Yaad hai

Yaad hai تجھے کیا خبر میرے مہرباں ہوئی زندگی کیسے بسر

132
18/05/2026

132

17/05/2026

Echoes of the past (بیتے لمحوں کی گونج)
YaadHai Official
#یادہے #غزل

16/05/2026
12/05/2026

اگر کبھی میری یاد آئے
یاد ہے
امجد اسلام امجد
#یادہے #غزل

131
11/05/2026

131

لب ترے ہِشت اور ترے پستان، ہِشتہِشت جاناں جان، جاناں جان، ہِشتتجھ سے بڑھ کر وہم ہے تیرا خداہِشت اے انسان، اے انسان، ہِشت...
06/05/2026

لب ترے ہِشت اور ترے پستان، ہِشت
ہِشت جاناں جان، جاناں جان، ہِشت

تجھ سے بڑھ کر وہم ہے تیرا خدا
ہِشت اے انسان، اے انسان، ہِشت

ہِشت اے حالِ گماں، سوزِ وجُوب
اے گماں سامانیِ امکان، ہِشت

بیچ میں کیا ہے؟ فقط شرمِ وجود
رسن ازل کی اور ابد کی ران، ہِشت

میں تمیں خاطر میں لاتا ہی نہیں
ہِشت اے دُشوار، اے انسان، ہِشت

(جونؔ ایلیا - کتاب: یعنی - غزل)

تم جب آؤ گی ، تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھےمیری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیںمیرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیںمی...
05/05/2026

تم جب آؤ گی ، تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ھے مجھ پر
ان میں اک رمز ھے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدہ عشرتِ انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا

(جونؔ ایلیا - کتاب: شاید - نظم)

130
04/05/2026

130

طلسمی سرزمیں ہے‘ جانے کیا ہویہاں کچھ بھی نہیں ہے ‘ جانے کیا ہوعجب ہی کچھ ہے اس بستی کا اندازکچھ اندازہ نہیں ہے ‘ جانے کی...
29/04/2026

طلسمی سرزمیں ہے‘ جانے کیا ہو
یہاں کچھ بھی نہیں ہے ‘ جانے کیا ہو

عجب ہی کچھ ہے اس بستی کا انداز
کچھ اندازہ نہیں ہے ‘ جانے کیا ہو

کبھی اک شور اُٹھتا تھا پر اب کے
خموشی ‘ نکتہ چیں ہے ‘ جانے کیا ہو

گراں ہے اب یہاں جنسِ گماں بھی
وہ افلاسِ یقیں ہے ‘ جانے کیا ہو

جُدا ہیں اور نہیں تابِ جُدائی
ابھی تک دل وہیں ہے ‘ جانے کیا ہو

ٹھہر ‘ اشکِ سرِ مژگانِ جاناں!
یہ میری آستیں ہے ‘ جانے کیا ہو

یہ ہنگامِ تلاطم تھا مگر دل
تلاطم تہ نشیں ہے ‘ جانے کیا ہو

ہیں کچھ قصّے یہاں اس کے سوا بھی
اسے آنا یہیں ہے ‘ جانے کیا ہو

کسی کے محرموں میں دل ہمارا
عبارت آفریں ہے ‘ جانے کیا ہو

چلے تو آئے ہو تم پر مری جاں
وہ دَر ‘ اب بے جبیں ہے ‘ جانے کیا ہو

یونہی دل صبح سے اندوہگیں ہے
بہت اندوہگیں ہے ‘ جانے کیا ہو

(جونؔ ایلیا - کتاب: گویا - غزل)..

تاریخِ روزگارِ فنا لکھ رہا ہوں میںدیباچۂ وجود پہ لا لکھ رہا ہوں میںہے یوں کہ مجھ سمیت نہیں کوئی بھی یہاںجو بھی نہیں ہے ا...
28/04/2026

تاریخِ روزگارِ فنا لکھ رہا ہوں میں
دیباچۂ وجود پہ لا لکھ رہا ہوں میں

ہے یوں کہ مجھ سمیت نہیں کوئی بھی یہاں
جو بھی نہیں ہے اس کو خدا لکھ رہا ہوں میں

تجھ کو کہاں سموؤں میں اپنے حساب میں
ہے یوں کہ خود کو خود سے جُدا لکھ رہا ہوں میں

زیرِ قلم کتابۂ بود و نبود ہے
اپنے ہر ایک قول میں یا لکھ رہا ہوں میں

کیا کہیے کس قدر ہوس انگیز ہے وہ شخص
خلوت میں رمزِ بندِ قبا لکھ رہا ہوں میں

اسلام کی میں ہجو کہوں میری کیا مجال
ہاں داستانِ کرب و بلا لکھ رہا ہوں میں

اے موسمِ بہار! عیادت کو میری آ
خاشاک کو متاعِ صبا لکھ رہا ہوں میں

اس کو بہت ہی اپنے تعیّن سے ہے گریز
عیّار ہوں خدا کو خدا لکھ رہا ہوں میں

ہاں کاروبار بُود چلا ہے نبود پر
ہاں صفحۂ فضا پہ خلا لکھ رہا ہوں میں

دانش کے مے کدوں میں یکی کی دوئی ہے عام
یکتا ہے تُو سو تجھ کو دوتا لکھ رہا ہوں میں

آخر کہاں گئی مرے آنگن کی چاندنی
مهتاب ! آج تجھ کو سُہا لکھ رہا ہوں میں

ہیں کون لوگ شہر میں آخر حرام خور؟
رُودادِ جرگۂ امرا لکھ رہا ہوں میں

مدّت گزر گئی کہ نفس ہے فقط نفس
اک عمر سے ہوا کو ہوا لکھ رہا ہوں میں

حکمِ خدا تھا کیا وہ سلیمان کا پیام
بلقیس تجھ کو ننگِ سبا لکھ رہا ہوں میں

پہنائیِ سکوت میں گُم ہے تمام تر
اور اس تمام تر میں صدا لکھ رہا ہوں میں

جس کا جواب ہی نہ ہو ایسا سوال کیا
کیا لکھ رہا ہوں، جانیے کیا لکھ رہا ہوں میں

عقدہ تھا ایک جہل کو در پیش دیر سے
دیر و حرم کو عقدہ کشا لکھ رہا ہوں میں

میں حالتی ہوں ایک عجب حال کا سو تُُو
یہ بات مجھ کو بھی نہ بتا لکھ رہا ہوں میں

جانم بقا عذاب ہے یعنی اسی لیے
تیری فنا اور اپنی بقا لکھ رہا ہوں میں

یہ ظلم ہے علی پہ کہ اس کو خدا کہیں
پس ردِّ گفتۂ جہلا لکھ رہا ہوں میں

اب تک تو میں بقا کی فنا میں فنا رہا
اس لمحے سے فنا کی بقا لکھ رہا ہوں میں

بارے میں حق کے اور حقیقت کے باب میں
رُودادِ لكنتِ فصحا لکھ رہا ہوں میں

تم نے بہ نامِ علم کیا کاروبارِ دیں
تم سب کے نام اے جہلا لکھ رہا ہوں میں

سرکارِ کبریا کی حقیقت تو کُھل چکی
اب حیلہ سازئ سفرا لکھ رہا ہوں میں

فی الحال میری غیبتِ صغرا کا دور ہے
اسمائے رستۂ نُقبا لکھ رہا ہوں میں

اب دیر و زود کا ہے عدم اور مرا وجود
اک حالِ بے صباح و مسا لکھ رہا ہوں میں

(جونؔ ایلیا - کتاب: کیوں - غزل)

Address

Sahiwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yaad hai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share