Islamic information

Islamic information Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic information, Grocers, Rawalpindi West Ridge.

تاریخِ آلِ عثمان کے شوقین دوستو… آج آپ کے لیے لایا ہوں عثمانی سپاہ کی وہ حیرت انگیز حقیقت، جسے سن کر انسان سمجھ جاتا ہے،...
15/11/2025

تاریخِ آلِ عثمان کے شوقین دوستو…
آج آپ کے لیے لایا ہوں عثمانی سپاہ کی وہ حیرت انگیز حقیقت، جسے سن کر انسان سمجھ جاتا ہے، کہ سلطنتِ عثمانیہ صدیوں تک کیوں ناقابلِ شکست رہی۔

عثمانی تیراندازوں… سے دشمن کیوں ڈرتا تھا؟

ایک عثمانی نوجوان کو تیراندازی سیکھنے کی اجازت یوں ہی نہیں مل جاتی تھی۔
اسے سب سے پہلے ایک ایسا کارنامہ کرنا ہوتا تھا جو عام انسان کے بس سے باہر ہے۔
شرط یہ تھی:
کہ وہ 66 سینٹی میٹر لمبا تیر کم از کم 595 میٹر دور پھینک کر دکھائے۔
یہ کوئی عام مشق نہیں تھی۔
یہ وہ فاصلہ ہے جو آج کے جدید اولمپک تیرانداز بھی آسانی سے حاصل نہیں کر سکتے!
اگر نوجوان یہ مرحلہ کامیابی سے طے کر لیتا تو اسے تکیۂ رماۃ (عثمانی Archers Guild) کی جانب سے ایک خاص پرمٹ دیا جاتا تھا جسے "قبضہ" کہا جاتا تھا۔ یہ گویا اس بات کی سند تھی کہ اب وہ "اصلی" عثمانی تیرانداز بننے کا اہل ہے۔

قریب فاصلے کی مشق – سکہ جتنا ہدف!

عثمانی تیرانداز جب قریب فاصلے سے مشق کرتے تو ہدف صرف ایک سکے کے برابر ہوتا تھا، اور انہیں لازم تھا کہ وہ اسے،سامنے سے، دائیں سے، بائیں سے
حتیٰ کہ حرکت کرتے ہوئے بھی نشانے پر لگا سکیں۔
یہی وجہ تھی کہ میدانِ جنگ میں عثمانی سپاہی 360 ڈگری تک مہارت رکھتے تھے، اور دشمن کسی بھی سمت سے حملہ کرے، جواباً تیر اُس تک لازمی پہنچتا تھا۔

یہ تربیت کیوں ضروری تھی؟

دوستو11ویں سے 16ویں صدی تک دنیا بھر کی فوجی طاقتیں اس بات کو تسلیم کرتی تھیں کہ،
عثمانی تیرانداز دنیا کے تیز ترین، مضبوط ترین اور پُراثر ترین تیر پھینکتے ہیں۔
اوسط عثمانی تیر کی رفتار: 120–160 میل فی گھنٹہ حدِ فاضلی تیر اندازی میں عثمانیوں نے دنیا کے کئی ریکارڈ قائم کیے۔ کئی معرکوں میں دشمن اُن کی تیر اندازی سے گھبرا کر صفیں توڑ دیتا تھا۔ یہی مہارت جنگِ کوسووہ، نیکوپولس، ورنا اور قسطنطنیہ کے محاصرے میں بارہا ثابت ہوئی۔

تاریخی حوالہ جات:
نوادر العثمانيين – مواقف وأحداث من التاريخ العثماني (صفحہ 51)
دیگر عثمانی عسکری مخطوطات اور آرچری Guild کے ریکارڈ

عثمانی فوج طاقت، تعداد یا اسلحے کی وجہ سے نہیں جیتی، بلکہ عدیم المثال مہارت، محنت، نظم و ضبط اور اللہ پر یقین نے انہیں دنیا کی عظیم ترین سپاہ بنا دیا۔ اگر ہم بھی آج یہ اصول اپنا لیں کام میں مہارت، نیت میں اخلاص، اور دل میں اللہ کا بھروسہ تو دنیا کی کوئی چیز ہمیں آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتی۔

تحریر: محمد سہیل

07/10/2025

ہر صبح اللہ کا دیا ہوا ایک نیا موقع ہوتا ہے ✨
کل کی غلطیاں اور افسوس پیچھے چھوڑ دیں…
آج کا دن ہمارے ہاتھ میں ہے،
چلو۔۔۔ اسے بہتر بنائیں

