28/10/2025
سوہنی مہیوال
اٹھارویں صدی عیسوی سلطنتِ مُغلیہ کے آخری دَور میں دریائے پنجاب کے کنارے واقع شہر گُجرات میں ایک کُمہار کے گھر میں ایک خُوبصُورت لڑکی سوہنی پَیدا ہُوئی۔ اُس دَور میں بُخارا اور دہلی کے درمیان کارواں گُجرات میں سے گُزرتے تھے۔
جَب سوہنی تھوڑی بڑی ہُوئی تو وہ باپ کے کام میں اُس کی مدد گار بن گئی اور مٹی سے بنائے ہُوئے برتنوں کو سجانے اور سنوارنے کا کام کرنے لگی۔ اِن کی دُکان دریا کے پاس رام محل کے قریب تھی۔ جُونہی نئی صُراحیاں اور مٹی کے پیالے بن کر چرخی سے اُتارے جاتے وہ اُن پر خُوبصُورت نقش و نگار بناتی اور پھِر اُنھیں بیچنے کے لِئے دوکان میں سجا دیتی۔
ایک دفعہ کا ذِکر ہَے کہ ایک امِیر تاجر شہزادہ عِزت بیگ بُخارا (ازبکستان) سے کاروبار کے سِلسلے میں پنجاب آیا اور گُجرات میں ٹھہرا۔ یہاں اُس کی نظر ایک دوکان میں سوہنی پر پڑی اور وہ پہلی ہی نظر میں اُس کا دِیوانہ ہو گیا۔ چنانچہ اُس کو صِرف ایک نظر دیکھنے کے لِئے وہ ہر روز پانی کے برتن اور مگ خریدنے اُس کی دوکان پر آنے لگا۔ سوہنی بھی اُسے اپنا دِل دے بیٹھی۔
عِزت بیگ نے کارواں کے ساتھ واپس بُخارا جانے کی بجائے سوہنی کے باپ کی ملازمت کر لی۔ وہ اُس کی بھینسوں کو بھی چرانے کے لِئے باہر لے جاتا۔ چنانچہ جلد ہی وہ ہر جگہ مہر یا مہیوال (بھینسوں کا چرواہا) کی حیثیت سے مشہُور ہو گیا۔
سوہنی اور مہیوال کی محبت کے چرچے عام ہونے لگے اور سوہنی کے گھر والوں کے لِئے بدنامی کا باعث بننے لگے۔ خاندان کے لِئے یہ بات کِسی طَور قابلِ قبُول نہ تھی کہ اُن کی لڑکی کی شادی کِسی باہر کے لڑکے سے ہو۔ چنانچہ اُس کے والدین نے فوری طَور پر اپنے خاندان کے ایک لڑکے سے اُس کی شادی کا اِنتظام کر لِیا۔ آخر کار بارات آگئی اور بے بس سوہنی ڈولی میں بیٹھ کر اپنے کُمہار دُولہا کے گھر چلی گئی۔
عِزت بیگ نے دِلبرداشتہ ہو کر ویرانوں کا رُخ کِیا اور آبادی سے باہر ایک فقیر جیسی زِندگی گُزارنے لگا۔ آخر دِل کے ہاتھوں مجبور ہو کروہ دریا کے کنارے ایک کُٹیا میں رہنے لگا ۔ دریا کے دوسرے کنارے پر سوہنی تھی۔ آدھی رات کو جب سَب گہری نیند میں ہوتے دونوں دریا کنارے مِلتے۔ عِزت بیگ دریا کے کنارے پر آ جاتا اور سوہنی پکؔے گھڑے پر تَیر کر اُس سے مِلنے آتی۔
عِزت بیگ باقاعدگی سے اُس کے لِئے ایک مچھلی پکڑ کر لاتا۔ کہا جاتا ہَے کہ ایک دفعہ دریا میں طغیانی کے باعث عِزت بیگ مچھلی نہ پکڑ سکا چنانچہ اُس نے اپنی ران کا ایک ٹُکڑا کاٹ کر اُسے سوہنی کے لِئے بھُون لِیا۔ کھاتے ہُوئے پہلے تو سوہنی کو پتہ نہ چلا لیکن پھِر اُس نے عِزت بیگ سے کہا کہ آج مچھلی کا ذائقہ بہت مختلف ہَے۔ جَب اُس نے اپنا ہاتھ اُس کی ٹانگ پر رکھا تَب اُس پر وہ راز کھُلا۔ اِس واقعہ کے بعد اُن کی محبت مزید گہری ہو گئی۔
اِس دوران اُن کے چھُپ چھُپ کر مِلنے کی افواہیں ہر طرف گردش کرنے لگیں۔ ایک دِن اُس کی ایک نند نے چھُپ کر اُس کا پِیچھا کِیا اور وہ جگہ دیکھ لی جہاں سوہنی نے گھڑا چھُپایا ہُوا تھا۔ اُس نے اپنی ماں یعنی سوہنی کی ساس کو بتا دِیا۔ سوہنی کا خاوند کاروبار کے سِلسلے میں کہیں دُور گیا ہُوا تھا۔ دونوں عورتوں نے خود سے فیصلہ کر لیا کہ کیا کرنا چاہئیے۔ اگلے دِن سوہنی کی نند نے موقع دیکھ کر پکے گھڑے کی جگہ ایک کچا مٹی کا گھڑا رکھ دِیا جِسے ابھی بھٹی میں نھیں رکھا گیا تھا۔
اُس رات جَب سوہنی اُس کچے گھڑے پر تیرنے لگی تو گھڑے کی مٹی پانی میں حل ہونے لگی چنانچہ گھڑا ٹُوٹ پھُوٹ کر پانی میں بہہ گیا اور سوہنی دریا میں ڈُوب گئی۔ دوسری طرف دریا کے کنارے عِزت بیگ نے جب سوہنی کو ڈُوبتے دیکھا تو اُس نے سوہنی کو بچانے کے لِئے دریا میں چھلانگ لگا دی اور خود بھی دریا میں ڈُوب گیا۔
یُوں موت نے دونوں محبت کے متوالوں کو ہمیشہ کے لِئے ایک دوسرے سے مِلا دِیا۔