سوہنڑا ملتان

سوہنڑا ملتان Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from سوہنڑا ملتان, Grocers, Multan, Multan.

'لوگ اپنے اپنے ملکوں کی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اسرائیل کی ’’غیر قانونی کارروائیوں‘‘ کی پشت پناہی بند کریں'، صمود ...
02/10/2025

'لوگ اپنے اپنے ملکوں کی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اسرائیل کی ’’غیر قانونی کارروائیوں‘‘ کی پشت پناہی بند کریں'، صمود فلوٹیلا کا بیان

'لوگ اپنے اپنے ملکوں کی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اسرائیل کی ’’غیر قانونی کارروائیوں‘‘ کی پشت پناہی بند کریں'، صمود فلوٹیلا کا بیان
اس خبر کی مکمل تفصیلات کیلئے کمنٹ میں موجود لنک پر کلک کریں

Best of luck wishes from Pakistan men's players for our women's team at the ICC Women's World Cup 2025 🇵🇰🏏  |
02/10/2025

Best of luck wishes from Pakistan men's players for our women's team at the ICC Women's World Cup 2025 🇵🇰🏏

|

ماں جس نے اپنے بیٹے کی زندگی دے کر دو لوگوں کو نئی زندگی دی !گزشتہ ماہ کراچی میں ایک گاڑی کا خوفناک حادثہ ہوا جس میں میڈ...
22/08/2025

ماں جس نے اپنے بیٹے کی زندگی دے کر دو لوگوں کو نئی زندگی دی !

گزشتہ ماہ کراچی میں ایک گاڑی کا خوفناک حادثہ ہوا جس میں میڈیکل کالج کا بائیس سالہ طالب علم سلطان ظفر شدید زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا۔ فوری سرجری کرکے اسکے دماغ سے خون کے لوتھڑے نکالے گئے اور اسے وینٹی لینٹر پر منتقل کردیا گیا۔

چند دن تک موت و حیات کی کشمکش چلتی رہی لیکن کوئی امید نظر نہیں آرہی تھی۔ نوجوان کی والدہ جو خود بھی ایک نام ور ڈاکٹر تھی وہ چاہتی تو جتنی دیر مرضی اپنے اکلوتے بیٹے کو اسی طرح وینٹی لیٹر پر سانس دلاتی رہتی مگر ایک ڈاکٹر کے طور وہ جانتی تھی کہ اب امید کے ساتھ ساتھ بیٹے کی زندگی کا چراغ بھی بجھنے والا ہے۔

تب عظیم ماں نے ایک مسیحا کے طور پر زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کیا۔ آئی سی یُو کے باہر اہلِ خانہ کو اکٹھا کیا گیا کئی گھنٹے بحث ہوئی لیکن پھر ماں کے فیصلے کے آگے سب نے سرجُھکا دئیے۔ وینٹی لیٹر اتار لیا گیا۔ فوری طور پر نوجوان کو گُردوں کے ہسپتال منتقل کیا گیا اور اسکے دونوں گُردے نکال کر دو ایسے مریضوں کو ڈالے گئے جو کئی سال سے گُردوں کے عطیے کی امید پر ڈایلےسِس پر زندہ تھے۔

ماں نے اپنے سامنے اپنے بیٹے کے گُردے نکلواکر مریضوں میں پیوند کاری کروائی۔ دونوں مریض جو موت کی دہلیز پر تھے ان کو نئی زندگی مل گئی۔ ایک ماں نے اپنے بیٹے کو الوداع کہہ دیا۔ یہ عظیم ماں ڈاکٹر مہر افروز ہیں جو خود گُردوں کی بلند پایہ ڈاکٹر ہیں۔

