻮﺗﮯ دیں گے___!

ﻟﮩﺬﺍ ﻭﮦ ﮨﻮﭨﻞ ﭘﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﭩﺮ ﺳﮯ ﮐﻨﻔﺮﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ....

ﻭﯾﭩﺮ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﯾﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﻞ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﮟگے

ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺁﺭﮈﺭ ﺩﯾﺎ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﯾﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﻞ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﻞ ﭘﻮﺗﮯ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨـﮯ____؟

ﻭﯾﭩﺮ ﻣُﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ﯾﮧ ﺁﭘﮑﺎ ﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨـﮯ ﯾﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﻞ ﮨـﮯ

05/07/2024

ایک ہوائی جہاز کا کلینر پائلٹ کے کاک پٹ کی صفائی کر رہا تھا، جب اس نے ایک کتاب دیکھی جس کا عنوان تھا، "How to fly an aeroplane for beginners (جلد 1)
اس نے پہلا صفحہ کھولا جس میں لکھا تھا: "انجن چلانے کرنے کے لیے، سرخ بٹن دبائیں." اس نے ایسا ہی کیا، اور ہوائی جہاز کا انجن چلنا شروع ہو گیا. اس نے خوش ہو کر اگلا صفحہ کھولا "ہوائی جہاز کو حرکت دینے کے لیے، نیلے رنگ کے بٹن کو دبائیں."
اس نے ایسا ہی کیا، اور جہاز حیرت انگیز رفتار سے چلنے لگا.
وہ اڑنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے تیسرا صفحہ کھولا جس میں لکھا تھا: ہوائی جہاز کو اڑنے دینے کے لیے، سبز بٹن دبائیں."
اس نے ایسا ہی کیا اور طیارہ اڑنے لگا. وہ بہت پرجوش تھا.
بیس (20) منٹ کی پرواز کے بعد، وہ مطمئن تھا، اور اب اترنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے چوتھے صفحے پر جانے کا فیصلہ کیا اور صفحہ 4 پر لکھا تھا؛ "طیارے کو لینڈ کرنے کا طریقہ جاننے کے لیے، براہ کرم جلد 2 قریبی بک شاپ سے خریدیں!"
*اخلاقی سبق* مکمل معلومات کے بغیر کبھی بھی کچھ کرنے کی کوشش نہ کریں۔
*آدھی تعلیم صرف خطرناک نہیں بلکہ تباہ کن ہے!*
عقلمند کے لیے ایک لفظ کافی ہوتا ہے۔

Address

Mailsi
Mailsi

Telephone

+923062507574

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qazi shaheen Moon posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Qazi shaheen Moon:

Share