ubaid ullah achakzi

ubaid ullah achakzi جہاں رہے خوش رہو کیسی کو تکلیف مت دو تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے

"امیر محترم! باہان صبح اپنے ٹڈی دل لشکر کے ساتھ حملہ آور ہونا چاہتا ہے۔"رات کو جب مخبر کے ذریعے یہ اطلاع حضرت امین الامۃ...
16/01/2026

"امیر محترم! باہان صبح اپنے ٹڈی دل لشکر کے ساتھ حملہ آور ہونا چاہتا ہے۔"

رات کو جب مخبر کے ذریعے یہ اطلاع حضرت امین الامۃ ؓ کو ملی تو آپ نے فوراً مجلس مشاورت منعقد کی۔ مشاورت کے بعد فیصلہ ہوا اگرچہ آج مسلمان سخت ترین اور اعصاب شکن جنگ لڑے ہیں لیکن اس کے باوجود بھرپور تیاری کے ساتھ باہان کے لشکر کا مقابلہ کریں گے۔

ہوا یوں کہ جبلہ بن ایہم کو باہان ارمنی نے بعد میں جنگ کی صورت حال پوچھی۔ اس نے کہا:

"سردار! ہم برابر مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرتے آرہے تھے۔ ان کو ہم نے ہر طرف سے گھیر لیا تھا۔ یہاں تک کہ سورج ڈھلنا شروع ہوگیا۔ حملے کے دوران نامعلوم شور شرابہ پیدا ہونا شروع ہوگیا۔ ہمارے سپاہی لڑائی سے بدکنے لگے۔ ان کی ہوا اکھڑ گئی۔ وہ کٹ کٹ کر گرنے لگے۔ پھر میدان سے بھاگنے لگے۔ سردار! مجھے لگتا ہے ان عربوں کے ساتھ ضرور کوئی غیبی مدد ہے۔ ورنہ یہ لوگ یوں چند آدمی لے کر اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر سے لڑنے نہ نکل آتے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اتنے چھوٹے سے گروہ کو قابو کرنا کیا مشکل تھا؟"

باہان نے کہا:
"میں تم لوگوں کو ایلچی بنا کر بھیجتا ہوں تو وہ تمھیں دھتکار دیتے ہیں، تمھاری بات منظور نہیں کی جاتی۔ اگر مقابلے کے لیے بھیجوں تو تم شکست کھا کر بھاگ آتے ہو۔ صلیب کی مدد کے ساتھ کل میں اپنے لشکر کو لے کر ان پر حملہ کروں گا اور انھیں مٹی میں ملا دوں گا۔"

غرض اس نے جبلہ کو سب کے سامنے بہت بے عزت کیا اور منصوبہ بندی کرنے لگا کہ کل کس طرح مسلمانوں کو زیر کرنا ہے۔ باہان کے منصوبے کی اطلاع پاکر حضرت امین الامۃ ؓ نے بھی مشاورت کے بعد ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم کرلیا۔

اس کے بعد آپ نے امیر المومنین سیدنا عمرفاروق ؓ کے پاس ایک قاصد کو خط دے کر روانہ کیا۔ اس خط میں آپ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کی لڑائی اور آئندہ کی صورت حال لکھی تھی۔ حضرت امیر المومنین نے وہ خط تمام لوگوں کو پڑھ کر سنایا تو بہت سے لوگ شام میں لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ جیسے جیسے یہ خبر پھیلتی گئی لوگ جوق در جوق آنا شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ مخلتف قبائل کے چھ ہزار سے زائد لوگوں کا لشکر مدینہ منورہ کے باہر جمع ہوگیا۔

سیدنا عمرفاروق ؓ نے سعید بن عامر کی قیادت میں اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔ سعید بن عامر پہلے کئی مرتبہ شام آئے گئے تھے مگر لشکر کسی مختصر اور محفوظ راستے سے لے کر جانے کی کوشش میں سیدھے رستے سے بھٹک گئے۔ پندرہ بیس دن تک یہ مختلف جنگلوں اور پہاڑی گھاٹیوں میں پھرتے رہے۔ اسی دوران ایک جگہ پر ان کا ٹاکرا والی عمان کے ساتھ ہوگیا۔ وہ باہان کے لشکر کی مدد کے لیے ساز و سامان کا بند و بست کر رہا تھا۔ کافی دیر کی لڑائی کے بعد مسلمانوں کو فتح ہوئی اور بہت سا مال غنیمت بھی میسر آیا۔

اسی لڑائی کے دوران مسلمانوں کو اپنی طرف ایک دستہ بڑھتا ہوا نظر آیا۔ جب یہ قریب پہنچے تو انھوں نے تکبیریں بلند کیں۔ مسلمان پہلے تو سمجھے شاید رومیوں کی کمک پہنچ گئی ہے مگر جب تکبیریں سنی تو یقین ہوگیا ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔

واقدی کہتے ہیں یہ دستہ ایک ہزار سواروں پر مشتمل تھا جس کی کمان زبیر بن العوام اور فضل بن عباس کر رہے تھے۔ یہ دستہ والی عمان کی ہی سرکوبی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہیں ان کی ملاقات مدینہ سے آنے والے امدادی لشکر سے ہوگئی۔ جب یہ فتح کے بعد یرموک پہنچے تو رومی اپنے پڑاؤ سے گردنیں اونچی کرکے دیکھنے لگے۔ کیوں کہ چھ ہزار سے زائد وہ مسلمان تھے جو مدینہ سے آئے تھے اور ایک ہزار کمک تھی۔ یوں سات سے ساڑھے سات ہزار کا لشکر جب تکبیر و تہلیل کی آوازیں بلند کرتے ہوئے یرموک کے میدان میں پہنچا تو رومیوں پر غم کے مہیب سائے چھا گئے۔ خوف و دہشت ان کے دلوں میں اتر گئی۔ اس کی بڑی وجہ حضرت خالد بن ولید ؓ کا وہ حملہ بھی تھا جس میں صرف ساٹھ بہادروں نے حصہ لیا تھا اور جبلہ کے ہزاروں کے لشکر کو خاک چٹا دی تھی۔ اب تو مسلمانوں کی طرف مزید کمک پہنچ گئی تھی۔ اب ان کا ڈرنا بنتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔

رومی سپاہی مسلسل شکستوں سے انتہائی مایوسی کے شکار ہو چکے تھے۔ ان کے سامنے وہ باتیں بھی تھیں جو ان کے آسمانی کتب کے عالموں نے بتائی تھیں کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے پیروکار اس سرزمین کو فتح کریں گے۔ رومی سپاہی دیکھ رہے تھے کہ چند یا چند سو عرب جنگجو آتے ہیں اور ہمارے بڑے بڑے لشکروں کو مات دے دیتے ہیں۔ ہمارے کتنے ہی نامی گرامی پہلوانوں کو ان کے ننگے بدن اور پرانے ہتھیاروں والے سپاہیوں نے آسانی سے مار کاٹ کر رکھ دیا۔ رومی سپاہی لڑنے سے بہت بددل تھے مگر شہنشاہ کا ڈر، مال و دولت کا لالچ ان کو میدان میں کھینچ لاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس متحدہ رومی لشکر میں سیاسی، نسلی و مذہبی اختلافات بھی موجود تھے۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ رومیوں کی پے در پے شکستوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں اصل وجہ ان کے عوام کا دینی بگاڑ تھا جس کی بدولت وہ راہ حق سے محروم رہے اور اس وقت دنیا کی سپر پاور سمجھی جانے والی سلطنت روما مٹھی بھر حق پرستوں سے شکست کھا گئی۔ ورنہ کسی قسم کی کمی ان کے پاس نہیں تھی، اگر کمی تھی تو صرف اور صرف حق بات کو نہ ماننے کی۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی پیروی نہ کرنے کی۔ جو قوم بھی ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرے گی وہ جلد یا بدیر ضرور بالضرور تباہ ہوکر رہے گی۔

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور تم خار ہوئے تارک قرآں ہوکر ____

آج بھی مسلمان متحد ہوکر صحابہ کرام کی طرح ہر معاملے میں سو فیصد اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنا شروع کردیں تو وہی عروج، وہی دبدبہ، وہی شان و شوکت امتِ مسلمہ کو دوبارہ حاصل ہوسکتا ہے۔

علامہ محمد اقبال رحمہ اللّٰہ نے خوب کہا:

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں
۔۔۔۔
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
۔۔۔۔
منفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک؟

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

کون ہے تارک آئینِ رسولِ مختار؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟

کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
ہو گئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بے زار؟

قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
۔۔۔۔

واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسمِ اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
۔۔۔۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود!
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہـ ـود

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟

دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباک
عدل اس کا تھا قوی لوثِ مراعات سے پاک

شجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناک
تھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوقُ الاَدراک
۔۔۔۔
ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا
اس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھا

جو بھروسا تھا اسے قوتِ بازو پر تھا
ہے تمہیں موت کا ڈر، اُس کو خدا کا ڈر تھا
۔۔۔۔
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہے؟

حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر!

