19/04/2026
سپیچ کرنے والے کو غور سے دیکھیں سر عام جھوٹ بول رھا ھے وائس چانسلر ھزارہ یونیورسٹی میں اس وقت پابندی لگائی تھی جب یہ بولنے والے نے فن فئیر میں لڑکیوں کی ٹھرک میں مہندی لگانے پر بہت بڑا جھگڑا ھوا تھا اور یہ بولنے والے کو دوسری زندگی ملی تھی ۔۔ آج سر عام اپنے مفاد کے لئے گہر حنیف کے قصیدے اس لئے بول رھا ھے کہ اس سے بہت بڑا مفادات حاصل کر رھا ھے ۔۔۔ سب جھوٹ ۔۔ یونیورسٹی میں کبھی بھی کھیلوں پر پابندی۔ ہیں لگائی گئی بڑے بڑے کرکٹ اور فٹبال کے ٹورنامنٹ ھوئے جو تاریخ ھیں مگر اس کے جھوٹ کو دیکھو حنیف گوھر کے چند سال ھوئے ھیں اور بولنے والا کہ رہا ھے کہ حنیف گوہر نے کھیلنے کے گراؤنڈ کی سفارش کی جھوٹ۔۔۔ شرم کرو سچ یہ ھے کہ گزشتہ 3/4سال سے یونیورسٹی کی طرف سے ھونے والے ٹورنامنٹ پر کمائی کا اڈا بن گیا جس میں آپ کو اپنے مفادات کا حصہ ملتا ھے
افسوس اس پر کہ بولنے والے کے دائیں بائیں جانب جو لوگ کھڑے ھیں اور یونیورسٹی سپورٹس ڈیپارٹمنٹ سے باقاعدہ معاوضہ لیتے ھیں وہ بھی نہ صرف خاموشی تماشائی بنے ھوئے ھیں بلکہ حنیف گوھر سے لاکھوں روپے بٹورنے والے تالیاں بجا رھے ھیں
شرم اور حیا بلکہ ایمان کو بھی ٹکوں کی خاطر بیچ دیا