گذشتہ 125 سال میں انسان کھانیوالی سب سے خوفناک شیرنی سمجھی جاتی ہے۔کیا انسان اسے روک پائے یا وہ صرف ایک راز بنی گم ہوگی؟...
04/08/2025

گذشتہ 125 سال میں انسان کھانیوالی سب سے خوفناک شیرنی سمجھی جاتی ہے۔

کیا انسان اسے روک پائے یا وہ صرف ایک راز بنی گم ہوگی؟
نیپال اور انڈیا میں اس شیرنی کا زکر بوڑھے خوف اور ڈر سے کیا کرتے تھے۔

آج بھی اس آدم خور شیرنی پہ کتب اور ڈاکیومنٹریز لکھی اور بنائی جاتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ 1890 ءکی دہائی میں ایک شیرنی نے حملے کرنا شروع کردیے۔
واردات کے مرکزی مقام بھارت اور نیپال کا سرحدی علاقہ تھا۔

یہ کوئی عام جانور ہوتا تو رات کو حملہ کر کے شکار کرتا۔
مگر یہ حیوان شے دن کی روشنی میں آتی۔
اور دھڑلے سے انسان کو گردن سے دبوچ لیتی۔

مقامی گھروں میں چھپے اور دبکے ہوئے ہوتے تھے۔

نیپالی حکومت نے اس شیرنی کو مارنے کی کئی کوششیں کیں ۔
مگر ہر بار وہ اپنی ہوشیاری اور پھرتی کی وجہ سے نکل جاتی تھی۔

بالآخر کسی طور شیرنی کو انڈیا والی طرف ہانک دیا گیا۔
بھارت کے ضلع چمپاوت پہنچ کر یہ ڈبل نقصان دہ بن گی۔

اب تو ہر ہفتے کئی لاشیں ملنے لگیں۔
★کسی انسان کی گردن ٹوٹی ہوئی ملتی۔
★کسی کا دھڑ بچا ہوتا مگر سر غائب ہوتا۔
★کسی کے پائوں پہ گہرے پنجوں کے نشان ہوتے۔
★کسی کے سینے پہ جبڑے اتارتے ہوتے۔

شکار میں کوئی چھوٹے بڑوں کی تمیز نہیں تھی۔
ہاں زیادہ تر عورتیں اور بچے اس آدم خود کے کامیاب شکار بنے۔

سال 1907ء میں جب مرنے والے انسانوں کی تعداد گنی گی۔

تو وہ چار نہیں بلکہ 436 تک جان پہنچی۔

یہ بہت بڑا نمبر ہے۔
اتنا بڑا کہ اسے تاریخ کا سب سے زیادہ انسان کھانے والا جانور سمجھا جاتا ہے۔

اب سوال یہ تھا کہ کیسے اس طوفان کو روکا جائے۔

اس ٹائم کا ہندوستان (پاکستان سمیت) اور نیپال دونوں ناکام ہوچکے تھے۔

پھر انہیں امید کی آخری کرن کا پتہ چلا۔
اک ایسا انسان جس کا نشانہ اور شکار کرنے پہ دنیا بھر میں شاباشی ملتی ہے۔
اس کی بہادری کے قصوں پہ کتب اور فلمیں بنائی گی ہیں۔
وہ اک جیتا جاگتا انسان یعنی جم کوربٹ تھا۔

جم کوربٹ ایک برٹش شکاری تھا۔

لوگ اس کے بارے میں کہتے تھے:
"جم کو جانوروں کی زبان سمجھ آتی۔
ان کے پیروں کے امپریشن اور چال کا علم ہے۔
وہ ہی اس مشکل سے ہمیں نکال سکتا ہے۔"

جب جم سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کھرے انداز میں کہا:
"یہ شکار بہت شاطر ہے۔
اسے بندوق سے نہیں دماغ سے جیتنا ہوگا۔"

جب جم اک گائوں میں پہنچا۔
سبھی گائوں والے اسے بغور دیکھنے لگے۔

اس گائوں میں ایک تازہ تازہ لڑکی کی لاش ملی تھی۔
وہ لڑکی سویرے اپنی کتاب پڑھ رہی تھی۔
تو ایک شیرنی گھر سے دبوچ کر لے گی۔