تم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیم
تم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریم

چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم

خودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددار
تم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثار

تم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بہ کنار

اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
نقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی

آج بھی ہو جو براہیم کا سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
۔۔۔۔۔۔۔۔

"یہ کون ہیں؟"
جب قیدی باہان کے سامنے پیش کیے گئے تو اس نے حقارت سے پوچھا۔

جبلہ نے کہا:
"سردار! یہ مسلمان قیدی ہیں جو ہم نے گرفتار کیے تھے۔ بہت سوں کو ہم نے مار دیا ہے، یہ پانچ گرفتار ہوچکے ہیں۔ البتہ وہ انسان بچ گیا ہے جو ان سب سے زیادہ جنگجو ہے۔ جس نے ہمارے بہت سے قلعے اور شہر فتح کیے ہیں۔"

"کون ہے وہ؟"
باہان ارمنی نے پوچھا۔

"اس کا نام خالد بن ولید ہے۔ قبیلہ مخزوم سے اس کا تعلق ہے۔"
جبلہ نے بتایا۔

باہان کہنے لگا:
"ہم فی الحال حملے کو مؤخر کرتے ہیں۔ اس کی جگہ فریب کاری سے کام لے کر اس خالد بن ولید کو یہاں بلاتے ہیں، پھر گرفتار کرکے ان سب کو فنا کردیں گے۔ یہ قیدی ہمارے فریب دینے میں کام آئیں گے۔"

پھر باہان نے ایک شخص کو مسلمانوں کی طرف بھیج کر مذکرات کے لیے خالد بن ولید ؓ کو بلایا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ سے اس شخص کی ملاقات ہوئی۔ اس سے بات کرنے کے بعد آپ نے حضرت امین الامۃ ؓ کو سب قصہ سے آگاہ کیا۔ آپ نے کہا:

"ابو سلیمان! تم اکیلے نہ جاؤ۔ اپنے ساتھ سو بہادروں کو لے کر جاؤ۔ مجھے اکیلے جانا مناسب نہیں لگ رہا۔"

چنانچہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنے ساتھ سو بہترین شہسواروں کو لیا اور باہان کی طرف چل پڑے۔ جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ کیسے رومیوں کا لشکر ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ ملکِ روم کے مخلتف علاقوں سے اکٹھے کیے گئے سپاہیوں کا جم غفیر پانچ سات میل تک پھیلا ہوا تھا۔ اسلحے کے ڈھیر اور بے بہا جانور نظر آرہے تھے۔

یہ سو بہادر کسی بھی قسم کے خوف اور حیرت کو ظاہر کیے بغیر سینہ تان کر چلتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایک بڑے خیمہ تک پہنچ گئے۔ یہ ایک شاہی طرز کا خیمہ تھا جس کے ارد گرد بہت سے سپاہی چوکنے کھڑے تھے۔ قیمتی کپڑے سے بنے اس خیمے سے جبلہ برآمد ہوا اور حضرت خالد بن ولید ؓ کو کہنے لگا:

"آپ لوگ گھوڑوں سے اتر جائیں اور اپنے ہتھیار محافظوں کے حوالے کردیں۔"

آپ نے کہا:
"ہم گھوڑوں سے اتر جائیں گے مگر ہتھیار کسی صورت محافظوں کے حوالے نہیں کریں گے۔"

جبلہ اندر گیا اور باہان کو صورت سے مطلع کیا۔ اس نے اجازت دیدی۔ جبلہ نے کہا:

"ٹھیک ہے۔ ہتھیاروں سمیت اندر آجائیں مگر صرف خالد بن ولید۔ باقی کوئی نہیں۔ کیوں کہ ہم نے صرف خالد بن ولید کو بلاوا بھیجا تھا۔"

آپ نے فرمایا:
"ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ میں اکیلا نہیں، اپنے سب ساتھیوں سمیت اندر جاؤں گا۔"

اس نے کہا:
"سپہ سالار کے حکم کی تعظیم کیجیے۔"

آپ نے کہا:
"ہمارے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی ہے، ان کے بعد مسلمانوں کے امیر المؤمنین کی۔ تمھارے سپہ سالار کی، جو خدا کے رسول ﷺ کو نہیں مانتا بلکہ ان کے دین سے دشمنی رکھتا ہے، اطاعت یا تعظیم کرنا ہم پر ضروری نہیں۔"

جبلہ پھر اندر گیا۔ کچھ دیر بعد واپس آکر کہا:
"ٹھیک ہے آپ لوگ اندر آجائیں۔"

یہ سب لوگ اندر داخل ہوئے تو باہان اپنے خیمہ میں تخت پر شان و شوکت سے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے خدام کو کہا:

"ان سب کو کرسیاں پیش کی جائیں مگر مسلمانوں نے کرسی کے بجائے نیچے بیٹھنا پسند کیا۔ پھر اپنے ہتھیاروں کو سنبھال کر زمین پر بیٹھ گئے۔"

حضرت خالد بن ولید ؓ نے کہا:
"باہان! بتاؤ تم کیا کہنا چاہتے ہو؟"

پھر ان دونوں کے درمیان دیر تک بات چیت ہوتی رہی۔ باہان وہی پرانی دھمکیاں، طعنے اور لالچ دیتا رہا، آپ نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ بہت دیر تک گفتگو رہی۔ آخر باہان نے جب یہ کہا:

"تمھارے پانچ ساتھی میری قید میں ہیں۔ میں ابھی ان کی گردنیں اتار دوں گا۔"

یہ سن کر حضرت خالد بن ولید ؓ نے تلوار میان سے نکالی اور کھڑے ہوگئے۔ آپ کے ساری ساتھیوں نے بھی اپنے ہتھیار ان سب پر تان لیے۔ اچانک منظر بدلنے پر جبلہ اور باہان دم بخود رہ گئے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے گرج کر فرمایا:

"اگر تم نے ایسی کوشش بھی کی تو ہم سب تمھارے سینکڑوں سپاہیوں کے لیے کافی ہوں گے۔ لمحوں میں تمھاری تکہ بوٹی کرکے رکھ دیں گے۔" پھر باہان کی طرف اشارہ کرکے کہا: "اور تمھیں تو ہم اسی وقت فنا کرکے رکھ دیں گے۔"

اس کے ساتھ مسلمانوں نے جب نعرہ تکبیر بلند کیا تو وہاں موجود ہر کسی پر دہشت چھا گئی۔ باہان نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کہا:

"خالد! جلدی نہ کرو۔ میں اگر ایسا چاہتا تو تمھیں صلح کے لیے بلاتا ہی کیوں؟ میں صرف تمھیں آزما رہا تھا۔"

اس کے بعد مزید کچھ دیر بات چیت کرنے کے بعد اس نے خدام اور محافظوں کو حکم دیا کہ ان کے قیدیوں کو واپس کردیا جائے اور ان سب کو لشکر کے آخر تک باحفاظت واپس چھوڑ کر آئیں۔

حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنے قیدی ساتھیوں کو لیا اور واپس چلنے کے لیے مُڑے۔ باہان ارمنی نے آپ کو کہا:

"خالد! کل ہم تمھارے ساتھ جنگ کریں گے۔ اس کے لیے تیار رہنا۔"

آپ نے کہا:
"ہم اس کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا مددگار ہے۔"

یہ کہہ کر آپ نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور واپس اپنے لشکر کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب یہ سب لوگ مسلمانوں کے لشکر کے پاس پہنچے تو سب نے نعرہ تکبیر لگا کر ان کا استقبال کیا۔ پھر حضرت امین الامۃ ؓ ان سے گلے ملے اور باحفاظت واپسی پر سجدہ شکر ادا کیا۔ باقی لوگ بھی ان سے ملنے لگے۔ اس کے بعد حضرت امین الامۃ ؓ نے فرمایا:

"سب لوگ جمع ہو جائیں۔ باہان نے کل پھر جنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لہذا سب جمع ہوں تاکہ حکمت عملی طے کی جائے۔"

پھر ایک مجلس مشاورت منعقد ہوئی جس میں جنگ کی تیاریوں اور ترتیب کا تعین کیا گیا۔ ساری رات مسلمان جنگ کے لیے اپنی اپنی تیاری اور نماز و دعا میں مشغول رہے۔ صبح فجر کے بعد لشکر اسلام نے میدان میں نکل کر صف بندی شروع کردی۔ حضرت خالد بن ولید ؓ اپنی اسپیشل فورس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:

