Abdul Rahim Safdar

Abdul Rahim Safdar I am Digital Marketer and Social Media Activest.

29/08/2025

اتنے پیر فقیر ہیں پاکستان میں، کوئی ہے جو سیلاب اور بارش روک کے دکھائے ...؟
لاؤ کوئی سامنے سوائے اللہ کے کوئی مدد گار نہیں ...!

“چڑا شربت” کے نام سے جو چیز مارکیٹ میں بیچی جا رہی ہے، اس کے بڑے بڑے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے فوائد...
29/08/2025

“چڑا شربت” کے نام سے جو چیز مارکیٹ میں بیچی جا رہی ہے، اس کے بڑے بڑے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے فوائد کے کوئی مستند سائنسی یا طبی شواہد موجود نہیں۔ ایسے شربت وقتی جوش تو پیدا کر سکتے ہیں مگر طویل المدتی طور پر جگر، گردوں اور ہارمونی نظام کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

اصل طاقت اور تندرستی کبھی کسی غیر مصدقہ شربت سے نہیں آتی بلکہ متوازن غذا، ورزش، اچھی نیند اور مستند ڈاکٹر کی رہنمائی ہی اصل حل ہے۔ اس لیے “چڑا شربت” جیسے غیر یقینی اور غیر معیاری نسخوں سے بچنا ہی عقل مندی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر چیز میں الگ الگ عادات ڈالی ہیں اور ہر جاندار کی نفسیات بھی الگ الگ ہے انکی خوراک بھی الگ ہے۔اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ بھینس گھاس کھاتی اور ہضم بھی کرتی ہے ۔شیر کچا گوشت کھاتا ہے اور ہضم بھی کرتا ہے ۔جبکہ انسان ایسے نہیں کر سکتا ۔اپ صرف اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوق بنایا ہے یعنی تمام مخلوق سے بہترین ۔پھر آپ کیوں چڑا بننے یا گھوڑا بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت عظیم بنایا ہے ۔اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں. کئی لوگ یعنی ہزاروں لوگ اس شربت کو پی چکے ہوں گے ۔اور یہ چڑا شربت اس کا نام رکھا کسی نے بڑا سوچ سمجھ کر ۔کیونکہ چڑا ایک منٹ میں تقریبا 40 بار چڑیا کے اوپر نیچے ہو جاتا ہے ۔ہمارے ملک میں لوگوں کی نفسیات سے کھیلا جاتا ہے ۔اگر اپ بائی روڈ پاکستان کی کسی شہر تک کم از کم 50 60 کلومیٹر 100 کلومیٹر سفر کریں تو اپ کو بہت بڑی مقدار میں وال چیکنگ نظر ائے گی ۔اس میں دو چیزیں بڑی نمایاں ہوتی ہیں ۔نمبر ایک محبوب اپ کے قدموں میں اور نمبر دو مردانہ کمزوری کا خاتمہ ۔اخر ایسے لوگ بھی تو کمائی کر رہے ہیں ۔

30/06/2025
یکم ہجری سے بارہ ہجری تک کے اہم اسلامی واقعات مختصر طور پر:1. **یکم ہجری:**  - ہجرتِ مدینہ  - مسجد نبوی کی بنیاد  - اذان...
30/06/2025

یکم ہجری سے بارہ ہجری تک کے اہم اسلامی واقعات مختصر طور پر:

1. **یکم ہجری:**
- ہجرتِ مدینہ
- مسجد نبوی کی بنیاد
- اذان کی ابتدا
- مہاجرین و انصار میں مواخات
- میثاقِ مدینہ
- حضرت عائشہؓ کی رخصتی

2. **دو ہجری:**
- غزوہ بدر
- روزے، زکوٰۃ، فطرانہ فرض
- قبلہ کی تبدیلی
- عید الفطر و عید الاضحی
- حضرت علیؓ و حضرت فاطمہؓ کا نکاح

3. **تین ہجری:**
- غزوہ احد
- حضرت حسینؓ کی پیدائش
- حضرت عثمانؓ کی زوجہ حضرت رقیہؓ کا انتقال