بے شک ہمارے اس معاشرے میں ایسی ماں کا ہونا ایک معجزہ ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر مہر افروز جیسی ہستیاں ایوارڈز وغیرہ سے بہت بالاتر ہوتی ہیں لیکن جس انداز میں حال ہی میں حکومت نے ریوڑیوں کی طرح اعلی ملکی اعزاز بانٹے ہیں تو مہر افروز جیسی ماں کو سرکاری سطح پر اعلی اعزاز سے نوازنا بذات خود اس تمغہ اور اعزاز کی عزت ہوگی۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ بہت سے سوشل میڈیا کے مفتی اس عمل پر بھی تنقید کررہے ہیں کہ انسانی اعضا نکالنا جسم کی بے حرمتی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہو؟





ملائیشیا میں جمعہ نماز چھوڑنے پر سخت سزا کا نفاذ، ریاست ترنگانومیں حکومت  کا اعلانایک دفعہ بھی جمعہ نماز چھوڑنا جرم تصور...
22/08/2025

ملائیشیا میں جمعہ نماز چھوڑنے پر سخت سزا کا نفاذ، ریاست ترنگانومیں حکومت کا اعلان
ایک دفعہ بھی جمعہ نماز چھوڑنا جرم تصور ہوگا۔ 2 سال قید،2 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ دی گارڈین رپورٹ

اگلوں نے گھر بیٹھے بیٹھے پاکستانیوں کے موبائل فونز کے ڈسپلے تبدیل کر دیئے اور وہ بھی کسی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے بغیر ۔ اس ک...
22/08/2025

اگلوں نے گھر بیٹھے بیٹھے پاکستانیوں کے موبائل فونز کے ڈسپلے تبدیل کر دیئے اور وہ بھی کسی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے بغیر ۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ ہمارے موبائلز کی اندرونی سیٹنگ تک ان کے کنٹرول میں ہے ۔ ویسے مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے ان پاکستانی شیر جوانوں کو پیغام دیا ہے کہ یہ ہے تمہاری اوقات ۔ ادھر ہمارے شیر ہیں کہ پکًَا ہفتہ فیس بک پر تھرتھلی مچائے رکھی کہ ہم اجازت نہیں دیتے کہ فیس بک ہمارے تھوبڑے استعمال کرے !
😂

09/08/2025

𝐖𝐡𝐲 𝐰𝐚𝐢𝐭 𝐟𝐨𝐫 𝐨𝐩𝐩𝐨𝐫𝐭𝐮𝐧𝐢𝐭𝐢𝐞𝐬 𝐰𝐡𝐞𝐧 𝐲𝐨𝐮 𝐜𝐚𝐧 𝐜𝐫𝐞𝐚𝐭𝐞 𝐭𝐡𝐞𝐦?
With Bano Qabil’s FREE IT Courses, gain skills that open doors to endless possibilities — from freelancing to global tech careers. 🌍💻

📌 Save this post and take the first step toward turning your dreams into reality.
✅ Limited seats – Enroll today! banoqabil.org

دوسرا حملہ محمود غزنوی نے 1008ء میں ملتان پر کیا، جو پہلے حملے کے چند سال بعد پیش آیا۔ اس وقت ملتان میں اسماعیلی فاطمی خ...
05/08/2025

دوسرا حملہ محمود غزنوی نے 1008ء میں ملتان پر کیا، جو پہلے حملے کے چند سال بعد پیش آیا۔ اس وقت ملتان میں اسماعیلی فاطمی خلافت کے حامیوں کا اثر دوبارہ بڑھ چکا تھا اور ابو الفتوح داؤد — جو پہلے بھی شکست کھا چکا تھا — نے دوبارہ بغاوت کر دی تھی۔ 🕌

محمود غزنوی نے یہ محسوس کیا کہ اگر اس فتنے کو ختم نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف اس کی سلطنت کے لیے خطرہ ہوگا بلکہ اسلامی عقائد پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ اسماعیلی عقائد سنی عقائد سے مختلف تھے۔ محمود نے اس بار نہایت مضبوط لشکر کے ساتھ پیش قدمی کی۔⚔️

ملتان کا محاصرہ کئی ہفتے جاری رہا۔ شہر کی فصیلیں بلند تھیں، اور مخالفین نے بھرپور مزاحمت کی، لیکن غزنوی لشکر نے بہادری، حکمت عملی اور جنگی مہارت سے بالآخر شہر کو دوبارہ فتح کر لیا۔ 🏰