"ہمارے اور رومیوں کے درمیان یہ ایک خون ریز اور فیصلہ کن جنگ ہوگی۔ آپ لوگ ہرقسم کی لڑائی میں خوب مہارت رکھتے ہو، بتاؤ تمھاری کیا رائے ہے؟"

انھوں نے کہا:
"امیر محترم! ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ جنگ کرنا ہمارے لیے خوشی کا موقع ہے۔ رومیوں سے لڑنا ہماری عین خواہش ہے۔ آپ کا جو حکم ہوگا ہم اس کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم لڑائی سے پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔" یہ سن کر آپ نے سب کو بہت دعائیں دی۔

حضرت امین الامۃ ؓ نے خالد بن ولید ؓ کی مشاورت سے لشکر کے ایک بازو پر حضرت معاذ بن جبل ؓ کو مقرر کیا اور دوسرے بازو پر کنانہ بن مبارک یا عمرو بن معدی کرب کو۔

کنانہ بن مبارک بہت جرأت مند اور شجاع انسان تھے۔ اکیلے کئی کئی لوگوں کو لمحوں میں خاک چٹا دیا کرتے تھے۔ اپنے قبیلے کے مشہور شہسوار اور ماہر شمشیر زن تھے۔

جب سب سالار مقرر کردیے گئے تو حضرت امین الامۃ ؓ نے خالد بن ولید ؓ کو فرمایا:

"ابو سلیمان! چونکہ امیر المومنین نے مجھے شام کے عسکری و انتظامی معاملات کا حاکم بنایا ہے تو میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ میدان میں لشکرِ اسلام کی سربراہی تم سنبھالو۔ تم اپنی مرضی سے جسے جہاں تعینات کرنا چاہتے ہو کرو، میری طرف سے مکمل اختیار ہے۔"

حضرت خالد بن ولید ؓ نے کہا:
"ٹھیک ہے امیر محترم! جیسے آپ کا حکم۔ میں ان شاء اللّٰه پوری ذمہ داری سے یہ خدمت سر انجام دوں گا۔ بس آپ اتنا کریے کہ یہ حکم تمام سالاروں کو کہلا بھیجیے۔"

حضرت امین الامۃ ؓ نے ضحاک بن قیس کو حکم دیا کہ پورے لشکر میں ہر سالار کے پاس میرا یہ حکم پہنچا دیا جائے۔ چنانچہ یہ گئے اور سب تک حضرت امین الامۃ ؓ کا حکم پہنچا دیا۔ مسلمان حضرت خالد بن ولید ؓ کے امیر بننے پر بہت خوش ہوئے۔ ان کو معلوم تھا کہ جنگی معاملات کی جانچ پرکھ میں حضرت خالد بن منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔"

جب تمام احکامات سے لشکر اسلام کو مطلع کردیا گیا تو حضرت خالد بن ولید ؓ نے پوری لشکر کا چکر لگایا۔ ہر صف کا جائزہ لیا اور ہر سپاہی کو بغور دیکھا۔ ہر سالار کو جنگ کے متعلق اہم ہدایات اور قرآن و حدیث سنا کر لہو گرمایا۔ جب یہ کام مکمل ہوچکا تو آپ نے اپنے اسپیشل لشکر میں مزید بہادروں کو شامل کرکے اس کے چار حصے کیے۔ ایک حصے پر عامر بن طفیل، دوسرے پر قیس بن ہبیرہ المردی، تیسرے پر میسرہ بن مسروق العبسی اور چوتھے کو اپنی کمان میں لیا۔

اب لشکرِ اسلام لڑائی کے لیے مکمل تیار تھا۔ پورے لشکر میں ذکر اور تلاوت قرآن کی آواز گونج رہی تھے۔ اسلام کے جانباز اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر کے ساتھ ٹکرانے اور تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔

دوسری طرف باہان نے بھی اپنا لشکر پوری تیاری سے آگے بڑھایا۔ ان کے لشکر کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے انسانوں اور لوہے کا سیلاب بہتا چلا آرہا ہو۔ ان کی سروں سے بلند اتنے زیادہ نیزے تھے جیسے گھنا جنگل ہو۔ یہ جب ایک مخصوص فاصلے پر پہنچ گئے تو وہاں صف بندی شروع کی۔ باہان نے پورے لشکر کی تیس صفیں بنائی تھیں۔ ہر صف میں اتنے سپاہی تھے جتنا کہ کُل مسلمان لشکر۔ باہان سب سے آگے آگے تھا۔ اس کے ارد گرد اس کے محافظ چل رہے تھے۔ جبلہ کا گھوڑا اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ یہ بھی بڑی شان و شوکت سے نکلا تھا۔ باہان نے پادریوں کو حکم دیا کہ پورے لشکر میں چکر لگائیں اور متبرک پانی چھڑکیں۔ دھونی دیں اور سپاہیوں کے جذبات کو گرمائیں۔ یہ پورے لشکر میں پھیل گئے اور اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔

سورج عین آسمان کے بیچ پہنچ چکا تھا۔ دھوپ سے ہر چیز واضح تھی۔ دونوں لشکر مخصوص فاصلے پر کھڑے تھے۔ رومی دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں نے مضبوط صف بندی کی ہے۔ نیزے اور گھوڑے برابر کھڑے ہیں۔ سپاہیوں میں مناسب فاصلہ ہے اور ان کے بالکل بے خوف چہرے ہیں۔

(جاری ہے)

ماخوذ از فتوح الشام للواقدی اُردو ترجمہ
تسہیل و تلخیص: محمد عثمان انصاری

(قسط نمبر 38)

"زبیر بن العوام کہاں ہیں؟ شرحبیل بن حسنہ کہاں ہیں؟ یزید بن ابو سفیان کہاں ہیں؟ ہاشم بن سعید الطائی کہاں ہیں؟ قعقاع بن عم...
14/01/2026

"زبیر بن العوام کہاں ہیں؟ شرحبیل بن حسنہ کہاں ہیں؟ یزید بن ابو سفیان کہاں ہیں؟ ہاشم بن سعید الطائی کہاں ہیں؟ قعقاع بن عمرو التمیمی کہاں ہیں؟ جابر بن عبداللہ کہاں ہیں؟ عبداللہ بن عمر بن خطاب کہاں ہیں؟ ضرار بن ازور کہاں ہیں؟ رافع بن عمیرہ الطائی کہاں ہیں، عبدالرحمن بن ابی بکر کہاں ہیں؟"

حضرت خالد بن ولید ؓ نام لے لے کر سب کو پکارنے لگے۔ یہاں تک کہ ساٹھ بہادر جنگجو آپ نے اپنے گرد جمع کرلیے۔ یہ سب لوگ میدان جنگ کے پرانے کھلاڑی تھے۔ ان کی زندگی جنگیں لڑتے ہوئے گزری تھی۔ جنگی ہتھیاروں کا درست استعمال خوب جانتے تھے۔ آپ نے انھیں مخاطب کرکے کہا:

"اے اسلام کے جانبازو! اے اللہ کے دین کے مدد گارو! اللہ تعالیٰ تم پر رحمت نازل فرمائے۔ تمھارے مقابلے میں جو لشکر آیا ہے میرے ساتھ مل کر تم نے اس پر حملہ کرنا ہے۔ یہ لوگ جبلہ کے سپاہی ہیں اور عرب ہی ہیں۔ تم ان کو اچھی طرح جانتے ہو۔ اگر تم نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے تو رومیوں کے پورے لشکر پر مسلمانوں کا رعب چھا جائے گا۔ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے سے کترائیں گے۔ بتاؤ تمھاری کیا رائے ہے؟"

انھوں نے کہا:
"ابو سلیمان! ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ کا جو حکم ہوگا ہم اس پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے عمل کریں گے۔ ہم اللہ کے دین کی مدد کے لیے خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔ ان شاء اللّٰه"

حضرت خالد بن ولید ؓ اور حضرت امین الامۃ ؓ ان لوگوں کا یہ جواب سن کر بہت خوش ہوئے اور خوب دعائیں دیں۔ پھر خالد بن ولید ؓ نے فرمایا:

"آپ لوگ اپنا جنگی سامان درست کرلیں، بہتر سے بہتر گھوڑا ساتھ رکھیں۔ بہتر یہ ہے کہ دو دو تلواریں تمھارے پاس ہوں۔ نیزہ نہ ہو، کیوں کہ جب ہجوم ہوتا ہے تو اس سے لڑنا مشکل ہوتا ہے۔ وہ مُڑ کر ناکارہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے بہترین مضبوط تلواریں اپنے ساتھ رکھیں۔ اور آپس میں وعدہ کرلیں کہ ہم سب حوضِ کوثر پر نبی کریم ﷺ کے سامنے پھر دوبارہ جمع ہوں گے۔ ان شاء اللّٰه"

