Attiq ur Rehman

Attiq ur Rehman Engineer Habib sugar mills

✍️ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں مصر میں گھوڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد ہوا✍️ جس میں مصر کے گورنر حضرت عمرو ابن العاص...
03/06/2026

✍️ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں مصر میں گھوڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد ہوا

✍️ جس میں مصر کے گورنر حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کے لڑکے محمد نے بھی حصہ لیا !!!! مگر جیت ایک مقامی قبطی عیسائی کے گھوڑے کی ہوئی

✍️ اس پر محمد بن عمروابن العاص نے اس عیسائی کو یہ کہتے ہوئے کوڑے سے پیٹ ڈالا کہ "میں بڑے آدمی کی اولاد ہوں" (بعض روایات کے مطابق "میں معزز والدین کی اولاد ہوں")

✍️ یہ مسلم ہسٹری میں وی آئی پی کلچر کے سر اٹھانے کی پہلی کوشش تھی ، مگر ایسی دبائی گئی کہ پولیٹکل سائنس میں آج بھی دمکتا ریفرنس ہے

✍️ اس واقعے کے بعد ہوا یہ کہ عیسائی سیدھا مدینہ منورہ پہنچا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے شکایت کردی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لڑکے کو باپ یعنی گورنر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سمیت مدینہ منورہ طلب کرلیا ، اور جب یہ مدینہ منورہ پہنچے تو عیسائی کو کوڑا پکڑا کر فرمایا "اسے اسی طرح پیٹو، جیسے تمہیں پیٹا تھا"

وہ پیٹ چکا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا "اس کے باپ کے گنجے سر پر ایک کوڑا مار"

✍️ عیسائی نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ مجھے باپ نے نہیں پیٹا تھا حضرت عمر نے فرمایا "مار اس کو بھی کیونکہ اسی کی شہ پر تو اس نے تجھے مارا تھا"

مگر عیسائی نے اس سے گریز کیا ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنر حضرت عمر ابن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی جانب متوجہ ہوئے اور یہ تاریخی جملہ کہا

"مَتَى اسْتَعْبَدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا؟"

ترجمہ: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کر دیا، ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا؟❤️

یہ واقعہ دوِر خلافت راشدہ کے عدل و انصاف کی عمدہ مثال ہے

بحوالہ : فتوح مصر و المغرب از ابن عبدالحکم

02/06/2026
29/05/2026

عدالت کتنی سٹرانگ ہوتی ہے اس کا اندازا آپ ٹماٹر سے لگالیجئے۔ ٹماٹر10مارچ 1893ءتک پوری دنیا میں فروٹ تھا۔ سپریم کورٹ کا ایک حکم آیا اور ٹماٹر پوری زندگی کیلئے سبزی بن گیا۔ اس دلچسپ کیس کی بیک گراﺅنڈ کچھ یوں ہے کہ اٹھارہ سو تراسی میں امریکن کانگریس نے ٹریف ایکٹ 1883ءجاری کیا۔ اس ایکٹ کے تحت نے امریکا درآمد ہونے والی تمام سبزیوں پر دس فیصد ڈیوٹیا لگا دی‘ اس وقت جان ڈبلیو نکس نام کا ایک تاجر لیٹن امریکا سے سبزیاں اور فروٹ نیویارک درآمد کرتا تھا‘
وہ ٹماٹر بھی منگواتا تھا‘ ایک دن کسی بات پر اس کا نیویارک پورٹ کے ٹیکس کلیکٹر ایڈورڈ ہڈن کے ساتھ جھگڑا ہو گیا۔ ہڈن نے انتقاماًاس کے ٹماٹر کو سبزی ڈکلیئر کر دیا اوراس پر دس فیصد ڈیوٹی لگا دی۔ نکس ہڈن کےخلاف عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا‘ نکس کا کیس تقریباً دس سال تک چھوٹی عدالتوں میں چلتا رہاوہاں سے یہ کیس 24اپریل 1893ءمیں سپریم کورٹ پہنچا‘اس وقت مل ویل فولر امریکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے‘ چیف جسٹس نے جان نکس اور ایڈورڈ ہڈن دونوں کو طلب کر لیا۔ ایڈورڈ ہڈن سے پوچھا گیا ”تم بتاﺅ تم ٹماٹر کو سبزی کیوں کہہ رہے ہو“ ہڈن نے جواب دیا ”جناب عالی ٹماٹر سبزیوں میں پیدا ہوتا ہے“ جان نکس سے پوچھا گیا
3”اور تم اسے فروٹ کیوں کہہ رہے ہو“ جان نکس نے عدالت میں ان تمام ڈکشنریوں اور انسائےکلو پیڈیاز کا ڈھیر لگا دیا جن میں ٹماٹر کو پھل قرار دیا گیا تھا۔ جان نکس نے بوٹینیکل رپورٹ بھی پیش کر دی۔ نباتاتی یعنی بوٹینکلی ٹماٹر واقعی پھل تھا۔ عدالت نے یہ دلچسپ کیس سنا اور آخر میں ٹماٹر کو سبزی ڈکلیئر کر دیا۔ یہ کیس جس وقت عدالت میں زیر سماعت تھا اس وقت اٹارنی جنرل نے ٹریف ایکٹ 1883کو پوری طرح ڈیفنڈ کرنے کی کوشش کی لیکن عدالت نے ٹماٹر کو پھل کی جگہ سبزی کا سٹیٹس دے دیا ۔ آج ٹماٹر بوٹینکلی یا سائنسی لحاظ سے پھل ہے لیکن یہ آج پوری دنیا میں سبزی سمجھا جاتا ہے‘کیوں؟ کیونکہ عدالت نے اسے سبزی قرار دے دیا ہے۔
یہ فیصلہ عدالت کی سپرمیسی کو ثابت کرتا ہے اور پکار پکار کر اعلان کرتا ہے پارلیمنٹ ہو‘ وزیراعظم ہو‘ صدر ہو یا پھر خلیفہ وقت ہو‘ یہ سب لوگ‘ یہ ادارے قانون اور عدالت کے سامنے کمزور ہوتےہیں
NIX v. HEDDEN