مشہور شکاری نے درج ذیل کام کیے:
★گھر سے ملے نشانات کا پیچھا کیا۔
★درختوں کے اوپر جاتے پنجوں کے نشان معلوم کیے۔
★خون کے دھبوں کو شاخوں پہ نوٹ کیا۔

مگر دور دور تک شیرنی کا اتا پتا نہیں تھا۔
جم حیران اس شیرنی کی داد دیتا رہا۔

اب آپ تاریخ کے اس بہترین شکاری کا میتھڈ دیکھیں۔
وہ بندوق لے کر اندھوں کی طرح جنگل میں نہیں گیا۔

اس نے واپس آکر مزید تیاری کی۔

جیسے:
★آس پاس کے علاقے کے نقشے بنائے۔
★شیرنی کے حملہ کا وقت نوٹ کیا۔
★اس کے اندازے کے مطابق وہ ہر 3 دن بعد شکار کرتی تھی۔
★شاید وہ زخمی ہے اسی سبب کمزور شکار پہ حملہ کرتی ہے۔

جم نے خود کو “آسان شکار” کے طور پہ پیش کیا۔
مگر چالاک شیرنی نے اس کا رخ نہیں کیا۔

پیچھا کرنے کے باوجود وہ ہاتھ نہ آئی ۔
تو جم نے مشہور چال چلی۔

اس نے جنگل میں مچان سجائی۔
مچان یعنی ٹریپ ایک خیمے کا بنایا۔
اور خود جھاڑیوں میں چھپ گیا۔

شیرنی قریب آئی۔
خیمے کو سونگھتی رہی۔
ایک چکر لگایا۔
مگر درختوں سے کچھ نہیں ہلا۔
شیرنی احتیاط سے خیمے کی طرف بڑھی۔
اور جم نے پہلی گولی چلا دی۔
شیرنی غرا کر دوڑنے لگی۔
مگر ایک دوسری گولی آئی۔
اور وہ سینے میں جا لگی۔

جم جھاڑیوں سے نکل کر سیدھا شیرنی کے اوپر پہنچا۔
تیسری اور آخری گولی اس کے دل میں پیوست کردی۔

یوں تاریخ کی خطرناک شیرنی کا خاتمہ ہوا۔
گائوں والوں نے جم کارپٹ کو انعامات دیے۔
اور اپنا ہیرو قرار دیا۔

بشکریہ:
بلال مختار

29/07/2025

#ماشاءاللہ #قدرت #کی #

29/07/2025

*🔴سیرت النبی ﷺ قدم بقدم*🌴

*📜 *کیا آپ نے سوچا کہ ایک دشمن قوم کا راہب، ایک یہودی عالم… ایک بت، ایک کاہن… سب ایک ہی بات کہہ رہے تھے؟*

✨ *تو جانئے آج کی قسط میں وہ حیرت انگیز پیش گوئیاں… جنہوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا* !

📌 اگر آپ محبتِ رسول ﷺ کے سچے متلاشی ہیں، تو صرف پڑھنا نہیں، دل سے ری ایکٹ بھی کیجیے! ❤️

*قسط نمبر 05*
ملک شام کاایک یہودی عیص مکہ سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا۔ وہ جب بھی کسی کام سے مکہ آتا، وہاں کے لوگوں سے ملتا تو ان سے کہتا:
"بہت قریب کے زمانے میں تمہارے درمیان ایک بچہ پیدا ہوگا، سارا عرب اس کے راستے پر چلے گا۔ اس کے سامنے ذلیل اور پست ہوجائے گا۔ وہ عجم اور اس کے شہروں کا بھی مالک ہوجائے گا۔ یہی اس کا زمانہ ہے۔ جو اس کی نبوت کے زمانے کو پائے گا اور اس کی پیروی کرے گا، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔ جس خیر اور بھلائی کی وہ امید کرتا ہے، وہ اس کو حاصل ہوگی اور جو شخص اس کی نبوت کا زمانہ پائے گا مگر اس کی مخالفت کرے گا، وہ اپنے مقصد اور آرزوؤں میں ناکام ہوگا۔"

