25/06/2026
📢 کچہ چوہان کی پکار: 18.77 ٹریلین کا بجٹ، مگر ہماری سڑک کہاں ہے؟
"پاکستان کا وفاقی بجٹ 18.77 ٹریلین (18,770 ارب) روپے مقرر کیا گیا ہے—ایک ایسا ہدف جس میں ملک بھر کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کیے گئے ہیں۔ لیکن افسوس! اس بھاری بھرکم بجٹ میں بھی کچہ چوہان کی اپروچ روڈ کو کیوں نظر انداز کر دیا گیا؟ آخر کب تک؟"
شیخ خلیفہ بن زاید الہیان پل (دریائے سندھ پر رحیم یار خان سے روجھان کو ملانے والا اہم ترین پل) تو بن گیا، لیکن اس تک پہنچنے والی اپروچ روڈ آج بھی ادھوری اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے یہ عظیم الشان پل کچہ چوہان اور گردونواح کے عوام کے لیے ایک ادھورا خواب بن کر رہ گیا ہے۔
اس سال بھی محرومی کا شکار: ہر سال بجٹ آتا ہے، کھربوں روپے مختص ہوتے ہیں، لیکن کچہ چوہان کی تقدیر بدلنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
حکامِ بالا سے سوال: جب پورے ملک کے لیے فنڈز موجود ہیں، تو اس اہم ترین رابطہ سڑک کے لیے بجٹ کیوں نہیں؟ کیا کچہ چوہان کے عوام کا کوئی حق نہیں؟
✊ وقت آ گیا ہے: آواز اٹھاؤ!
ہم کچہ چوہان کے رہائشی اور نوجوان حکامِ بالا، وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور ارکانِ اسمبلی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس اہم ترین سڑک کے لیے فوری فنڈز جاری کیے جائیں۔ ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔
#بجٹ2026