4. **چار ہجری:**
- غزوہ بنی نضیر
- حضرت حسنؓ کی پیدائش

5. **پانچ ہجری:**
- غزوہ خندق (احزاب)
- غزوہ بنی قریظہ

6. **چھ ہجری:**
- صلح حدیبیہ
- بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے خطوط

7. **سات ہجری:**
- غزوہ خیبر
- حضرت جعفر طیارؓ کی واپسی

8. **آٹھ ہجری:**
- فتح مکہ
- غزوہ حنین و طائف

9. **نو ہجری:**
- غزوہ تبوک
- وفود کا سال
- حج فرض

10. **دس ہجری:**
- حجۃ الوداع
- حضرت ابراہیمؓ (بیٹے) کی وفات

11. **گیارہ ہجری:**
- رسول اللہ ﷺ کا وصال
- حضرت ابوبکرؓ کی خلافت

12. **بارہ ہجری:**
- حضرت ابوبکرؓ کی وفات
- حضرت عمرؓ کی خلافت کا آغاز

1990 میں پاکستان میں بچپن کے دن آج کی نسبت زیادہ سادہ اور کم تکنیکی تھے۔  سکول میں بچے کاغذ، پنسل اور کتابوں سے پڑھتے تھ...
30/06/2025

1990 میں پاکستان میں بچپن کے دن آج کی نسبت زیادہ سادہ اور کم تکنیکی تھے۔
سکول میں بچے کاغذ، پنسل اور کتابوں سے پڑھتے تھے، کھیل کھیل میں سیکھنے کا رواج تھا، اور گھر میں بچے گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے۔
گھر اور محلے میں بچے گلی ڈنڈا، لکڑی کی گاڑیاں، لٹو، پتنگ بازی اور کھیلوں کے سادہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔ کاروباری خاندانوں میں بچے دکان یا کام میں ہلکا پھلکا مدد کرتے تھے۔

1990 میں ٹی وی پر صرف چند چینلز تھے، بچے شام کو پی ٹی وی کے ڈرامے یا کارٹون دیکھتے تھے۔
عید، بسنت اور دیگر تہواروں پر محلے میں سب اکٹھے ہو کر خوشیاں مناتے، اور چھٹیوں میں دادا، دادی یا نانا، نانی کے گھر جانا عام بات تھی۔
اس وقت موبائل فون یا انٹرنیٹ نہیں تھا، دوستوں سے خط لکھ کر یا براہ راست مل کر بات چیت ہوتی تھی۔

1990 میں بچپن بہت سادہ اور خاندانی ماحول میں گزرتا تھا۔
گھر میں سب اکٹھے رہتے، بچے گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے، اور محلے کے سب بچے مل کر کھیلتے جیسے برف پانی، پٹھو گرم، گلی ڈنڈا، کیرم بورڈ یا بیڈمنٹن۔
عید، شب برات، محرم اور 14 اگست جیسے تہواروں پر محلوں میں خوب رونق ہوتی، سب مل جل کر خوشیاں مناتے، اور چھٹیوں میں نانی یا دادی کے گھر جانا عام تھا۔

1990 کے پاکستان میں بچپن کا ماحول بہت خاندانی اور سادہ تھا۔
گھر میں سب اکٹھے رہتے، بچے بڑوں کی عزت کرتے، اور ہر خوشی یا غمی پر پورا خاندان اکٹھا ہوتا تھا۔
محلے کے سب بچے شام کو گلی میں کھیلتے، بارش میں نہاتے، کاغذ یا کپڑے کی پتنگیں اڑاتے، اور چھٹیوں میں نانی یا دادی کے گھر جانا سب کی سب سے بڑی خوشی ہوتی تھی۔

اس دور میں دکان کا کھیل، کیرم بورڈ، شطرنج، لوڈو، برف پانی، پٹھو گرم، اور بیڈمنٹن جیسے کھیل عام تھے۔
ٹی وی پر صرف پی ٹی وی ہوتا تھا، کارٹون یا ڈرامے سب اکٹھے دیکھتے، اور عید یا تہواروں پر محلے بھر میں رونق ہوتی تھی۔
کاروباری گھرانوں کے بچے دکان یا کاروبار میں بڑوں کا ہاتھ بٹاتے، اور ہر بچہ گھر کے کاموں میں بھی شریک ہوتا تھا ...!

