04/03/2026
*Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan)*
*Save Farmer, Save Pakistan* 🇵🇰
*پاکستان کا لائیوسٹاک بحران اور راولپنڈی "ذبیحہ ٹیسٹ" — ایک فیصلہ کن لمحہ*
*تحریر: شاکر عمر گجر*
*مرکزی صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان*
پاکستان کا لائیوسٹاک سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف دیہی آبادی کے لاکھوں خاندانوں کا روزگار ہے بلکہ قومی غذائی سلامتی (Food Security) کی بنیاد بھی ہے۔ مگر بدقسمتی سے آج یہ شعبہ ایک ایسے معاشی چکر میں پھنس چکا ہے جو بتدریج کسان، قصاب، صارف اور پورے ملک کو بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔
حال ہی میں راولپنڈی میں انتظامیہ، چیمبر آف کامرس، میڈیا اور عوام کی موجودگی میں ایک عملی "ذبیحہ ٹیسٹ" کیا گیا تاکہ گوشت کی حقیقی پیداواری لاگت کا تعین ہو سکے۔ اس تجربے نے وہ زمینی سچ سامنے رکھا جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
بیف (بھینس کا گوشت) — زمینی حقائق
ایک بھینس منڈی سے خریدی گئی:
خریداری قیمت: 2,10,000 روپے
ٹیکس و دیگر اخراجات: 12,000 روپے
مجموعی لاگت: 2,22,000 روپے
خالص حاصل شدہ گوشت: 178.7 کلوگرام
فی کلو لاگت: 1,176 روپے
یہ لاگت صرف جانور خریدنے اور ذبح کرنے تک محدود ہے۔ اس میں دکان کا کرایہ، بجلی، فریزر، عملہ، ٹرانسپورٹ اور منافع شامل نہیں۔ مکمل اخراجات شامل کرنے کے بعد بیف کی جائز قیمت تقریباً 1,350 روپے فی کلو بنتی ہے۔
مٹن (بکرے کا گوشت) — ناقابلِ تردید حساب
اسی طرح ایک بکرا خریدا گیا:
خریداری قیمت: 27,000 روپے
ٹیکس و مارکیٹ فیس: 2,120 روپے
مجموعی لاگت: 29,120 روپے
خالص حاصل شدہ گوشت: 9.5 کلوگرام
فی کلو لاگت: 2,960 روپے
تمام اخراجات شامل کرنے کے بعد مٹن کی حقیقی قیمت تقریباً 3,400 روپے فی کلو بنتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب صرف پیداواری لاگت ہی اتنی زیادہ ہے تو 800 روپے بیف یا 1,600–2,000 روپے مٹن کے سرکاری نرخ کس معاشی اصول کے تحت ممکن ہیں؟
اصل بحران کی جڑ
1️⃣ مادہ جانوروں کی سلاٹرنگ — خاموش نسل کشی
جب فارمر کو اس کی لاگت نہیں ملتی تو وہ مجبوراً دودھ دینے والی گائے اور بھینس فروخت کر دیتا ہے۔ یہ عمل وقتی ریلیف تو دیتا ہے مگر مستقبل کی پیداوار کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں:
دودھ کی پیداوار کم ہوتی ہے
گوشت کی دستیابی متاثر ہوتی ہے
نئی نسل کے جانوروں کی کمی پیدا ہوتی ہے
یہ ایک خاموش مگر خطرناک معاشی خودکشی ہے۔
2️⃣ "ڈنڈا پالیسی" اور مارکیٹ کی تباہی
قیمتوں کا تعین اگر معاشی حقائق کے بجائے انتظامی دباؤ سے ہو تو اس کے منفی اثرات فوری ظاہر ہوتے ہیں:
قصاب فارمر سے کم قیمت پر جانور خریدنے کی کوشش کرتا ہے
خریداری کا عمل سست ہو جاتا ہے
غیر قانونی یا غیر معیاری گوشت کی فروخت بڑھتی ہے
ملاوٹ اور صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں
یہ پالیسی وقتی طور پر قیمت کو نیچے دکھا سکتی ہے، مگر طویل مدت میں قلت اور مہنگائی کو جنم دیتی ہے۔
3️⃣ دیوالیہ پن اور دیہی ہجرت
جب چارہ، ونڈہ، سویا بین، مکئی، بجلی اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی کے حساب سے بڑھتی رہیں اور پیداوار کی قیمت زبردستی کم رکھی جائے تو فارمر کا دیوالیہ نکلنا فطری ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
کسان لائیوسٹاک چھوڑ دیتا ہے
دیہی معیشت کمزور ہوتی ہے
شہروں کی طرف ہجرت بڑھتی ہے
ملکی پیداوار گھٹتی ہے اور درآمدات بڑھتی ہیں
غذائی سلامتی کو درپیش خطرہ
پاکستان کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گوشت اور دودھ کی طلب میں سالانہ اضافہ ہو رہا ہے، مگر اگر موجودہ حالات جاری رہے تو پیداوار کم ہوتی جائے گی۔ اس کا سیدھا مطلب ہے:
شدید مہنگائی
درآمدی انحصار
زرِ مبادلہ پر دباؤ
عوام کے لیے معیاری خوراک کا بحران
DCFA Pakistan کے مطالبات
بطور مرکزی صدر، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال ہے۔
1️⃣ قیمتوں کا تعین مارکیٹ میکانزم کے مطابق کیا جائے۔
2️⃣ ونڈہ اور فیڈ کے اجزاء پر سبسڈی دی جائے۔
3️⃣ بجلی اور ڈیزل پر زرعی ٹیرف دیا جائے۔
4️⃣ مادہ جانوروں کے ذبیحہ پر سخت قانونی پابندی لگائی جائے۔
5️⃣ مویشی منڈیوں میں عائد غیر ضروری ٹیکس ختم کیے جائیں۔
نتیجہ: فیصلہ آج کرنا ہوگا
راولپنڈی کا ذبیحہ ٹیسٹ ایک آئینہ ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ مسئلہ قصاب یا فارمر نہیں بلکہ غیر حقیقت پسندانہ پالیسی ہے۔
اگر فارمر کو اس کی لاگت نہیں ملے گی تو وہ کاروبار چھوڑ دے گا۔ اگر لائیوسٹاک کم ہو گئی تو مہنگائی بڑھے گی۔ اور اگر غذائی سلامتی کمزور ہوئی تو قومی استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔
وقت آ گیا ہے کہ جذبات کے بجائے معاشی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔
فارمر بچے گا تو پاکستان بچے گا۔
Save Farmer, Save Pakistan 🇵🇰
شاکر عمر گجر
مرکزی صدر
Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan
[email protected]
+92 300 8281786