تمام ہدایات سننے کے بعد یہ لوگ اپنے اپنے خیموں کی طرف روانہ ہوگئے تاکہ وہاں جاکر اپنا سامان تیار کرلیں اور اپنے گھر والوں سے رخصت لے لیں۔ کیوں کہ یہ ایسا مشن ہے جس سے زندہ واپس آنا معجزہ ہی ہوسکتا ہے۔

حضرت ضرار بن ازور ؓ جب اپنے خیمے میں گئے تو سب سے پہلے اپنی بہن خولہ کو سلام کیا، اسے حوصلہ دینے لگے اور اپنا ساز و سامان درست کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر بہن خولہ بنت ازور ؓ نے کہا:

"بھائی جان! آج آپ ایسے تیار ہو رہے ہیں جیسے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ اور مجھ سے ایسے رخصت ہو رہے ہیں جیسے اب کبھی دوبارہ ملاقات نہیں ہوگی۔ آپ کا کیا ارادہ ہے مجھے کچھ اطلاع دیجیے؟"

لاڈلی بہن کی بات سن کر حضرت ضرار ؓ نے تمام قصہ بیان کردیا۔ بہن نے جب اس خطرناک ترین مہم پر روانگی کا سنا تو دل بھر آیا اور رونے لگی۔ پھر کہا:

"میرے پیارے بھائی! آپ اللہ تعالیٰ پر مضبوط یقین رکھنے والے ہیں۔ آپ خدا کے دشمنو سے ضرور لڑیے۔ اگر اللہ نہ چاہے تو کوئی دشمن آپ کو موت نہیں دے سکتا۔ اگر اللہ موت دینا چاہے تو کوئی ہمدرد اسے روک نہیں سکتا۔ اگر تمھیں کچھ ہوگیا تو تمھاری بہن خولہ پر بہت بڑا صدمہ آئے گا۔ جب تک وہ دشمن سے تمھارا بدلہ نہیں لے لے گی اور آپ تک پہنچ نہیں جائے گی، اس وقت تک اس پر آرام حرام ہوگا۔"

آپ بہن کے جذبات سن کر آبدیدہ ہوگئے۔ پھر اپنا سامان درست کرنے لگے۔ اسی طرح یہ اسلام کے جانباز اپنے اپنے گھروں سے رخصت ہوئے۔ رات کا جو بقیہ حصہ تھا وہ انھوں نے خوب دعائیں کرتے گزارا۔ یہاں تک کہ مؤذن فجر کی اذان دینے لگا۔

صبح نماز کے بعد حضرت خالد بن ولید ؓ جنگی اشعار پڑھتے ہوئے اور ہتھیار سجائے باہر نکلے۔ آپ کہہ رہے تھے:

"اے میرے بھائیو! جلد چلو دشمن کی طرف تاکہ اجر و ثواب حاصل کرنے میں سبقت لے جائیں۔ ہم اس عمل کے بدلے نیکی اور نجات کی امید رکھتے ہیں۔ کیوں کہ ہم اپنی جانیں خرچ کریں گے اور اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ صبح و شام ہماری مدد کرتے ہیں۔"

آپ کی آواز سن کر دیگر حضرات بھی پہنچنا شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ پورے ساٹھ جاں فروشوں کا دستہ اپنے اسلحے سے لیس ہوکر میدان میں آکھڑا ہوا۔ سب سے آخر میں حضرت زبیر بن العوام ؓ آئے۔ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی) فتح و نصرت کی دعائیں مانگتی آرہی تھیں۔ یہ جس وقت اپنے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ صدیق کے پاس پہنچی تو کہا:

"اے بھائی! اپنے پھوپھی زاد (زبیر بن العوام) سے علیحدہ نہ ہونا۔ حملے کے وقت جو یہ کریں تم بھی وہی کرنا۔ جس طرح یہ لڑیں تم بھی ایسے ہی لڑنا۔ اللہ تعالیٰ کے رستے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہ کرنا۔"
یہ کہہ کر آپ اپنے خیمے میں تشریف لے گئیں۔

یہ حضرت اسماء سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی بیٹی اور سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کی بڑی بہن، نبی کریم ﷺ کی سالی تھیں۔ ان کے شوہر حضرت زبیر بن العوام بڑے دل گردے والے انسان تھے۔ بہت بہادر اور شجاع۔ آپ کے بیٹے کا نام عبداللہ بن زبیر ؓ تھا جن کو حجاج بن یوسف نے شہـ ـید کیا تھا۔ حضرت اسماء اور ان کے بیٹے، یعنی سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے پوتے، حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی بہادری اور شجاعت مشہور و معروف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

سورج خوب نکل آیا تھا۔ ہر طرف دھوپ پھیل چکی تھی۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ مسلمانوں کے لشکر کے سامنے یہ ساٹھ سرفروش اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں سے لڑنے بھڑنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ نہ ان کو کسی کی ملامت کی پروا تھی نہ کسی کا خوف تھا۔ چند خدا رسیدہ لوگوں کا دستہ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر سے ٹکرانے چلا تھا۔ یہ اس دین کی خاطر لڑ رہے تھے جو نبی کریم ﷺ لے کر آئے تھے۔ یہ لوگ اپنے گھر بار، آل و اولاد، مال و دولت چھوڑ کر امت مسلمہ کے دفاع اور ان کے تحفظ کی خاطر لڑنے نکلے تھے۔
۔۔۔۔۔۔

پتا نہیں واپس پلٹنا نصیب ہوتا ہے یا نہیں؟ یہ سوچ کر ان جانثاروں نے اپنے اپنے گھر والوں، بیوی بچوں پر آخری نظر ڈالی اور سلام کرتے، نعرے بلند کرتے ہوئے دشمن کی طرف گھوڑے دوڑا دیے۔ یہاں تک کہ یہ لوگ غسانیوں کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔

جب غسانیوں نے اپنے سامنے چند سواروں کو کھڑے دیکھا تو سمجھے شاید مذاکرات کے لیے مسلمانوں کا وفد آیا ہے۔ جبلہ نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی:

"اے اہلِ غسان! صلیب کی مدد کے لیے تیار ہو جاؤ۔ جن لوگوں نے صلیب کا انکار کیا ان کو تلواروں کی زد میں لے لو۔"

یہ سن کر غسانی اسلحہ سنبھالے میدان میں کھڑے ہوگئے۔ صلیبیں بلند کرلیں اور صف بندی کرنے لگے۔ سورج عین آسمان کے درمیان بس پہنچنا چاہتا تھا۔ دھوپ نے ہر چیز کو روشن کر رکھا تھا۔ سورج کی شعاؤں سے ان کی تلواریں اور خود چمک رہے تھے۔ نیزوں کی نوکیں سورج کی روشنی سے شعلوں کی طرح دمک رہی تھیں۔ مسلمانوں کے سامنے کم و بیش ساٹھ ہزار کا لشکر صف در صف کھڑا ہوچکا تھا۔

حضرت خالد بن ولید ؓ نے للکارا:
"اے ساتھیو! اے رحمان کے بندو! ان شیطان کے پیروکاروں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے لیے آگے بڑھو!"

اس وقت جبلہ کو سمجھ آئی کہ یہ لوگ مذکرات کرنے نہیں جنگ کرنے آئے ہیں۔ اس نے چیخ کر کہا:

"اے خالد! ہم تم سے لڑنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ یہ دیکھ لو۔ تم گنتی کے چند لوگ ہو اور یہ ساٹھ ہزار کا لشکر ہے۔ اگر ابھی میں حملے کا حکم دے دوں تو یہ لمحوں میں تمھاری تکہ بوٹی کردیں گے۔"

آپ نے فرمایا:
"جبلہ! ہم لڑنے کے لیے ہی آئے ہیں۔ تم ہمیں صلح کرنے والا سمجھ رہے ہو کیا؟ ایسا قیامت تک ممکن نہیں۔"

اس نے کہا:
"اے مخزومی! میں تمھیں عقلمند انسان سمجھتا تھا اور تمھارے مقابلے کے لیے اچھے اچھے پہلوان چن رہا تھا مگر تم تو چند آدمیوں کو لے کر آگئے؟ لے پھر میں حملہ کرتا ہوں۔"
یہ کہہ کر اس نے لشکر کو لڑنے کا اشارہ کردیا۔