اس بار محمود نے سخت اقدامات کیے تاکہ دوبارہ بغاوت کا امکان باقی نہ رہے۔ اس نے فاطمی اثر کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ملتان میں سنی مساجد و مدارس کو مضبوط کیا اور اپنی عملداری قائم کی۔ 📜

🌟 یہ دوسرا حملہ نہ صرف ایک سیاسی کامیابی تھا بلکہ دینی طور پر بھی غزنوی سلطنت کی فتح تصور ہوا۔ اس کے بعد محمود غزنوی نے شمالی ہند کی مزید فتوحات کی طرف توجہ دی۔

🔥 یہ واقعہ تاریخِ اسلام میں اس لحاظ سے نمایاں ہے کہ محمود نے نہ صرف ایک بغاوت کو کچلا بلکہ اسلامی خلافت کے سنی عقائد کا تحفظ بھی کیا، جو اُس کے نظریاتی مشن کا حصہ تھا۔
✨ ✨🔥😈repost😣💯❣️🌙💯🤗

محمود غزنوی کا ملتان پر پہلا حملہ (1005ء) 🏰⚔️محمود غزنوی نے 1005ء میں پہلی بار ملتان پر حملہ کیا۔ اس وقت ملتان میں اسماع...
03/08/2025

محمود غزنوی کا ملتان پر پہلا حملہ (1005ء) 🏰⚔️

محمود غزنوی نے 1005ء میں پہلی بار ملتان پر حملہ کیا۔ اس وقت ملتان میں اسماعیلی فرقے کے گورنر ابوالفتح داؤد کی حکومت تھی، جو خلافت فاطمیہ کے وفادار تھے۔ محمود غزنوی ایک سنی عقیدے کا حامل بادشاہ تھا اور اسے فاطمی اثر و رسوخ پسند نہ تھا۔ 📿🕌

🛡️ حملے کا مقصد:
ملتان کو سیاسی و مذہبی طور پر غزنی سلطنت کے زیر اثر لانا، اور اسماعیلی نظریات کا خاتمہ کرنا۔

⚔️ جنگ کا آغاز:
محمود نے اپنی فوج کے ساتھ ملتان کی طرف پیش قدمی کی۔ سخت لڑائی ہوئی لیکن آخرکار محمود نے ابوالفتح کو شکست دی۔ شہر فتح ہوا اور کئی قیدی بنائے گئے۔

🏚️ نتائج:
ملتان کی اسماعیلی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ محمود نے وہاں سنی فقہ کے مطابق حکومت کا آغاز کیا۔ بہت سے مذہبی مقامات کی تجدید کی گئی اور اسلامی تعلیمات کو عام کیا گیا۔

🌟 یہ حملہ محمود غزنوی کے فتوحات کے سلسلے کا ایک اہم سنگِ میل تھا اور برصغیر میں اسلام کے فروغ کی بنیاد بھی سمجھا جاتا ہے۔

ًًً ☺️☺️ ☺️☺ ☺☺ ☺️☺️👈👈👈👈👈 ͎x͎p͎l͎o͎r͎e͎p͎a͎g͎e͎r͎e͎a͎d͎y͎ ☺️☺️👈👈👈👈👈💜💜💜

🕌 محمد بن قاسم کا ملتان پر حملہ (712 عیسوی) — ایک تاریخی انقلاب 🌟جب اسلامی فتوحات کا سورج مشرق سے طلوع ہو رہا تھا، تب ای...
31/07/2025

🕌 محمد بن قاسم کا ملتان پر حملہ (712 عیسوی) — ایک تاریخی انقلاب 🌟

جب اسلامی فتوحات کا سورج مشرق سے طلوع ہو رہا تھا، تب ایک نوجوان، باہمت اور عظیم جرنیل *محمد بن قاسم* نے وہ کارنامہ سرانجام دیا جو آج بھی تاریخ کے صفحات میں سنہری الفاظ میں لکھا جاتا ہے۔ ✨