پاکستان میں پائے جانے والے اہم پھل اور ان کی مختصر تفصیل یہ ہے:1. آم: پھلوں کا بادشاہ، میٹھا، خوشبودار، مختلف اقسام جیسے...
30/06/2025

پاکستان میں پائے جانے والے اہم پھل اور ان کی مختصر تفصیل یہ ہے:

1. آم: پھلوں کا بادشاہ، میٹھا، خوشبودار، مختلف اقسام جیسے چونسا، سندھڑی، انور رٹول۔
2. کینو/مالٹا: رس دار، وٹامن سی سے بھرپور، زیادہ تر پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔
3. امرود: دو رنگ (سفید و سرخ)، ہاضمہ کے لیے مفید، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور۔
4. سیب: مختلف اقسام، غذائیت سے بھرپور، زیادہ تر شمالی علاقوں میں اگتا ہے۔
5. انگور: رس دار، مختلف رنگ اور ذائقے، بلوچستان میں زیادہ پیدا ہوتا ہے۔
6. انار: سرخ دانے، صحت کے لیے بہترین، پنجاب اور بلوچستان میں کاشت۔
7. خوبانی: میٹھا، وٹامن اے سے بھرپور، گلگت بلتستان میں زیادہ اگتا ہے۔
8. ناشپاتی: رس دار، نرم، مختلف اقسام۔
9. چیکو: میٹھا، بھورا رنگ، سندھ میں زیادہ پیدا ہوتا ہے۔
10. لیچی: رس دار، خوشبودار، پنجاب میں کاشت۔
11. چلغوزہ: خشک میوہ، مہنگا، شمالی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے۔
12. کھجور: توانائی بخش، سندھ اور بلوچستان میں زیادہ پیدا ہوتی ہے۔
13. شریفہ: میٹھا، کریمی گودہ، وٹامنز سے بھرپور۔
14. پپیتا: ہاضمہ کے لیے بہترین، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور۔

آپ نے مزید پھلوں کے بارے میں پوچھا ہے، تو یہ بھی پاکستان میں عام پائے جاتے ہیں:

15. آلوچہ: چھوٹا، کھٹا میٹھا، زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں۔
16. آڑو: نرم، رس دار، گلگت بلتستان اور سوات میں زیادہ اگتا ہے۔
17. بیر: چھوٹا، سخت، میٹھا یا کھٹا، پنجاب اور سندھ میں عام۔
18. تربوز: بڑا، رس دار، گرمیوں میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔
19. خربوزہ: میٹھا، خوشبودار، گرمیوں کا خاص پھل۔
20. فالسہ: چھوٹا، کھٹا میٹھا، گرمی میں ٹھنڈک دیتا ہے۔
21. سٹرابیری: سرخ، رس دار، زیادہ تر مری اور ایبٹ آباد میں اگتی ہے۔
22. کیلا: توانائی بخش، پورے ملک میں دستیاب۔
23. انجیر: نرم، میٹھا، بلوچستان اور شمالی علاقوں میں۔
24. اخروٹ: خشک میوہ، دماغی صحت کے لیے بہترین، شمالی علاقہ جات میں۔

جتنا شدت سے پیپسی اور کوکا کولا کا بائیکاٹ ہوگا اتنی ہی شدت سے نیکسٹ کولا اور لوکل برانڈز کی مقدار اور کوالٹی کم جبکہ قی...
03/05/2025

جتنا شدت سے پیپسی اور کوکا کولا کا بائیکاٹ ہوگا اتنی ہی شدت سے نیکسٹ کولا اور لوکل برانڈز کی مقدار اور کوالٹی کم جبکہ قیمت بڑھتی رہے گی ...!
نیکسٹ کولا نے ریگولر بوتل کی مقدار 345 ML سے کم کر کے 300 ML کر دی ہے اور پیٹ کا ریٹ 3 ماہ پہلے 470 سے بڑھا کر اب 580 کر دیا ہے ہور چوو آمب
ٹیکنالوجیہ۔۔۔