مکہ معظمہ میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا، وہ یہودی اس بچے کے بارے میں تحقیق کرتا اور کہتا، ابھی وہ بچہ پیدا نہیں ہوا۔ آخر جب نبی کریم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو عبدالمطلب اپنے گھر سے نکل کر اس یہودی کے پاس پہنچے۔ اس کی عبادت گاہ کے دروازے پر پہنچ کر انہوں آواز دی۔عیص نے پوچھا:
"کون ہے؟ "
انہوں نے اپنا نام بتایا۔ پھر اس سے پوچھا:
"تم اس بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ "
اس نے انہیں دیکھا، پھر بولا:
"ہاں ! تم ہی اس کے باپ ہوسکتے ہو، بےشک وہ بچہ پیدا ہوگیا ہے جس کے بارے میں ، میں نے تم لوگوں سے کہا کرتا تھا۔ وہ ستارہ آج طلوع ہوگیا ہے جو اس بچے کی پیدائش کی علامت ہے... اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت اس بچے کو درد ہورہا ہے، یہ تکلیف اسے تین دن رہے گی، اور اس کے بعد یہ ٹھیک ہوجائے گا۔"

راہب نے جو یہ کہا تھا کہ بچہ تین دن تک تکلیف میں رہے گا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے تین دن تک دودھ نہیں پیا تھا اور یہودی نے جو یہ کہا تھا کہ ہاں ! آپ ہی اس کے باپ ہوسکتے ہیں ، اس سے یہ مراد ہے کہ عربوں میں دادا کو بھی باپ کہہ دیا جاتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک بار خود فرمایا تھا:
"میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔"
یہودی نے عبدالمطلب سے یہ بھی کہا تھا:
"اس بارے میں اپنی زبان بند رکھیں ، یعنی کسی کو کچھ نہ بتائیں ، ورنہ لوگ اس بچے سے زبردست حسد کریں گے، اتنا حسد کریں گے کہ آج تک کسی نے نہیں کیا اور اس کی اس قدر سخت مخالفت ہوگی کہ دنیا میں کسی اور کی اتنی مخالفت نہیں ہوئی۔"

پوتے کے متعلق یہ باتیں سن کر عبدالمطلب نے عیص سے پوچھا:
"اس بچے کی عمر کتنی ہوگی؟ "
یہودی نے اس سوال کے جواب میں کہا:
"اگر اس بچے کی عمر طبعی ہوئی تو بھی ستر سال تک نہیں ہوگی۔ بلکہ اس سے پہلے ہی 61 یا 63 سال کی عمر میں وفات ہوجائے گی اور اس کی امت کی اوسط عمر بھی اتنی ہوگی، اس کی پیدائش کے وقت دنیا کے بت ٹوٹ کر گر جائیں گے۔"
یہ ساری علامات اس یہودی نے گزشتہ انبیاء کی پیش گوئیوں سے معلوم کی تھیں اور سب کی سب بالکل سچ ثابت ہوئیں ۔
قریش کے کچھ لوگ عمرو بن نفیل اور عبداللہ بن حجش وغیرہ ایک بت کے پاس جایا کرتے تھے۔ یہ اس رات بھی اس کے پاس گئے، جس رات آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔ انہوں نے دیکھا وہ بت اوندھے منہ گرا پڑا ہے۔ ان لوگوں کو یہ بات بری لگی، انہوں نے اس کو اٹھایا، سیدھا کردیا مگر وہ پھر گرگیا۔ انہوں نے پھر اس کو سیدھا کیا، وہ پھر الٹا ہوگیا۔ ان لوگوں کو بہت حیرت ہوئی، یہ بات بہت عجیب لگی۔ تب اس بت سے آواز نکلی۔

"یہ ایک ایسے بچے کی پیدائش کی خبر ہے، جس کے نور سے مشرق اور مغرب میں زمین کے تمام گوشے منور ہوگئے ہیں ۔"

بت سے نکلنے والی آواز نے انہیں اور زیادہ حیرت زدہ کردیا۔

اس کے علاوہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایران کے شہنشاہ کسریٰ نوشیرواں کا محل ہلنے لگا اور اس میں شگاف پڑگئے۔نوشیرواں کا یہ محل نہایت مضبوط تھا۔بڑے بڑے پتھروں اور چونے سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس واقعے سے پوری سلطنت میں دہشت پھیل گئی۔ شگاف پڑنے سے خوفناک آواز بھی نکلی تھی۔ محل کے چودہ کنگرے ٹوٹ کر نیچے آگرے تھے۔

آپ کی پیدائش پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ فارس کے تمام آتش کدوں کی وہ آگ بجھ گئی جس کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کو بجھنے نہیں دیتے تھے، لیکن اس رات میں ایک ہی وقت میں تمام کے تمام آتش کدوں کی آگ آناً فاناً بجھ گئی۔ آگ کے پوجنے والوں میں رونا پیٹنا مچ گیا۔