📜 پس منظر:

ملتان اس وقت ایک اہم مذہبی اور تجارتی شہر تھا۔ یہاں ایک عظیم *سورج مندر* موجود تھا، جو "بتوں کے شہر" کے نام سے بھی مشہور تھا۔ شہر کا حاکم ایک ہندو راجہ تھا جو اپنی طاقت اور مذہبی رسوخ پر نازاں تھا۔

⚔️ #محمد-بن-قاسم-کی-آمد

712 عیسوی میں، سندھ کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نے *ملتان کی جانب پیش قدمی* کی۔ اُن کے ہمراہ ایک منظم، بااخلاق اور ایمان سے لبریز اسلامی فوج تھی۔
🌙 ان کا مقصد صرف علاقہ فتح کرنا نہیں تھا بلکہ لوگوں تک *عدل، علم اور اسلام کا پیغام* پہنچانا بھی تھا۔

🏰 ملتان کا محاصرہ:

ملتان کے قلعے کو مضبوط دفاع حاصل تھا۔ راجہ نے شدید مزاحمت کی، لیکن محمد بن قاسم نے اپنی دانشمندی، جنگی حکمتِ عملی، اور تدبر سے قلعہ کا *محاصرہ* کر لیا۔
*منجنیقیں* نصب کی گئیں، *تیراندازی* ہوئی، اور آخرکار کئی
دنوں کے بعد قلعہ فتح ہو گیا۔ 🔥

🛕 سورج مندر کا انجام: #مندر

فتح کے بعد محمد بن قاسم نے سورج مندر کو *بیت المال* میں تبدیل کر دیا، جہاں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے خزانے استعمال کیے گئے۔
اس مندر میں رکھا گیا خزانہ ریاست کے نظم و نسق اور عوام کی بہتری کے لیے وقف کر دیا گیا۔ 💰➡️🤲

🌱 اسلام کی روشنی:

محمد بن قاسم نے *عدل و انصاف کا نظام* نافذ کیا۔ مقامی لوگوں کے عقائد کا احترام کیا گیا، لیکن ساتھ ہی ساتھ اسلامی تعلیمات کا نرمی سے پرچار کیا گیا۔
بہت سے لوگ *اسلام سے متاثر ہو کر دائرۂ اسلام میں داخل* ہو گئے۔ 🤍🕊️

🌍 #نتیجه

✅ ملتان اسلامی ریاست کا حصہ بن گیا
✅ تجارت، علم اور تہذیب کو فروغ ملا
✅ اسلامی عدل، امن اور رواداری قائم ہوئی
✅ ملتان کو "دارالامان" یعنی امن کا گھر کہا جانے لگا 🕋

💬 اختتام

محمد بن قاسم کی ملتان پر فتح صرف ایک *جنگی کامیابی* نہیں تھی، بلکہ یہ *دلوں کی فتح* تھی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب برصغیر میں *اسلامی تہذیب کی بنیاد* رکھی گئی، اور ملتان روحانیت، علم اور انصاف کا مرکز بن گیا۔

🌟 آج بھی محمد بن قاسم کو *فاتحِ ملتان* اور ایک عظیم اسلامی ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ًًً ✨ ✨viralvideo✨❤️😊

دیوان مول راج کی بغاوت 1848ء — ایک خونی داستان ⚔️🔥تعارف: دیوان مول راج کی بغاوت 1848ء برطانوی استعمار کے خلاف پنجاب کی آ...
30/07/2025

دیوان مول راج کی بغاوت 1848ء — ایک خونی داستان ⚔️🔥

تعارف:
دیوان مول راج کی بغاوت 1848ء برطانوی استعمار کے خلاف پنجاب کی آخری اور شدید مزاحمتوں میں سے ایک تھی۔ یہ صرف ایک فرد کی بغاوت نہیں بلکہ ملتان کی غیرت، خودداری اور عوامی حمایت کی علامت تھی، جو برطانوی سامراج کے خلاف ایک بڑی لڑائی میں بدل گئی۔