02/05/2025

موت نئی زندگی کے لیے جگہ بناتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے انسان میں اربوں خلیات ہوتے ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر بنتے اور ٹوٹتے ہیں اس طرح نمو جاری رہتی ہے۔ زندہ خلیات میں ایک زبردست قوت پائی جاتی ہے، جو خطرناک خلیات سے لڑنے اور انہیں ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے مثلاﹰ وائرس یا سرطان کے خلیات سے جنگ کی صورت میں۔ پرانے خلیات نئے خلیوں سے تبدیل ہوتے جاتے ہیں مگر جب نئے خلیات کا بننا سست اور بلآخر رک جاتا ہے، تو معاملہ رفتہ رفتہ بگڑنے لگتا ہے۔ اس طرح نئے خلیات جسم میں پیدا نہیں ہوتے اور پرانے رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہیں۔

گو کہ انزائم کیومیریس یہ یقینی بناتا ہے کہ کسی طرح خلیات کی تقسیم کا عمل جاری ہے، مگر اس کی وجہ سے سرطان کے خلیاتی کی تخلیق بھی تیزی پکڑتی جاتی ہے۔

حیاتیاتی طور پر انسانی جسم ایک سو بیس برس تک فعال ہوتا ہے، مگر مختلف عناصر مثلاﹰ خوراک ہوا اور دیگر چیزیں رفتہ رفتہ یہ عمر کم کرتی چلی جاتی ہیں۔

موت ہے کیا؟

طبعی زندگی کا عمل عموماﹰ مختلف اعضاء کے ناکارہ ہونے، قلبی نظام کے تھم جانے، پھیپڑوں اور دماغ کے ناکارہ ہونے کی صورت میں رکتا ہے۔ طبی نکتہ ہائے نگاہ سے موت کی مختلف اقسام ہیں، ایک طرف تو ’کلینیکل موت‘ ہے، جس میں قلبی نظام رک جاتا ہے، جس کے نتیجے میں آکسیجن کی مختلف اعضاء تک ترسیل بند ہو جاتی ہے۔ کلینکل موت کو ٹالنے کے لیے منہ سے سانس دینے، یا مصنوعی سانس دینے اور سینے کو دبانے سے اسے ٹالنا ممکن ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر دماغ ناکارہ ہو جائے، یعنی موت دماغی ہو، تو پھر اسے ٹالنا ممکن نہیں ہوتا۔ گو کے دماغ کی نچلی تہوں میں کچھ خلیات برین ڈیتھ کی صورت میں بھی زندہ ہو سکتے ہیں، مگر شعور جاتا رہا ہے۔ یہ بات تاہم اہم ہے کہ دماغی طور پر مرنے والوں کو بھی مصنوعی طریقے سے طویل عرصے تک زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ دماغی طور پر مر چکی خواتین کو بچے کی پیدائش تک مصنوعی طور پر زندہ رکھنے کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ دماغی طور پر مردہ ہو چکے بعض مریض بیرونی عوام پر ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں، تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی وجوہات ریڑھ کی ہڈی سے وابستہ ہو سکتی ہے اور اصل میں یہ درد یا بیرونی چھونے کا ردعمل نہیں ہوتے۔

کرپٹو کمزور دل افراد کے لیے ہرگز نہیں۔مشورہ: بٹ کوائن کی ڈومی نینس 75 فیصد تک جانے تک آلٹ کوائنز میں شدید احتیاط برتیں۔
14/04/2025

کرپٹو کمزور دل افراد کے لیے ہرگز نہیں۔
مشورہ: بٹ کوائن کی ڈومی نینس 75 فیصد تک جانے تک آلٹ کوائنز میں شدید احتیاط برتیں۔

Address

Kasur
Kasur
55050

Telephone

+923015313781

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul Rahim Safdar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Abdul Rahim Safdar:

Share