غسانی لشکر آپ کے ساتھیوں پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑا۔ چاروں طرف سے حملے ہونے لگے۔ اصحابِ رسول ﷺ نے ثابت قدمی سے اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرتے ہوئے جواب دینا شروع کردیا۔ دونوں طرف سے لڑائی کے شعلے بھڑکنے لگے۔ انسانوں کے شور و غوغا اور نعروں کی گونج میں تلواروں کی چھنا چھن پیچھے لوٹ جاتی تھی۔

لوگوں نے یقین کرلیا کہ حضرت خالد بن ولید ؓ اپنے ساتھیوں سمیت کام آگئے ہیں۔ مسلمان اپنے لشکر میں نعرے بلند کر رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے تو کہنا شروع کردیا کہ خالد بن ولید ؓ نے اپنے جنون میں ساتھیوں کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ رومی خوش تھے کہ جبلہ نے عربوں کے اس گروہ کو مار بھگایا تو باقیوں کو ہم سنبھال لیں گے۔ ہماری فتح یقینی ہے۔

لڑائی طول کھینچ رہی تھی۔ مسلمانوں کا اپنے ساتھیوں کے حوالے سے اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ لمحہ بہ لمحہ ان کی بے چینی و فکر مندی بڑھ رہی تھی۔

عبادہ بن صامت کہتے ہیں:
"میں نے دیکھا کہ خالد بن ولید، زبیر بن العوام، عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق، ضرار بن ازور، فضل بن عباس، عبداللہ بن عمر بن خطاب رضوان اللہ علیھم اجمعین کندھے سے کندھا ملائے برابر حملے روک رہے اور جوابی وار کر رہے ہیں۔ ہر ساتھی اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کا تحفظ بھی کر رہا تھا۔ کچھ ساتھی نرغے میں پھنس کر بچھڑ گئے تھے۔"

لڑائی کے شعلے زور و شور بھڑک رہے تھے۔
چنگاریاں اڑ اڑ کر گر رہی تھیں۔ خون چاروں طرف بہہ رہا تھا۔ گھڑ سوار کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔
اصحابِ رسول ﷺ تلواروں کے وہ جوہر دکھا رہے تھے کہ چشم فلک نے شاید ہی کبھی دیکھے ہوں۔ جنگی مہارت کو خوب کام میں لایا جا رہا تھا۔
زبانوں پر اللہ کا ذکر اور ہاتھوں میں تلواریں چھنا چھن چل رہی تھیں۔ تیروں کو ڈھالوں پر روکا جا رہا تھا۔ دشمن کے نیزوں کو تلواروں سے ناکارہ بنا دیا جاتا تھا۔ تلواریں چمک چمک کر بجلی کی طرح کوند رہی تھیں۔

لڑائی لمبی ہوتی جا رہی تھی۔ مسلمان یہ دیکھ دیکھ کر بے چین ہو رہے تھے۔ نعرہ تکبیر سے پورے لشکر میں حرارت پہنچائی جا رہی تھی۔ ہاتھ ہتھیاروں پر جمے تھے اور نظریں، دل و دماغ اپنے ساتھیوں کی طرف لگے تھے۔ دور سے غسانیوں کے ہجوم میں زبردست ہلچل دکھائی دے رہی تھی۔ مسلمانوں کے لشکر میں مرد اور خیموں میں خواتین نے اپنے باپ، بھائیوں کے لیے فتح و نصرت کی دعائیں مانگ رہے تھے۔

جنگ کی چکی پوری قوت سے چل رہی تھی۔ لوگ ق تل اور مجروح ہو رہے تھے۔ مسلمان جانباز ہر طرف سے گھرے ہوئے تھے۔ پوری قوت سے دشمن کو کاٹتے چھانٹتے جا رہے تھے۔ لڑ لڑ کر بازو سست پڑ رہے تھے۔ کندھوں کا مغز شل ہو رہا تھا لیکن یہ بہادر سست پڑنے کے بجائے بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے۔ جب زیادہ ہجوم ہوا تو حضرت خالد بن ولید ؓ گھوڑے سے کود کر زمین پر کھڑے ہوگئے اور اپنی مہارت کا لوہا منوانے لگے۔

سورج مغرب کی طرف لڑھکنے لگا تھا۔ مسلمانوں کو اپنے ساتھی نرغے سے نکلتے نظر نہیں آرہے تھے۔ یہ ساٹھ جانباز ہزاروں میں گھرے ہوئے تھے۔ گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ غسانیوں نے جب ان مٹھی بھر لوگوں کی پھرتی، مہارت اور جاں فروشی دیکھی تو لڑائی سے بدکنے لگے۔ حضرت فضل بن عباس حضرت خالد بن ولید ؓ کی ڈھال بنے ہوئے تھے۔ یہ مسلسل ان کو محفوظ رکھے ہوئے تھے۔ دیر تک یونہی لڑنے کے بعد خالد بن ولید ؓ اور مرقال بن ہاشم غسانیوں کے خالی گھوڑوں پر سوار ہوگئے۔ اس سے پہلے کہ سورج مزید مغرب کی طرف جھکتا، اسلام کے ان جانبازوں نے سینے کا زور لگا کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور ایسا جان توڑ حملہ کیا کہ چاروں طرف سے دشمنوں کو موت کی چکی میں پیس کر رکھ دیا۔

حضرت امین الامۃ ؓ خالد بن ولید ؓ اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے بہت فکر مند تھے۔ جب بے چینی حد سے بڑھی تو آپ رونے لگے اور زور زور سے مسلمانوں کو پکارنے لگے:

"مسلمانو! اپنے بھائیوں کی خبر لو۔ مجھے حالات اچھے معلوم نہیں ہو رہے۔"

مسلمان غسانیوں پر پِل پڑنے کے لیے جانے ہی لگے تھے کہ ابوسفیان بن حرب ؓ نے کہا:
"مومنو! ذرا سا صبر کرو۔ بس کچھ ہی دیر ہے۔ دشمن میدان چھوڑنے ہی والا ہے۔ بہت جلد ان شاء اللّٰه ہم اپنے ساتھیوں کو واپس آتا دیکھیں گے۔"

ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ غسانیوں کے نرغے میں سے تکبیر و تہلیل بلند ہوئی۔ یہ سن کر مسلمانوں نے بھی ہتھیار بلند کرکے تکبیر کا نعرہ لگایا۔ اسی کے ساتھ ہی غسانی میدان سے بھاگتے نظر آنے لگے۔ ان کی بدحواسی اور افرا تفری دیکھ کر لگتا تھا جیسے اچانک کوئی درندہ نکل آیا ہے جسے دیکھ کر یہ بھاگ رہے ہیں، یا کوئی ایسی چیز ان کے پیچھے لگ چکی ہے کہ یہ جان بچانے کے واسطے سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔

جب ہجوم منتشر ہوا تو مسلمانوں نے دیکھا شدید لڑائی کے بعد حضرت خالد بن ولید ؓ اپنے ساتھیوں سمیت تھکے ماندے نڈھال سے چلے آرہے ہیں۔ مسلمان ان کو دیکھ کر بے ساختہ ان کی طرف دوڑے اور نعرے لگائے۔ خالد بن ولید ؓ اور ان کے ساتھیوں کا لباس خون سے تر بتر ہوچکا تھا۔ تلواریں خون میں ڈوب کر نکلی ہوئیں تھیں۔ ہاتھ بھی خون میں لتھڑے ہوئے تھے۔ جوتے ایسے تھے کہ کیچڑ میں بھرے ہوئے۔ کیچڑ بھی وہ جو پانی سے نہیں خون سے بنا ہوا تھا۔ آس پاس غسانیوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔

آج مفقود ہے وہ جذبۂ اصحاب رسول
رقص کرتے تھے جو تلوار کی جھنکاروں میں

جس کے اسلاف کی عظمت کے نشاں ہیں ہر سُو
جائے عبرت ہے وہی قوم ہے ناداروں میں

مسلمانوں نے ان سب کو آگے بڑھ کر سنبھالا۔ خالد بن ولید ؓ نے جب اپنے ساتھیوں کو شمار کیا تو ساٹھ میں سے کُل بیس نکلے۔ آپ نہایت غمگین ہوگئے۔ شدتِ غم سے آپ رونے لگے۔ ابوسفیان بن حرب ؓ ، حضرت امین الامۃ ؓ آپ کو حوصلہ دینے لگے۔ آپ نے کہا:

"بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح بخشی ہے مگر ساتھیوں کی کمی کی وجہ سے وہ رنج و غم میں بدل گئی۔ کل میں اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا جواب دوں گا ؟ میں امیر المؤمنین سیدنا عمرفاروق ؓ کے سامنے کیا کہوں گا؟"
یہ کہہ کر آپ دھاڑے مار کر رونے لگے۔

