03/06/2026
✍️ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں مصر میں گھوڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد ہوا
✍️ جس میں مصر کے گورنر حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کے لڑکے محمد نے بھی حصہ لیا !!!! مگر جیت ایک مقامی قبطی عیسائی کے گھوڑے کی ہوئی
✍️ اس پر محمد بن عمروابن العاص نے اس عیسائی کو یہ کہتے ہوئے کوڑے سے پیٹ ڈالا کہ "میں بڑے آدمی کی اولاد ہوں" (بعض روایات کے مطابق "میں معزز والدین کی اولاد ہوں")
✍️ یہ مسلم ہسٹری میں وی آئی پی کلچر کے سر اٹھانے کی پہلی کوشش تھی ، مگر ایسی دبائی گئی کہ پولیٹکل سائنس میں آج بھی دمکتا ریفرنس ہے
✍️ اس واقعے کے بعد ہوا یہ کہ عیسائی سیدھا مدینہ منورہ پہنچا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے شکایت کردی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لڑکے کو باپ یعنی گورنر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سمیت مدینہ منورہ طلب کرلیا ، اور جب یہ مدینہ منورہ پہنچے تو عیسائی کو کوڑا پکڑا کر فرمایا "اسے اسی طرح پیٹو، جیسے تمہیں پیٹا تھا"
وہ پیٹ چکا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا "اس کے باپ کے گنجے سر پر ایک کوڑا مار"
✍️ عیسائی نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ مجھے باپ نے نہیں پیٹا تھا حضرت عمر نے فرمایا "مار اس کو بھی کیونکہ اسی کی شہ پر تو اس نے تجھے مارا تھا"
مگر عیسائی نے اس سے گریز کیا ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنر حضرت عمر ابن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی جانب متوجہ ہوئے اور یہ تاریخی جملہ کہا
"مَتَى اسْتَعْبَدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا؟"
ترجمہ: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کر دیا، ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا؟❤️
یہ واقعہ دوِر خلافت راشدہ کے عدل و انصاف کی عمدہ مثال ہے
بحوالہ : فتوح مصر و المغرب از ابن عبدالحکم