کسریٰ کو یہ تمام اطلاعات ملیں تو اس نے ایک کاہن کو بلایا۔ اس نے اپنے محل میں شگاف پڑنے اور آتش کدوں کی آگ بجھنے کے واقعات اسے سناکر پوچھا:

"آخر ایسا کیوں ہورہا ہے۔؟"

وہ کاہن خود تو جواب نہ دے سکا، تاہم اس نے کہا:
”ان سوالات کے جوابات میرا ماموں دے سکتا ہے، اس کا نام سطیح ہے ۔“
نوشیرواں نے کہا
”ٹھیک ہے، تم جا کر ان سوالات کے جوابات لاٶ۔“

وہ گیا، سطیح سے ملا، اسے یہ واقعات سنائے، اس نے سن کر کہا:

”ایک عصا والے نبی ظاہر ہوں گے جو عرب اور شام پر چھا جائیں گے اور جو کچھ ہونے والا ہے، ہو کر رہے گا۔“

اس نے یہ جواب کسریٰ کو بتایا ۔ اس وقت تک کسریٰ نے دوسرے کاہنوں سے بھی معلومات حاصل کر لی تھیں ، چنانچہ یہ سن کر اس نے کہا:

”تب پھر ابھی وہ وقت آنے میں دیر ہے۔“ (یعنی ان کا غلبہ میرے بعد ہو گا)

پیدائش کے ساتویں دن عبدالمطلب نے آپ کا عقیقہ کیا اور نام ”محمد“ رکھا۔ عربوں میں اس سے پہلے یہ نام کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ قریش کو یہ نام عجیب سا لگا۔

چنانچہ کچھ لوگوں نے عبدالمطلب سے کہا:
”اے عبدالمطلب! کیا وجہ ہے کہ تم نے اس بچے کا نام اس ک باپ دادا کےنام پر نہیں رکھا بلکہ محمد رکھا ہے اور یہ نام نہ تمہارے باپ دادا میں سے کسی کا ہے نہ تمہاری قوم میں سے کسی کا ہے۔“

عبدالمطلب نے انہیں جواب دیا:
”میری تمنا ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ اس بچے کی تعریف فرمائیں اور زمین پر لوگ اس کی تعریف کریں ۔“

(محمد کے معنی ہیں جس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے۔)

اسی طرح والدہ کی طرف سے آپ کا نام احمد رکھا گیا۔ احمد نام بھی اس سے پہلے کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ مطلب یہ کہ ان دونوں ناموں کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی اور کوئی بھی یہ نام نہ رکھ سکا۔ احمد کا مطلب ہے سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔
علامہ سہیلی نے لکھا ہے آپ احمد پہلے ہیں اور محمد بعد میں ۔ یعنی آپ کی تعریف دوسروں نے بعد میں کی، اس سے پہلے آپ کی شان یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ حمد و ثنا کرنے والے ہیں ۔ پرانی کتابوں میں آپ کا نام احمد ذکر کیا گیا ہے۔
اپنی والدہ کے بعد آپ نے سب سے پہلے ثوبیہ کا دوھ پیا، ثوبیہ نبی کریم ﷺ کے چچا ابو لہب کی باندی تھیں ۔ ان کو ابو لہب نے آپ کی پیدائش کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا۔ ثوبیہ نے آپ کو چند دن تک دودھ پلایا۔ انہیں دنوں ثوبیہ کے ہاں اپنا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ آپ کی والدہ نے آپ کو صرف نو دن تک دودھ پلایا۔ ان کے بعد ثوبیہ نے پلایا۔ پھر دودھ پلانے کی باری حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی آئی۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اپنی بستی سے روانہ ہوئیں ۔ ان کے ساتھ ان کا دودھ پیتا بچہ اور شوہر بھی تھے۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا دوسری عورتوں کے بعد مکہ میں داخل ہوئیں ۔ ان کا خچر بہت کمزور اور مریل تھا ۔ ان کے ساتھ ان کی کمزور اور بوڑھی اونٹنی تھی۔ وہ بہت آہستہ چلتی تھی۔ ان کی وجہ سے حلیمہ رضی اللہ عنہا قافلے سے بہت پیچھے رہ جاتی تھیں ۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ سب سے آخر میں مکہ میں داخل ہوئیں ۔

☆☆☆
جاری ہے ۔۔۔۔۔!