حضرت سلامہ ابن اخوض سلمی نے کہا:
"حضرت! میدان میں لاشوں کو تلاش کیجیے۔ اگر تو وہ شہـ ـید ہوچکے ہیں تو ان کی لاشیں مل جائیں گی۔ اگر وہ نہیں ملی تو سمجھو گرفتار ہوچکے ہیں یا وہ تعاقب میں نکل گئے ہیں۔"

سورج غروب ہونے والا تھا۔ حضرت امین الامۃ ؓ نے مسلمانوں سے فرمایا:
"لوگو! جلد از جلد میدان کی تلاشی لو۔ اگر اندھیرا ہو جائے تو مشعلیں جلائی جائیں۔"

چنانچہ مسلمانوں نے فوراً تلاش شروع کردی۔ میدان لاشوں سے پٹا پڑا تھا۔ کافی دیر تلاش جاری رہی۔ غسانیوں کے بے حد و شمار لوگ مرے پڑے تھے۔ ان میں دو ان کے سردار، رفاعہ اور شداد بھی شامل تھے۔ دس مسلمانوں کی لاشیں ملیں، دو انصار تھے باقی دوسرے حضرات۔ حضرت امین الامۃ ؓ نے فرمایا امید تو یہی ہے کہ وہ تعاقب میں نکل گئے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے گمشدہ لوگوں، خصوصاً حضرت زبیر بن العوام اور فضل بن عباس کے لیے دعاء مانگی۔

پھر آپ نے فرمایا:
"ان کی تلاش کے لیے کون جائے گا؟"

حضرت خالد بن ولید ؓ نے کہا:
"میں خود جاؤں گا۔"

آپ نے فرمایا:
"خالد! تم بہت نڈھال ہوچکے ہو، تم نہ جاؤ"

خالد بن ولید ؓ نے کہا:
"حضرت میں ضرور جاؤں گا۔"

آپ نے اجازت دے دی۔ اس کے بعد خالد بن ولید ؓ ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوئے اور تلاش میں نکل گئے۔ آپ برابر گھوڑا دوڑاتے جا رہے تھے کہ دور سے آپ کو تکبیر و تہلیل کی آوازیں سنائی دیں۔ آپ نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا۔ کچھ دیر بعد آپ کو اپنے ساتھی آتے دکھائی دیے۔

سب سے آگے حضرت زبیر بن العوام ؓ تھے۔ ان کے ساتھ فضل بن عباس اور دوسرے حضرات آرہے تھے۔ آپ انھیں دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے۔ سلام و دعا کے بعد آپ نے پوچھا:

"آپ لوگ کہاں چلے گئے تھے؟"

انھوں نے کہا:
"ابو سلیمان! جب دشمن بھاگا تو ہم نے چند ساتھیوں کو کم دیکھا۔ ہم نے سمجھا دشمن ان کو قید کرکے لے گیا ہے۔ اس لیے ہم ان کے تعاقب میں نکل گئے تھے مگر وہاں وہ موجود نہیں تھے۔ یقیناً ان کو شہـ ـید کردیا گیا ہے۔"

آپ نے فرمایا:
"نہیں۔ وہاں صرف دس شہـ ـداء ہیں، پچیس آپ لوگ اور بیس ہم۔ البتہ پانچ ساتھی یقیناً گرفتار ہوچکے ہیں۔"

گمشدہ ساتھی یہ تھے:
رافع بن عمیرہ الطائی، ضرار بن ازور ؓ، عامر بن ربیعہ، عاصم بن عمرو، یزید بن ابوسفیان ؓ۔ مسلمانوں کو ان کا سخت افسوس ہوا۔

جب یہ لوگ واپس حضرت امین الامۃ ؓ کی خدمت میں پہنچ گئے تو آپ نے سجدہ شکر ادا کیا اور سب مسلمانوں نے مبارک باد دی۔ دشمنوں کو غیر متوقع شکست فاش دینے پر سب مسلمان بہت خوش تھے۔

حضرت خالد بن ولید ؓ نے فرمایا:
"میں ہی اپنے قیدی ساتھیوں کو رہا بھی کرواؤں گا۔ ان شاء اللّٰه"

(جاری ہے)

ماخوذ از فتوح الشام للواقدی اُردو ترجمہ
تسہیل و تلخیص: محمد عثمان انصاری

(قسط نمبر 37)

"باہان! مجھے اطلاع ملی ہے کہ عرب یرموک میں پڑاؤ کرچکے ہیں۔ کچھ سرداروں نے ان کا مقابلہ کیا ہے مگر وہ شکست کھاگئے ہیں۔ تم...
13/01/2026

"باہان! مجھے اطلاع ملی ہے کہ عرب یرموک میں پڑاؤ کرچکے ہیں۔ کچھ سرداروں نے ان کا مقابلہ کیا ہے مگر وہ شکست کھاگئے ہیں۔ تم جلد از جلد وہاں پہنچو، بہت دیر کردی ہے تم نے۔"

باہان ارمنی نے جب ہرقل کا خط پڑھا تو اس نے سرداروں کو جمع کیا اور ان کو سنوایا۔ پھر جلد از جلد یہ ٹڈی دل لشکر یرموک کی طرف دوڑ پڑا۔

یہ لوگ جس مفتوحہ علاقے سے بھی گزرتے ان کو لعنت ملامت کرتے کہ تم نے عربوں کی اطاعت کرلی ہے۔ آگے سے وہ بھی جواب دیتے کہ تم لوگ ہماری مدد کرتے تو ہم یہ کام نہ کرتے۔ چونکہ حقیقت یہی تھی اس لیے یہ سن کر خاموش ہو جاتے۔

رومیوں کا لشکر اگرچہ بہت بڑا تھا مگر ان میں اتفاق نہیں تھا۔ وقتی اتحاد تو بنا تھا مگر دِلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کدورت باقی تھی۔ اکثر رومی سپاہی بھی جبر اور دباؤ کے تحت لائے گئے تھے۔

جب یہ متحدہ لشکر یرموک پہنچا تو انھوں نے مسلمانوں سے تین میل دور پڑاؤ کیا۔ جہاں ان کا پڑاؤ تھا وہ سارا علاقہ ان کے لوگوں اور جانوروں سے کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ ہر طرف لوگ، ہتھیار اور جانور نظر آتے تھے۔ اس جگہ کا ایک چپہ بھی خالی نہیں تھا۔ یہ بہت بڑا لشکر تھا۔

مؤرخین کا اس بات پر اختلاف ہے کہ رومی سپاہی کتنے تھے؟ بعض جگہ ان کی تعداد پانچ لاکھ سے آٹھ لاکھ تک بتائی گئی ہے۔ بعض نے دو سے ڈھائی لاکھ۔ لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ رومی مسلمانوں کی تعداد سے کہیں زیادہ تھے۔ مسلمان ان کے سامنے مٹھی بھر نظر آتے تھے۔

مسلمانوں نے جب اتنا بڑا مسلح لشکر دیکھا تو کچھ پریشان ہوئے۔ کیوں کہ ابھی تک مسلمانوں کا سامنا اتنے بڑے لشکر سے نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ اجنادین میں بھی رومی مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھے مگر یہاں تین گنا سے بھی بڑھ کر تھے۔ ایسے لگتا تھا زمین کے کنارے ان لوگوں سے بھر چکے ہیں۔ ہر طرف یہی نظر آرہے تھے۔

مسلمان دور سے ان کے لشکر کو دیکھتے تو یہی پڑھتے:
" لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم "

حضرت امین الامۃ ؓ کو جب جاسوسوں نے ان کی اطلاع دی اور ان کی کثرت بتائی تو آپ نے قرآن مجید کی آیت پڑھی:

"ربنا افرغ علینا صبر وثبت اقدامنا ونصرنا علی القوم الکـ ـافرین"
"یا اللہ! ہمیں صبر دیجیے۔ ثابت قدم رکھیے۔ اور اس کـ ـافر قوم پر فتح عطا فرمائیے۔"

باہان کو ہرقل کی طرف سے ہدایت تھی کہ پہلے مسلمانوں کے ساتھ مذکرات کیے جائیں اور ان کو پرکشش پیشکش کی جائے۔

چنانچہ اس نے اس کام کے لیے دو افسر مسلمانوں کی طرف بھیجے کہ وہ جائیں اور مسلمانوں کو ڈرا دھمکا یا لالچ دے کر صلح پر مائل کریں۔

جب وہ مسلمانوں کے لشکر کے قریب آئے تو انھوں نے پکارا:
"اے اہلِ عرب! اپنے سردار کو بھیجیے تاکہ ہم بات چیت کرسکیں۔"

مسلمانوں کی طرف سے حضرت امین الامۃ ؓ خود بات چیت کرنے ان کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے سفید لباس پہنا، اس پر کالا عمامہ باندھا ہوا تھا اور گلے میں تلوار حمائل کی ہوئی تھی۔