پس منظر:
دیوان مول راج، رنجیت سنگھ کے بعد ملتان کا گورنر مقرر ہوا۔ سکھ سلطنت کی کمزوریوں کے بعد جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضے کا منصوبہ بنایا، تو ملتان ان کے لیے ایک اہم رکاوٹ تھا۔
انگریزوں نے دیوان مول راج سے مطالبہ کیا کہ وہ گورنری چھوڑ کر انہیں اقتدار سونپ دے۔ مول راج نے ابتدائی طور پر استعفیٰ دیا مگر جب برطانوی اہلکاروں نے عوام پر ظلم و ستم شروع کیے تو وہ مشتعل ہو گیا اور بغاوت کا اعلان کر دیا۔

بغاوت کا آغاز 🔥:
اپریل 1848ء میں انگریز افسران پیٹر وین ایگ اور ایگیو کو ملتان میں قتل کر دیا گیا۔ یہ حملہ دیوان مول راج کے حامیوں نے کیا، جس سے پورے پنجاب میں انگریزوں کے خلاف نفرت کی لہر دوڑ گئی۔ یہ واقعہ بغاوت کا باقاعدہ آغاز تھا۔

جنگی کارروائیاں ⚔️:
برطانوی فوج نے جنرل وہش اور برگیڈیئر جنرل وائٹ کی قیادت میں ملتان پر چڑھائی کی۔
ملتان کے عوام، مقامی سپاہیوں اور مول راج کے حامیوں نے شہر کا بھرپور دفاع کیا۔
قلعہ ملتان پر کئی ماہ تک شدید گولہ باری ہوئی، بارودی سرنگیں بچھائی گئیں اور شہر کو بری طرح نقصان پہنچا۔

مول راج کی گرفتاری و نتیجہ 🤝:
بہت طویل اور خونی محاصرے کے بعد دیوان مول راج نے 22 جنوری 1849ء کو ہتھیار ڈال دیے۔
انگریزوں نے اسے گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا۔
ملتان پر قبضے کے بعد انگریزوں نے پورے پنجاب کو باقاعدہ برطانوی راج میں شامل کر لیا۔

تاریخی اہمیت 📜:
یہ بغاوت اگرچہ کامیاب نہ ہو سکی، مگر اس نے انگریزوں کو یہ باور کروایا کہ پنجاب کی زمین ابھی غیرت مندوں سے خالی نہیں۔
مول راج آج بھی پنجاب کے بہادر گورنر اور آزادی کے اولین سپاہی کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

نتیجہ 🌹:
دیوان مول راج کی بغاوت نہ صرف ملتان کی تاریخ بلکہ برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کا بھی اہم باب ہے۔
یہ قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ جبر کے خلاف آواز بلند کرنے والے کبھی تاریخ سے مٹائے نہیں جا سکتے۔

✊ دیوان مول راج — ایک مزاحمت، ایک علامت، ایک داستان!

رنجیت سنگھ کی ملتان پر فیصلہ کن فتح 🏰⚔️ (1818ء)رنجیت سنگھ کی 1818ء میں ملتان پر فتح اُس کی سلطنت کے پھیلاؤ میں ایک اہم م...
29/07/2025

رنجیت سنگھ کی ملتان پر فیصلہ کن فتح 🏰⚔️ (1818ء)

رنجیت سنگھ کی 1818ء میں ملتان پر فتح اُس کی سلطنت کے پھیلاؤ میں ایک اہم موڑ تھی۔ یہ حملہ نہ صرف ایک فوجی کامیابی تھی بلکہ اس نے ملتان کی صدیوں پرانی خودمختاری کا بھی خاتمہ کر دیا۔ 🏹🇵🇰

🔹 پس منظر:
ملتان اُس وقت نواب مظفر خان سدوزئی کے زیرِ حکومت تھا، جو سکھوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود مزاحمت کر رہا تھا۔ رنجیت سنگھ نے کئی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر اپنے جرنیلوں کے ساتھ بھرپور تیاری کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ 🛡️👑