United States Supreme Court

NIX v. HEDDEN, (1893)

No. 137

Argued: Decided: May 10, 1893
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

28/05/2026

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

21/07/2025
29/06/2025

"سیلاب کی لہروں میں کھڑی مردانہ غیرت
سوات کی وادی میں آنے والے ہولناک سیلاب میں، جب پانی کی بےرحم لہریں ہر سمت سے زندگی کو نگلنے آ رہی تھیں، تب انسانیت ایک لمحے کے لیے ٹھہر گئی۔ ایک چھوٹے سے پتھریلے ٹاپو پر، زندگی ایک لکیر کی صورت میں کھڑی تھی مرد، عورتیں، بچے
سب موت کے دھانے پر۔ لیکن غور سے دیکھیے!
تصویر کا منظر اپنے اندر ایک ایسا پیغام لئے بیٹھا ہے جو صرف وہی پڑھ سکتا ہے جس کی نگاہ میں ایمان اور دل میں غیرت زندہ ہو۔
یہاں سب سے پہلے اور سب سے آخر میں مرد کھڑے ہیں ایک محافظ کی طرح، ایک دیوار کی مانند۔ درمیان میں خواتین اور بچے اور ان کے آگے ایک نوجوان لڑکا، چھوٹا سہی، مگر مردانگی کے اسباق لیے ہوئے۔ یہ کوئی معمولی ترتیب نہیں، یہ فطرت کا وہ نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمایا
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ"
(النساء: 34)
"مرد عورتوں پر ذمہ دار اور محافظ ہیں۔"

یہ آیت محض الفاظ نہیں، بلکہ اس تصویر میں مجسم حقیقت ہے۔
یہ تصویر اس بات کا عملی ثبوت ہے
مشکل وقت آ جائے تو فطرت خود مرد کو آگے کرتی ہے یہی اس کا مقام ہے، یہی اس کا شرف۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان مرد کو اس عکس جیسی غیرت، شجاعت اور تحفظ کی طاقت دے، اور ہر عورت کو اس حقیقت کا ادراک کہ مرد اس کا دشمن نہیں بلکہ اللہ کا بنایا ہوا محافظ ہے ۔
یہ تصویر کسی بزدل معاشرے کی نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی ہے جس میں مرد اب بھی اپنی جگہ پر کھڑا ہے، اور عورت اب بھی اس کی پشت پر پناہ لیتی ہے
ایسی ہی تصویر ہمارا اصل نظریہ ہے، ہمارا فطری نظام ہے،
تادم تحریر ان میں سے تین افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ جبکہ سات افراد کی لاشیں مل چکی ہیں باقی لوگوں کے لیے سرچ اپریشن جاری ہے اور یہ خدمات ریسکیو ون ون ٹو ٹو اور پاکستان ارمی کے جوان انجام دے رہے ہیں اللہ پاک پاکستان اور پاک کشمیر کی عوام اور افواج پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔

Address

Habib Sugar Mills Colony
Nawabshah
67450

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Attiq ur Rehman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Attiq ur Rehman:

Share

Category