آپ گھوڑے پر سوار ان کے اتنے قریب پہنچے کہ ان کے گھوڑوں کی باگ سے باگ ملا لی۔ پھر آپ نے کہا:
"بولیے۔ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ لوگ؟"

انھوں نے کہا:
"اے عرب! آپ لوگ اس خیال میں نہ رہنا کہ تم نے ہر جگہ رومیوں کی شکست دے دی۔ ان کو مار بھگایا اور ان کے علاقے فتح کرلیے۔ اب تمھیں اس لشکر کو دیکھنا چاہیے جو تمھارے سامنے موجود ہے۔ یہ ہر قسم کے ساز و سامان سے لیس ہے اور اس میں ارمنی قوم کے بہادر شامل ہیں جو میدان سے منہ موڑنا نہیں جانتے۔ اگرچہ رومیوں اور ارمنو میں اختلافات ہیں مگر تمھارے مقابلے کے لیے یہ سب متحد ہوچکے ہیں۔ بہتر ہے تم لوگ اپنے علاقوں میں لوٹ جاؤ۔ ورنہ تمھارا بچنا مشکل ہے۔"

آپ نے فرمایا:
"تمھارا یہ کہنا کہ رومی اور آرمینی باشندوں نے اتحاد کرلیا ہے اور وہ میدان سے بھاگنا نہیں جانتے، تو یہ تمھاری سخت بھول ہے۔ تم ہمیں تلواروں سے ڈراتے ہو؟ یاد رکھو! ہم تو نکلے ہی شمشیر زنی کے لیے ہیں۔ ہم موت سے ڈرنے والے نہیں بلکہ ہم تو ایسی موت کی تلاش میں ہی نکلے ہیں۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے یہ سرزمین دینے کا وعدہ کیا ہے اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ ہم میدان سے بھاگنے والے نہیں ہیں۔ ہم اپنی تلواروں اور نیزوں سے تمھیں مار مار کر بھگا دیں گے۔ ان شاء اللّٰه"

آپ کا یہ جواب سن کر وہ دونوں واپس پلٹ گئے۔ اپنے لشکر میں پہنچ کر انھوں نے آپ کا جواب باہان ارمنی کو بتا دیا۔

ان کے بعد باہان ارمنی نے جبلہ بن ایہم غسانی کو بھیجا۔ جب وہ مسلمانوں کی طرف بڑھا تو حضرت امین الامۃ ؓ نے فرمایا:

"اے اہلِ عرب! اب انھوں نے تمھیں ڈرانے، دھمکانے کے لیے تمھارا ہم زبان یعنی عرب اور تمھارے قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص بھیجا ہے۔"

غسانی کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ مسلمان تھے اور وہ اس لشکر میں شامل تھے، اس لیے حضرت امین الامۃ ؓ نے یہ کہا۔

جب جبلہ مسلمانوں کے لشکر کے پاس پہنچ گیا تو اس نے بات چیت کے لیے پکارا:

"تم میں سے کوئی ایسا شخص آئے جو میرے اجداد کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہو۔"

یہ سن کر حضرت عبادہ بن صامت ؓ کھڑے ہوئے اور حضرت امین الامۃ ؓ سے اجازت طلب کی۔ آپ کی اجازت سے جب وہ جبلہ کے قریب پہنچے تو وہ آپ کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ کیوں کہ آپ کا قد کاٹھ لمبا اور جسم مضبوط تھا۔ جب ایک تگڑے اور اسلحہ سے لیس شخص کو اپنے سامنے دیکھا تو جبلہ کافی خوف زدہ ہوا۔ پھر حواس بحال کرکے بولا:

"اے جوان! تم کون ہو اور کس قبیلے سے ہو؟!"

آپ نے فرمایا:
"میں رسول اللہ ﷺ کا صحابی ہوں اور اسی قبیلے سے ہوں جس سے تم نے طلب کیا ہے۔ یعنی عمرو بن عامر کی اولاد سے۔"

اس کے بعد جبلہ نے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کیے۔ قرابت داری ظاہر کرکے ورغلانے کی کوشش کبھی رومیوں کی فوج سے ڈرانے کی۔ کبھی رومیوں اور اپنے عرب ہونے کا اختلاف بیان کرکے آپ کو نرم کرنے کی کوشش کی تو کبھی اپنے ہراول جو کہ غیر مسلم عربوں پر مشتمل تھا، کی تلواروں سے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی۔

لیکن رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے اسے دو ٹوک جواب دیا کہ ہم نہ تمھاری تلواروں سے ڈرتے ہیں نہ رومیوں کی بڑی فوج سے۔ ہم صرف اللہ تعالیٰ کا خوف دلوں میں رکھتے ہیں۔ ہم نبی کریم ﷺ کی اطاعت پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہمیں زندگی سے زیادہ ایسی موت سے محبت ہے جو اللہ تعالیٰ کے رستے میں آئے۔ ہم تو نکلے ہی اللہ کے دین کی مدد کے لیے ہیں۔ ہمارے مقابلے میں اگر کوئی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا دشمن آئے گا، پھر وہ خواہ کسی قبیلے کا بھی ہو، ہم اس کی رعایت نہیں کریں گے۔ میں تمھیں بھی اسلام کی دعوت دیتا ہوں، تم اس میں داخل ہو جاؤ، دنیا و آخرت کی بھلائی اسی دین میں ہے۔

آپ کی باتیں سن کر جبلہ بن ایہم بہت سٹ پٹایا۔ وہ طیش میں آکر کہنے لگا:

"تم مجھے اسی دین کی دعوت دیتے ہو جس میں بادشاہ اور عام شخص میں کوئی فرق کوئی رعایت نہیں رکھی جاتی؟ نہیں، میں اپنے دین پر رہ کر تمھارے ساتھ لڑوں گا۔"

آپ نے فرمایا:
"ٹھیک ہے۔ جو بلائیں اب رومیوں پر نازل ہوں گی اس کے حقدار تم بھی ہوگے۔ یاد رکھ! ہماری لڑائی بڑی ہولناک ہوتی ہے۔ یہ کسی قیامت سے کم نہیں۔ اس لیے بچ کر رہنا۔"

پھر جبلہ نے آپ کو کم تعداد ہونے اور آس پاس کسی مدد گار کے نہ ہونے کا طعنہ دیا۔ آپ نے فرمایا:

"جبلہ! ہم میں سے ہر ایک فرد بحمد اللہ بذاتِ خود ایک لشکر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو لوگ ہماری قیادت کر رہے ہیں وہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں۔ کیا تمھیں سیدنا عمرفاروق ؓ کی ہیبت بھول گئی؟ کیا تمھیں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی بہادری اور شجاعت یاد نہیں؟ کیا تم سیدنا عثمان بن عفان کے حوصلے اور جانبازی کو نہیں جانتے؟ کیا تمھیں خالد بن ولید ؓ کی تلوار کی کاٹ یاد نہیں؟ ہمیں ڈرانے یا لالچ دینے کی کوشش مت کرو۔ جب تک ہمارے تین مطالبات میں سے کسی ایک پر متفق نہیں ہوگے، ہم تمھیں چھوڑنے والے نہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مددگار رب العالمین ہے۔"

جبلہ نے جب آپ سے سخت جوابات سنے تو گھوڑے کی باگیں پھیر کر باہان کی طرف چلا گیا۔ اس کے چہرے سے خوف اور دہشت ٹپک رہی تھی جسے باہان ارمنی نے بھی تاڑ لیا۔ اس لیے جب یہ اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا:

"جبلہ! تمھیں کیا مصیبت پڑی ہے کہ تمھارے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں؟"

جبلہ نے سارا قصہ کہہ سنایا۔ پھر باہان ارمنی نے کہا:
"وہ بھی عرب ہیں اور تمھارا لشکر بھی عربوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے تم اپنے لشکر کو لے کر ان کا مقابلہ کرو۔ کوئی گڑبڑ ہوئی تو میں تمھاری مدد کے لیے موجود ہوں۔"

جبلہ نے کہا:
"ٹھیک ہے سردار! میں اپنے لشکر کو لے کر آگے بڑھتا ہوں۔"

مگر جبلہ کو اتنا یقین ہوگیا کہ باہان ہمیں سب سے پہلے لڑوا کر مروانا چاہتا ہے۔ چونکہ وہ خود رومی اور آرمینی ہیں۔ اس لیے ہم عربوں کو پہلے لڑوا کر ہماری بہادری اور ہرقل سے وفاداری دیکھنا چاہتا ہے۔