🔹 جنگ کی نوعیت:
دیوان موتی رام، جنرل ونتورا اور دیگر اہم جرنیلوں کی قیادت میں سکھ فوج نے ملتان کا محاصرہ کیا۔ توپ خانے 💣 اور بارودی سرنگوں 💥 سے قلعے کی فصیل توڑی گئی۔

🕊️ نواب مظفر خان کی شہادت:
نواب مظفر خان نے قلعے میں اپنے بیٹوں کے ساتھ دلیرانہ مزاحمت کی 💔 لیکن وہ سکھ افواج کے جدید اسلحے اور عددی برتری کے آگے ٹھہر نہ سکے۔ ان کی شہادت تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہے 🩸🗡️

🔹 نتیجہ:
ملتان پر قبضے کے بعد یہ علاقہ سکھ سلطنت کا حصہ بن گیا۔ دیوان ساون مل کو گورنر مقرر کیا گیا جس نے اسے سکھ راج کے تحت کامیابی سے چلایا۔ 🏛️📜

📍یہ فتح پنجاب کی تاریخ میں اہم مقام رکھتی ہے کیونکہ اس سے رنجیت سنگھ کی طاقت جنوبی پنجاب تک پھیل گئی۔ 🌍📈












゚viral







#سوہنڑاملتان #ملتان

رنجیت سنگھ کی ابتدائی کوشش برائے فتحِ ملتان (1802ء)1802ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ، جو اس وقت پنجاب میں سکھ سلطنت کو مضبوط ...
28/07/2025

رنجیت سنگھ کی ابتدائی کوشش برائے فتحِ ملتان (1802ء)

1802ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ، جو اس وقت پنجاب میں سکھ سلطنت کو مضبوط کرنے میں مصروف تھا، نے ملتان پر پہلی بار نظرِ کرم ڈالی۔ اس وقت ملتان خانہ جنگیوں، بیرونی حملوں اور کمزور مقامی حکمرانی کی وجہ سے ایک کمزور مقام بن چکا تھا۔ یہاں نواب مظفر خان سدوزئی کی حکومت تھی، جو افغان دورِ حکومت کا آخری نشان تھے۔

رنجیت سنگھ نے یہ جنگ صرف علاقہ فتح کرنے کی نیت سے نہیں لڑی بلکہ ملتان کے اسٹریٹیجک محلِ وقوع کو دیکھتے ہوئے اسے اپنی سلطنت میں شامل کرنا چاہا تاکہ سندھ اور جنوبی پنجاب پر نظر رکھی جا سکے۔

*حملہ اور حالات:*

1802ء میں رنجیت سنگھ نے اپنی فوج ملتان کی جانب روانہ کی۔ تاہم، اس حملے کا مقصد مکمل فتح کے بجائے نواب مظفر خان کو زیرِ اثر لانا اور جزیہ (خراج) کی ادائیگی پر آمادہ کرنا تھا۔ ملتان کے حکمران نے وقتی طور پر رنجیت سنگھ کو کچھ نذرانہ دیا تاکہ وہ واپس چلا جائے۔

یہ ابتدائی مہم مکمل فتح میں تبدیل نہ ہو سکی، لیکن رنجیت سنگھ نے اندازہ لگا لیا کہ ملتان کمزور ہو چکا ہے اور اسے مکمل طور پر فتح کرنا ممکن ہے۔ اس ابتدائی کوشش نے آنے والے حملوں کی بنیاد رکھی، جن میں سب سے اہم 1818ء میں مکمل قبضے کی جنگ تھی۔

یہ مہم دراصل ایک سیاسی و عسکری دباؤ تھا جس نے نواب مظفر خان کو وقتی طور پر تو بچا لیا، لیکن سکھ افواج کی نظر میں ملتان اب ایک لازمی ہدف بن چکا تھا۔ ゚viralfbreelsfypシ゚viral #ᴛʀᴇɴᴅɪɴɢɴᴏᴡ

Address

Multan
Multan
2700

Telephone

+923135580053

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سوہنڑا ملتان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to سوہنڑا ملتان:

Share

Category