1️⃣ *حضور اقدس محمد ﷺ کے لیے مکہ کی گلیاں کتنی اجنبی تھیں؟*
2️⃣ *حلیمہ سعدیہ کا مقدر کیسے بدلا؟ کیا واقعی خشک اونٹنی دودھ دینے لگی؟*
*3️⃣ ایک انجان یتیم بچے کے سینے کو چاک کرنے فرشتے کیوں آئے؟*

🕊️ **اگلی قسط کے لیے دل سے ری ایکٹ کریں تاکہ یہ نورانی سفر رُکے نہیں* …
📚

28/07/2025
شریف مکہ عربوں کا میر جعفر صادق"شریف مکہ" مکہ اور مدینہ کے خادم حرمین  شریفین ہونے کی وجہ سے عزت و شرف کی وجہ سے ایک لقب...
27/07/2025

شریف مکہ عربوں کا میر جعفر صادق

"شریف مکہ" مکہ اور مدینہ کے خادم حرمین شریفین ہونے کی وجہ سے عزت و شرف کی وجہ سے ایک لقب تھا اس عہدہ کی فرمانروائی میں مکہ و مدینہ شامل تھے اس منصب کا بنیادی کام حاجیوں کی خدمت، حج کے انتظام وغیرہ تھے۔ جدید تاریخ میں جسے شریف مکہ کہا جاتا ہے اس کا اصل نام سید حسین ابن علی الہاشمی تھا یہ 77 واں شریف مکہ تھا جسے عثمانی سلطان عبدالحمید ثانی نے نامزد کیا تھا۔ فاطمیوں نے اس عہدہ کی ابتداء کی تھی اور اس عہدہ کی تاریخ ایک ہزار سال کی ہے آخری 78 واں شریف مکہ علی بن حسین تھا یہ 77 ویں شریف مکہ کا بیٹا تھا یہ خاندان حضرت علی و فاطمہ کی اولاد سے تھا۔ سید حسین ابن علی الہاشمی کی پیدائش قسطنطنیہ میں 1854 میں ہوئی۔ سید حسین ابن علی کو 1908 میں شریف مکہ بنایا گیا۔ اس کی وفات 1931 میں ہوئی اس کی تدفین امارت شرق اردن)عمان میں ہوئی۔
انگریزوں کو عرب میں ترکوں کے خلاف جب کامیابی نہیں مل رہی تھی تو مشہور زمانہ جاسوس لارنس آف عربیہ نے سید حسین ابن علی المعروف "شریف مکہ" کو ترکوں کے خلاف استعمال کرنے کی ترغیب دی اس پر اس نے ترکوں کے خلاف بغاوت کردی ۔ صدیوں سے چونکہ حکمرانوں نے اس منصب پر اعتبار کیا تو شریف مکہ رہنے کی وجہ سے عوام میں اس کی کافی عزت و توقیر تھی۔ اسی ناموس کے خنجر سے اس نے ترکوں کی پیٹھ میں کامیابی سے چھرا گھو نپا جس سے ترکی عرب میں شکست کھا گیا۔1916 کا سال عرب میں ترکوں کے خلاف بغاوت کا سال تھا ، 1918 میں بالآخر عثمانی ترکوں نے سید حسین ابن علی سے شکست کھائی،1916 میں شریف مکہ نے جب ترکی کے خلاف بغاوت کی تو اس وقت عثمانی فوج غالب پاشا کی کمان میں طائف میں تھی اور مکہ میں صرف ایک ہزار فوج تھی۔ شریف مکہ نے اپنے پانچ ہزار فوجیوں کی مدد سے مکہ پر رات کو سوئے ہوئے فوجیوں پر 10 جون 1916 کو حملہ کر دیا۔ برطانوی افسر Sir Reginald Wingate نے شریف مکہ کی مدد کے لئے سوڈان سے فوج روانہ کی جس نے تیہن ہفتوں کی خونی جنگ کے بعد 4 جولائی 1916 کو ترک فوج کو شکست دی۔ مدینہ پر قبضہ کے لئے شریف مکہ کو تقریبا تین سال تک خون بہانا پرا۔ برطانوی افواج فخر الدین پاشا کو تین سال تک مدینہ کا دفاع کرنے پر حیرت سے دیکھتی ہے۔ اکتوبر 1916 میں شریف مکہ کا بیٹا فیصل برطانوی مدد سے مدینے پر حملہ آور ہوا۔ مشرقی سمت سے شریف حسین کا دوسرا بیٹا عبداللہ اور جنوبی سمت سے تیسرا بیٹا علی بن حسین مدینے پر حملہ آور ہوا۔ ان کے ساتھ برطانوی اور فرانسیسی افسران موجود تھے۔ اس موقع پر فخر الدین پاشا نے نہ صرف مدینے کا دفاع کیا بلکہ حجاز ریلوے کو بھی محفوظ رکھا۔ 1917 میں 130 اور 1918 میں سو کے قریب بڑے حملے کءے گئے 30 اپریل 1918 تک 300 بم مدینے پر برسائے گئے۔ 30 اکتوبر 1918 کو ترکی کے خلیفہ نے فخر الدین پاشا کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا مگر فخر الدین پاشا نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور 10 جنوری 1919 تک بغیر کسی بیرونی مدد کے ڈٹا رہا۔ مگر اسلحے اور خوراک کی عدم دستیابی نے فخر الدین کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا 13 جنوری کو شریف مکہ کی فاتح افوج مدینے میں داخل ہوئیں اور انھوں نے 12 دن تک مدینے میں لوٹ مار کی۔
1923 میں شریف مکہ نے خود کو خلیفہ کہلوانا شروع کردیا اس سے قبل خلیفہ کہلوانے کا اختیار صرف عثمانیوں کو تھا۔ انگریز نے شریف مکہ کے خاندان کی عظیم و شان خدمات کے عوض اس کے ایک بیٹے فیصل کو عراق کا بادشاہ بنایا اور دوسرے کو اردن کا بادشاہ بنادیا ۔
1924 میں ابن سعود جو نجد(ریاض) کا سردار تھا اس نے شریف مکہ پر حملہ کردیا یہ شکست کا کھا کر قبرص میں جلا وطن رہا اور بالآخر 1931 میں اس کا انتقال ہوا۔ سید حسین ابن علی الہاشمی کی نجدیوں سے دشمنی کافی شدید تھی یہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔ یہ دشمنی اس وقت مذید شدت اختیار کرگئی جب شریف مکہ نے خود کو برطانیہ کی مدد سے خلیفہ کہلوانا شرو ع کردیا۔خلافت عثمانیہ کے خلاف سید حسین ابن علی الہاشمی کے دو خطوط بہت مشہور ہیں جو قاہرہ میں متعین برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری کو 1915 میں لکھے گئے یہ دونوں خطوط اور سرہنری کا جواب حیرت انگیز ہیں۔ حیرت کا پہلو اس میں اس لئے ہے کہ شریف مکہ سارے عرب کی خلافت کا جس طرح دعویدار تھا آج کی کشمکش بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔
_______flow page 📄 # # # #