باہان نے کہا:
"جبلہ! اگر تم نے عربوں کو شکست دے دی تو جتنے علاقوں کو انھوں نے فتح کیا ہے وہ سب تمھارے حوالے کردیے جائیں گے۔ تمھیں ان کا حاکم بنا دیا جائے گا اور ہرقل کے ہاں تمھیں پہلے سے زیادہ مرتبہ ملے گا۔"

غرض باہان ارمنی نے جبلہ کو خوب بھڑکایا اور ورغلایا۔ یہاں تک کہ جبلہ نے اسی جوش و جذبے میں بہہ کر اپنے لشکر کو مسلمانوں کی طرف بڑھنے کا حکم دے دیا۔

جب جبلہ اپنے لشکر کو دھوم دھام سے لے کر چلا تو حضرت امین الامۃ ؓ نے مسلمانوں کو پکارا:

"ساتھیو! جبلہ اپنے پچاس ساٹھ ہزار لشکر کے ساتھ تمھاری طرف بڑھنے لگا ہے۔ بتاؤ اب کیا ہونا چاہیے؟"

مسلمانوں کی کل تعداد پچیس سے تیس ہزار تھی۔ بعض مؤرخین نے پندرہ سے بیس اور بعض نے تیس ہزار کہا ہے۔

حضرت خالد بن ولید ؓ نے فرمایا:
"حضرت ان کے پاس کچھ لوگ بھیج کر مذکرات کے بہانے ان کو پیچھے ہی روکے رکھیں۔ جب تک میں ان کا حل سوچ لیتا ہوں۔"

آپ نے فرمایا:
"ٹھیک ہے ابو سلیمان! ایسا ہی کرتے ہیں۔"

چنانچہ آپ نے اپنے لشکر سے پانچ اصحابِ رسول ﷺ کو روانہ ہونے کا حکم دیا کہ وہ جبلہ کو سمجھانے کی کوشش کریں۔ اگر وہ مان جائے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر ہمارے چھوٹے سے دستے کی تلواریں ان کے لیے کافی ہوں گی۔ ان شاء اللّٰه

حضرت عبداللہ بن جابر ؓ کی قیادت میں پانچ سواروں کا وفد تیزی سے جبلہ کی طرف بڑھا۔ ان کو آتے دیکھ کر جبلہ نے سب کو وہیں ٹھہرنے کا حکم دیا۔ جب یہ حضرات پہنچ گئے تو انھوں نے جبلہ کو سمجھانے کی کوشش کہ تم ان کا ساتھ دینے کے بجائے مسلمانوں کا ساتھ دو، بلکہ خود مسلمان ہو جاؤ۔ مگر وہ ڈٹا رہا ہے کہ میں اپنی شاہی نہیں چھوڑ سکتا۔ کافی دیر بحث و مباحثہ ہوتا رہا مگر یہ اپنی ضد پر ڈٹا رہا۔ آخر انھوں نے کہا:

"جبلہ! اگر تم نے اپنی ضد پر قائم رہنا ہے تو پھر ہمارے سامنے آنے کی کوشش نہ کرو۔ ورنہ ہماری تلواریں جسم اور ہڈیاں کاٹ دیتی ہے۔"

جبلہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا:
"میں یہی ٹھہرا ہوں۔ کل تم پر تباہ کن حملہ کروں گا۔ اس لیے تیار رہنا۔"

یہ حضرات جبلہ سے رخصت ہوکر واپس اپنے لشکر میں پہنچے اور حضرت امین الامۃ ؓ کو بتایا:

"حضرت! جبلہ سوائے لڑائی کے اور کسی چیز کی خواہش نہیں رکھتا۔ ہم نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ اپنی حکمرانی کے گھمنڈ میں ڈوب چکا ہے۔"

حضرت خالد بن ولید ؓ نے یہ سن کر فرمایا:
"حضرت! جبلہ اپنی قوت کے غرور میں مبتلا ہے۔ ہمیں اپنے آقا و مولا ﷺ کی قسم، جبلہ ہمارے ایسے ایسے بہادروں کا سامنا کرے گا جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی رضامندی کے سوا کسی چیز کی خواہش نہیں رکھتے ہوں گے۔"

پھر آپ نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا:

"مسلمانو! یاد رکھو! دشمن کا ہراول، جبلہ کا لشکر ساٹھ ہزار کے قریب ہے (اصل رومی لشکر کے علاوہ) اور ہمارا مکمل لشکر اس کے نصف۔ لیکن وہ شیطان کا لشکر ہے اور ہم رحمان کا لشکر ہیں۔ ہم ان شاء اللّٰه اس پورے شیطانی لشکر کا مقابلہ کریں گے۔"

پھر آپ نے کہا:
"اگر ہم پورے لشکر کو لے کر جبلہ کے مقابلے پر نکلے تو دشمن اسے ہماری کمزروی اور بز دلی سمجھے گا۔ اس لیے میں چاہتا ہوں اپنے لشکر میں سے چند ایسے بہادر منتخب کروں جو دشمن کی پوری کی پوری صفیں الٹنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔"

یہ سن کر بوڑھے حضرت ابو سفیان بن حرب ؓ کھڑے ہوئے اور کہا:
"ابو سلیمان! تم ٹھیک کہتے ہو۔ تم اپنی مرضی کے جوان منتخب کرلو اور مشن پر کام شروع کردو۔"

خالد بن ولید ؓ نے فرمایا:
"میں چاہتا ہوں اپنے لشکر سے تیس بہادروں کو ساتھ لے کر جبلہ کے مقابلے پر نکلوں۔ یہ ایسے ہوں کہ ان میں سے ہر ایک دشمن کے دو ہزار سے بھڑ جانے کی طاقت رکھتا ہو۔"

آپ کی بات سن کر مسلمان تعجب سے دیکھنے لگے اور سمجھے شاید آپ مذاق کر رہے ہیں۔ ابو سفیان بن حرب ؓ بولے:

"ابو سلیمان! تم مذاق کر رہے ہو یا واقعی ایسا ارادہ بن گیا ہے؟"

آپ نے کہا:
"میں مذاق نہیں کر رہا ہے۔ حقیقت میں ایسا کرنا چاہتا ہوں۔"

"مگر یہ تو خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے والی بات ہوگی۔" ابو سفیان بولے۔ "میرے خیال میں یہ کام مناسب نہیں ہے۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ کم از کم دو سو بندے تو ہونے چاہییں۔"

خالد بن ولید ؓ کہا:
"بزرگو! آپ تو اسلام سے قبل بہت بہادر تھے۔ کیا اب بزدل بن گئے ہیں؟ میں جن لوگوں کا انتخاب کروں گا پھر آپ انھیں دیکھ کر بتائیے گا کہ وہ ہزاروں سے لڑ جانے کے قابل ہیں یا نہیں؟!"

ابوسفیان ؓ بولے:
"میں اس لیے کہہ رہا تھا کہ کوئی بڑا نقصان نہ ہو جائے۔ ہمارے بہادر بہت قیمتی ہیں، وہ ضائع نہ ہو جائیں۔ بس، اور کچھ میرا مقصد نہیں تھا ابو سلیمان!"

حضرت امین الامۃ ؓ نے فرمایا:
"ابو سلیمان! ابوسفیان بن حرب ؓ کا مشورہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کم از کم دو سو بہادروں کے ساتھ مقابلہ کرنے نکلو۔"

خالد بن ولید ؓ نے کہا:
"امیر محترم! میرے اس کام کا مقصد دشمن پر رعب ڈالنا ہے۔ جب دشمن اللہ تعالیٰ کے فضل اور نصرت سے شکست کھا کر بھاگیں گے تو باہان ارمنی پوچھے گا کہ تمھارے مقابلے میں کتنے مسلمان تھے؟ تو جواب میں بتایا جائے گا کہ تیس لوگ تھے تو وہ مرعوب ہو جائیں گے۔ پھر باہان سمجھ لے گا کہ ہمارا تیس ہزار کا لشکر اس کے لاکھوں سپاہیوں کے لیے کافی ہے۔"

حضرت امین الامۃ ؓ نے کہا:
"ٹھیک ہے۔ آپ اپنی مرضی کے تیس لوگ منتخب کرلیں، لیکن ان کے ساتھ بطورِ مددگار تیس اور لے لیں، پچاس ساٹھ ہزار کے مقابلے میں ساٹھ مسلمان تو ہونے چاہییں۔"

اس کے بعد حضرت خالد بن ولید ؓ مہاجرین و انصار میں سے اپنی پسند کے بہادروں کے نام پکارنے لگے۔

(جاری ہے)

ماخوذ از فتوح الشام للواقدی اُردو ترجمہ
تسہیل و تلخیص: محمد عثمان انصاری

(قسط نمبر 36)

Address

Quttarwala
924

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ubaid ullah achakzi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category