05/03/2026
بہت افسوس کے ساتھ میں عرض کر رہا ہوں کہ ایران کی صورتِ حال انتہائی نازک اور تشویش ناک ہے۔ یہ کوئی عام لڑائی نہیں ہے بلکہ ایک بے حد غیرمساوی معرکہ ہے جہاں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل جیسی سپر پاورز ہیں اور دوسری طرف تنہا ایران ہے۔ امریکی فضائیہ نے مکمل طور پر آسمانوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ جہاں چاہے بمباری کر رہے ہیں۔ تہران، اصفہان، قم اور دیگر شہروں پر اس قدر شدید بمباری ہو رہی ہے کہ عام لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ سینکڑوں رہائشی علاقے تباہ ہو چکے ہیں، ہزاروں بے گناہ شہید ہو چکے ہیں اور زخمیوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی ہے۔ ایرانی قیادت اور عوام بے مثال حوصلے اور جذبے سے لڑ رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ ان کی طاقت سے باہر ہے۔
ایران کے پاس میزائلوں کا ذخیرہ ضرور ہے اور وہ جوابی کارروائی کر رہے ہیں، لیکن ان کی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ چند میزائل اسرائیلی شہروں پر گرے ہیں، کچھ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنے ہیں، لیکن ان کا تناسب بہت کم ہے۔ دوسری طرف امریکی B-52 بمبار طیارے اور ڈرونز روزانہ سینکڑوں حملے کر رہے ہیں، ایرانی دفاعی نظام تباہ ہو رہے ہیں، میزائل لانچرز نشانہ بن رہے ہیں، پاسداران کے اڈے خاک میں مل رہے ہیں۔ یہ جنگ اسرائیل اور امریکہ کے لیے کوئی بڑی جنگ نہیں ہے، ان کے لیے یہ محض ایک مشق ہے جبکہ ایران کے لیے یہ بقا کا مسئلہ ہے۔
روس اور چین جیسے دوست ممالک ہیں لیکن وہ بھی اس جنگ کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ عالمی برادری خاموش ہے، اسلامی ممالک میں کوئی موثر آواز نہیں اٹھ رہی۔ انٹرنیٹ بند ہے، میڈیا پر خبریں نہیں آ رہیں، اس لیے اصل تباہی کا اندازہ نہیں ہو پا رہا۔ جو لوگ ایران کی جیت کی باتیں کر رہے ہیں وہ دراصل خوش فہمی کا شکار ہیں اور ان کا یہ انداز پہلی جنگِ خلیج کے اس تجزیہ کار کی یاد دلاتا ہے جو روزانہ عراق کی جیت کے قصیدے پڑھتا رہا یہاں تک کہ صدام نے ہتھیار ڈال دیے۔
ایرانیوں کی مزاحمت واقعی لاجواب ہے، ان کا جذبہ مثالی ہے، لیکن جذبہ اکیلے جنگ نہیں جیت سکتا۔ امریکہ اور اسرائیل کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، ان کے پاس لامحدود وسائل ہیں، وہ دن رات بمباری کر سکتے ہیں۔ ایران کے پاس محدود وسائل ہیں، ان کی معیشت پہلے ہی پابندیوں سے کمزور تھی، اب جنگ نے تباہ کر دیا ہے۔ بجلی کے نظام تباہ ہو گئے، پانی کی سپلائی منقطع ہے، اسپتالوں میں دوائیں ختم ہو رہی ہیں، زخمی سڑکوں پر پڑے ہیں۔ یہ کوئی معمولی صورتِ حال نہیں ہے۔
سب سے بڑی ضرورت اب یہ ہے کہ کسی طرح جنگ بندی کرائی جائے۔ سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہئیں، اسلامی ممالک کو متحد ہونا چاہیے، عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایران کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے۔ سحر و افطار کے وقت خصوصی دعائیں مانگی جائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے ایرانی عوام کی حفاظت فرمائے، ان کی ہمت و حوصلہ کو برقرار رکھے اور اس تباہی کا کوئی راستہ نکالے۔ آمین ثم آمین۔
(واجد شیخ مردانی خیبرپختون خوا)