27/07/2025

🔴😱 هذا المحظوظ منهم يحصل على. كيس طحين بعد خمسة اشهر وقد متزج وختلط بالدم..

نتيجة استهداف الناس عند مراكز المساعدات او سمها بالاصح مصائد المــــوت..

كم من جائع قتل تاركا خلفة اسرة تلفظ انفاسها الاخيرة بسبب الجوع والحصار.. فلا عاد هو ولا بقي حيا..
ولم يجدوا هم مايسد رمقهم وفقدوا من يعولهم..

حسبنا الله ونعم الوكيل في الظالمين وفي امة تزعم انها مسلمة وتشاهد ذلك ليل نهار.😭😭😭😭😭😭😭😭

الحمدللہ یا ارحم الراحمین غزہ اور مصر کی سرحد واقع رفح سرحدی گزرگاہ بلآخر کھول دی گئی جس کے بعد آج امداد اور خوراک سے ...
27/07/2025

الحمدللہ یا ارحم الراحمین
غزہ اور مصر کی سرحد واقع رفح سرحدی گزرگاہ بلآخر کھول دی گئی جس کے بعد آج امداد اور خوراک سے لدے درجنوں ٹرک مصر سے غزہ میں داخل ہوگئے۔

27/07/2025

📍إيدي كوهين حفيد شولا الصهيونى يهين الحكام العرب ويسخر منهم عبر شاشات الإعلام الإسرائيلي، ويخص بالذكر ‎السيسي وملك ‎الأردن: "سيقبلون التهجير وهم صاغرون وسيدفعون الجـزية أيضا"🤫👞

Address

Rawalpindi West Ridge

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category